حجة الله البالغة — شاہ ولی اللہ دہلویفہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ٤

سنتِ الٰہی

باب ذكر سنة الله
وہ قاعدہ جو بدلا نہیں جاتا — اور جس کے بغیر تکلیف ممکن نہ تھی

sunnat Allāh

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغةشاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ٤ — ذكر سنة الله
مقام
القسم الأول — المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پورا عنوان
باب ذكر سنة الله التي أُشير إليها في قوله تعالى ﴿وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْديلاً﴾
پچھلے ابواب
باب ١باب ٢باب ٣
اگلا باب
باب ٥ — حقيقة الروح
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريدار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

ربط: تین باب بنیاد رکھ چکے — تدبیر کیا ہے، کہاں صورت پکڑتی ہے، کون چلاتا ہے۔ یہ چوتھا باب اُن تینوں کو ایک فہرست میں سمیٹ دیتا ہے، اور پھر وہ سوال اٹھاتا ہے جس کے بغیر مبحث آگے نہیں بڑھ سکتا: اگر عالَم قاعدے سے چلتا ہے، تو انسان پر تکلیف کیوں عائد ہوتی ہے؟

خلاصۂ باب
  1. دعویٰ (اور اُس کی دو قیدیں): اللہ کے بعض افعال عالَم میں ودیعت کی گئی قوتوں پر مترتب ہوتے ہیں — اور وہ بھی بوجهٍ من وجوهِ الترتُّب، ترتّب کی کسی ایک وجہ سے۔ دونوں لفظ ناپ تول کر رکھے گئے ہیں۔
  2. دلیل دو طرح سے: شهد بذلك النقلُ والعقلُ — نقل سے (آدم ؑ کی مٹی، مشابہت کی حدیث) اور عقل سے (تلوار سے موت، بیج سے پودا)۔
  3. اور یہیں کتاب کا اصل جوڑ ہے: ولأجلِ هذه الاستطاعةِ جاء التكليفُاِسی استطاعت کی وجہ سے تکلیف آئی۔ قاعدہ نہ ہوتا تو حکم بےمعنی ہوتا۔
  4. چھ قسم کی قوتیں — اور اُن میں پچھلے تینوں باب موجود ہیں: خواصِ عناصر (باب ١)، عالمِ مثال (باب ٢)، ملأِ اعلیٰ کی دعائیں (باب ٣) — اور اِن کے ساتھ خود شریعت بھی ایک سبب کے طور پر۔
  5. جب اسباب ٹکرا جائیں: سب کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے، تو حکمت یہ ہے کہ أقربَ الأشياءِ إلى الخيرِ المطلقِ کا لحاظ ہو۔ اِسی کو الميزان اور الشأن کہا گیا۔
  6. ستارے: کچھ اثر ثابت ہے (موسم، مدّ و جزر)، مگر انسانی حوادث کو اُن سے جوڑنا شرعاً ثابت نہیں — اور اِس کے ساتھ ہی وہ یہ دعویٰ کرنے سے بھی انکار کرتے ہیں کہ شریعت نے ستاروں میں خواص کی نفی کی ہے۔

اصل نکتہ: اِس باب کا عنوان قرآن سے ہے — ولن تجد لسنة الله تبديلاً۔ «سنتِ الٰہی» یہاں کوئی جبر نہیں، بلکہ قاعدے کا نہ بدلنا ہے۔ اور قاعدے کا نہ بدلنا ہی وہ چیز ہے جو انسان کو مکلَّف بناتی ہے: اگر بیج بونے سے کبھی پودا اگتا اور کبھی نہ اگتا، تو نہ کاشتکاری ممکن تھی، نہ ذمہ داری۔ تکلیف قاعدے کی دشمن نہیں، اُس کی بیٹی ہے۔

۱

دعویٰ — اور اُس کی دو قیدیں

باب کا آغاز ایک سیدھے جملے سے ہوتا ہے، مگر اُس میں دو لفظ ایسے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا پوری بحث کو بگاڑ دیتا ہے:

اعلمْ أنَّ بعضَ أفعالِ اللهِ تعالى تَتَرَتَّبُ على القُوى المُودَعةِ في العالمِ، بوجهٍ مِن وجوهِ الترتُّبِ، شَهِدَ بذلك النقلُ والعقلُ.

پہلی قید — بعض۔ یہ نہیں کہا گیا کہ اللہ کے سب افعال قوتوں پر مترتب ہیں۔ بعض۔ یعنی قاعدے کا اثبات کیا جا رہا ہے، مگر اللہ کے فعل کو قاعدے کا قیدی نہیں بنایا جا رہا۔ (باب ١ کے چار طریقے یاد کیجیے — القبض اور الإحالة وہیں فٹ ہوتے ہیں۔)

دوسری قید — بوجهٍ من وجوهِ الترتُّب۔ «ترتّب کی کسی ایک وجہ سے»۔ یہ وہی احتیاط ہے جو باب ٣ میں ملأِ اعلیٰ کے بارے میں تھی: أسباباً … بوجهٍ من وجوهِ السببية۔ یعنی «سبب» کہہ دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ سببیت کی نوعیت متعین ہو گئی۔ دو جگہ، ایک ہی اسلوب — یہ اُن کی عادت ہے، اتفاق نہیں۔

حاشیہ

قوله: بوجهٍ … إلخ، يتعلَّقُ بالترتُّبِ؛ أي لا ندري كيف تَتَرَتَّبُ؟ ولكن نَستيقِنُ أنها مُتَرَتِّبةٌ.

اور یہ حاشیہ فیصلہ کن ہے۔ پالن پوری صاحب دوسری قید کی تشریح میں بعینہٖ وہی جملہ لاتے ہیں جو باب ١ میں صفات مترتبة پر تھا: «ہم نہیں جانتے کہ ترتیب کیسے ہے، مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ مترتب ہیں۔» یعنی بوجهٍ من وجوهِ الترتُّب مبہم نہیں — یہ جان بوجھ کر توقف ہے: ترتّب کا اثبات، اُس کی کیفیت میں سکوت۔ ایک ہی اسلوب، دو ابواب میں۔

اِن دو قیدوں کے ساتھ پورا باب پڑھیے تو ایک درمیانی مؤقف سامنے آتا ہے: اسباب حقیقی ہیں (اُن کے منکر کے خلاف)، مگر خود مختار نہیں (اُنہیں مطلق کر دینے والے کے خلاف)۔ باب کا آخری حصہ — ستارے اور کہانت — اِسی توازن کو سنبھالنے میں گزرتا ہے۔

۲

نقل اور عقل — اور وہ جملہ جو سب کچھ جوڑ دیتا ہے

نقل سے: وہ اُس حدیث سے شروع کرتے ہیں جس میں آدم ؑ کو ساری زمین سے لی گئی ایک مٹھی سے پیدا کیا گیا — پس اولادِ آدم زمین کے مطابق آئی: سرخ، سپید، سیاہ، اور اِن کے درمیان؛ نرم اور سخت؛ خبیث اور طیب۔ اور اُس سوال کی حدیث بھی، کہ بچہ باپ پر جاتا ہے یا ماں پر۔

غور کیجیے کہ یہ محض عجیب روایات نہیں — اِن میں ایک قاعدہ بیان ہو رہا ہے: مادے کے تنوع سے نسل کا تنوع، اور مقدم و مؤخر ہونے سے مشابہت کا تعین۔ صورتیں مختلف، مگر اصول ایک۔

اور عقل سے: یہاں وہ روزمرہ کی طرف آتے ہیں، اور دلیل کی طاقت اُس کے سادہ ہونے میں ہے۔ کوئی شک نہیں کرتا کہ موت تلوار کی ضرب یا زہر کھانے سے آتی ہے؛ کہ رحم میں بچے کی تخلیق نطفے کے بعد ہوتی ہے؛ کہ اناج اور درخت بیج بونے، پودا لگانے اور پانی دینے کے بعد اگتے ہیں۔

ولأجلِ هذه الاستطاعةِ جاء التكليفُ، وأُمِرُوا، ونُهُوا، وجُوزُوا بما عَمِلُوا.

یہ ایک جملہ پوری کتاب کا قبضہ ہے۔ «اِسی استطاعت کی وجہ سے تکلیف آئی — اور اُنہیں حکم دیا گیا، منع کیا گیا، اور جو کیا اُس کا بدلہ دیا گیا۔»

یعنی: انسان اِس لیے مکلَّف ہے کہ وہ کر سکتا ہے؛ اور وہ کر سکتا ہے اِس لیے کہ عالَم میں قاعدے ہیں۔ اگر بیج اور فصل کے درمیان کوئی باقاعدہ تعلق نہ ہوتا، تو «کھیتی کرو» ایک بےمعنی حکم ہوتا۔ پس قاعدہ اور ذمہ داری ایک دوسرے کے مقابل نہیں — ایک دوسرے کی شرط ہیں۔ اور اِسی لیے یہ مبحث ہی أسباب التكليف والمجازاة کہلاتا ہے۔

۳

چھ قسم کی قوتیں — اور اُن میں پچھلے تین باب

اب وہ گنواتے ہیں کہ «ودیعت کی گئی قوتیں» کیا کیا ہیں۔ فہرست چھ کی ہے، اور پڑھتے ہوئے آپ کو پچھلے ابواب پہچانے جائیں گے:

  1. خواصُّ العناصرِ وطبائعُها — عناصر کے خواص اور اُن کی طبیعتیں۔ یہ باب ١ کا خواص ہے۔
  2. الأحكامُ التي أوْدَعَها اللهُ في كلِّ صورةٍ نوعيةٍ — ہر نوعی صورت میں ودیعت کیے گئے احکام۔ یعنی نوع کا اپنا ضابطہ۔
  3. أحوالُ عالمِ المثالِ والوجودُ المَقْضِيُّ به هنالك قبلَ الوجودِ الأرضيِّ — عالمِ مثال کے احوال، اور وہ وجود جو وہاں زمینی وجود سے پہلے مقضی ہو چکا۔ یہ پورا باب ٢ ہے، ایک سطر میں۔
  4. أدعيةُ الملأِ الأعلى بجُهْدِ هِمَمِهم — ملأِ اعلیٰ کی دعائیں، اُن کی ہمتوں کی پوری کوشش کے ساتھ: اُس کے لیے جو اپنے نفس کو مہذب کرے یا لوگوں کی اصلاح میں کوشش کرے، اور اُس کے خلاف جو اِس کے برعکس کرے۔ یہ باب ٣ کا پہلا نکتہ ہے۔
  5. الشرائعُ المكتوبةُ على بني آدمَ وتحقُّقُ الإيجابِ والتحريمِ — بنی آدم پر لکھی گئی شریعتیں، اور وجوب و تحریم کا متحقق ہونا — فإنها سببُ ثوابِ المُطيعِ وعقابِ العاصي۔
  6. لزوم کا نظام — کہ اللہ کسی چیز کا فیصلہ کرے، پھر وہ چیز کسی دوسری چیز کو کھینچ لائے، کیونکہ سنتِ الٰہی میں وہ اُس کا لازم ہے۔
حاشیہ

طبائعُ: جمعُ طبيعةٍ، وهي بمعنى الخاصّةِ — كالإحراقِ: طبيعةُ النارِ.

أي أحوالُ عالمِ المثالِ سببٌ لأحوالِ عالمِ الأجسادِ.

الهِمّةُ: العزمُ القويُّ والتوجُّهُ التامُّ … والجَهْدُ: الوُسْعُ والطاقةُ.

يعني أنَّ إثابةَ المُطيعِ وعقابَ العاصي أيضاً مِن أفعالِ اللهِ تعالى، تَتَرَتَّبُ على الشرائعِ المُنَزَّلةِ.

یہ چار حاشیے فہرست کو کھول دیتے ہیں۔ پہلا: طبائع کا مطلب ہی خاصّة ہے — «جیسے جلانا آگ کی طبیعت ہے»، یعنی باب ١ کا خواص اور یہاں کی پہلی قسم ایک ہی چیز ہیں۔ دوسرا: عالمِ مثال کے احوال عالمِ اجساد کے احوال کا سبب ہیں — یہ تیسری قسم کی صریح تشریح ہے۔ تیسرا: همّة پکا عزم اور پوری توجہ ہے، جَهد وسعت و طاقت — یعنی «اپنی ہمتوں کی پوری کوشش سے» کوئی رسمی دعا نہیں۔

اور چوتھا سب سے اہم ہے: ثواب و عقاب خود بھی اللہ کے افعال میں سے ہیں، اور وہ نازل شدہ شریعتوں پر مترتب ہوتے ہیں۔ یعنی شریعت کا «سبب» ہونا کوئی مجاز نہیں — جزا اُس پر اُسی طرح مترتب ہے جیسے فصل بیج پر۔

پانچویں پر رُکیے، کیونکہ یہ سب سے جرات مندانہ ہے۔ شریعت خود اُن «قوتوں» میں شمار کی گئی ہے جن پر افعال مترتب ہوتے ہیں۔ یعنی حکم و ممانعت کوئی خارجی ہدایت نامہ نہیں جو عالَم پر چسپاں کیا گیا ہو — وہ عالَم کے اُسی سببی نظام کا ایک جزو ہیں، بارش اور بیج کے ساتھ ایک ہی فہرست میں۔ باب ١ میں وحی الإلهام کی مثال تھی؛ یہاں شریعت ایک سبب ہے۔ ایک ہی بات، دو رخ سے۔

اور چھٹی قسم کے ساتھ ایک باریک اصول اور ایک نہایت خوبصورت حدیث آتی ہے:

… لأنه لازِمُه في سنةِ اللهِ، وخَرْمُ نظامِ اللزومِ غيرُ مَرْضِيٍّ. والأصلُ فيه قولُ رسولِ اللهِ ﷺ: «إذا قَضَى اللهُ لعبدٍ أن يموتَ بأرضٍ، جَعَلَ له إليها حاجةً».

خَرْمُ نظامِ اللزوم غيرُ مرضيّ — «لزوم کے نظام کو توڑنا پسندیدہ نہیں»۔ یعنی اللہ قاعدہ توڑ کر کام نہیں کرتا، بلکہ قاعدے کے اندر سے راستہ بناتا ہے۔ اور حدیث اِس کی بہترین تصویر ہے: جب کسی بندے کا کسی زمین میں مرنا طے ہو جائے، تو اللہ اُس کے دل میں اُس زمین کی ایک ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔ آدمی اپنے کام سے، اپنے ارادے سے، اپنی ضرورت کے پیچھے چلتا ہوا وہاں پہنچتا ہے — اور قضا پوری ہو جاتی ہے، بغیر کسی قاعدے کے ٹوٹنے کے۔

باب ٣ کی مچھلی یاد آئی؟ وهي لا تعلم لِمَ تفعل ذلك — وہ نہیں جانتی کہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔ یہاں وہی بات انسان پر: آپ کو اپنی ضرورت معلوم ہے، اُس کا سبب نہیں۔

لوحِ اوّل · Plate I

چھ قوتیں — اور اُن میں سمٹے ہوئے پچھلے تین باب

القُوى المُودَعة في العالميترتَّب عليها بعضُ أفعالِ اللهthe deposited forcesخواصُّ العناصروطبائعُها — باب ١ کا خواصأحكامُ الصورةأودعها الله في كلِّ صورةٍ نوعيةأحوالُ عالمِ المثالالوجودُ المقضيُّ به قبل الوجودِ الأرضي — باب ٢أدعيةُ الملأِ الأعلىبجُهدِ هِمَمِهم — لمن هذَّب نفسه — باب ٣الشرائعُ المكتوبةسببُ ثوابِ المطيعِ وعقابِ العاصينظامُ اللزومخَرْمُه غيرُ مَرْضِيّ

ہر شاخ متن کی چھ اقسام میں سے ایک ہے۔ دائیں طرف اشارہ ہے کہ وہ قسم کس باب سے آ رہی ہے — یہ نسبت میں نے جوڑی ہے، مگر الفاظ متن کے ہیں۔

۴

جب اسباب ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں

اب وہ سوال جو ہر باقاعدہ نظام میں پیدا ہوتا ہے: اگر سب کچھ اسباب پر چل رہا ہے، تو جب دو اسباب متضاد تقاضے کریں تو کیا ہو؟ دونوں پورے نہیں ہو سکتے۔

واعلمْ أنه إذا تَعارَضَتِ الأسبابُ التي يَتَرَتَّبُ عليها القضاءُ بحسبِ جَرْيِ العادةِ، ولم يُمكِنْ وجودُ مُقتضياتِها أجمعَ — وكانت الحكمةُ حينئذٍ مُراعاةَ أقربِ الأشياءِ إلى الخيرِ المُطلَقِ.

یعنی ٹکراؤ کی صورت میں حکمت کا کام یہ ہے کہ جو چیز خیرِ مطلق کے سب سے قریب ہو، اُس کا لحاظ رکھا جائے۔ اور یہاں وہ ایک لطیف کام کرتے ہیں: اِس عمل کو قرآن و حدیث کے دو ناموں سے جوڑ دیتے ہیں۔

حدیث و قرآن

وهذا هو المُعَبَّرُ عنه بالميزانِ في قوله ﷺ: «بيدِه الميزانُ يَرفَعُ القِسْطَ ويَخْفِضُه»، وبالشأنِ في قوله تعالى: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾.

«میزان» — ترازو، جو ایک پلڑا اٹھاتا اور دوسرا جھکاتا ہے۔ اور «شان» — ہر روز وہ ایک نئے کام میں ہے۔ دونوں الفاظ ایک ہی چیز کے نام ہیں: مسلسل توازن۔ نظام جامد نہیں کہ ایک بار طے ہو کر چلتا رہے؛ ہر لمحہ ترجیح لگائی جا رہی ہے۔

اور ترجیح کس بنیاد پر؟ متن تین وجوہ دیتا ہے: کبھی اسباب کی حالت سے (کون زیادہ قوی ہے)، کبھی آثار کی حالت سے (کون زیادہ نافع ہے)، اور بابِ خلق کو بابِ تدبیر پر مقدم رکھ کر — اور یہ آخری بات سیدھی باب ١ کی ترتیب ہے، وہی مترتبة۔

لوحِ دوم · Plate II

ٹکراؤ سے فیصلے تک — متن کے الفاظ میں

یعنی ٹکراؤ نظام کی خرابی نہیں — نظام کا کام ہے۔ اور فیصلہ کبھی اسباب کی قوت سے، کبھی آثار کے نفع سے، اور کبھی بابِ خلق کو بابِ تدبیر پر مقدم رکھ کر ہوتا ہے۔

آخری کڑی پر رُکیے: نتیجہ «سب کے تقاضے پورے» نہیں، بلکہ «خیرِ مطلق کے سب سے قریب» ہے۔ یہ فرق پورے باب کا وزن اٹھاتا ہے۔

۵

اور پھر ایک جملہ جو بہت سی گرہیں کھول دیتا ہے

اِس کے فوراً بعد وہ ایک اعترافِ عجز کرتے ہیں — اور اُسی میں سے ایک یقین نکال لاتے ہیں۔ یہ باب کا سب سے خوبصورت مقام ہے:

فنحنُ إنْ قَصُرَ عِلْمُنا عن إحاطةِ الأسبابِ ومعرفةِ الأحقِّ عن تَعارُضِها — نَعلَمُ قَطعاً أنه لا يُوجَدُ شيءٌ إلا وهو أحقُّ بأن يُوجَدَ. ومَن أيقَنَ بما ذكرنا استراحَ عن إشكالاتٍ كثيرةٍ.

دلیل کی ساخت دیکھیے، کیونکہ یہ بہت نپی تلی ہے:

  1. ہمارا علم اسباب کو گھیر نہیں سکتا — یہ مانا۔
  2. اور ٹکراؤ کی صورت میں کون زیادہ حق دار ہے، یہ بھی ہم نہیں جان سکتے — یہ بھی مانا۔
  3. مگر ہم قطعی طور پر یہ جانتے ہیں کہ جو چیز موجود ہوئی، وہ موجود ہونے کی زیادہ حق دار تھی۔

فرق پکڑیے: یہ یہ دعویٰ نہیں کہ «ہم جان سکتے ہیں کہ کیوں»۔ یہ دعویٰ ہے کہ «کوئی کیوں ضرور ہے، خواہ ہم اُسے نہ جانیں»۔ پہلا دعویٰ تکبر ہوتا؛ دوسرا توکل ہے۔

اور اِسی لیے وہ کہتے ہیں: استراحَ عن إشكالاتٍ كثيرةٍ — «بہت سے اشکالات سے آرام پا گیا»۔ لفظ استراح (آرام پانا) پر غور کیجیے: یہ کسی بحث میں جیتنے کا دعویٰ نہیں، ایک بوجھ اتر جانے کا بیان ہے۔ باب ١ میں شر کی تفریق نے قاعدہ بچایا تھا؛ یہاں یہ جملہ ماننے والے کو بچاتا ہے۔


۶

ستارے — کیا ثابت ہے، کیا نہیں، اور کیا وہ کہنے سے انکار کرتے ہیں

باب کا آخری حصہ ایک عملی مسئلے پر ہے، اور یہ اُن کی احتیاط کا بہترین نمونہ ہے۔ سوال: هيآت الكواكب — ستاروں کی ہیئتوں کا کیا اثر ہے؟ جواب تین حصوں میں آتا ہے، اور تینوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔

ایک — جو ضروری اور ثابت ہے۔ کچھ اثر ضروريّ ہے: گرمی اور سردی کا فرق، دن کا لمبا اور چھوٹا ہونا — سورج کے احوال کے اختلاف سے؛ اور مدّ و جزر کا فرق — چاند کے احوال سے۔ اور حدیث بھی ہے: «جب ستارہ طلوع ہوتا ہے تو آفت اٹھ جاتی ہے» — اور یہاں وہ خود قید لگاتے ہیں: يعني بحسبِ جَرْيِ العادةِ، یعنی عادت کے جاری ہونے کے اعتبار سے۔

حاشیہ

هيئاتُ الكواكبِ: الأشكالُ الحاصلةُ مِن دَوَرانِها، وقُربِ بعضِها مِن بعضٍ وبُعدِها.

الجَزْرُ: انحِسارُ ماءِ البحرِ عن الشاطئِ بفعلِ الجاذبيةِ، وضِدُّه المَدُّ.

دوسرے حاشیے پر مسکرا دیجیے: مدّ و جزر کی تشریح میں بفعلِ الجاذبية — «کششِ ثقل کے عمل سے» — یعنی محقق نے بیسویں صدی کی زبان میں وہی بات لکھی جو متن اٹھارھویں صدی میں «چاند کے احوال» کہہ کر کہہ رہا تھا۔ سببِ قریب بدل گیا، دعویٰ وہی رہا۔

دو — جو ثابت نہیں۔ مگر فقر و غنا، قحط و خوشحالی، اور باقی انسانی حوادث کا ستاروں کی حرکات سے ہونا — فمما لم يَثْبُتْ في الشرعِ، یہ شرعاً ثابت نہیں۔ اور نبیؐ نے اِس میں پڑنے سے منع فرمایا: «جس نے نجوم کا ایک شعبہ حاصل کیا، اُس نے جادو کا ایک شعبہ حاصل کیا۔» اور «ہم پر فلاں ستارے کے سبب بارش ہوئی» کہنے پر سختی فرمائی۔

تین — اور یہ سب سے اہم۔ اب دیکھیے وہ کہاں رُکتے ہیں:

ولا أقولُ نَصَّتِ الشريعةُ على أنَّ اللهَ لم يَجعَلْ في النجومِ خَواصَّ تَتَوَلَّدُ منها الحوادثُ بواسطةِ تَغَيُّرِ الهواءِ المُكْتَنِفِ بالناسِ ونحوِ ذلك.

«میں یہ نہیں کہتا کہ شریعت نے یہ صراحت کی ہے کہ اللہ نے ستاروں میں ایسے خواص نہیں رکھے…»

یعنی: ممانعت ایک بات ہے، اور مابعدالطبیعی انکار دوسری بات۔ نبیؐ نے نجوم میں پڑنے سے روکا — اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ستاروں میں کوئی طبعی خاصیت ہی نہیں۔ وہ ممانعت کو ممانعت رہنے دیتے ہیں، اور اُسے دعوے میں نہیں بدلتے۔ یہ وہ باریکی ہے جو اِس بحث میں دونوں طرف سے عموماً ضائع کر دی جاتی ہے۔

اور آخر میں کہانت: وہ ممنوع ہے، اور اُس کا طریقۂ کار بھی بیان ہوتا ہے — ملائکہ بادل میں اترتے ہیں اور آسمان میں طے پائے امر کا ذکر کرتے ہیں، شیاطین چوری چھپے سن لیتے ہیں، پھر کاہنوں تک پہنچاتے ہیں، اور وہ اُس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (باب ٣ کے ملأِ اعلیٰ اور شیاطین یہاں دوبارہ سامنے ہیں۔)

اور پھر تین نصوص جو سب کو سنبھال دیتی ہیں: قرآن کا وہ حکم کہ اُن کافروں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا لو كانوا عندنا ما ماتوا وما قُتِلوا (اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے نہ مارے جاتے)؛ اور حدیث «تم میں سے کسی کو اُس کا عمل جنت میں داخل نہ کرے گا»؛ اور — سب سے خوبصورت — إنما أنتَ رفيقٌ والطبيبُ اللهُ: «تم تو صرف ساتھی ہو، طبیب اللہ ہے۔»

اِن تینوں کو ایک ساتھ رکھیے اور باب کا توازن سامنے آ جاتا ہے میری۔ پہلی: اسباب کو مطلق نہ کرو («ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے») — یہ سببیت کا غلو ہے۔ دوسری: اپنے عمل کو بھی مطلق نہ کرو — عمل جنت میں داخل کرنے والا نہیں۔ تیسری: اور جو سبب ہے، وہ رفیق ہے، فاعل نہیں — طبیب اللہ ہے، ڈاکٹر ساتھی۔

یعنی پورا باب اسباب کا اثبات کرتا ہے، اور آخری سطریں اُنہیں اُن کی جگہ پر بٹھا دیتی ہیں۔ اور یہی سنة الله ہے: قاعدہ اللہ کا ہے، قاعدے کا مالک نہیں۔

۷

اجزاء اور اُن کا کام

اصطلاح — متن کے الفاظ — نظام میں کردار
اصطلاحمتن کے الفاظکیوں ضروری ہے
سنة اللهولن تجد لسنة الله تبديلاًقاعدے کا نہ بدلنا — اور اِسی سے استطاعت، اور استطاعت سے تکلیف
الاستطاعةولأجل هذه الاستطاعة جاء التكليفباب کا محور: قاعدہ ذمہ داری کی شرط ہے، اُس کی ضد نہیں
القوى المُودَعةستة أقسام — من خواص العناصر إلى الشرائعوہ چھ سطحیں جن پر افعال مترتب ہوتے ہیں؛ باب ١–٣ اِنہی میں سمٹتے ہیں
نظام اللزومخَرْمُه غيرُ مَرْضِيّقضا قاعدہ توڑ کر نہیں، قاعدے کے اندر سے پوری ہوتی ہے
الميزان · الشأنمراعاة أقرب الأشياء إلى الخير المطلقٹکراؤ کا حل — مسلسل ترجیح، جامد ضابطہ نہیں
أحقُّ بأن يوجدلا يوجد شيء إلا وهو أحقُّ بأن يوجدعلم کی محدودیت مانتے ہوئے نظام پر یقین — استراح عن إشكالات كثيرة

۸

یہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«سنتِ الٰہی کا مطلب جبر ہے۔» — باب اِس کے بالکل برعکس دلیل دیتا ہے: ولأجل هذه الاستطاعة جاء التكليف۔ قاعدے کا نہ بدلنا ہی وہ چیز ہے جو انسان کو قادر اور اِس لیے مکلَّف بناتی ہے۔ جبر قاعدے سے نہیں، قاعدے کے انکار سے نکلتا ہے۔

عام غلط فہمی

«اسباب مانو تو توکل جاتا ہے۔» — باب اسباب کا اثبات کرتا ہے اور اُنہیں مطلق ہونے سے روکتا ہے: إنما أنت رفيقٌ والطبيبُ الله۔ سبب رفیق ہے، فاعل نہیں۔ اور جو کہے «ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے» — قرآن اُسے کافروں کا قول بتاتا ہے۔

باریک نکتہ

دو قیدیں نہ چھوڑیے: بعض اور بوجهٍ من وجوهِ الترتُّب۔ نہ سب افعال قوتوں پر مترتب ہیں، نہ ترتّب کی نوعیت متعین کی گئی ہے۔ اِن دونوں کو گرا دینے سے باب ایک سادہ طبعی جبریت میں بدل جاتا ہے، جو اُس کا مؤقف نہیں۔

باریک نکتہ

ممانعت اور انکار ایک چیز نہیں۔ نجوم میں پڑنے کی ممانعت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ستاروں میں کوئی خاصیت نہیں — اور متن خود اِس فرق کی صراحت کرتا ہے: ولا أقول نصَّت الشريعةُ…۔ یہ سطر دونوں طرف کے غلو کو روکتی ہے۔

باریک نکتہ

«ہر موجود اپنے وجود کا زیادہ حق دار ہے» کا مطلب یہ نہیں کہ ہم وجہ جان سکتے ہیں۔ متن پہلے علم کا قصور مانتا ہے، پھر یقین کا دائرہ بتاتا ہے۔ اِسے «جو ہوا اچھا ہوا» میں بدل دینا دعوے کو اُس کی حد سے آگے لے جانا ہے۔

سیاق

یہ باب پچھلے تینوں کا خلاصہ بھی ہے۔ چھ اقسام میں خواص (باب ١)، عالمِ مثال (باب ٢) اور ملأِ اعلیٰ (باب ٣) بالترتیب موجود ہیں۔ اِسی لیے اِسے اکیلا پڑھنے سے فہرست بےربط لگتی ہے، اور سلسلے میں پڑھنے سے وہ ایک جمع بندی بن جاتی ہے۔


۹

مزید گہرائی

یہ سوالات کھلے ہیں

  • بوجهٍ من وجوهِ الترتُّب — ترتّب کی کون سی وجہ؟ باب ٣ میں وجوه السببية پر حاشیہ «علم المعاني کی کتابوں» کی طرف بھیجتا تھا؛ کیا یہاں بھی وہی مراد ہے؟
  • شریعت کو «قوتوں» میں شمار کرنے کا کلامی مضمون کیا ہے؟ کیا یہ حکم کو سببِ حقیقی بنانا ہے، یا سببِ عادی؟
  • أحقُّ بأن يوجد — یہ «اصلح» کے اُس مسئلے سے کہاں تک ملتا ہے جس پر متکلمین اور فلاسفہ میں طویل بحث ہے؟
  • ستاروں کے بارے میں وہ جو نہیں کہتے — پالن پوری صاحب کی شرح اِس پر کیا کہتی ہے؟ یہ سطر تشریح کی سب سے زیادہ محتاج ہے۔
  • باب ١ کے چار طریقے (قبض، بسط، إحالة، إلهام) اور یہاں کی چھ قوتیں — کیا اِن دونوں فہرستوں میں کوئی منظم نسبت ہے، یا دو مختلف تقسیمیں ہیں؟
الفاظ کہاں سے: اِس باب کی عبارتیں پالن پوری صاحب کے اسکین سے پڑھی گئی ہیں، اور حواشی بھی وہیں سے ہیں۔ مگر چار مقامات پر اسکین کا OCR ناقابلِ قراءت تھاولأجل هذه الاستطاعة، مراعاة أقرب الأشياء، خرم نظام اللزوم، اور ولا أقول نصت الشريعة — اِن چاروں کے الفاظ شاملہ کے متن سے ہیں۔ مضمون وہی ہے، مگر عبارت بعینہٖ پالن پوری صاحب کی ہو، اِس کی ضمانت نہیں؛ مطبوعہ صفحے سے ملا لیجیے۔
بنیادی نسخہ

حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريباب ٤ — ذكر سنة الله۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔

اردو شرح

اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔

متن میں تلاش کے لیے

لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔

کی بورڈ: پچھلا باب  ·  اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن