- کتاب
- حجة الله البالغة
- مؤلف
- شاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
- تحقیق
- سعيد أحمد البالنبوري — مولانا سعید احمد پالن پوری
- ناشر
- دار ابن كثير — بيروت
- طبع
- الطبعة الثالثة، ١٤٣٨ هـ / ٢٠١٧ م — مجلدان (٢)، ١٣٢٨ صفحة
- اردو شرح
- رحمۃ اللہ الواسعہ — مولانا سعید احمد پالن پوری
اِس بیاض کی ہر عربی عبارت اِسی طبع سے منسوب ہے۔ کسی باب میں اگر اسکین ناقابلِ قراءت ہو اور الفاظ کہیں اور سے لیے گئے ہوں، تو وہ بات اُسی باب کے صفحے پر درج کی جاتی ہے۔
حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري۔ یہی وہ تحقیق ہے جسے یہ بیاض پڑھتی ہے۔ پالن پوری صاحب اِس کے محقق بھی ہیں اور شارح بھی — اور اُن کے حواشی صرف اِسی نسخے میں ہیں، کسی ڈیجیٹل متن میں نہیں۔
اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ ہر باب کے آخر میں جو سوالات کھلے چھوڑے گئے ہیں، اُن کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔
پوری کتاب میں کوئی لفظ یا عبارت تلاش کرنی ہو تو یہ ڈیجیٹل نسخے کارآمد ہیں۔خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں — شاملہ پر سیّد سابق کا نسخہ ہے، اور اُس کے حواشی بھی اُنہی کے ہیں۔ اِس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے اور بعض مقامات پر الفاظ بھی۔ عبارت ڈھونڈنے کے لیے استعمال کیجیے، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔
دو باتیں جو ہر باب پر لاگو ہیں
اِن کے علاوہ کسی باب میں جو مآخذ زیرِ بحث آئے ہوں — مثلاً غزالیؒ کیإحياء علوم الدين یا كشاف اصطلاحات الفنون — وہ اُسی باب کے صفحے پر درج ہیں، کیونکہ وہ اُسی باب کے ہیں۔