القسم الأول · المبحث الأول · باب ١٠
باب في أسباب الخواطر الباعثة على الأعمال
پانچ اسباب - اور خواب، جو اُنہی کا آئینہ ہے
ربط: باب ٩ نے مزاجوں کی فہرست دی تھی - آدمی کیسا ہے۔ یہ باب ایک قدم آگے کا سوال اُٹھاتا ہے: وہ جو کچھ کرتا ہے، اُس کی تحریک کہاں سے آتی ہے؟ اور جواب میں جبلّت کو سب سے بڑا سبب مان کر بھی اُسے اکیلا سبب نہیں رہنے دیتا۔
اصل نکتہ: پانچ اسباب گنوا کر باب ایک جملے میں خواب کو اِسی فہرست سے جوڑ دیتا ہے - المناماتُ أمرُها كأمرِ الخواطرِ، غيرَ أنها تتجرّدُ لها النفسُ۔ فرق سبب کا نہیں، یکسوئی کا ہے: بیداری میں وہی اسباب خیال بن کر آتے ہیں، نیند میں نفس اُن کے لیے فارغ ہو جاتا ہے تو وہ صورت پکڑ لیتے ہیں۔ م - حدیثِ نفس، تخویفِ شیطان، بشریٰ من اللہ۔
باب کا پہلا جملہ ہی اُس کا پورا دعویٰ ہے:
اعلمْ أن الخواطرَ التي يجدُها الإنسانُ في نفسِه، وتبعثُه على العملِ بموجَبِها - لا جرمَ أن لها أسباباً، كسنّةِ اللهِ تعالى في سائرِ الحوادثِ.
دو لفظ یہاں وزن اُٹھا رہے ہیں۔ ایک خواطر: وہ بات جو دل پر گزرتی ہے۔ پالن پوری صاحب اپنے حاشیے میں اِس کی لغت بھی کھولتے ہیں اور اِس باب کی ایک تاریخی بات بھی بتا دیتے ہیں:
هذا البابُ: فصلٌ في مخطوطةِ كراتشي … والخواطرُ: جمعُ الخاطرِ: ما يخطرُ بالقلبِ … تترشَّحُ على دماغِ الإنسانِ خيالاتٌ كأقطارِ الأمطارِ، فإذا كثُرَت بَدَت منها الإرادةُ (سندي).
سندی صاحب کی یہ تشبیہ پورے باب کا نقشہ کھینچ دیتی ہے: خیال بارش کے قطروں کی طرح ٹپکتے ہیں، اور جب جمع ہو جائیں تو اُن سے ارادہ نمودار ہوتا ہے۔ یعنی عمل یکایک پیدا نہیں ہوتا؛ وہ قطروں کے جمع ہونے سے بنتا ہے۔
دوسرا لفظ كسنّةِ اللهِ تعالى في سائرِ الحوادثِ ہے، اور یہی اِس باب کو باب ٤ سے باندھ دیتا ہے۔
اور اب ذریعۂ علم کا اعلان، جو اِس باب میں آسانی سے نظرانداز ہو جاتا ہے:
والنظرُ والتجربةُ يُظهِرانِ أن منها - وهو أعظمُها - جِبِلّةَ الإنسانِ التي خُلِقَ عليها، كما نبّهَ النبيُّ ﷺ في الحديثِ الذي رويناهُ من قبلُ.
النظرُ والتجربةُ - نظر اور تجربہ۔ متن یہ نہیں کہتا کہ پانچ اسباب منقول ہیں؛ وہ کہتا ہے کہ یہ دیکھنے اور آزمانے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور پھر پہلے ہی سبب پر حدیث کا سہارا لیتا ہے - مگر اُسے دوبارہ نقل نہیں کرتا: الحديثِ الذي رويناهُ من قبلُ، یعنی باب ٩ والی حدیث، «آدمی اپنی خُو بدل لے تو نہ مانو»۔
دوسرا سبب جبلّت سے ملتا جلتا لگتا ہے، مگر متن پہلے ہی لفظ میں فرق کھول دیتا ہے: یہ المتغيّرُ ہے - بدلنے والا۔
ومنها: مزاجُه الطبيعيُّ، المتغيّرُ بسببِ التدبيرِ المحيطِ به من الأكلِ والشربِ ونحوِ ذلك، كالجائعِ يطلبُ الطعامَ، والظمآنِ يطلبُ الماءَ.
