حجة الله البالغة — شاہ ولی اللہ دہلویفہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ٧

تکلیف کا تقدیر سے پھوٹنا

باب انشقاق التكليف من التقدير
«کھجور کا پھل ایسا کیوں ہے؟» — یہ سوال باطل ہے، اور اِسی میں جواب ہے

inshiqāq al-taklīf min al-taqdīr

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغةشاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ٧ — انشقاق التكليف من التقدير
مقام
القسم الأول — المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پچھلے ابواب
باب ٤باب ٥باب ٦
اگلا باب
باب ٨ — اقتضاء التكليف المجازاة
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريدار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

ربط: باب ٦ نے کہا تھا کہ انسان خود اپنی استعداد کی زبان سے تکلیف مانگتا ہے۔ یہ باب وہی دعویٰ لے کر باہر نکلتا ہے — درختوں، پرندوں اور شہد کی مکھیوں میں — اور دکھاتا ہے کہ ہر نوع کو اُس کی ساخت کے مطابق «علم» دیا گیا ہے۔ یہیں کتاب کا نام کھلتا ہے، اور یہیں پہلی بار وہ جملہ آتا ہے جو باب کے آخر میں نتیجہ بن کر لوٹتا ہے: فللهِ الحجةُ البالغةُ۔

خلاصۂ باب
  1. باب کا دعویٰ، اور کتاب کا نام: إن للهِ تعالى آياتٍ في خلقِه يهتدي الناظرُ فيها إلى أن اللهَ له الحجةُ البالغةُ في تكليفِه لعبادِه بالشرائعِ — مخلوقات میں ایسی نشانیاں ہیں جن سے دیکھنے والا اِس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ شریعتوں کے ذریعے بندوں کو مکلَّف کرنے میں اللہ کی حجت پوری ہے۔ باب اِسی جملے پر ختم بھی ہوتا ہے۔
  2. درختوں سے آغاز: ہر نوع کے پتے ایک خاص شکل کے، پھول ایک خاص رنگ کے، پھل خاص ذائقوں کے۔ اور یہ سب تابعةٌ للصورةِ النوعيةِ مُلتويةٌ معها — صورتِ نوعیہ کے تابع، اُس کے ساتھ گُتھے ہوئے۔ «یہ مادہ کھجور ہو» کا فیصلہ اُس تفصیلی فیصلے سے مُشتبك ہے کہ «اُس کا پھل ایسا ہو»۔
  3. اور یہیں وہ سوال باطل ہوتا ہے: وليس لك أن تقولَ: لِمَ كانت ثمرةُ النخلِ على هذه الصفةِ؟ — کیونکہ وجودَ لوازمِ الماهياتِ معها لا يُطلَبُ بـ«لِمَ»: ماہیت کے لوازم کا اُس کے ساتھ ہونا «کیوں» سے نہیں پوچھا جاتا۔ اِس اصول کو یاد رکھیے — باب کا آخری جواب اِسی پر کھڑا ہے۔
  4. حیوان، اور کوّہ دوبارہ: ہر نوع کی حرکات، الہامات اور تدبیریں — اور یہ سب تترشَّحُ … من كوَّةِ الصورةِ النوعيةِ، صورتِ نوعیہ کے روشندان سے۔ باب ٥ کا كوّة یہاں ایک نئی جگہ لگ گیا۔
  5. انسان کا راز: اُس میں درخت اور حیوان دونوں کا حصہ ہے، اور اوپر سے نطق، فہمِ خطاب اور کسبی علوم۔ اور وہ راز؟ أن مزاجَ الإنسانِ يقتضي أن يكونَ عقلُه قاهراً على قلبِه، وقلبُه قاهراً على نفسِه۔
  6. دلیل کی چوٹی — عقل کی چراگاہ: جو جانور صرف گھاس پر جیتا ہو، اُسے دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ نے اُس کے لیے چراگاہ بنائی ہے۔ اِسی طرح انسان کی عقل کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ هنالك طائفةً من العلومِ يَسُدُّ بها العقلُ خَلَّتَه — علوم کا ایک ذخیرہ ہے جس سے عقل اپنی کمی پوری کرتی ہے۔ شریعت وہی چراگاہ ہے۔

اصل نکتہ: باب کے آخر میں سوال اٹھایا جاتا ہے — «نماز کیوں فرض ہوئی؟ رسول کی اطاعت کیوں لازم ہوئی؟ زنا اور چوری کیوں حرام ہوئے؟» اور جواب حصہ ۳ کے اصول پر مکمل دائرہ بنا دیتا ہے: من حيثُ وجبَ على البهائمِ أن ترعى الحشيشَ — جس بنیاد پر چوپائے کا گھاس چرنا «واجب» ہے۔ یعنی تکلیف نوع کی ساخت کا لازمہ ہے، باہر سے لگایا ہوا حکم نہیں؛ اور «نماز کیوں؟» ویسا ہی سوال ہے جیسا «کھجور کا پھل ایسا کیوں؟»۔ فرق صرف طریقِ وصول کا ہے: حیوان الہامِ جبلی سے پاتا ہے، انسان کسب و نظر سے، یا وحی سے، یا تقلید سے۔


۱

کتاب کا نام اِسی باب میں کھلتا ہے

باب کا پہلا جملہ پڑھتے ہی ایک بات چونکا دیتی ہے — یہ کتاب کے عنوان کی تشریح ہے:

اعلمْ أن للهِ تعالى آياتٍ في خلقِه يَهتدي الناظرُ فيها إلى أن اللهَ له الحُجَّةُ البالغةُ في تكليفِه لعبادِه بالشرائعِ.

الحجة البالغة — یعنی وہ دلیل جو انتہا تک پہنچی ہوئی ہو، جس کے بعد عذر باقی نہ رہے۔ اور دیکھیے کہ حجت کس بات میں ہے: في تكليفِه لعبادِه بالشرائعِبندوں کو شریعتوں کا مکلَّف بنانے میں۔ یعنی کتاب کا موضوع یہ ہے کہ احکام دینا اللہ کی طرف سے ایک مدلَّل کام ہے، اور دلیل مخلوقات میں پڑی ہوئی ہے۔

یہ جملہ باب کے آخر میں نتیجہ بن کر لوٹتا ہے۔ شروع میں یہ دعویٰ ہے — «مخلوقات میں نشانیاں ہیں جو یہاں تک پہنچاتی ہیں»۔ اور تیرہ صفحوں کے بعد وہی الفاظ حاصل بن کر آتے ہیں: فللهِ الحجةُ البالغةُ۔ میری — اور اِسی لیے یہ باب پوری کتاب کا مرکز کہا جا سکتا ہے، اگرچہ ترتیب میں ساتواں ہے۔

اور طریقہ استقرائی ہے، نہ کہ کلامی۔ متن آسمان سے دلیل نہیں شروع کرتا؛ وہ کہتا ہے: درختوں کو دیکھو۔


۲

صورتِ نوعیہ — اور وہ سوال جو باطل ہے

پہلا قدم نباتات ہیں، اور مقصد ایک اصول قائم کرنا ہے:

فانظرْ إلى الأشجارِ وأوراقِها وأزهارِها وثمراتِها، وما في كلِّ ذلك من الكيفياتِ المُبصَرةِ والمذوقةِ وغيرِها، فإنه جعلَ لكلِّ نوعٍ أوراقاً بشكلٍ خاصٍّ، وأزهاراً بلونٍ خاصٍّ، وثماراً مختصةً بطُعومٍ، وبتلك الأمورِ يُعرَفُ أن هذا الفردَ من نوعِ كذا وكذا.

وهذه كلُّها تابعةٌ للصورةِ النوعيةِ مُلتويةٌ معها، إنما تجيءُ من حيثُ جاءتِ الصورةُ النوعيةُ، وقضاءُ اللهِ تعالى بأن تكونَ هذه المادةُ نخلةً — مثلاً — مُشتبكٌ مع قضائِه التفصيليِّ بأن تكونَ ثمرتُها كذا وخواصُّها كذا.

دو لفظ اٹھا کر رکھ لیجیے، کیونکہ آگے سب اُن پر ہے۔ مُلتوية معها — لپٹی ہوئی، بٹی ہوئی؛ جیسے رسّی کے دو بَل۔ اور مُشتبك — گُتھا ہوا، جالی کی طرح ایک دوسرے میں پھنسا۔ یعنی «یہ کھجور ہو» اور «اِس کا پھل ایسا ہو» دو الگ فیصلے نہیں جو بعد میں جوڑ دیے گئے ہوں — وہ ایک ہی فیصلہ ہیں، دو رُخ سے دیکھا گیا۔

پھر خواصِ نوع کی ایک چار طرفہ تقسیم آتی ہے، جو آگے انسان پر لگنے والی ہے:

ومن خواصِّ النوعِ ما يُدرِكُه كلُّ من له بالٌ، ومن خواصِّه ما لا يُدرِكُه إلا الألمعيُّ الفَطِنُ كتأثيرِ الياقوتِ في نفسِ حامِلِه بالتفريحِ والتشجيعِ، ومن خواصِّه ما يعُمُّ كلَّ الأفرادِ، ومن خواصِّه ما لا يوجدُ إلا في بعضِها حيثُ تستعدُّ المادةُ، كالأهليلَجِ الذي يُسهِلُ بطنَ من قبضَ عليه بيدِه.

یعنی دو محور ہیں: کتنا ظاہر (ہر باشعور کو معلوم / صرف ذہین کو) اور کتنا عام (سب افراد میں / صرف اُن میں جہاں مادہ استعداد رکھتا ہو)۔ مثالیں اُس زمانے کی طبی روایت سے ہیں — یاقوت کا دل پر اثر، اور ہَلیلہ کا محض ہاتھ میں پکڑنے سے پیٹ نرم کر دینا۔

مثالوں پر نہ اٹکیے۔ میری باب کا دعویٰ اِن دو مثالوں پر نہیں، اُس تقسیم پر ہے: کہ نوع کی خاصیتیں کبھی سب میں ہوتی ہیں اور کبھی صرف وہاں جہاں مادہ تیار ہو۔ اور یہی تقسیم آگے نبوت کی دلیل بنے گی — کیونکہ «کامل» بھی ایسی ہی ایک خاصیت ہے جو بعض افراد میں ظاہر ہوتی ہے۔

اور اب وہ جملہ جو باب کا منطقی مرکز ہے:

وليس لك أن تقولَ: لِمَ كانت ثمرةُ النخلِ على هذه الصفةِ؟ فإنه سؤالٌ باطلٌ، لأن وجودَ لوازمِ الماهياتِ معها لا يُطلَبُ بـ«لِمَ».

وجودُ لوازمِ الماهياتِ معها لا يُطلَبُ بـ«لِمَ».

یہ منطق کا ایک مستحکم اصول ہے۔ «مثلث کے تین زاویے کیوں ہیں؟» — سوال ہی غلط ہے: تین زاویے مثلث کے لازم ہیں، کوئی اضافی خصوصیت نہیں جس کی وجہ پوچھی جائے۔ اِسی طرح کھجور کا پھل کھجور کے ہونے کا لازم ہے۔ اور یہی ہتھیار باب کے آخر میں «نماز کیوں فرض ہوئی؟» پر چلایا جائے گا — مگر پہلے دلیل کو حیوان اور انسان تک جانا ہے۔


۳

حیوان — اور «کوّہ» ایک نئی جگہ

نباتات میں صرف شکل و ذائقہ تھا۔ حیوان میں ایک نئی چیز شامل ہوتی ہے: سلوک۔

ثم انظرْ إلى أصنافِ الحيوانِ تجدْ لكلِّ نوعٍ شكلاً وخِلقةً كما تجدُ في الأشجارِ، وتجدُ مع ذلك لها حركاتٌ اختياريةٌ، وإلهاماتٌ طبيعيةٌ، وتدبيراتٌ جِبِلّيةٌ يمتازُ كلُّ نوعٍ بها.

وما أُلهِمَ نوعاً من الأنواعِ إلا علوماً تناسبُ مزاجَه، وإلا ما يَصلُحُ به ذلك النوعُ.

