القسم الأول · المبحث الأول · باب ٩
باب اختلاف الناس في جبلتهم
آٹھ مزاج — اور ایک باب جسے مصنف اپنا «فتح» کہتے ہیں
ikhtilāf al-nās fī jibillatihim
ربط: باب ٦ نے دو قوتیں دی تھیں — ملكية اور بهيمية — اور کہا تھا کہ اُن میں تزاحمٌ وتجاذبٌ ہے۔ یہ باب اُنہی دو قوتوں کو لے کر پوچھتا ہے: لوگ ایک دوسرے سے کیوں مختلف ہیں؟ اور جواب اُن دو قوتوں کے درجوں اور اُن کے ملنے کے طریقے سے نکالتا ہے۔
اصل نکتہ: دو قوتیں × دو درجے × ملنے کے دو طریقے = آٹھ سرے۔ متن مانتا ہے کہ درجے لامتناہی ہیں (حاشیہ: ایک کے درجوں کو دوسرے کے درجوں سے ضرب دیجیے)، مگر رءوسَ الأقسامِ … ثمانيةٌ — پہچاننے کے قابل سرے آٹھ ہیں، «اور جو اُن کے احکام جان لے استراحَ من تشويشاتٍ كثيرةٍ — بہت سی الجھنوں سے چھوٹ جائے»۔ میری: یہ اخلاق کی فہرست نہیں، لوگوں کو پڑھنے کا نقشہ ہے — کہ ایک ہی ظاہری زُہد دو مختلف جڑوں سے آ سکتا ہے، اور ایک ہی علم دوسرے کے ادب کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔
باب اپنی بنیاد صاف بتا کر شروع ہوتا ہے — والأصلُ فيه ما رُوِيَ عن النبيِّ ﷺ۔ اور پہلی حدیث ہی اپنے اسلوب میں چونکانے والی ہے:
إذا سمعتم بجبلٍ زالَ عن مكانِه فصدِّقوه، وإذا سمعتم برجلٍ تغيَّرَ عن خُلُقِه فلا تُصدِّقوا به، فإنه يصيرُ إلى ما جُبِلَ عليه.
مقابلہ جان بوجھ کر انتہائی رکھا گیا ہے: پہاڑ کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا زیادہ قابلِ یقین ہے، آدمی کی خُو بدلنے سے۔ اور وجہ آخر میں ہے: فإنه يصيرُ إلى ما جُبِلَ عليه — وہ لوٹ کر وہیں آتا ہے جس پر بنایا گیا ہے۔
ألا إنَّ بني آدمَ خُلِقوا على طبقاتٍ شتّى.
اور حدیث آگے چلتی ہے — فمنهم من يُولَدُ مؤمناً — اور متن اُس کا حوالہ دے کر کہتا ہے فذكر الحديثَ بطولِه، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ اُس میں غصے اور قرض کے تقاضے میں لوگوں کے طبقات گنوائے گئے ہیں۔ یعنی «طبقات» کی بات کسی مجرد تقسیم کی نہیں — حدیث خود روزمرہ کے دو معاملوں پر اُس کی مثال دیتی ہے۔
الناسُ معادنُ كمعادنِ الذهبِ والفضةِ.
اور آیت، جس پر متن ایک مختصر تفسیر بھی لگا دیتا ہے:
﴿قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ﴾
أي طريقتُه التي جُبِلَ عليها.
یہاں متن ایک ایسا جملہ کہتا ہے جو پوری کتاب میں کم آتا ہے:
وإن شئتَ أن تَستجليَ ما فتحَ اللهُ عليَّ في هذا البابِ وفهَّمَني من معاني هذه الأحاديثِ — فاعلمْ أن القوةَ المَلَكيةَ تُخلَقُ في الناسِ على وجهين.
پہلی تقسیم قوّتِ ملکیہ میں ہے، اور اُس کے دونوں رخ باب ٣ کے دو درجوں کے نام سے پہچانے جاتے ہیں:
أحدهما الوجهُ المناسبُ بالملأِ الأعلى، الذين شأنهم الانصباغُ بعلومِ الأسماءِ والصفاتِ، ومعرفةُ دقائقِ الجبروتِ، وتلقّي النظامِ على وجهِ الإحاطةِ به، واجتماعُ الهمّةِ على طلبِ وجودِه.
والثاني الوجهُ المناسبُ بالملأِ السافلِ، الذين شأنهم انبعاثٌ بداعيةٍ تترشَّحُ عليهم من فوقِهم، من غيرِ إحاطةٍ، ولا اجتماعِ الهمّةِ، ولا المعرفةِ.
فرق چار لفظوں میں ہے، اور وہ چاروں پہلے رخ میں ہیں اور دوسرے میں نہیں: الإحاطة (نظام کو گھیر لینا)، اجتماع الهمة (ہمت کا ایک جگہ جمع ہونا)، المعرفة، اور الانصباغ (رنگ جانا)۔ دوسرے رخ میں داعیہ بھی اوپر سے ہی اترتا ہے — تترشَّحُ عليهم من فوقِهم — مگر بغیر احاطے، بغیر جمعیت، بغیر معرفت۔
دوسری تقسیم بہیمیہ میں ہے، اور یہاں متن دو نہایت جسمانی تصویریں دیتا ہے:
وكذلك القوةُ البهيميةُ تُخلَقُ على وجهين: أحدهما البهيميةُ الشديدةُ الصَّفيقةُ كهيئةِ الفَحلِ الفارِهِ الذي نشأ في غذاءٍ … وتدبيرٍ مناسبٍ، فكان عظيمَ الجسمِ شديدَه، وجَهوريَّ الصوتِ، قويَّ البطشِ، ذا هِمّةٍ نافذةٍ وتِيهٍ عظيمٍ، وغضبٍ وحسدٍ قويّينِ … منافساً في الغلبةِ والظهورِ، شجاعَ القلبِ.
والثاني البهيميةُ الضعيفةُ المُهَلهَلةُ كهيئةِ الحيوانِ الخَصيِّ المُخْدَجِ الذي نشأ في جَدْبٍ وتدبيرٍ غيرِ مناسبٍ، فكان حقيرَ الجسمِ ضعيفَه، رَكيكَ الصوتِ، ضعيفَ البطشِ، جبانَ القلبِ، غيرَ ذي هِمّةٍ، ولا منافسةٍ في الغلبةِ والظهورِ.
دونوں تشبیہیں جانوروں سے ہیں اور بےلگی ہوئی ہیں — الفَحل الفاره ایک تیز رفتار، بھرپور نر؛ اور الحيوان الخصيّ المُخْدَج خصی اور ادھورا جانور۔ حاشیہ دونوں لفظوں کو کھول دیتا ہے:
المُهَلهَلةُ: الضعيفةُ … والمُخْدَجُ: الناقصُ، من خَدَجَتِ الناقةُ: جاءت بولدٍ ناقصٍ.
مهلهل اصل میں ڈھیلے بُنے ہوئے کپڑے کو کہتے ہیں — یعنی بہیمیت کا «کمزور» ہونا کوئی فضیلت نہیں، ایک ڈھیلی بُنائی ہے۔ اور مخدج وہ جو ادھورا پیدا ہوا۔ میری: متن کمزور بہیمیت کو تعریف کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔
اور اب وہ قید جو پورے باب کو جبر سے بچاتی ہے:
والقوتانِ جميعاً لهما جِبِلّةٌ تُخصِّصُ أحدَ وجهيها، وكسبٌ يؤيِّدُه ويُقوِّيه ويَمُدُّ فيه.اب تیسری تقسیم — اور یہی سب سے زیادہ کارآمد ہے۔ دو قوتیں ایک ہی شخص میں دو طرح جمع ہو سکتی ہیں۔ پہلا طریقہ:
فتارةً تجتمعانِ بالتجاذبِ: تكونُ كلُّ واحدةٍ متوفِّرةً في طلبِ مقتضياتِها، طامحةً في أقصى غاياتِها، مريدةً سَنَنَها الطبيعيَّ، فلا جرمَ أن يقعَ بينهما التجاذبُ، فإن غلبت هذه اضمحلَّت آثارُ تلك، وكذلك العكسُ.
یعنی دونوں پوری شدت سے اپنی انتہا مانگتی ہیں، سو کھینچا تانی لازم ہے — اور نتیجہ ہمیشہ ایک کا غلبہ اور دوسری کے آثار کا مٹ جانا ہوتا ہے۔ دوسرا طریقہ اِس کے برعکس ہے:
وتارةً بالاصطلاحِ: بأن تنزلَ المَلَكيةُ عن طلبِ حكمِها الصُّراحِ إلى ما يقرُبُ منه — من عقلٍ وسخاوةِ نفسٍ وعِفّةِ طبعٍ، وإيثارِ النفعِ العامِّ على انتفاعِ نفسِه خاصةً، والنظرِ إلى الآجلِ دون الاقتصارِ على العاجلِ، وحبِّ النظافةِ في جميعِ ما يتعلَّقُ به — وتترقَّى البهيميةُ من طلبِ حكمِها الصُّراحِ إلى ما ليس ببعيدٍ من الرأيِ الكليِّ ولا مضادٍّ له، فتصطلحانِ ويحصلُ مزاجٌ لا تخالُفَ فيه.
دونوں طرف سے رعایت: ملکیہ اترتی ہے اپنے خالص حکم سے، اور بہیمیہ چڑھتی ہے اپنے خالص حکم سے — اور بیچ میں ایک ایسا مزاج بنتا ہے لا تخالُفَ فيه، جس میں اندرونی جھگڑا نہیں۔ اور حاشیہ بتاتا ہے کہ «خالص حکم» سے مراد کیا ہے، جو نہایت اہم ہے:
الاصطلاحُ: المصالحةُ. والصُّراحُ: الصريحُ الخالصُ مما يشوبُه. وخالصُ حكمِها: هو الوصولُ إلى حظيرةِ القدسِ واللحوقُ بالملأِ الأعلى.
تین تقسیمیں ہو گئیں: ملکیہ (عالی / سافل)، بہیمیہ (شدید / ضعیف)، اور اجتماع (تجاذب / اصطلاح)۔ متن پہلے مانتا ہے کہ درمیانی درجے بےشمار ہیں، پھر فہرست کو آٹھ پر روک دیتا ہے:
إلا أن رءوسَ الأقسامِ المنفرزةِ بأحكامِها، والتي يُعرَفُ غيرُها بمعرفتِها، ثمانيةٌ: حاصلةٌ من انقسامِ الاجتماعِ بالتجاذبِ إلى أربعةٍ — مَلَكيةٍ عاليةٍ تجتمعُ مع بهيميةٍ شديدةٍ أو ضعيفةٍ، أو مَلَكيةٍ سافلةٍ تجتمعُ مع بهيميةٍ شديدةٍ أو ضعيفةٍ — والاجتماعِ بالاصطلاحِ أيضاً إلى أربعةٍ مثلِها.
اور حاشیہ اُس «لامتناہی» کو حساب کی زبان میں کھول دیتا ہے:
المَلَكيةُ إما أن تكونَ في غايةِ العلوِّ … أو في غايةِ السُّفلِ … وبين ذلك درجاتٌ … وحالُ البهيميةِ مثلُ حالِ المَلَكيةِ، فإذا ضُرِبَت درجاتُ إحداهما في الأخرى تذهبِ الأقسامُ إلى غيرِ النهايةِ.
یعنی درجے ضرب ہوتے ہیں، اِسی لیے اقسام لامتناہی ہیں۔ اور اِسی لیے متن آٹھ کو رءوس الأقسام کہتا ہے — سرے، نہ کہ خانے: والتي يُعرَفُ غيرُها بمعرفتِها، جن کو جان لینے سے باقی سب پہچانے جاتے ہیں۔
ومن وُفِّقَ لمعرفةِ أحكامِها استراحَ من تشويشاتٍ كثيرةٍ.
لوحِ اوّل · Plate I
تین محور — اور اُن کی ضرب
باب کی پوری فہرست اِن تین دو رُخی تقسیموں سے نکلتی ہے: ٢ × ٢ × ٢ = ٨۔ حاشیہ یاد دلاتا ہے کہ درجے ضرب ہوتے ہیں، اِس لیے اقسام لامتناہی ہیں؛ آٹھ صرف رءوس الأقسام ہیں۔
اب متن خود اعلان کرتا ہے کہ وہ پوری فہرست نہیں دے گا — صرف کام کی بات:
ونحن نذكرُ ههنا من ذلك ما نحتاجُ إليه في هذا الكتابِ.
اور جو آتا ہے وہ محوروں کے حساب سے ہے، خانوں کے حساب سے نہیں۔ پہلے دو حکم:
فأحوجُ الناسِ إلى الرياضاتِ الشاقّةِ من كانت بهيميتُه شديدةً، لا سيما صاحبُ التجاذبِ. وأحظاهم بالكمالِ من كانت مَلَكيتُه عاليةً، لكن صاحبُ الاصطلاحِ أحسنُهم عملاً وآدبُهم.
غور کیجیے کہ دونوں جملوں میں ایک «لیکن» ہے۔ کمال کا سب سے زیادہ حصہ اونچی ملکیہ والے کا ہے — مگر عمل اور ادب میں سب سے بہتر «اصطلاح» والا ہے۔ یعنی متن کمال اور حسنِ عمل کو الگ الگ رکھ رہا ہے۔ اور اگلی سطر اِسی کا دوسرا رخ ہے:
وصاحبُ التجاذبِ إذا انفلتَ من أَسْرِ البهيميةِ أكثرُهم علماً، ولا يُبالي بآدابِ العملِ كثيرَ مبالاةٍ.
اور اِس کے بعد وہ فرق جو اِس باب کا سب سے کارآمد اوزار ہے — ایک ہی ظاہری زہد، دو مختلف جڑیں:
وأزهدُهم في الأمورِ العِظامِ أضعفُهم بهيميةً، لكن صاحبُ العاليةِ يتركُ الكلَّ تفرُّغاً للتوجُّهِ إلى اللهِ، وصاحبُ السافلةِ إن انفلتَ يتركُه للآخرةِ، وإلا يتركُه كَسَلاً ودَعَةً.
پھر اُس کے مقابل: وأشدُّهم اقتحاماً في الأمورِ العِظامِ أشدُّهم بهيميةً — بڑے کاموں میں سب سے زیادہ گھسنے والا وہی جس کی بہیمیت شدید ہو؛ مگر اونچی ملکیہ والا أقومُهم بالرياساتِ (سرداریوں کو سب سے بہتر سنبھالنے والا)، اور سافل ملکیہ والا أشدُّهم اقتحاماً في نحوِ القتالِ وحملِ الأثقالِ۔
اور اب اِس سیڑھی کا سب سے اوپر کا زینہ:
ومن كانت عاليتُه منهم في غايةِ العلوِّ ينبعثُ إلى رياسةِ الدينِ والدنيا معاً، ويصيرُ باقياً بمرادِ الحقِّ وبمنزلةِ الجارحةِ له في تمامِ نظامٍ كليٍّ كالخلافةِ وإمامةِ المِلّةِ — وأولئك هم الأنبياءُ وورثتُهم، وأساطينُ الناسِ وسلاطينُهم، وأولو الأمرِ منهم.
اور آخر میں دو عملی حکم، جو مذہبی زندگی کی ترتیب پر ہیں: والذين يجبُ انقيادُهم في دينِ اللهِ أهلُ الاصطلاحِ العاليةُ مَلَكيتُهم — جن کی اطاعت دینِ الٰہی میں واجب ہے وہ «اصطلاح» والے ہیں جن کی ملکیہ عالی ہو۔ اور وأطوعُهم لأولئك أهلُ الاصطلاحِ السافلةُ مَلَكيتُهم، فإنهم يتلقَّونَ النواميسَ بأشباحِها وهيئاتِها — اُن کے سب سے زیادہ فرماں بردار وہ ہیں جن کی ملکیہ سافل ہو، کیونکہ وہ قوانین کو اُن کے ظاہری قالب کے ساتھ وصول کرتے ہیں۔
اور «تجاذب» والوں کے بارے میں ایک صاف اور کچھ سخت فیصلہ:
وأطرفُهم منهم أهلُ التجاذبِ، لأنهم إما منهمكونَ في ظلماتِ الطبيعةِ فلا يُقيمونَ السُّنّةَ الراشدةَ، أو قاهرونَ عليها: فإن كانوا أهلَ عُلُوٍّ عضُّوا على أرواحِ النواميسِ، وكانت لهم مُسامحةٌ في أشباحِها، وكان أكثرُ همّتِهم معرفةَ دقائقِ الجبروتِ والانصباغَ بصِبغِها.
یعنی «تجاذب» والے دو انتہاؤں میں بٹے ہوتے ہیں: یا طبیعت کے اندھیروں میں ڈوبے، سو سنتِ راشدہ قائم نہیں کرتے؛ یا اُس پر غالب — اور تب اگر اونچی ملکیہ کے ہوں تو قوانین کی رُوحوں کو دانتوں سے پکڑتے ہیں اور اُن کے قالبوں میں نرمی برتتے ہیں۔ اور اگر اُس سے کم ہوں تو ریاضتوں اور اوراد میں لگتے ہیں، اور ملکیہ کی بجلیوں (کشف، استجابتِ دعا) سے متأثر ہوتے ہیں۔
| اجتماع | ملکیہ | بہیمیہ | متن کا حکم |
|---|---|---|---|
| تجاذب | عالية | شديدة | سب سے زیادہ ریاضتِ شاقہ کا محتاج؛ چھوٹ جائے تو أكثرهم علماً، مگر عضّوا على أرواحِ النواميسِ — قالبوں میں نرمی |
| ضعيفة | بڑے کاموں سے سب سے زیادہ کنارہ کش — تفرُّغاً للتوجُّهِ إلى اللهِ | ||
| سافلة | شديدة | أشدُّهم اقتحاماً في نحوِ القتالِ وحملِ الأثقالِ | |
| ضعيفة | چھوٹ جائے تو آخرت کے لیے ترک؛ ورنہ كَسَلاً ودَعَةً۔ ریاضتوں اور بوارقِ ملکیہ سے متأثر | ||
| اصطلاح | عالية | شديدة | أقومُهم بالرياساتِ؛ اور غايةِ العلوِّ پر: الأنبياءُ وورثتُهم، بمنزلةِ الجارحةِ |
| ضعيفة | أحسنُهم عملاً وآدبُهم؛ يجبُ انقيادُهم في دينِ اللهِ | ||
| سافلة | شديدة | دین و دنیا دونوں میں مشغول — ويقصدُهما مرةً واحدةً | |
| ضعيفة | أطوعُهم؛ يتلقَّونَ النواميسَ بأشباحِها وهيئاتِها |
باب اُسی لہجے پر ختم ہوتا ہے جس پر شروع ہوا تھا:
فهذه أصولٌ أعطانيها ربي، من أتقنَها استجلى أحوالَ أهلِ اللهِ، ومَبلَغَ كمالِهم، ومَطمَحَ إشارتِهم عن أنفسِهم، وخرَّجَ مراتبَ سلوكِهم.
﴿ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ﴾
«جبلّت ناقابلِ تبدیل ہے، تو کوشش بےکار ہے۔» — متن کی قید صریح ہے: ہر قوت میں جِبِلّةٌ تُخصِّصُ أحدَ وجهيها اور كسبٌ يؤيِّدُه ويُقوِّيه ويَمُدُّ فيه۔ کسب رخ نہیں بدلتا، مگر تائید، قوت اور توسیع دیتا ہے۔ اور خود متن سب سے پہلی عملی بات یہی کہتا ہے: شدید بہیمیت والا أحوجُ الناسِ إلى الرياضاتِ الشاقّةِ — یعنی اُس کے لیے کام زیادہ ہے، ناممکن نہیں۔
«اصطلاح» کا مطلب سمجھوتہ یا کمزوری ہے۔ — حاشیہ اِسے روکتا ہے: ملکیہ کا خالص حکم الوصولُ إلى حظيرةِ القدسِ واللحوقُ بالملأِ الأعلى ہے۔ اُس سے «اترنا» اخلاقی گراوٹ نہیں، بلکہ عقل، سخاوتِ نفس، عفتِ طبع اور عمومی نفع کو اختیار کرنا ہے۔ اور متن اُسی کو أحسنُهم عملاً وآدبُهم کہتا ہے، اور دین میں جن کی اطاعت واجب ہے اُنہی کو۔
یہ آٹھ خانے نہیں، آٹھ سرے ہیں۔ رءوسَ الأقسامِ — اور متن خود کہتا ہے کہ درجے لامتناہی ہیں؛ حاشیہ اُسے ضرب سے سمجھاتا ہے۔ کسی شخص کو ایک خانے میں «فٹ» کرنا اِس نقشے کا مقصد نہیں؛ مقصد یہ ہے کہ يُعرَفُ غيرُها بمعرفتِها۔
«کمزور بہیمیت» فضیلت نہیں۔ الفاظ دیکھیے: المُهَلهَلة (ڈھیلی بُنی ہوئی) اور المُخْدَج (ادھورا پیدا ہوا) — حاشیہ دونوں کو یوں ہی کھولتا ہے۔ اور اُسی مزاج کا ایک انجام كَسَلاً ودَعَةً ترک ہے۔ زہد کی صورت ایک، جڑیں مختلف۔
«عالی» اور «سافل» ملکیہ کا فرق نیکی کا نہیں، احاطے کا ہے۔ پہلی میں الإحاطة، اجتماع الهمة اور المعرفة ہیں؛ دوسری میں داعیہ اوپر سے آتا ہے مگر اِن کے بغیر۔ اور باب ٣ میں ملأِ سافل کا کمال ہی «خالی رہ کر امر کا انتظار» تھا۔ اِسے تقویٰ کا درجہ سمجھ لینا نقشے کو اخلاقی فہرست بنا دیتا ہے، جو وہ نہیں ہے۔
اور یہ باب مصنف کی اپنی طرف منسوب ہے۔ ما فتحَ اللهُ عليَّ اور فهذه أصولٌ أعطانيها ربي — آغاز اور اختتام دونوں پر۔ احادیث حجت ہیں؛ آٹھ اقسام کی یہ ترتیب اُن کے معانی کا اُن کا اپنا استخراج ہے۔ اِسے منقول عقیدہ کے درجے پر رکھنا خود مصنف کے بیان سے آگے جانا ہے۔
حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري — باب ٩ — اختلاف الناس في جبلتهم۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔
اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔
لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔
کی بورڈ: → پچھلا باب · ← اگلا باب · Esc فہرست · متن کے لیے نیچے کا بٹن