بھوکا کھانا مانگتا ہے، پیاسا پانی - یہاں تک بات سیدھی ہے۔ مگر متن اِسے دو مفصل مثالوں تک لے جاتا ہے، اور دونوں غذا سے شروع ہوتی ہیں:
ورُبَّ إنسانٍ يأكلُ غذاءً يُقوّي الباءةَ، فيميلُ إلى النساءِ، ويحدّثُ نفسَه بأحاديثَ تتعلّقُ بهنَّ، وتصيرُ هذه مُهيّجةً له على كثيرٍ من الأفعالِ؛ ورُبَّ إنسانٍ يتغذّى غذاءً شديداً، فيقسو قلبُه، ويجترئُ على القتلِ، ويغضبُ في كثيرٍ مما لا يغضبُ فيه غيرُه.
سلسلہ دیکھیے: غذا ← مزاج ← خیال ← عمل۔ درمیان کی کڑی - ويحدّثُ نفسَه بأحاديثَ تتعلّقُ بهنَّ - وہی «خاطر» ہے جس کا یہ باب ہے۔ اور دوسری مثال میں تو غذا سے سنگ دلی اور غصہ تک پہنچا دیا گیا ہے۔
اور پھر وہ جملہ جو اِس سبب کو امید میں بدل دیتا ہے:
ثم إذا ارتاضَ هذانِ أنفسَهما بالصيامِ والقيامِ، أو شابّا وكَبِرا، أو مَرِضا مرضاً مُدنِفاً - تغيَّرَ أكثرُ ما كانا عليه، ورقّت قلوبُهما، وعفّت نفوسُهما.
تین راستے، اور تینوں مختلف قسم کے ہیں: ایک اختیاری (روزہ اور قیام)، ایک طبعی (جوان تھے، بوڑھے ہو گئے)، اور ایک اضطراری (گھلا دینے والی بیماری)۔ پالن پوری صاحب مُدنِف کی لغت کھول دیتے ہیں:
دَنِفَ المريضُ: ثَقُلَ، وأدنفَه المرضُ: أثقلَه.
اور نتیجہ ایک روزمرہ مشاہدے پر لایا جاتا ہے، جس کے ساتھ ایک فقہی رخصت بھی:
ولذلك ترى الاختلافَ بين الشيوخِ والشبّانِ، ورخّصَ النبيُّ ﷺ للشيخِ في القُبلةِ وهو صائمٌ، ولم يُرخِّصْ للشابِّ.
مگر اِس رخصت کی تخریج میں پالن پوری صاحب ایک باریک فرق بتاتے ہیں، جسے یہاں نظرانداز کرنا آسان ہے:
رَوى مالكٌ أن عبدَ اللهِ بنَ عباسٍ سُئِلَ عن القُبلةِ للصائمِ؟ فأرخصَ فيها للشيخِ، وكَرِهَها للشابِّ … وأما الحديثُ المرفوعُ ففي المباشرةِ: رُوِيَ عن أبي هريرةَ أن رجلاً سألَ النبيَّ ﷺ عن المباشرةِ للصائمِ؟ فرخّصَ له، وأتاهُ آخَرُ فسألَه فنهاهُ، فإذا الذي رخّصَ له شيخٌ، وإذا الذي نهاهُ شابٌّ. رواه أبو داود.
یعنی جو روایت مرفوع ہے وہ مباشرت کے بارے میں ہے؛ بوسے والی تفریق ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ متن نے دونوں کو ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے، اور حاشیہ اُنہیں الگ کر دیتا ہے۔
ومنها: العاداتُ والمألوفاتُ، فإن مَن أكثرَ مُلابسةَ شيءٍ، وتمكّنَ من لوحِ نفسِه ما يناسبُه من الهيئاتِ والأشكالِ - مالَ إليه كثيرٌ من خواطرِه.
لفظ مُلابسة غور طلب ہے: محض کرنا نہیں، لپٹے رہنا - جیسے لباس بدن سے۔ اور اثر کہاں پڑتا ہے؟ لوحِ نفسِه پر۔ وہاں الهيئاتِ والأشكالِ جم جاتی ہیں، اور پھر خاطر خود بخود اُسی طرف جھکنے لگتی ہے۔
آخری دو اسباب آدمی کے اندر سے نہیں اُٹھتے؛ وہ اُس پر وارد ہوتے ہیں۔ اور دونوں باب ٣ کا سامان استعمال کرتے ہیں۔
ومنها: أن النفسَ الناطقةَ في بعضِ الأوقاتِ تنفلتُ من أسرِ البهيميةِ، فتختطفُ من حيّزِ الملأِ الأعلى ما يُيَسَّرُ لها من هيئةٍ نورانيةٍ، فتكونُ تارةً من بابِ الأُنسِ والطمأنينةِ، وتارةً من بابِ العزمِ على الفعلِ.
تین لفظ یہاں بہت کام کر رہے ہیں۔ تنفلتُ - چھوٹ نکلنا، جیسے کوئی قید سے؛ اور قید کا نام بھی لے دیا: أسرِ البهيميةِ۔ تختطفُ - اُچک لینا، یعنی یہ ملاقات مستقل نہیں، جھپٹ ہے۔ اور ما يُيَسَّرُ لها - جتنا میسر ہو جائے، نہ کہ جتنا وہ چاہے۔
اور نتیجہ دو رُخ رکھتا ہے: کبھی الأُنسِ والطمأنينةِ کے باب سے - یعنی ایک حالت؛ اور کبھی العزمِ على الفعلِ کے باب سے - یعنی ایک ارادہ۔
ومنها: أن بعضَ النفوسِ الخسيسةِ تتأثّرُ بالشياطينِ، وتنصبغُ ببعضِ صِبغِهم، وربما اقتضت تلك الهيئةُ خواطرَ وأفعالاً.
اور ایک قید جو آسانی سے پھسل جاتی ہے: متن بعضَ النفوسِ الخسيسةِ کہتا ہے، سب نفوس نہیں۔
لوحِ اوّل
پانچ اسباب - اور وہ کہاں سے آتے ہیں
متن کی اپنی فہرست پانچ کی ہے، گنتی کے ساتھ؛ تین حصوں میں تقسیم میری ہے - اندر سے، کمائی سے، باہر سے۔ آخری پتّی متن کا اپنا جملہ ہے، جو خواب کو اِسی فہرست سے جوڑ دیتا ہے۔
باب کا اختتام ایک جملے سے ہوتا ہے جو پوری فہرست کو ایک اور میدان پر لاگو کر دیتا ہے:
واعلمْ أن المناماتِ أمرُها كأمرِ الخواطرِ، غيرَ أنها تتجرّدُ لها النفسُ، فتتشبّحُ لها صوَرُها وهيئاتُها.
فرق صرف ایک ہے، اور وہ غيرَ أنها کے بعد آتا ہے: تتجرّدُ لها النفسُ - نفس اُن کے لیے فارغ ہو جاتا ہے۔ بیداری میں وہ حواس اور بدن میں مشغول ہے، سو وہی اسباب محض ایک خیال کی صورت میں گزرتے ہیں؛ نیند میں مشغولیت ہٹ جاتی ہے تو وہی اسباب تتشبّحُ - صورت پکڑ لیتے ہیں۔ پالن پوری صاحب اِس لفظ کی وضاحت ایک لفظ میں کر دیتے ہیں:
فتتشبّحُ: أي تتمثّلُ.
اور پھر ابن سیرین کا مشہور قول:
وقال محمدُ بنُ سيرينَ: الرؤيا ثلاثٌ: حديثُ النفسِ، وتخويفُ الشيطانِ، وبُشرى من اللهِ.
رُوِيَ قولُ محمدِ بنِ سيرينَ في حديثٍ متفقٍ عليه، وكذا رُوِيَ مرفوعاً عن أبي هريرةَ رضي الله عنه، رواه الدارميُّ والترمذيُّ في أبوابِ الرؤيا.
متن یہ قول نقل کر کے کوئی تطبیق نہیں دیتا - وہ اُسے جوں کا توں چھوڑ دیتا ہے۔ مگر اوپر کی فہرست سامنے ہو تو تینوں قسمیں اپنی جگہ آپ ڈھونڈ لیتی ہیں:
جبلّت، مزاج اور عادت کا عکس
پہلے تین اسباب اندر کے ہیں، اور نیند میں وہی اپنی صورت دکھاتے ہیں۔ متن کی اپنی مثال اِسی پر بالکل بیٹھتی ہے: جو شخص ایسی غذا کھاتا ہے، وہ يحدّثُ نفسَه بأحاديثَ تتعلّقُ بهنَّ - اور یہ «حدیثِ نفس» جاگتے میں بھی وہی ہے جو سوتے میں۔
پانچواں سبب، خواب کی زبان میں
متن کا پانچواں سبب - تتأثّرُ بالشياطينِ، وتنصبغُ ببعضِ صِبغِهم - اور وہیں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ربما اقتضت تلك الهيئةُ خواطرَ وأفعالاً۔ خواب میں وہی ہیئت ڈرانے کی صورت لے لیتی ہے۔
ملأِ اعلیٰ سے اُچکی ہوئی ہیئت
چوتھا سبب - فتختطفُ من حيّزِ الملأِ الأعلى ما يُيَسَّرُ لها من هيئةٍ نورانيةٍ۔ اور وہاں بھی دو رُخ بتائے گئے تھے: الأُنسِ والطمأنينةِ اور العزمِ على الفعلِ - بشارت اور تحریک، دونوں۔
«جبلّت سب سے بڑا سبب ہے، تو باقی بے کار ہیں۔» - متن نے پانچ گنوائے ہیں، ایک نہیں؛ اور دوسرے ہی سبب میں تین راستے بتائے ہیں جن سے مزاج بدلتا ہے - ریاضت، عمر، بیماری - اور نتیجہ رقّت قلوبُهما، وعفّت نفوسُهما رکھا ہے۔ أعظمُها کا مطلب وزن میں سب سے بڑا ہے، نہ کہ تنہا۔
«مزاج اور جبلّت ایک ہی چیز ہیں۔» - متن نے دوسرے سبب کو پہلے ہی لفظ سے جدا کر دیا: المزاجُ الطبيعيُّ المتغيّرُ۔ جبلّت وہ ہے جس پر پیدا کیا گیا؛ مزاج وہ ہے جو التدبيرِ المحيطِ به سے بدلتا رہتا ہے۔ دونوں کو ایک کر دینے سے باب کا پورا عملی پہلو ختم ہو جاتا ہے۔
روزے میں بوسے کی رخصت: مرفوع کیا ہے اور موقوف کیا۔ حاشیے کے مطابق بوسے میں شیخ و شاب کی تفریق ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور مرفوع روایت مباشرت کے بارے میں ہے۔ متن نے دونوں کو ایک جملے میں جوڑ دیا ہے، اور اِسے بعینہٖ ایک مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرنا تخریج سے آگے بڑھ جانا ہے۔
چوتھا سبب «کشف» نہیں ہے۔ متن کے الفاظ ناپ تول کر رکھے گئے ہیں: تختطفُ (اُچک لینا) اور ما يُيَسَّرُ لها (جتنا میسر ہو)۔ یہ ایک جھپٹ ہے، کوئی مستقل مقام نہیں؛ اور باب ٩ کے پیمانے پر یہ اُس آدمی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے جس کی ملکیہ سافلہ ہے۔
«خسیس نفوس» سب نفوس نہیں۔ پانچواں سبب بعضَ النفوسِ الخسيسةِ کے ساتھ مقید ہے۔ اِس قید کو گرا دینے سے باب شیطان کو ہر خیال کا سبب بنا دیتا ہے - جو ٹھیک وہ بات ہے جسے یہ فہرست توڑنے کے لیے بنی ہے۔
یہ باب پالن پوری صاحب کے نسخے میں «باب» ہے، کراچی کے مخطوطے میں «فصل»۔ حاشیہ یہ بات صاف لکھتا ہے۔ اِس سے مضمون نہیں بدلتا، مگر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مختصر باب اپنی جگہ ایک مستقل عنوان ہے یا پچھلے باب کا ضمیمہ - اور نسخے اِس پر ایک رائے نہیں رکھتے۔
اِس باب کی عربی عبارتیں پالن پوری صاحب کی تحقیق کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔
نسخہ، شرح اور تلاش کے نسخے - پورے مآخذ ▸کی بورڈ: → پچھلا باب · ← اگلا باب · Esc فہرست · متن کے لیے نیچے کا بٹن