گائے بکری گھاس چرتی اور جگالی کرتی ہے؛ گھوڑا، گدھا، خچر گھاس چرتے ہیں مگر جگالی نہیں کرتے؛ درندے گوشت کھاتے ہیں؛ پرندہ ہوا میں اڑتا ہے، مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔ ہر نوع کی آواز الگ، جوڑا ملانے کا طریقہ الگ، بچوں کو سینے کا انداز الگ۔ اور فیصلہ کن قید یہ ہے: جو الہام دیا گیا وہ علوماً تناسبُ مزاجَه ہے — اُس کے مزاج کے مناسب علم، اور وہی جس سے وہ نوع درست رہے۔

پھر وہ لفظ آتا ہے جو پہچانا ہوا ہے:

وكلُّ هذه الإلهاماتِ تترشَّحُ عليه من جانبِ بارئِها من كوَّةِ الصورةِ النوعيةِ، ومَثَلُها كمَثَلِ تخاطيطِ الأزهارِ وطُعومِ الثمراتِ في تشابُكِها مع الصورةِ النوعيةِ.

كوّة — یہ لفظ باب ٥ سے آ رہا ہے۔ وہاں روحِ قدسی کو كوّةٌ من عالَمِ القُدسِ کہا گیا تھا: ایک روشندان، جس سے نَسَمہ پر وہ اترتا ہے جس کی اُس نے استعداد پیدا کی۔ یہاں وہی روشندان صورتِ نوعیہ کا ہے، اور اُس سے حیوان پر اُس کے الہامات اترتے ہیں۔ میری — اور دونوں جگہ کام ایک ہی ہے: نازل ہونے والا اوپر سے ہے، مگر جو اترتا ہے وہ وصول کرنے والے کی ساخت سے متعین ہوتا ہے۔

حاشیہ لفظ کا معنی بھی دے دیتا ہے، اور ساتھ ایک دلچسپ تصحیح بھی:

حاشیہ

كوَّة: بفتحِ الكافِ وضمِّها، بمعنى النَّقْبِ. والتخطيطُ: التسطيرُ، والتخاطيطُ: الأشكالُ.

اليَعسوبُ: مَلِكةُ النحلِ، وهي أنثى، وكان العربُ يظنونها ذَكَراً لِضخامتِها؛ وهي تُدبِّرُ النحلَ، أُعطِيَت علوماً وعقلاً دون النحلِ لعدمِ استعدادِها؛ وكذلك بعضُ الببغاءِ يتعلَّمُ محاكاةَ أصواتِ الناسِ دون البعضِ.

پہلا حاشیہ كوّة کو النَّقْب — سوراخ، رخنہ — سے سمجھاتا ہے۔ دوسرا اُس مثال پر ہے جو متن یہاں دیتا ہے: نوع کے احکام میں سے کچھ سب افراد میں ہوتے ہیں اور کچھ صرف بعض میں «جہاں مادہ استعداد رکھے اور اسباب جمع ہو جائیں» — جیسے اليعسوب شہد کی مکھیوں میں، اور طوطا جو تربیت کے بعد آوازوں کی نقل سیکھ لیتا ہے۔ اور حاشیہ ٹھہر کر بتاتا ہے کہ یعسوب مادہ ہے، عرب اُس کے حجم کی وجہ سے نر سمجھتے تھے۔

میری آگے پوری نبوت کی دلیل اِسی يعسوب پر ٹکنے والی ہے — «جیسے شہد کی مکھیوں میں ایک یعسوب باقی سب کا انتظام کرتا ہے» — اور حاشیہ اُس تصویر کی حیاتیاتی تفصیل درست کر دیتا ہے، بغیر دلیل کو چھیڑے۔


۴

انسان — اور اُس کا راز

تیسرا درجہ انسان ہے، اور متن اُسے جمع کر کے پیش کرتا ہے: اُس میں نیچے کے دونوں درجے موجود ہیں، اور اُن پر کچھ اور۔

درختوں والا حصہ اور حیوانوں والا حصہ — کھانسنا، جسم توڑنا، ڈکار، فضلات کا اخراج، اور پیدائش کے وقت چھاتی چوسنا۔ اور اِن کے ساتھ وہ خواص جن سے وہ باقی حیوانات سے ممتاز ہے: النُّطق، فهم الخطاب، اور توليد العلوم الكسبية — بدیہی مقدمات کی ترتیب سے، یا تجربہ، استقراء اور حدس سے۔ اور ایک عجیب چیز: اُن کاموں کا اہتمام جنہیں عقل اچھا کہتی ہے مگر حِس اور وہم اُن تک نہیں پہنچتے — كتهذيبِ النفسِ، وتسخيرِ الأقاليمِ تحتَ حكمِه۔

اور اِس کے بعد ایک استدلال جو انسانی وحدت سے چلتا ہے: اِن سب امور کی اصلوں پر تمام امتیں متفق پائی جاتی ہیں — حتى سكّانِ شواهقِ الجبالِ، پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کے بسنے والے تک۔ ایسی توارد اتفاقی نہیں ہو سکتی:

وما ذلك إلا لسرٍّ ناشئٍ من جذرِ صورتِه النوعيةِ، وذلك السرُّ أن مزاجَ الإنسانِ يقتضي أن يكونَ عقلُه قاهراً على قلبِه، وقلبُه قاهراً على نفسِه.

تین درجے، ایک قاہر ترتیب میں۔ عقل ← قلب ← نفس، اور ہر اوپر والا نیچے والے پر قاهر (غالب) ہو۔ باب ٦ میں دو قوتیں تھیں اور فرق «غلبے کے رُخ» کا تھا؛ یہاں وہی بات تین درجوں میں کھلتی ہے۔ اور غور کیجیے کہ یہ تقاضا ہے، خبر نہیں: يقتضي أن يكونَ — انسان کا مزاج یہ چاہتا ہے۔ پس جب ترتیب اُلٹ جائے — نفس قلب پر اور قلب عقل پر غالب ہو — تو یہ نوع کی ساخت کے خلاف ہے، محض ایک اخلاقی کوتاہی نہیں۔

لوحِ اوّل · Plate I

تین نوعیں — اور ہر ایک کو علم کیسے ملتا ہے

الإنسانُله ما في الأشجارِ وما في الحيوانِوخواصُّ: النطقُ وفهمُ الخطابِوتوليدُ العلومِ الكسبيةِیتلقَّى كسباً ونظراً، أو وحياً، أو تقليداً — اِسی لیے وہ مکلَّف ہےعقلُه قاهرٌ على قلبِهوقلبُه قاهرٌ على نفسِهيتوارَدُ عليها جميعُ الأممِالسؤالُ الباطلُلِمَ كانت ثمرةُ النخلِ هكذا؟لوازمُ الماهياتِ لا تُطلَبُ بِلِمَ«نماز کیوں؟» بھی ایسا ہی سوالالحيوانُحركاتٌ اختياريةٌ وإلهاماتٌ طبيعيةٌوتدبيراتٌ جِبِلّيةٌألهمه طلبَ الحبوبِ والماءِمن مَظانِّهاإلهاماً جِبِلّياًمن كوَّةِ الصورةِ النوعيةِالنَّباتُلا يُحِسُّ ولا يتحرَّكُجُعِلَت له عروقٌ تَمُصُّ المادةَایک ہی تدبیر، تین ساختیں — اور ہر ساخت کو اُس کے مناسب «علم»

متن کی ترتیب نیچے سے اوپر ہے: نبات، حیوان، انسان۔ ہر درجے پر تدبير الحق اُس کی ساخت کے مطابق بدلتا ہے — جڑیں، پھر الہامِ جبلی، پھر کسب و وحی۔ اور دائیں طرف وہ سوال جو باب باطل قرار دیتا ہے، اور جس پر آخری جواب کھڑا ہے۔


۵

تدبیر کی گواہی: جڑیں، الہام، اور کبوتری

اب متن ایک اور زاویے سے وہی بات کہتا ہے — ثم انظرْ إلى تدبيرِ الحقِّ لكلِّ نوعٍ، وتربيتِه إيّاه، ولطفِه به۔ اور دلیل کی صورت یہ ہے: ہر نوع کو بالکل وہی دیا گیا جو اُس کی ساخت مانگتی تھی۔

فلما كان النباتُ لا يُحِسُّ ولا يتحرَّكُ جعلَ له عروقاً تَمُصُّ المادةَ المجتمعةَ من الماءِ والهواءِ ولطيفِ الترابِ، ثم يُفرِّقُها في الأغصانِ وغيرِها على تقسيمٍ تُعطيه الصورةُ النوعيةُ.

ولما كان الحيوانُ حسّاساً متحركاً بالإرادةِ لم يجعلْ له عروقاً تَمُصُّ المادةَ من الأرضِ، بل ألهمَه طلبَ الحبوبِ والحشيشِ والماءِ من مَظانِّها، وألهمَه جميعَ ما يحتاجُ إليه من الارتفاقاتِ.

ساخت بدلی، تو ذریعہ بدل گیا: بےحس اور غیر متحرک کو جڑیں، اور حساس و متحرک کو الہام۔ دونوں صورتوں میں مقصد ایک ہے — نوع کو اُس کی غذا تک پہنچانا۔

اور پھر متن ایک ایسی تفصیل میں اترتا ہے جو غیر متوقع ہے، اور نہایت دلچسپ:

وجعلَ من الحمامةِ الأُنسَ بين ذكرِها وأنثاها، وجعلَ خُلوَّ جوفِها هو الحاملَ على حضانةِ البيضِ، ثم جعلَ رطوبتَها الباليةَ تتوجَّهُ إلى التهوُّعِ، وجعلَ لها رحمةً على الفَرخِ، وجعلَ رحمتَها مع الرطوبةِ الباليةِ سبباً لتهوُّعِها ودفعِ الحبوبِ والماءِ إلى جوفِ فَرخِها.

کبوتری کا بچے کو غذا دینا — جسے آج crop milk کہا جاتا ہے — یہاں تین چیزوں کے جوڑ سے بیان ہوا ہے: نر و مادہ کے درمیان أُنس، پیٹ کا خالی ہونا جو انڈوں پر بیٹھنے پر آمادہ کرتا ہے، اور «باسی رطوبت» کا قے کی طرف رُخ کر جانا — اور اِن سب پر رحمة على الفرخ۔ اِسی سے پہلے مرغی کا بیان ہے: انڈے دینے کے بعد خشکی اور خلوِ جوف اُس پر ایک ایسی حالت لاتے ہیں جو اُسے اپنی نوع سے کٹ جانے اور کسی چیز کو سینے پر مائل کرتی ہے۔

یہاں طریقۂ استدلال دیکھنے کے قابل ہے۔ بیان بالکل مادی ہے — رطوبت، خشکی، خالی پیٹ — اور نتیجہ بالکل غائی: بچے کی پرورش۔ متن اِن دونوں میں تصادم نہیں دیکھتا؛ اُس کے لیے مادی سلسلہ ہی وہ صورت ہے جس میں تدبیر ظاہر ہوتی ہے۔ میری: قاعدہ ٹوٹتا نہیں، اور مقصد قاعدے کے ذریعے پورا ہوتا ہے۔ اِسی لیے وہ فوراً انسان کی طرف بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ سب تو قوتِه البهيمية کا بیان تھا؛ اب ملکی قوت کی طرف چلیے۔

وهذا كلُّه شرحُ الخواصِّ والتدبيراتِ الظاهرةِ المتعلقةِ بقوَّتِه البهيميةِ وارتفاقاتِه المعيشيةِ، ثم انتقلْ إلى قوَّتِه الملكيةِ.

یہ جملہ باب کا صریح جوڑ ہے، اور اُس کے دونوں لفظ باب ٦ کے ہیں: البهيمية اور الملكية۔


۶

درخت کی مثال: حالی تکفف سے علمی تکفف تک

ملکی قوت کا بیان ایک آیت سے شروع ہوتا ہے:

قرآن — الحج: ١٨

﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ﴾

سوال یہ ہے: پہاڑ اور درخت کس معنی میں سجدہ کرتے ہیں؟ متن جواب ایک تمثیل سے دیتا ہے، اور یہ باب کی خوبصورت ترین جگہ ہے:

أليسَ أن كلَّ جزءٍ من الشجرةِ من أغصانِها وأوراقِها وأزهارِها مُتكفِّفٌ يدَه إلى النفسِ النباتيةِ المُدبِّرةِ في الشجرةِ دائماً سَرمَداً؟ فلو كان لكلِّ جزءٍ منها عقلٌ لحَمِدَ النفسَ النباتيةَ حمداً غيرَ حمدِ الآخرِ، ولو كان له فهمٌ لانطبعَ التكفُّفُ الحاليُّ في علمِه وصارَ تكفُّفاً بالهِمَّةِ.

تكفُّف کے معنی ہاتھ پھیلانا، مانگنا۔ درخت کا ہر جزو — شاخ، پتّا، پھول — ہر لمحہ نفسِ نباتیہ کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے: غذا مانگ رہا ہے، اور بغیر مانگے جیے بھی نہیں سکتا۔ یہ التكفُّف الحاليّ ہے — حالت کی زبان سے مانگنا۔ اور اگر اُس جزو کو عقل دے دی جائے تو وہی مانگ شعوری ہو جائے: تكفُّفاً بالهِمَّةِ۔

فاعلمْ من هناك أن الإنسانَ لما كان ذا عقلٍ ذكيٍّ انطبعَ في نفسِه التكفُّفُ العلميُّ حسبَ التكفُّفِ الحاليِّ.

یہی آیت کی تفسیر ہے، اور عبادت کی تعریف بھی۔ پوری کائنات پہلے سے مانگ رہی ہے — بےزبان، حالت سے۔ انسان کے پاس عقل ہے، تو اُس کے اندر وہی مانگ شعوری صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پس عبادت کوئی نئی چیز نہیں جو انسان پر لادی گئی؛ وہ اُس عالمی تکفف کا باشعور نسخہ ہے۔ میری: وہاں کہا گیا تھا کہ انسان يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه — اپنی استعداد کی زبان سے مانگتا ہے؛ یہاں وہی مانگ درخت کی شاخ سے شروع ہو کر انسان کے شعور تک پہنچتی ہے۔

اور اِسی سلسلے میں نبوت کی ضرورت کا استدلال آتا ہے — نوع کی ساخت سے، نہ کہ نقل سے:

وليس فردٌ من أفرادِ الإنسانِ إلا له قوةٌ للتخلُّصِ إلى الغيبِ برؤيا يراها، أو برأيٍ يُبصِرُه، أو هَتيفٍ يسمعُه، أو حَدْسٍ يتفطَّنُ له، إلا أن منهم الكاملَ ومنهم الناقصَ، والناقصُ يحتاجُ إلى الكاملِ.

یعنی غیب کی طرف ایک دریچہ ہر فرد میں ہے — خواب، رائے، آواز، حدس — مگر درجے مختلف ہیں، اور ناقص کو کامل کی ضرورت ہے۔ اور یہ ٹھیک وہی ڈھانچہ ہے جو حصہ ۲ میں گزرا: نوع کی کچھ خاصیتیں صرف اُن افراد میں ظاہر ہوتی ہیں جہاں مادہ استعداد رکھتا ہو — جیسے مکھیوں میں یعسوب۔

حاشیہ

الحَدْسُ: إدراكُ الشيءِ إدراكاً مباشراً.


۷

دلیل کی چوٹی: شریعت عقل کی چراگاہ ہے

اب باب اپنی سب سے مضبوط دلیل پر پہنچتا ہے۔ پہلے مقدمہ: انسان کے مزاج کا اعتدال علوم اور شریعت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا — ایسی شریعت جس میں معارفِ الٰہیہ ہوں، ارتفاقی تدبیریں ہوں، اور اختیاری افعال کو پانچ اقسام (واجب، مندوب، مباح، مکروہ، حرام) میں تقسیم کرنے والے قواعد ہوں۔ پس:

وجبَ في حكمةِ اللهِ تعالى ورحمتِه أن يُهيِّئَ في غيبِ قُدسِه رزقَ قوَّتِه العقليةِ يَخلُصُ إليه أزكاهم فيتلقّاه من هنالك، وينقادُ له سائرُ الناسِ، بمنزلةِ ما ترى في نوعِ النحلِ من يعسوبٍ يُدبِّرُ لسائرِ أفرادِها.

لفظ رزق پر رُکیے: عقل کی خوراک۔ اور اب وہ قیاس جو پورے باب کا حاصل ہے:

فكما أن المستبصرَ إذا رأى نوعاً من أنواعِ الحيوانِ لا يتعيَّشُ إلا بالحشيشِ استيقنَ أن اللهَ دبَّرَ له مرعىً فيه حشيشٌ كثيرٌ، فكذلك المستبصرُ في صُنعِ اللهِ يستيقنُ أن هنالك طائفةً من العلومِ يَسُدُّ بها العقلُ خَلَّتَه فيكملُ كمالُه المكتوبُ له.

یہ باب کی چوٹی ہے۔ دلیل کا رخ غور سے دیکھیے — وہ ضرورت سے فراہمی کی طرف جاتی ہے۔ آپ ایک جانور دیکھتے ہیں جو گھاس کے سوا کچھ نہیں کھا سکتا، اور آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ کہیں چراگاہ ہو گی — کیونکہ ایسی ساخت بےچراگاہ عالَم میں بےمعنی ہوتی۔ اِسی طرح انسان کی عقل ایک ایسی ساخت ہے جو اپنے بل پر پوری نہیں ہوتی۔ پس علوم کا ایک ذخیرہ ہونا چاہیے۔ شریعت وہی چراگاہ ہے۔ میری — اور یہی «حجتِ بالغہ» کا اصل مضمون ہے۔

پھر متن اُس چراگاہ کی فہرست دیتا ہے، اور پہلی ہی شرط قابلِ توجہ ہے:

وتلك الطائفةُ منها علمُ التوحيدِ والصفاتِ، ويجبُ أن يكونَ مشروحاً بشرحٍ ينالُه العقلُ الإنسانيُّ بطبيعتِه، لا مُغلَقاً لا ينالُه إلا من يَندُرُ وجودُ مثلِه.

یعنی عقیدہ ایسی زبان میں ہونا چاہیے جو عام انسانی عقل کی پہنچ میں ہو — نہ کہ ایسا بند تالا جو صرف کسی شاذ ذہن کو ملے۔ اور پھر وہ دکھاتے ہیں کہ قرآن نے یہ کیسے کیا: اللہ نے اپنے لیے وہ صفات ثابت کیں يعرفونها ويستعملونها بينهم — جنہیں لوگ جانتے اور آپس میں برتتے ہیں: حیات، سمع، بصر، قدرت، ارادہ، کلام، غضب، رحمت، مُلک، غنا۔ اور ساتھ ہی:

وأثبتَ مع ذلك أنه ليس كمثلِه شيءٌ في هذه الصفاتِ؛ فهو حيٌّ لا كحياتِنا، وبصيرٌ لا كبصرِنا، قديرٌ لا كقدرتِنا، مريدٌ لا كإرادتِنا، متكلِّمٌ لا ككلامِنا.

ثم فسَّرَ عدمَ المماثلةِ بأمورٍ مُستبعَدةٍ في جنسِنا، مثلَ أن يقالَ: يَعلَمُ عددَ قَطرِ الأمطارِ، وعددَ رملِ الفَيافي، وعددَ أوراقِ الأشجارِ، وعددَ أنفاسِ الحيواناتِ، ويُبصِرُ دَبيبَ النملِ في الليلةِ الظلماءِ، ويسمعُ ما يُتوسوَسُ به تحتَ اللُّحُفِ في البيوتِ المُغلَقةِ عليها أبوابُها.

میری تنزیہ (اللہ کسی چیز کے مشابہ نہیں) ایک مجرد کلامی دعویٰ ہے، اور مجرد رہ کر ذہن پر اثر نہیں کرتا۔ قرآن اُسے ناقابلِ تصور مقداروں سے سمجھاتا ہے: بارش کے قطرے، ریگستان کی ریت، درختوں کے پتے، جانوروں کے سانس؛ اندھیری رات میں چیونٹی کی چال؛ بند دروازوں کے پیچھے لحاف کے نیچے کی سرگوشی۔ صفت وہی رہتی ہے جو ہم جانتے ہیں — سننا، دیکھنا، جاننا — مگر پیمانہ ایسا کہ مشابہت خود ٹوٹ جاتی ہے۔

اور فہرست جاری رہتی ہے: علم العبادات، علم الارتفاقات، علم المخاصمة — یعنی جب نچلے نفوس ایسے شبہات پیدا کریں جن سے حق کو دھکیلا جائے تو اُن گرہوں کو کھولنا — اور علم التذكير بآلاء الله، بأيام الله، وبوقائع البرزخ والمحشر۔


۸

علوم کا سفر: غیبِ غیب سے وحی تک

اب متن بتاتا ہے کہ وہ «چراگاہ» عمل میں کیسے مہیا ہوئی۔ اور یہ باب کا سب سے جسور حصہ ہے، کیونکہ یہاں وہ اپنی تعبیر کو صریحاً اشعری اصطلاح سے جوڑ دیتے ہیں:

فتمثَّلت تلك العلومُ كلُّها في غيبِ الغيبِ محدودةً ومُحصاةً، وهذا التمثُّلُ هو الذي يُعبَّرُ عنه الأشاعرةُ بالكلامِ النفسيِّ، وهو غيرُ العلمِ وغيرُ الإرادةِ والقدرةِ.

حاشیہ

في غيبِ الغيبِ: أي في علمِه تعالى.

قوله: إلى استعدادِه … إلخ: يعني استعدادَ أكثرِ الناسِ المُعتبَرين.

پہلا حاشیہ غيب الغيب کو «اُس کے علم» سے واضح کر دیتا ہے۔ دوسرا ایک ضروری قید لگاتا ہے: جس «استعداد» کا لحاظ ہے وہ اکثر معتبر لوگوں کی استعداد ہے — یعنی شریعت اُس عام سطح پر اترتی ہے، نہ کہ شاذ افراد کی سطح پر۔ یہ حصہ ۷ کی اُس شرط کا عین تسلسل ہے کہ عقیدہ «بند تالا» نہ ہو۔

اور پھر چار مرحلے بیان ہوتے ہیں — علوم کا نزول، ایک درجے سے دوسرے درجے تک:

ثم لما جاء وقتُ خلقِ الملائكةِ علِمَ الحقُّ أن مصلحةَ أفرادِ الإنسانِ لا تتمُّ إلا بنفوسٍ كريمةٍ نسبتُها إلى نوعِ الإنسانِ كنسبةِ القُوى العقليةِ في الواحدِ منا إلى نفسِه، فأوجدَهم بكلمةِ ﴿كُنْ﴾ بمحضِ العنايةِ بأفرادِ الإنسانِ، فأودعَ في صدورِهم ظِلاًّ من تلك العلومِ.

اور اِس کے فوراً بعد وہ آیت آتی ہے جس سے باب ٣ شروع ہوا تھا﴿الذين يحملون العرش ومن حوله﴾۔ یعنی ملأِ اعلیٰ کا وجود یہاں ایک نتیجہ بن کر آ رہا ہے: وہ اِس لیے پیدا کیے گئے کہ انسان کی مصلحت اُن کے بغیر پوری نہ ہوتی۔ میری: نوعِ انسان کے لیے فرشتے وہی ہیں جو ہم میں سے ایک فرد کے لیے اُس کی عقلی قوتیں۔ باب ٣ نے بتایا تھا کہ وہ کیا کرتے ہیں؛ یہ باب بتاتا ہے کہ وہ کیوں ہیں۔

تیسرا مرحلہ القِرانات ہے — وہ اجتماعاتِ فلکی جو دولتوں اور ملّتوں کی تبدیلی کے ساتھ آتے ہیں؛ اُن کے موقع پر اُن علوم کے لیے ایک اور روحانی وجود مقرر ہوا، تفصیل کے ساتھ، اُس زمانے کے مناسب — اور اِس پر آیت ﴿إنا أنزلناه في ليلةٍ مباركةٍ … فيها يُفرَقُ كلُّ أمرٍ حكيمٍ﴾۔ اور چوتھا مرحلہ ایک آدمی ہے:

ثم انتظرت حكمةُ اللهِ لوجودِ رجلٍ زكيٍّ يَستعدُّ للوحيِ قد قضى بعُلوِّ شأنِه وارتفاعِ مكانِه، حتى إذا وُجِدَ اصطنعَه لنفسِه، واتَّخذَه جارحةً لإتمامِ مرادِه، وأنزلَ عليه كتابَه، وأوجبَ طاعتَه على عبادِه.

لفظ جارحة (عضو، آلہ) اور آیت ﴿واصطنعتُك لنفسي﴾ — نبی کو اللہ کے مراد کو پورا کرنے کا «عضو» کہا گیا۔ اور اب باب کا نتیجہ، جو اُس کے آغاز کے الفاظ ہیں:

فما أوجبَ تعيينَ تلك العلومِ في غيبِ الغيبِ إلا العنايةُ بالنوعِ، ولا سألَ الحقَّ فيضانُ نفوسِ الملأِ الأعلى إلا استعدادُ النوعِ، ولا أَلَحَّ عند القِراناتِ بسؤالِ تلك الشريعةِ الخاصةِ إلا أحوالُ النوعِ — فللهِ الحُجَّةُ البالغةُ.

تین جملے، ایک ہی فاعل۔ علوم کا غیبِ غیب میں متعین ہونا، ملأِ اعلیٰ کے نفوس کا فیضان، اور قرانات کے وقت اُس مخصوص شریعت کا آنا — تینوں کا سبب ایک ہی بتایا گیا: نوع۔ اُس کی عنایت، اُس کی استعداد، اُس کے احوال۔ اور اِسی سے وہ فقرہ نکلتا ہے جو کتاب کا نام ہے۔ میری: شریعت انسان پر ایک اضافی بوجھ نہیں جس کا جواز دینا پڑے؛ وہ اُس نوع کے وجود کا تقاضا ہے۔ اِسی لیے حجت «بالغہ» ہے — کیونکہ وہ خود مکلَّف کی ساخت سے نکلی ہے۔

۹

اور آخری سوال: نماز کیوں فرض ہوئی؟

باب ایک اعتراض اور جواب پر ختم ہوتا ہے، اور جواب اُس اصول پر کھڑا ہے جو حصہ ۲ میں رکھا گیا تھا:

فإن قيل: من أين وجبَ على الإنسانِ أن يُصلِّي؟ ومن أين وجبَ عليه أن يَنقادَ للرسولِ؟ ومن أين حُرِّمَ عليه الزنا والسرقةُ؟

فالجوابُ: وجبَ عليه هذا وحُرِّمَ عليه ذلك من حيثُ وجبَ على البهائمِ أن ترعى الحشيشَ وحُرِّمَ عليها أكلُ اللحمِ، ووجبَ على السباعِ أن تأكلَ اللحمَ ولا ترعى الحشيشَ، ومن حيثُ وجبَ على النحلِ أن يتَّبِعَ اليعسوبَ — إلا أن الحيوانَ استوجبَ تلقِّيَ علومِها إلهاماً جِبِلّياً، واستوجبَ الإنسانُ تلقِّيَ علومِه كسباً ونظراً، أو وحياً، أو تقليداً.

جواب کی ساخت پہچان لیجیے۔ سوال یہ ہے «کہاں سے واجب ہوا؟» — یعنی وہ کون سی اضافی وجہ ہے جس نے یہ حکم لگایا۔ اور جواب کہتا ہے: یہ سوال ویسا ہی ہے جیسا «کھجور کا پھل ایسا کیوں؟»۔ چوپائے کا گھاس چرنا اور درندے کا گوشت کھانا کسی بیرونی حکم سے نہیں — وہ اُن کی نوعی ساخت کے لوازم ہیں۔ نماز، رسول کی اطاعت، اور زنا و چوری کی حرمت اُسی درجے کی چیزیں ہیں: نوعِ انسانی کے لوازم۔

إلا أن الحيوانَ استوجبَ تلقِّيَ علومِها إلهاماً جِبِلّياً، واستوجبَ الإنسانُ تلقِّيَ علومِه كسباً ونظراً، أو وحياً، أو تقليداً.

اور آخری قید ہی وہ جگہ ہے جہاں «انشقاق» ہوتا ہے — تکلیف تقدیر سے پھوٹتی ہے۔ فرق مضمون کا نہیں، طریقِ وصول کا ہے: حیوان کو اُس کا علم الہامِ جبلی سے ملتا ہے، اِس لیے اُس پر تکلیف نہیں؛ انسان کو کسب، نظر، وحی یا تقلید سے ملتا ہے، اور جہاں وصول میں کوشش اور اختیار داخل ہو، وہیں تكليف پیدا ہو جاتی ہے۔

لوحِ دوم · Plate II

علوم کا سفر — غیبِ غیب سے شریعت تک

فللهِ الحُجَّةُ البالغةُ — اور یہی کتاب کا نام ہے۔ حجت «بالغہ» اِس لیے کہ وہ خود مکلَّف کی ساخت سے نکلی ہے۔

یہ سلسلہ متن کے چار مرحلے ہیں، اور ہر مرحلے کا سبب ایک ہی بتایا گیا ہے: النوع۔ آخری خانہ باب کے آغاز کا جملہ ہے، جو یہاں نتیجہ بن کر لوٹتا ہے۔


۱۰

یہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«یہ باب کہتا ہے کہ شریعت عقل سے نکالی جا سکتی ہے۔» — نہیں۔ باب یہ ثابت کرتا ہے کہ شریعت کا ہونا ضروری ہے، نہ کہ اُس کے احکام عقل سے دریافت کیے جا سکتے ہیں۔ چراگاہ کی دلیل بھی یہی ہے: جانور کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ چراگاہ ہو گی — مگر گھاس خود اُگانی نہیں پڑتی، اُسے ملنا پڑتا ہے۔ اِسی لیے آخری فہرست میں وحياً بھی ہے۔

عام غلط فہمی

«تکلیف کو نوع کا لازمہ کہنا اُسے جبر بنا دیتا ہے۔» — الٹا۔ آخری جملے کی قید دیکھیے: حیوان کا علم إلهاماً جِبِلّياً ہے، اور اِسی لیے وہ مکلَّف نہیں۔ انسان کا علم کسب، نظر، وحی یا تقلید سے آتا ہے — یعنی اُس میں وصول کا عمل شامل ہے، اور تکلیف اُسی خلا میں پیدا ہوتی ہے۔ لازمہ ہونا اور جبر ہونا ایک نہیں۔

باریک نکتہ

لا يُطلَبُ بـ«لِمَ» ہر «کیوں» کو بند نہیں کرتا۔ جو بند ہوتا ہے وہ لوازمِ ماہیت کے بارے میں «کیوں» ہے۔ حکمت اور مصلحت کا سوال پوری کتاب کا موضوع ہے — باب ١ کی تدبیر کی تعریف ہی حكمته اور مصلحة پر ہے۔ اِس اصول کو عام کر دینے سے کتاب اپنے ہی موضوع کو ساقط کر دے گی۔

باریک نکتہ

یاقوت اور ہَلیلہ پر باب کا وزن نہیں ہے۔ یہ اُس دور کی خواص کی روایت سے مثالیں ہیں۔ دعویٰ اُس تقسیم پر ہے (کچھ خواص عام، کچھ صرف جہاں مادہ تیار ہو)، اور وہ تقسیم آگے نبوت کی دلیل میں کام آتی ہے۔ مثال بدل جائے تو دلیل قائم رہتی ہے۔

باریک نکتہ

القِرانات کو باب ٤ کی روشنی میں پڑھیے۔ وہاں صاف کہا گیا تھا کہ انسانی حوادث کو ستاروں کی حرکات سے جوڑنا شرعاً ثابت نہیں، اور نجوم میں پڑنے کی ممانعت ہے — مگر ساتھ ہی ستاروں میں خواص کی نفی سے بھی انکار کیا گیا تھا۔ یہاں قرانات ایک وقت کے تعین کے طور پر آتے ہیں، نہ کہ فاعل کے طور پر۔ دونوں مقامات ملا کر پڑھنا ضروری ہے۔

سیاق

یہ باب پچھلے سب کو سمیٹتا ہے۔ كوّة باب ٥ سے، البهيمية/الملكية باب ٦ سے، ﴿الذين يحملون العرش﴾ باب ٣ سے، «قاعدے کے ذریعے مقصد» باب ٤ سے، اور حكمة/مصلحة باب ١ سے۔ اکیلا پڑھا جائے تو یہ فطرت پر ایک طویل تامل لگتا ہے؛ سلسلے میں پڑھا جائے تو یہ پورے مبحث کی دلیل کا خلاصہ ہے۔


۱۱

مزید گہرائی

یہ سوالات کھلے ہیں

  • الكلام النفسي سے اپنی تعبیر کو جوڑنا ایک بڑا کلامی قدم ہے۔ کیا وہ اشعری موقف کو اختیار کر رہے ہیں، یا محض ایک موجود اصطلاح میں اپنی بات رکھ رہے ہیں؟ اور معتزلہ و ماتریدیہ کے ہاں اِس کا کیا بنے گا؟
  • اگر علوم غيب الغيب میں محدودة ومحصاة متعین ہو چکے تھے، تو نسخ اور تدریجِ احکام کی توجیہ کیا ہو گی؟ قرانات کا ذکر اِس کا اشارہ لگتا ہے، مگر تفصیل نہیں۔
  • چراگاہ کی دلیل ایک غائی دلیل (teleological) ہے۔ اُس کا زور کہاں تک ہے — کیا وہ کسی وحی کے وجود کو ثابت کرتی ہے، یا اِس شریعت کو؟ متن دوسری بات کا دعویٰ کرتا نظر آتا ہے۔
  • فرشتوں کی نسبت انسان کی «عقلی قوتوں» سے دی گئی ہے۔ یہ تشبیہ کہاں تک لے جائی جا سکتی ہے، اور کیا اِس سے اُن کی خود مختاری متاثر ہوتی ہے؟ (باب ٦ میں وہ فانيةٌ عن مرادِ نفسِها تھیں۔)
  • عقلُه قاهراً على قلبِه، وقلبُه قاهراً على نفسِه — یہ تین درجے باب ٥ کے تین طبقوں (روح، نَسَمہ، بدن) اور باب ٦ کی دو قوتوں سے کس طرح منطبق ہوتے ہیں؟ اصطلاحیں ملتی ہیں مگر نقشہ ایک نہیں لگتا۔
  • یعسوب کی مثال نبوت کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ حاشیہ بتاتا ہے کہ یعسوب مادہ ہے اور اُسے «باقی مکھیوں سے زائد» علم دیا گیا۔ کیا اِس تصحیح کا دلیل پر کوئی اثر پڑتا ہے، یا وہ محض حیاتیاتی تفصیل ہے؟
الفاظ کہاں سے: اِس باب کی عبارتیں پالن پوری صاحب کے اسکین سے پڑھی گئی ہیں اور حواشی بھی وہیں سے۔ اُن کے نسخے نے دو جگہ شاملہ کی صریح درستی کی: لا يُطلَبُ بـ«لِمَ» (شاملہ میں یہ فقرہ ٹوٹا ہوا ہے) اور انطبعَ في نفسِه التكفُّفُ العلميُّ (شاملہ میں فعل ساقط ہے)۔ مگر تین مقامات پر اسکین ناقابلِ قراءت تھا — کبوتری اور مرغی کی تفصیل، الملائكة کے پیدا ہونے کا بیان، اور آخری فہرست کے بعض اجزاء — اِن کے الفاظ شاملہ کے متن سے ہیں۔ اور ایک مقام پر شاملہ خود مشتبہ ہے: انسانی درجات کی فہرست میں الغني الذي لا يهتدي لذلك إلا بضربٍ من تقليد — سیاق الحكيم کے مقابل کسی کم فہم کا تقاضا کرتا ہے، اِس لیے وہ جملہ یہاں نقل نہیں کیا گیا۔ مطبوعہ صفحے سے ملا لیجیے۔
بنیادی نسخہ

حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريباب ٧ — انشقاق التكليف من التقدير۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔

اردو شرح

اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔

متن میں تلاش کے لیے

لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔

کی بورڈ: پچھلا باب  ·  اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن