حجة الله البالغة — شاہ ولی اللہ دہلویفہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ٩

جبلّتوں کا اختلاف

باب اختلاف الناس في جبلتهم
آٹھ مزاج — اور ایک باب جسے مصنف اپنا «فتح» کہتے ہیں

ikhtilāf al-nās fī jibillatihim

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغةشاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ٩ — اختلاف الناس في جبلتهم
مقام
القسم الأول — المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پورا عنوان
باب اختلافِ الناسِ في جِبِلّتِهم المُستوجِبِ لاختلافِ أخلاقِهم وأعمالِهم ومراتبِ كمالِهم
پچھلے ابواب
باب ٦باب ٧باب ٨
اگلا باب
باب ١٠ — في أسباب الخواطر الباعثة على الأعمال
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريدار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

ربط: باب ٦ نے دو قوتیں دی تھیں — ملكية اور بهيمية — اور کہا تھا کہ اُن میں تزاحمٌ وتجاذبٌ ہے۔ یہ باب اُنہی دو قوتوں کو لے کر پوچھتا ہے: لوگ ایک دوسرے سے کیوں مختلف ہیں؟ اور جواب اُن دو قوتوں کے درجوں اور اُن کے ملنے کے طریقے سے نکالتا ہے۔

خلاصۂ باب
  1. بنیاد نقل سے: «پہاڑ ہٹ جائے تو مان لو، آدمی اپنی خُو بدل لے تو نہ مانو، فإنه يصيرُ إلى ما جُبِلَ عليه»؛ خُلِقوا على طبقاتٍ شتّى؛ الناسُ معادنُ كمعادنِ الذهبِ والفضةِ؛ اور ﴿قل كلٌّ يعملُ على شاكلتِه﴾ — یعنی طريقتُه التي جُبِلَ عليها۔
  2. اور پھر ایک غیر معمولی اعلان: وإن شئتَ أن تَستجليَ ما فتحَ اللهُ عليَّ في هذا البابِ — «اگر تم وہ دیکھنا چاہو جو اللہ نے مجھ پر اِس باب میں کھولا»۔ آگے کی فہرست وہ اپنی طرف منسوب کرتے ہیں، اِن احادیث کے معانی سے۔
  3. قوّتِ ملکیہ دو رخ سے: ایک الوجهُ المناسبُ بالملأِ الأعلى — علومِ اسماء و صفات میں رنگ جانا، دقائقِ جبروت کی معرفت، نظام کو احاطے کے ساتھ پانا۔ دوسرا المناسبُ بالملأِ السافلِ — اوپر سے ایک داعیہ اترتا ہے، مگر من غيرِ إحاطةٍ، ولا اجتماعِ الهمّةِ، ولا المعرفةِ۔
  4. قوّتِ بہیمیہ بھی دو رخ سے: الشديدةُ الصَّفيقةُ — اُس گھوڑے کی طرح جو اچھی غذا اور مناسب تدبیر میں پلا: بڑا جسم، گونج دار آواز، نافذ ہمت، بڑا تِیہ، قوی غضب و حسد۔ اور الضعيفةُ المُهَلهَلةُ — خصی اور ناقص جانور کی طرح جو قحط اور نامناسب تدبیر میں پلا۔
  5. اور یہ قید سب کچھ بچا لیتی ہے: والقوتانِ جميعاً لهما جِبِلّةٌ تُخصِّصُ أحدَ وجهيها، وكسبٌ يؤيِّدُه ويُقوِّيه ويَمُدُّ فيه — جبلّت رخ متعین کرتی ہے، مگر کسب اُسے تائید، قوت اور توسیع دیتا ہے۔
  6. ملنے کے دو طریقے: التجاذب — دونوں اپنی انتہا مانگیں، سو کشمکش لازم؛ ایک غالب ہو تو دوسری کے آثار مٹ جائیں۔ اور الاصطلاح — ملکیہ اپنے خالص حکم سے اتر آئے اور بہیمیہ اپنے خالص حکم سے چڑھ آئے، فتصطلحانِ ويحصلُ مزاجٌ لا تخالُفَ فيه۔

اصل نکتہ: دو قوتیں × دو درجے × ملنے کے دو طریقے = آٹھ سرے۔ متن مانتا ہے کہ درجے لامتناہی ہیں (حاشیہ: ایک کے درجوں کو دوسرے کے درجوں سے ضرب دیجیے)، مگر رءوسَ الأقسامِ … ثمانيةٌ — پہچاننے کے قابل سرے آٹھ ہیں، «اور جو اُن کے احکام جان لے استراحَ من تشويشاتٍ كثيرةٍ — بہت سی الجھنوں سے چھوٹ جائے»۔ میری: یہ اخلاق کی فہرست نہیں، لوگوں کو پڑھنے کا نقشہ ہے — کہ ایک ہی ظاہری زُہد دو مختلف جڑوں سے آ سکتا ہے، اور ایک ہی علم دوسرے کے ادب کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔


۱

بنیاد: تین حدیثیں اور ایک آیت

باب اپنی بنیاد صاف بتا کر شروع ہوتا ہے — والأصلُ فيه ما رُوِيَ عن النبيِّ ﷺ۔ اور پہلی حدیث ہی اپنے اسلوب میں چونکانے والی ہے:

حدیث

إذا سمعتم بجبلٍ زالَ عن مكانِه فصدِّقوه، وإذا سمعتم برجلٍ تغيَّرَ عن خُلُقِه فلا تُصدِّقوا به، فإنه يصيرُ إلى ما جُبِلَ عليه.

مقابلہ جان بوجھ کر انتہائی رکھا گیا ہے: پہاڑ کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا زیادہ قابلِ یقین ہے، آدمی کی خُو بدلنے سے۔ اور وجہ آخر میں ہے: فإنه يصيرُ إلى ما جُبِلَ عليه — وہ لوٹ کر وہیں آتا ہے جس پر بنایا گیا ہے۔

حدیث

ألا إنَّ بني آدمَ خُلِقوا على طبقاتٍ شتّى.

اور حدیث آگے چلتی ہے — فمنهم من يُولَدُ مؤمناً — اور متن اُس کا حوالہ دے کر کہتا ہے فذكر الحديثَ بطولِه، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ اُس میں غصے اور قرض کے تقاضے میں لوگوں کے طبقات گنوائے گئے ہیں۔ یعنی «طبقات» کی بات کسی مجرد تقسیم کی نہیں — حدیث خود روزمرہ کے دو معاملوں پر اُس کی مثال دیتی ہے۔

حدیث

الناسُ معادنُ كمعادنِ الذهبِ والفضةِ.

اور آیت، جس پر متن ایک مختصر تفسیر بھی لگا دیتا ہے:

قرآن — الإسراء: ٨٤

﴿قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ﴾

أي طريقتُه التي جُبِلَ عليها.

چاروں نصوص ایک ہی بات کے گرد ہیں، مگر ایک ہی نتیجہ نہیں دیتیں۔ معادن کی حدیث جوہر کی بات کرتی ہے (سونا، چاندی)؛ طبقات شتى درجوں کی؛ پہاڑ کی حدیث ثبات کی؛ اور آیت عمل کی — ہر شخص اپنی «شاکلہ» پر کام کرتا ہے۔ میری، اور اِسی لیے وہ اگلی سطر میں یہ کام اپنے نام کرتا ہے۔

۲

«جو اللہ نے مجھ پر کھولا» — ایک غیر معمولی اعلان

یہاں متن ایک ایسا جملہ کہتا ہے جو پوری کتاب میں کم آتا ہے:

وإن شئتَ أن تَستجليَ ما فتحَ اللهُ عليَّ في هذا البابِ وفهَّمَني من معاني هذه الأحاديثِ — فاعلمْ أن القوةَ المَلَكيةَ تُخلَقُ في الناسِ على وجهين.

اِس جملے کو پڑھ کر آگے بڑھیے، نظرانداز نہ کیجیے۔ ما فتحَ اللهُ عليَّ اور وفهَّمَني — یعنی جو آگے آ رہا ہے وہ اِن احادیث کا اُن کا اپنا فہم ہے، نہ کہ کوئی منقول تقسیم جو وہ نقل کر رہے ہوں۔ میری: احادیث حجت ہیں؛ آٹھ اقسام کی یہ فہرست ایک تجزیہ ہے، جسے مصنف نے خود اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ اور باب کا اختتام بھی اِسی لہجے پر ہے: فهذه أصولٌ أعطانيها ربي۔ پس اِسے پورے وزن سے پڑھیے، مگر اُسی درجے پر رکھیے جس پر خود مصنف نے رکھا ہے۔

۳

قوّتِ ملکیہ: دو رخ

پہلی تقسیم قوّتِ ملکیہ میں ہے، اور اُس کے دونوں رخ باب ٣ کے دو درجوں کے نام سے پہچانے جاتے ہیں:

أحدهما الوجهُ المناسبُ بالملأِ الأعلى، الذين شأنهم الانصباغُ بعلومِ الأسماءِ والصفاتِ، ومعرفةُ دقائقِ الجبروتِ، وتلقّي النظامِ على وجهِ الإحاطةِ به، واجتماعُ الهمّةِ على طلبِ وجودِه.

والثاني الوجهُ المناسبُ بالملأِ السافلِ، الذين شأنهم انبعاثٌ بداعيةٍ تترشَّحُ عليهم من فوقِهم، من غيرِ إحاطةٍ، ولا اجتماعِ الهمّةِ، ولا المعرفةِ.

فرق چار لفظوں میں ہے، اور وہ چاروں پہلے رخ میں ہیں اور دوسرے میں نہیں: الإحاطة (نظام کو گھیر لینا)، اجتماع الهمة (ہمت کا ایک جگہ جمع ہونا)، المعرفة، اور الانصباغ (رنگ جانا)۔ دوسرے رخ میں داعیہ بھی اوپر سے ہی اترتا ہے — تترشَّحُ عليهم من فوقِهم — مگر بغیر احاطے، بغیر جمعیت، بغیر معرفت۔

یہ باب ٣ کا ڈھانچہ انسان پر لگ رہا ہے۔ وہاں الملأ الأعلى اور الملأ السافل فرشتوں کے دو درجے تھے، اور نچلے درجے کا کمال یہ بتایا گیا تھا کہ وہ «خالی رہ کر امر کا انتظار کریں»۔ یہاں وہی دو درجے انسانی مزاجوں کے نمونے بن گئے ہیں۔ میری — مطلب یہ ہے کہ اُس کی معرفت محیط ہے، اور دوسرے کی جزوی۔

۴

قوّتِ بہیمیہ: دو رخ — اور ایک ضروری قید

دوسری تقسیم بہیمیہ میں ہے، اور یہاں متن دو نہایت جسمانی تصویریں دیتا ہے:

وكذلك القوةُ البهيميةُ تُخلَقُ على وجهين: أحدهما البهيميةُ الشديدةُ الصَّفيقةُ كهيئةِ الفَحلِ الفارِهِ الذي نشأ في غذاءٍ … وتدبيرٍ مناسبٍ، فكان عظيمَ الجسمِ شديدَه، وجَهوريَّ الصوتِ، قويَّ البطشِ، ذا هِمّةٍ نافذةٍ وتِيهٍ عظيمٍ، وغضبٍ وحسدٍ قويّينِ … منافساً في الغلبةِ والظهورِ، شجاعَ القلبِ.

والثاني البهيميةُ الضعيفةُ المُهَلهَلةُ كهيئةِ الحيوانِ الخَصيِّ المُخْدَجِ الذي نشأ في جَدْبٍ وتدبيرٍ غيرِ مناسبٍ، فكان حقيرَ الجسمِ ضعيفَه، رَكيكَ الصوتِ، ضعيفَ البطشِ، جبانَ القلبِ، غيرَ ذي هِمّةٍ، ولا منافسةٍ في الغلبةِ والظهورِ.

دونوں تشبیہیں جانوروں سے ہیں اور بےلگی ہوئی ہیں — الفَحل الفاره ایک تیز رفتار، بھرپور نر؛ اور الحيوان الخصيّ المُخْدَج خصی اور ادھورا جانور۔ حاشیہ دونوں لفظوں کو کھول دیتا ہے:

حاشیہ

المُهَلهَلةُ: الضعيفةُ … والمُخْدَجُ: الناقصُ، من خَدَجَتِ الناقةُ: جاءت بولدٍ ناقصٍ.

مهلهل اصل میں ڈھیلے بُنے ہوئے کپڑے کو کہتے ہیں — یعنی بہیمیت کا «کمزور» ہونا کوئی فضیلت نہیں، ایک ڈھیلی بُنائی ہے۔ اور مخدج وہ جو ادھورا پیدا ہوا۔ میری: متن کمزور بہیمیت کو تعریف کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔

اور اب وہ قید جو پورے باب کو جبر سے بچاتی ہے:

والقوتانِ جميعاً لهما جِبِلّةٌ تُخصِّصُ أحدَ وجهيها، وكسبٌ يؤيِّدُه ويُقوِّيه ويَمُدُّ فيه.
یہ ایک جملہ باب کو تقدیر پرستی سے الگ کر دیتا ہے۔ ہر قوت میں دو چیزیں ہیں: جِبِلّة جو رخ متعین کرتی ہے، اور كسب جو اُسے يؤيِّدُه ويُقوِّيه ويَمُدُّ فيه — تائید دیتا ہے، قوی کرتا ہے، اور اُس میں توسیع کرتا ہے۔ پس پہلی حدیث («آدمی خُو نہیں بدلتا») کا مطلب یہ نہیں کہ کوشش بےکار ہے؛ مطلب یہ ہے کہ کوشش رخ نہیں بدلتی، درجہ بدلتی ہے۔ اور باب ٨ کا الاستعدادُ الأصليُّ والكسبيُّ یہی جوڑا تھا۔

۵

ملنے کے دو طریقے: تجاذب یا اصطلاح

اب تیسری تقسیم — اور یہی سب سے زیادہ کارآمد ہے۔ دو قوتیں ایک ہی شخص میں دو طرح جمع ہو سکتی ہیں۔ پہلا طریقہ:

فتارةً تجتمعانِ بالتجاذبِ: تكونُ كلُّ واحدةٍ متوفِّرةً في طلبِ مقتضياتِها، طامحةً في أقصى غاياتِها، مريدةً سَنَنَها الطبيعيَّ، فلا جرمَ أن يقعَ بينهما التجاذبُ، فإن غلبت هذه اضمحلَّت آثارُ تلك، وكذلك العكسُ.

یعنی دونوں پوری شدت سے اپنی انتہا مانگتی ہیں، سو کھینچا تانی لازم ہے — اور نتیجہ ہمیشہ ایک کا غلبہ اور دوسری کے آثار کا مٹ جانا ہوتا ہے۔ دوسرا طریقہ اِس کے برعکس ہے:

وتارةً بالاصطلاحِ: بأن تنزلَ المَلَكيةُ عن طلبِ حكمِها الصُّراحِ إلى ما يقرُبُ منه — من عقلٍ وسخاوةِ نفسٍ وعِفّةِ طبعٍ، وإيثارِ النفعِ العامِّ على انتفاعِ نفسِه خاصةً، والنظرِ إلى الآجلِ دون الاقتصارِ على العاجلِ، وحبِّ النظافةِ في جميعِ ما يتعلَّقُ به — وتترقَّى البهيميةُ من طلبِ حكمِها الصُّراحِ إلى ما ليس ببعيدٍ من الرأيِ الكليِّ ولا مضادٍّ له، فتصطلحانِ ويحصلُ مزاجٌ لا تخالُفَ فيه.

دونوں طرف سے رعایت: ملکیہ اترتی ہے اپنے خالص حکم سے، اور بہیمیہ چڑھتی ہے اپنے خالص حکم سے — اور بیچ میں ایک ایسا مزاج بنتا ہے لا تخالُفَ فيه، جس میں اندرونی جھگڑا نہیں۔ اور حاشیہ بتاتا ہے کہ «خالص حکم» سے مراد کیا ہے، جو نہایت اہم ہے:

حاشیہ

الاصطلاحُ: المصالحةُ. والصُّراحُ: الصريحُ الخالصُ مما يشوبُه. وخالصُ حكمِها: هو الوصولُ إلى حظيرةِ القدسِ واللحوقُ بالملأِ الأعلى.

اِس حاشیے کے بغیر «اترنا» غلط سمجھا جا سکتا ہے۔ ملکیہ کا خالص حکم یہ ہے کہ آدمی حظیرۃ القدس تک پہنچے اور ملأِ اعلیٰ سے جا ملے — یعنی خالص روحانی انجذاب۔ پس تنزل عن طلب حكمها الصراح کا مطلب اخلاقی گراوٹ نہیں؛ مطلب یہ ہے کہ وہ اُس انتہا سے ہٹ کر اُس کے قریب کی چیزوں پر راضی ہو جائے — عقل، سخاوتِ نفس، عفتِ طبع، عمومی نفع کو ذاتی نفع پر ترجیح، آنے والے کو دیکھنا، اور نظافت کی محبت۔ میری، اور آگے متن اُسی کو أحسنُهم عملاً وآدبُهم کہے گا۔

۶

آٹھ سرے — اور لامتناہی درجے

تین تقسیمیں ہو گئیں: ملکیہ (عالی / سافل)، بہیمیہ (شدید / ضعیف)، اور اجتماع (تجاذب / اصطلاح)۔ متن پہلے مانتا ہے کہ درمیانی درجے بےشمار ہیں، پھر فہرست کو آٹھ پر روک دیتا ہے:

إلا أن رءوسَ الأقسامِ المنفرزةِ بأحكامِها، والتي يُعرَفُ غيرُها بمعرفتِها، ثمانيةٌ: حاصلةٌ من انقسامِ الاجتماعِ بالتجاذبِ إلى أربعةٍ — مَلَكيةٍ عاليةٍ تجتمعُ مع بهيميةٍ شديدةٍ أو ضعيفةٍ، أو مَلَكيةٍ سافلةٍ تجتمعُ مع بهيميةٍ شديدةٍ أو ضعيفةٍ — والاجتماعِ بالاصطلاحِ أيضاً إلى أربعةٍ مثلِها.

اور حاشیہ اُس «لامتناہی» کو حساب کی زبان میں کھول دیتا ہے:

حاشیہ

المَلَكيةُ إما أن تكونَ في غايةِ العلوِّ … أو في غايةِ السُّفلِ … وبين ذلك درجاتٌ … وحالُ البهيميةِ مثلُ حالِ المَلَكيةِ، فإذا ضُرِبَت درجاتُ إحداهما في الأخرى تذهبِ الأقسامُ إلى غيرِ النهايةِ.

یعنی درجے ضرب ہوتے ہیں، اِسی لیے اقسام لامتناہی ہیں۔ اور اِسی لیے متن آٹھ کو رءوس الأقسام کہتا ہے — سرے، نہ کہ خانے: والتي يُعرَفُ غيرُها بمعرفتِها، جن کو جان لینے سے باقی سب پہچانے جاتے ہیں۔

ومن وُفِّقَ لمعرفةِ أحكامِها استراحَ من تشويشاتٍ كثيرةٍ.

لوحِ اوّل · Plate I

تین محور — اور اُن کی ضرب

جِبِلّاتُ الناسِرءوسُ الأقسامِ ثمانيةٌtwo powers × two grades × two unionsالقوةُ المَلَكيةُعلى وجهينعاليةٌ — المناسبةُ بالملأِ الأعلىالإحاطةُ · اجتماعُ الهمّةِ · المعرفةُسافلةٌ — المناسبةُ بالملأِ السافلِبلا إحاطةٍ ولا اجتماعِ همّةٍالقوةُ البهيميةُعلى وجهينشديدةٌ صَفيقةٌ — كالفَحلِ الفارِهِهِمّةٌ نافذةٌ · تِيهٌ · شجاعةُ القلبِضعيفةٌ مُهَلهَلةٌ — كالخَصيِّ المُخْدَجِجُبنُ القلبِ · لا هِمّةَ ولا منافسةَاجتماعُ القوتينِعلى وجهينبالتجاذبِ — فإن غلبت هذه اضمحلَّت آثارُ تلكبالاصطلاحِ — تنزلُ هذه وتترقَّى تلكمزاجٌ لا تخالُفَ فيه

باب کی پوری فہرست اِن تین دو رُخی تقسیموں سے نکلتی ہے: ٢ × ٢ × ٢ = ٨۔ حاشیہ یاد دلاتا ہے کہ درجے ضرب ہوتے ہیں، اِس لیے اقسام لامتناہی ہیں؛ آٹھ صرف رءوس الأقسام ہیں۔


۷

عملی نقشہ: متن اپنے آٹھ سروں کے بارے میں کیا کہتا ہے

اب متن خود اعلان کرتا ہے کہ وہ پوری فہرست نہیں دے گا — صرف کام کی بات:

ونحن نذكرُ ههنا من ذلك ما نحتاجُ إليه في هذا الكتابِ.

اور جو آتا ہے وہ محوروں کے حساب سے ہے، خانوں کے حساب سے نہیں۔ پہلے دو حکم:

فأحوجُ الناسِ إلى الرياضاتِ الشاقّةِ من كانت بهيميتُه شديدةً، لا سيما صاحبُ التجاذبِ. وأحظاهم بالكمالِ من كانت مَلَكيتُه عاليةً، لكن صاحبُ الاصطلاحِ أحسنُهم عملاً وآدبُهم.

غور کیجیے کہ دونوں جملوں میں ایک «لیکن» ہے۔ کمال کا سب سے زیادہ حصہ اونچی ملکیہ والے کا ہے — مگر عمل اور ادب میں سب سے بہتر «اصطلاح» والا ہے۔ یعنی متن کمال اور حسنِ عمل کو الگ الگ رکھ رہا ہے۔ اور اگلی سطر اِسی کا دوسرا رخ ہے:

وصاحبُ التجاذبِ إذا انفلتَ من أَسْرِ البهيميةِ أكثرُهم علماً، ولا يُبالي بآدابِ العملِ كثيرَ مبالاةٍ.

یہ ایک پہچانی ہوئی تصویر ہے، اور متن اُسے بےرعایت کھینچتا ہے۔ «تجاذب» والا اگر بہیمیت کی قید سے چھوٹ جائے تو سب سے زیادہ عالم ہوتا ہے — کیونکہ اُس کی ملکیہ نے کوئی رعایت نہیں کی، پوری انتہا مانگی۔ مگر اُسی وجہ سے لا يُبالي بآدابِ العملِ۔ میری — اور یہ متن کے نظام کا نتیجہ ہے، کوئی طعنہ نہیں۔

اور اِس کے بعد وہ فرق جو اِس باب کا سب سے کارآمد اوزار ہے — ایک ہی ظاہری زہد، دو مختلف جڑیں:

وأزهدُهم في الأمورِ العِظامِ أضعفُهم بهيميةً، لكن صاحبُ العاليةِ يتركُ الكلَّ تفرُّغاً للتوجُّهِ إلى اللهِ، وصاحبُ السافلةِ إن انفلتَ يتركُه للآخرةِ، وإلا يتركُه كَسَلاً ودَعَةً.

یہی وہ «تشویشات» ہیں جن سے چھٹکارا مقصود ہے۔ دو آدمی بڑے کاموں سے کنارہ کش ہیں۔ ظاہر ایک ہے۔ مگر ایک نے سب چھوڑا تفرُّغاً للتوجُّهِ إلى اللهِ، اور دوسرے نے — اگر وہ چھوٹ گیا ہو تو آخرت کے لیے، ورنہ كَسَلاً ودَعَةً، سستی اور آرام طلبی سے۔ میری۔ اور متن یہ فرق کسی کو مجرم ٹھہرانے کے لیے نہیں بتاتا بلکہ اِس لیے کہ من وُفِّقَ لمعرفةِ أحكامِها استراحَ من تشويشاتٍ كثيرةٍ — پہچان لینے والا الجھنوں سے بچ جاتا ہے۔

پھر اُس کے مقابل: وأشدُّهم اقتحاماً في الأمورِ العِظامِ أشدُّهم بهيميةً — بڑے کاموں میں سب سے زیادہ گھسنے والا وہی جس کی بہیمیت شدید ہو؛ مگر اونچی ملکیہ والا أقومُهم بالرياساتِ (سرداریوں کو سب سے بہتر سنبھالنے والا)، اور سافل ملکیہ والا أشدُّهم اقتحاماً في نحوِ القتالِ وحملِ الأثقالِ۔

اور اب اِس سیڑھی کا سب سے اوپر کا زینہ:

ومن كانت عاليتُه منهم في غايةِ العلوِّ ينبعثُ إلى رياسةِ الدينِ والدنيا معاً، ويصيرُ باقياً بمرادِ الحقِّ وبمنزلةِ الجارحةِ له في تمامِ نظامٍ كليٍّ كالخلافةِ وإمامةِ المِلّةِ — وأولئك هم الأنبياءُ وورثتُهم، وأساطينُ الناسِ وسلاطينُهم، وأولو الأمرِ منهم.

لفظ الجارحة پہچانا ہوا ہے۔ باب ٧ میں نبی کے بارے میں یہی لفظ آیا تھا: واتَّخذَه جارحةً لإتمامِ مرادِه — اللہ نے اُسے اپنی مراد پوری کرنے کا «عضو» بنایا۔ یہاں وہی لفظ اُس مزاج پر لگتا ہے جو غایت العلو کی ملکیہ اور اصطلاح رکھتا ہو۔ میری: نبوت کے لیے جو ساخت درکار تھی، وہ اِس نقشے کا آخری خانہ ہے۔

اور آخر میں دو عملی حکم، جو مذہبی زندگی کی ترتیب پر ہیں: والذين يجبُ انقيادُهم في دينِ اللهِ أهلُ الاصطلاحِ العاليةُ مَلَكيتُهم — جن کی اطاعت دینِ الٰہی میں واجب ہے وہ «اصطلاح» والے ہیں جن کی ملکیہ عالی ہو۔ اور وأطوعُهم لأولئك أهلُ الاصطلاحِ السافلةُ مَلَكيتُهم، فإنهم يتلقَّونَ النواميسَ بأشباحِها وهيئاتِها — اُن کے سب سے زیادہ فرماں بردار وہ ہیں جن کی ملکیہ سافل ہو، کیونکہ وہ قوانین کو اُن کے ظاہری قالب کے ساتھ وصول کرتے ہیں۔

اور «تجاذب» والوں کے بارے میں ایک صاف اور کچھ سخت فیصلہ:

وأطرفُهم منهم أهلُ التجاذبِ، لأنهم إما منهمكونَ في ظلماتِ الطبيعةِ فلا يُقيمونَ السُّنّةَ الراشدةَ، أو قاهرونَ عليها: فإن كانوا أهلَ عُلُوٍّ عضُّوا على أرواحِ النواميسِ، وكانت لهم مُسامحةٌ في أشباحِها، وكان أكثرُ همّتِهم معرفةَ دقائقِ الجبروتِ والانصباغَ بصِبغِها.

یعنی «تجاذب» والے دو انتہاؤں میں بٹے ہوتے ہیں: یا طبیعت کے اندھیروں میں ڈوبے، سو سنتِ راشدہ قائم نہیں کرتے؛ یا اُس پر غالب — اور تب اگر اونچی ملکیہ کے ہوں تو قوانین کی رُوحوں کو دانتوں سے پکڑتے ہیں اور اُن کے قالبوں میں نرمی برتتے ہیں۔ اور اگر اُس سے کم ہوں تو ریاضتوں اور اوراد میں لگتے ہیں، اور ملکیہ کی بجلیوں (کشف، استجابتِ دعا) سے متأثر ہوتے ہیں۔

آٹھ سرے، اور متن اُن کے بارے میں جو کہتا ہے۔ میری — متن اپنے احکام محوروں کے حساب سے دیتا ہے (شدید بہیمیت، عالی ملکیہ، اصطلاح…)، اور ہر خانے کے لیے الگ حکم نہیں دیتا؛ جہاں وہ خاموش ہے وہاں «—» ہے۔

اجتماعملکیہبہیمیہمتن کا حکم
تجاذبعاليةشديدةسب سے زیادہ ریاضتِ شاقہ کا محتاج؛ چھوٹ جائے تو أكثرهم علماً، مگر عضّوا على أرواحِ النواميسِ — قالبوں میں نرمی
ضعيفةبڑے کاموں سے سب سے زیادہ کنارہ کش — تفرُّغاً للتوجُّهِ إلى اللهِ
سافلةشديدةأشدُّهم اقتحاماً في نحوِ القتالِ وحملِ الأثقالِ
ضعيفةچھوٹ جائے تو آخرت کے لیے ترک؛ ورنہ كَسَلاً ودَعَةً۔ ریاضتوں اور بوارقِ ملکیہ سے متأثر
اصطلاحعاليةشديدةأقومُهم بالرياساتِ؛ اور غايةِ العلوِّ پر: الأنبياءُ وورثتُهم، بمنزلةِ الجارحةِ
ضعيفةأحسنُهم عملاً وآدبُهم؛ يجبُ انقيادُهم في دينِ اللهِ
سافلةشديدةدین و دنیا دونوں میں مشغول — ويقصدُهما مرةً واحدةً
ضعيفةأطوعُهم؛ يتلقَّونَ النواميسَ بأشباحِها وهيئاتِها

۸

اختتام: «یہ اصول میرے رب نے مجھے دیے»

باب اُسی لہجے پر ختم ہوتا ہے جس پر شروع ہوا تھا:

فهذه أصولٌ أعطانيها ربي، من أتقنَها استجلى أحوالَ أهلِ اللهِ، ومَبلَغَ كمالِهم، ومَطمَحَ إشارتِهم عن أنفسِهم، وخرَّجَ مراتبَ سلوكِهم.

قرآن — يوسف: ٣٨

﴿ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ﴾

اور فائدہ بھی صاف بتا دیا گیا۔ جو یہ اصول پکے کر لے وہ چار چیزیں دیکھ سکتا ہے: أحوالَ أهلِ اللهِ (اہلِ اللہ کے احوال)، مَبلَغَ كمالِهم (اُن کے کمال کی حد)، مَطمَحَ إشارتِهم عن أنفسِهم (اپنے بارے میں اُن کے اشاروں کا رخ)، اور مراتبَ سلوكِهم (اُن کے سلوک کے درجے)۔ میری، اور وہ بھی ہمدردانہ: مختلف بزرگوں کے مختلف اقوال اور مختلف راستے کیوں ہیں — کیونکہ جبلّتیں مختلف تھیں۔ اور اِسی لیے آخری آیت شکر پر ہے، فخر پر نہیں۔

۹

یہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«جبلّت ناقابلِ تبدیل ہے، تو کوشش بےکار ہے۔» — متن کی قید صریح ہے: ہر قوت میں جِبِلّةٌ تُخصِّصُ أحدَ وجهيها اور كسبٌ يؤيِّدُه ويُقوِّيه ويَمُدُّ فيه۔ کسب رخ نہیں بدلتا، مگر تائید، قوت اور توسیع دیتا ہے۔ اور خود متن سب سے پہلی عملی بات یہی کہتا ہے: شدید بہیمیت والا أحوجُ الناسِ إلى الرياضاتِ الشاقّةِ — یعنی اُس کے لیے کام زیادہ ہے، ناممکن نہیں۔

عام غلط فہمی

«اصطلاح» کا مطلب سمجھوتہ یا کمزوری ہے۔ — حاشیہ اِسے روکتا ہے: ملکیہ کا خالص حکم الوصولُ إلى حظيرةِ القدسِ واللحوقُ بالملأِ الأعلى ہے۔ اُس سے «اترنا» اخلاقی گراوٹ نہیں، بلکہ عقل، سخاوتِ نفس، عفتِ طبع اور عمومی نفع کو اختیار کرنا ہے۔ اور متن اُسی کو أحسنُهم عملاً وآدبُهم کہتا ہے، اور دین میں جن کی اطاعت واجب ہے اُنہی کو۔

باریک نکتہ

یہ آٹھ خانے نہیں، آٹھ سرے ہیں۔ رءوسَ الأقسامِ — اور متن خود کہتا ہے کہ درجے لامتناہی ہیں؛ حاشیہ اُسے ضرب سے سمجھاتا ہے۔ کسی شخص کو ایک خانے میں «فٹ» کرنا اِس نقشے کا مقصد نہیں؛ مقصد یہ ہے کہ يُعرَفُ غيرُها بمعرفتِها۔

باریک نکتہ

«کمزور بہیمیت» فضیلت نہیں۔ الفاظ دیکھیے: المُهَلهَلة (ڈھیلی بُنی ہوئی) اور المُخْدَج (ادھورا پیدا ہوا) — حاشیہ دونوں کو یوں ہی کھولتا ہے۔ اور اُسی مزاج کا ایک انجام كَسَلاً ودَعَةً ترک ہے۔ زہد کی صورت ایک، جڑیں مختلف۔

باریک نکتہ

«عالی» اور «سافل» ملکیہ کا فرق نیکی کا نہیں، احاطے کا ہے۔ پہلی میں الإحاطة، اجتماع الهمة اور المعرفة ہیں؛ دوسری میں داعیہ اوپر سے آتا ہے مگر اِن کے بغیر۔ اور باب ٣ میں ملأِ سافل کا کمال ہی «خالی رہ کر امر کا انتظار» تھا۔ اِسے تقویٰ کا درجہ سمجھ لینا نقشے کو اخلاقی فہرست بنا دیتا ہے، جو وہ نہیں ہے۔

سیاق

اور یہ باب مصنف کی اپنی طرف منسوب ہے۔ ما فتحَ اللهُ عليَّ اور فهذه أصولٌ أعطانيها ربي — آغاز اور اختتام دونوں پر۔ احادیث حجت ہیں؛ آٹھ اقسام کی یہ ترتیب اُن کے معانی کا اُن کا اپنا استخراج ہے۔ اِسے منقول عقیدہ کے درجے پر رکھنا خود مصنف کے بیان سے آگے جانا ہے۔


۱۰

مزید گہرائی

یہ سوالات کھلے ہیں

  • پہلی حدیث («آدمی خُو نہیں بدلتا») اور كسبٌ يؤيِّدُه ويُقوِّيه میں تطبیق کیا ہے؟ کیا «خُو» سے مراد رخ ہے اور کسب سے مراد درجہ — یا کوئی اور تقسیم؟
  • یہ آٹھ اقسام کہاں تک وضعی ہیں اور کہاں تک حقیقی؟ متن خود کہتا ہے کہ درجے لامتناہی ہیں، تو آٹھ پر رکنے کا معیار کیا ہے: تعلیمی سہولت، یا احکام کا واقعی امتیاز؟
  • عضُّوا على أرواحِ النواميسِ وكانت لهم مُسامحةٌ في أشباحِها — یہ ایک نازک بیان ہے۔ کیا یہ شریعت کے ظاہر میں تخفیف کی گنجائش دیتا ہے، یا محض ایک مزاجی رجحان کا بیان ہے؟ فقہی حیثیت کیا رہے گی؟
  • الأنبياءُ وورثتُهم، وأساطينُ الناسِ وسلاطينُهم — انبیاء اور بادشاہوں کو ایک ہی خانے میں رکھنا۔ کیا یہ محض جبلّت کی سطح پر ہے، یا اِس سے سیاست و نبوت کے تعلق پر کوئی نتیجہ نکلتا ہے؟
  • باب ٥ کے تین طبقے (روح، نَسَمہ، بدن)، باب ٦ کی دو قوتیں، باب ٧ کا «عقل قاہر بر قلب، قلب قاہر بر نفس»، اور یہاں کے دو محور — کیا اِن سب کا ایک ہی نقشہ بنتا ہے، یا یہ مختلف زاویے ہیں؟
  • اِس فہرست کا مأخذ کیا ہے؟ مصنف اِسے اپنا «فتح» کہتے ہیں، مگر ملکیہ/بہیمیہ اور تجاذب/اصطلاح کی اصطلاحیں فلسفۂ اخلاق کی روایت سے ملتی ہیں۔ کہاں تک وہ موجود اصطلاحوں کو نیا کام دے رہے ہیں؟
الفاظ کہاں سے: اِس باب کی عبارتیں پالن پوری صاحب کے اسکین سے پڑھی گئی ہیں اور حواشی بھی وہیں سے۔ اُن کے نسخے نے ایک خلا پُر کیا: «اصطلاح» کی تفصیل میں شاملہ کے متن میں وعِفّة و… کے بعد لفظ ساقط ہے، اور اسکین میں وہ وعِفّةِ طبعٍ ہے۔ نیز دو جگہ اُن کی قراءت زیادہ درست ہے: الذين شأنهم (شاملہ: الذي شأنهم) اور وأحظاهم بالكمالِ (شاملہ: وأحظاها)۔ مگر دو مقامات پر اسکین ناقابلِ قراءت تھاالفَحل الفاره کی غذا کی صفت، اور آٹھ اقسام کی گنتی والا فقرہ — اِن کے الفاظ شاملہ کے متن سے ہیں، اور غذا کی صفت مشتبہ ہونے کی وجہ سے سے چھوڑ دی گئی ہے۔ اِسی طرح شبق کا ذکر بھی سے چھوڑا گیا ہے۔ مطبوعہ صفحے سے ملا لیجیے۔
بنیادی نسخہ

حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريباب ٩ — اختلاف الناس في جبلتهم۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔

اردو شرح

اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔

متن میں تلاش کے لیے

لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔

کی بورڈ: پچھلا باب  ·  اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن