حجة الله البالغة — شاہ ولی اللہ دہلویفہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ٣

ملأِ اعلیٰ

باب ذكر الملأ الأعلى
وہ مجلس جس کے ذریعے امر نیچے اترتا ہے

al-malaʾ al-aʿlā

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغةشاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ٣ — ذكر الملأ الأعلى
مقام
القسم الأول — المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پچھلے ابواب
باب ١ — الإبداع والخلق والتدبيرباب ٢ — ذكر عالم المثال
اگلا باب
باب ٤ — ذكر سنة الله (فلن تجد لسنة الله تبديلاً)
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريدار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

احتیاط: اِس باب میں «الملأ الأعلى ثلاثة أقسام» والی عبارت کا پہلا قسم اسکین کے OCR میں پڑھا نہیں جا سکا۔ نیچے دوسرا اور تیسرا قسم درج ہے، پہلا خالی چھوڑ دیا گیا ہے — مطبوعہ صفحہ سے پُر کیجیے۔ باقی عبارتیں صاف تھیں۔

خلاصۂ باب
  1. نام ہی تعریف ہے: مَلأ کے معنی جماعت ہیں۔ اُن کے اجتماعات ہوتے ہیں، اور اِسی اعتبار سے تین نام ہیں: الرفيق الأعلى، النديّ الأعلى، الملأ الأعلى۔
  2. کام: وہ اللہ اور بندوں کے درمیان سُفَراء ہیں؛ دلوں میں خیر کا الہام کرتے ہیں — یعنی أسباباً لحدوث خواطر الخير؛ اور اُن کی دعا و لعنت خود ایک سبب بن جاتی ہے۔
  3. وہاں کیا طے ہوتا ہے: هنالك ينزل القضاء — قضا وہیں اترتی ہے؛ اور — یہ سب سے اہم — هنالك تتقرر الشرائع بوجه من الوجوه: شریعتیں وہیں قرار پاتی ہیں۔
  4. وہ بند دروازہ نہیں: لأرواح أفاضل الآدميين دخولاً فيهم ولحوقاً بهم — بہترین انسانوں کی روحیں اُن میں شامل ہو جاتی ہیں۔ جعفر بن ابی طالبؓ کی حدیث اِسی پر۔
  5. حظیرۃ القدس: اُن کے افاضل کے انوار مل کر «گویا ایک چیز» بن جاتے ہیں — اور اُسی کا نام حظیرۃ القدس ہے۔ وہیں کبھی عزم ہوتا ہے کہ بنی آدم کو نجات دلانے کی تدبیر کی جائے — اور نبوت اِسی عزم کا نتیجہ ہے۔
  6. نیچے کا درجہ: اُن سے نیچے الملأ السافل ہے — جن کا کمال «خالی رہنا اور امر کا انتظار» ہے؛ اور اُن کے بالمقابل الشياطين۔

اصل نکتہ: باب ١ میں تدبیر کی تعریف تھی: حوادث کو اُس نظام کے موافق کرنا جسے حكمته پسند کرتی ہے، اور جو اُس مصلحة تک پہنچائے جس کا تقاضا اُس کا جود کرتا ہے۔ اب اِس باب میں ملأِ اعلیٰ کی دوسری شان یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ اپنے رب سے استحسانَ النظامِ الصالح وصول کرتے ہیں، اور یہ باباً من أبواب الجُودِ الإلهي کھٹکھٹاتا ہے۔ وہی دو لفظ — نظام اور جود — دوبارہ۔ یہ اتفاق نہیں: باب ١ نے تدبیر کی تعریف دی تھی، یہ باب اُس کا عامل بتا رہا ہے۔

۱

تین بابوں کی ایک زنجیر

یہ باب اکیلا پڑھا جائے تو فرشتوں کے بارے میں روایات کا مجموعہ لگتا ہے۔ پچھلے دو بابوں کے ساتھ پڑھا جائے تو ایک منظم دلیل نکلتی ہے۔ اور جوڑ الفاظ کی سطح پر ہے، محض مضمون کی سطح پر نہیں — یہی بات قابلِ توجہ ہے:

نظام اور جود — دونوں لفظ باب ١ کی تعریف سے ہیں، اور یہاں ملأِ اعلیٰ کے کام کی تشریح میں دوبارہ آتے ہیں۔ اور باب ٢ کا کلیدی فعل تمثّل بھی اِس باب میں لوٹ آتا ہے، عین نبوت کے بیان میں: ويوجب تمثُّلَ علومٍ … في قلبه — علوم نبی کے دل میں متمثل ہوتے ہیں۔

پس تینوں باب ایک ہی سوال کے تین حصے ہیں: کیا، کہاں، کون۔ اور اِن سب کے بعد أسباب التكليف والمجازاة آتے ہیں — یعنی احکام و جزا۔ بنیاد پہلے، عمارت بعد میں۔ (یہ ربط جوڑنا میرا کام ہے میری، مگر جوڑ کے الفاظ متن کے ہیں۔)

۲

باب کا آغاز — قرآن سے

باب قرآن سے شروع ہوتا ہے، اور آیت میں دو کام صاف بیان ہیں:

قرآن — غافر: ٧

الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا.

ایک: يسبّحون بحمد ربهم ويؤمنون به — اپنے رب کی طرف متوجہ ہونا۔ دو: ويستغفرون للذين آمنوا — مومنوں کے لیے مغفرت مانگنا۔ آگے باب میں شاہ ولی اللہ اِن دونوں جملوں کی تشریح کریں گے، اور یہی اُن کے ہاں ملأِ اعلیٰ کی پہلی اور دوسری «شان» ہیں۔ آیت محض تبرک کے لیے نہیں لائی گئی — وہ ڈھانچہ ہے۔

اور نام کی وضاحت آگے چل کر آتی ہے، جہاں وہ گنتے ہیں کہ اُن کے اجتماعات ہوتے ہیں:

وأنَّ لهم اجتماعاتٍ، كيف شاء اللهُ، وحيث شاء اللهُ، يُعَبَّرُ عنهم باعتبارِ ذلك: الرفيقُ الأعلى، والنَّدِيُّ الأعلى، والمَلأُ الأعلى.

حاشیہ لفظی معنی دیتا ہے: النَّدِيّ: المجلس اور المَلأ: الجماعة۔ یعنی یہ نام کسی مقام کا نہیں، ایک مجلس کا ہے۔ اردو میں «ملأِ اعلیٰ» سُن کر ذہن آسمانی درجے یا جگہ کی طرف جاتا ہے؛ لفظ اصل میں جمع ہونے والوں کا ہے۔ اِسی لیے حدیث میں «في الرفيق الأعلى» اور دعا «اجعلني في النديِّ الأعلى» آئی ہے — یعنی اُس مجلس میں شامل کر دے۔

۳

امر نیچے کیسے اترتا ہے

پھر احادیث آتی ہیں۔ اِن میں سب سے زیادہ ساختی وہ ہے جس میں خبر کے سفر کا نقشہ ہے:

حدیث

إذا قضى أمراً سبَّحَ حَمَلَةُ العرشِ، ثم يُسبِّحُ أهلُ السماءِ الذين يَلُونهم، حتى يَبْلُغَ التسبيحُ أهلَ هذه السماءِ الدنيا. ثم قال الذين يَلُونَ حَمَلَةَ العرشِ لحَمَلَةِ العرشِ: ماذا قال ربُّكم؟ فيُخبِرونهم ماذا قال، فيَسْتَخْبِرُ بعضُ أهلِ السمواتِ بعضاً، حتى يَبْلُغَ الخبرُ أهلَ هذه السماءِ.

دو حرکتیں الگ الگ دیکھیے، کیونکہ یہی اِس حدیث کی خوبی ہے:

  1. تسبیح نیچے اترتی ہے — حاملینِ عرش سے شروع، پھر جو اُن سے متصل ہیں، پھر نیچے، یہاں تک کہ آسمانِ دنیا تک۔
  2. سوال اوپر جاتا ہےماذا قال ربكم؟ نیچے والے اوپر والوں سے پوچھتے ہیں۔
  3. خبر پھر نیچے آتی ہےفيخبرونهم، اور یوں ایک ایک درجے سے گزر کر خبر آسمانِ دنیا تک پہنچتی ہے۔

یعنی نظام صرف اعلانِ عام نہیں — اُس میں پوچھنا بھی ہے۔ اور دوسری روایت میں جواب کے الفاظ ہیں: الحقَّ، وهو العليُّ الكبيرُ۔

اِسی ڈھانچے کی دوسری مثال محبت کی حدیث ہے، جو نیچے لوحِ دوم میں ہے: اللہ کسی بندے سے محبت کرے تو جبریل کو بلاتا ہے، جبریل محبت کرتے ہیں، پھر آسمان میں اعلان ہوتا ہے، اہلِ آسمان محبت کرتے ہیں — اور پھر زمین میں اُس کے لیے «قبول» رکھ دیا جاتا ہے۔ اور بغض کا معاملہ بعینہٖ اِسی طرح۔ ملأِ اعلیٰ میں جو طے ہوا، وہ زمین پر ایک واقعہ بن کر ظاہر ہوتا ہے۔

۴

ملأِ اعلیٰ کس بات پر جھگڑتا ہے؟

ایک حدیث اِس باب میں ایسی ہے جو پوری کتاب کے دعوے کو ہاتھ میں پکڑا دیتی ہے۔ نبیؐ نے نماز میں اونگھ لی، اور خواب میں سوال ہوا: فيمَ يَخْتَصِمُ الملأُ الأعلى؟ — «ملأِ اعلیٰ کس چیز میں جھگڑ رہا ہے؟» جواب دیکھیے:

حدیث

قلتُ: في الكفَّاراتِ. قال: وما هُنَّ؟ قلتُ: مَشْيُ الأقدامِ إلى الجماعاتِ، والجلوسُ في المساجدِ بعد الصلواتِ، وإسباغُ الوضوءِ حينَ الكريهاتِ.

قال: ثمَّ فيمَ؟ قال: قلتُ: في الدَّرَجاتِ. قال: وما هُنَّ؟ قلتُ: إطعامُ الطعامِ، ولِينُ الكلامِ، والصلاةُ بالليلِ والناسُ نِيامٌ.

غور کیجیے کہ اعلیٰ ترین مجلس کا موضوعِ بحث کیا نکلا: جماعت کی طرف قدم چل کر جانا۔ نماز کے بعد مسجد میں بیٹھے رہنا۔ وضو پورا کرنا — اور وہ بھی حينَ الكريهاتِ، جب طبیعت پر گراں ہو۔ کھانا کھلانا۔ نرم بات کرنا۔ رات کو نماز جب لوگ سو رہے ہوں۔

یہ فہرست مابعدالطبیعات کی نہیں — شریعت کی ہے۔ اور یہی شاہ ولی اللہ کا نکتہ ہے۔ اگر ملأِ اعلیٰ کا کام ہی كفارات اور درجات کی قدر و قیمت طے کرنا ہے، تو احکامِ شریعت آسمانی نظام سے الگ کوئی زمینی ضابطہ نہیں — وہ اُسی مجلس کا مضمون ہیں۔ اِسی لیے آگے وہ صاف کہہ دیتے ہیں: وأنَّ هنالك تَتَقَرَّرُ الشرائعُ بوجهٍ من الوجوهِ — شریعتیں وہیں قرار پاتی ہیں، ایک نہ ایک طرح سے۔
۵

سات باتیں جو «شرع سے مستفاض» ہیں

احادیث گنوانے کے بعد وہ ایک منظم فہرست دیتے ہیں: اعلمْ أنه قد استفاضَ من الشرعِ — «جان لو کہ شرع سے یہ باتیں مستفاض (کثرت سے ثابت) ہیں»۔ سات نکات:

  1. دعا اور لعنت خود ایک سبب ہیں۔ اللہ کے وہ بندے جو أفاضل الملائكة ومُقرَّبو الحضرة ہیں، اُس کے لیے دعا کرتے ہیں جو اپنے نفس کی اصلاح و تہذیب کرے اور لوگوں کی اصلاح میں کوشش کرے — اور وہی دعا اُس کے خیر کا سبب بن جاتی ہے؛ اور جو اللہ کی نافرمانی کرے اور فساد میں کوشاں ہو، اُس پر لعنت کرتے ہیں، اور وہ لعنت اُس کے نقصان کا سبب بنتی ہے۔
  2. سُفَراء بين الله وبين عباده — وہ اللہ اور بندوں کے درمیان سفیر ہیں۔ (حاشیہ: سفراء: جمع السفير، وهو الرسول۔)
  3. الہام — مگر بطورِ سبب۔ یہ نکتہ اُن کی احتیاط کا نمونہ ہے: وأنهم يُلهِمون في قلوب بني آدم خيراً؛ أي يكونون أسباباً لحدوث خواطرِ الخيرِ فيهم، بوجهٍ من وجوهِ السببيةِ۔ یعنی وہ خیال پیدا کرنے والے فاعلِ مستقل نہیں — «سببیت کی وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے» سبب ہیں۔
  4. اُن کے اجتماعات ہوتے ہیں — اور اِسی سے تینوں نام (دیکھیے حصہ ۲)۔
  5. مجلس بند نہیں۔ وأنَّ لأرواحِ أفاضلِ الآدميين دخولاً فيهم ولُحوقاً بهم — بہترین انسانوں کی روحیں اُن میں داخل ہوتی اور اُن سے مل جاتی ہیں۔ دلیل میں قرآن (النفس المطمئنة والی آیت) اور حدیث: رأيتُ جعفرَ بن أبي طالبٍ مَلَكاً يطيرُ في الجنةِ مع الملائكةِ۔
  6. وأنَّ هنالك ينزلُ القضاءُ — قضا وہیں اترتی ہے، اور وہ امر متعین ہوتا ہے جس کی طرف اشارہ ہے: فيها يُفْرَقُ كلُّ أمرٍ حكيمٍ (الدخان: ٤ — یعنی شبِ قدر میں)۔
  7. وأنَّ هنالك تَتَقَرَّرُ الشرائعُ بوجهٍ من الوجوهِ — شریعتیں وہیں قرار پاتی ہیں۔ یہ جملہ اِس پورے مبحث کا محور ہے۔

اِس کے بعد متن ایک تقسیم دیتا ہے: اعلمْ أنَّ الملأَ الأعلى ثلاثةُ أقسامٍ — ملأِ اعلیٰ کے تین قسم ہیں۔

دوسرے نسخے سے

قسمٌ عَلِمَ الحقُّ أنَّ نظامَ الخيرِ يَتَوَقَّفُ عليهم، فخَلَقَ أجساماً نوريةً بمنزلةِ نارِ موسى، فنَفَخَ فيها نفوساً كريمةً.

وقسمٌ اتَّفقَ حُدوثُ مِزاجٍ في البُخاراتِ اللطيفةِ من العناصرِ، استوجبَ فيضانَ نفوسٍ شاهقةٍ شديدةِ الرفضِ للألواثِ البهيميةِ.

وقسمٌ هم نفوسٌ إنسانيةٌ قريبةُ المأخذِ من الملأِ الأعلى، ما زالت تَعْمَلُ أعمالاً مُنْجِيةً تُفيدُ اللُّحوقَ بهم، حتى طَرَحَتْ عنهم جلابيبَ أبدانِها، فانْسَلَكَتْ في سِلْكِهم وعُدَّتْ منهم.

تینوں کو الگ کر لیجیے، کیونکہ یہ تین راستے ہیں ایک ہی مجلس تک پہنچنے کے:

تیسرے قسم کی تصویر پر رُکیے: طَرَحَتْ عنهم جلابيبَ أبدانِها — بدن ایک جلباب (چادر) ہے جو اُتار دی جاتی ہے۔ اور پالن پوری صاحب کا حاشیہ بھی اِسی لفظ کی تشریح کرتا ہے (حين يتخفَّف یعنی جب مرتا ہے اور روح بدن سے جدا ہوتی ہے) — یعنی اُن کے نسخے میں بھی یہی مضمون ہے۔

ایک ضروری وضاحت: یہ تین اقسام والی عبارت پالن پوری صاحب کے اسکین میں OCR سے ناقابلِ قراءت تھی، اِس لیے اوپر کے الفاظ ایک دوسرے مطبوعہ نسخے (شاملہ) سے لیے گئے ہیں۔ اور یہ احتیاط بےوجہ نہیں: نسخوں میں حقیقی لفظی اختلافات ملتے ہیں — مثلاً أن الله تعالى بمقابلہ أن لله تعالى، أحدها بمقابلہ إحداها، اور اِسی تیسرے قسم میں فانْسَلَكَتْ بمقابلہ فشُكَّتْ (اسکین کا وہ ٹکڑا پڑھا جا سکا تھا)۔ مضمون ایک ہے؛ عبارت بعینہٖ وہی ہو — یہ ضمانت نہیں۔ اِن تین سطروں کو مطبوعہ نسخے سے ملا لیجیے۔

لوحِ اوّل · Plate I

درجے — حظیرۃ القدس سے شیاطین تک

حَظِيرةُ القُدُستجتمعُ أنوارُهم فتصيرُ كشيءٍ واحدٍوہیں «عزم» ہوتا ہے — اور نبوت ظاہر ہوتی ہےالمَلأُ الأعلىيُسبِّحون بحمدِ ربهم ويؤمنون بهيتلقَّون استحسانَ النظامِ الصالحفيَقرَعُ باباً من أبوابِ الجُودسُفَراءُ بين اللهِ وعبادِههنالك ينزلُ القضاءُهنالك تتقرَّرُ الشرائعُدعاؤهم ولعنتُهم — سببٌأرواحُ أفاضلِ الآدميينلها دخولٌ ولحوقٌ بهممجلس بند نہیںالمَلأُ السافِلكمالُهم: أن تكونَ فارغةًلانتظارِ الأمرِمچھلی، لشکر، اجسام — سب اِنہی کے ذریعےالشَّياطينوبإزاءِ أولئك آخروننفوسٌ ظُلمانيةيسعون في الأضدادعالَمُ الشهادةِ — بنو آدمقلوب، ارادے، اجسام، حوادثامر اوپر سے نیچے — مگر ہر درجہ ایک واسطہ، نہ کہ خود مختار فاعل

شیاطین کا خانہ ٹوٹے کنارے کا ہے کیونکہ متن اُنہیں بإزاء أولئك — «اُن کے بالمقابل» — کہتا ہے، یعنی متوازی، نہ کہ سلسلے کی ایک کڑی۔

۶

حظیرۃ القدس — اور نبوت کی توضیح

باب کا بلند ترین مقام یہ ہے۔ پہلے ایک وحدت بنتی ہے:

وأفاضلُهم تجتمعُ أنوارُهم … فتصيرُ هنالك كشيءٍ واحدٍ، وتُسمَّى: حَظِيرةَ القُدُسِ.

یعنی افاضل کے انوار جمع ہو کر «گویا ایک چیز» بن جاتے ہیں۔ کثرت وہاں وحدت میں بدل جاتی ہے۔ اور اِس وحدت کا نام حظیرۃ القدس ہے۔ (اِس ضمن میں الروح کا ذکر ہے اور وہ روایت جس میں بہت سے چہرے اور زبانیں بیان ہوئی ہیں — مگر حاشیے میں خود ہی صراحت ہے کہ یہ روایت حضرت علیؓ سے صحیح ثابت نہیں، اور امام رازیؒ نے اِس پر نقد کیا ہے۔ اِس لیے اُسے دلیل کے طور پر نہ لیجیے۔)

اور اب وہ عبارت جو پوری کتاب کے لیے کلید ہے:

ورُبَّما حصلَ في حظيرةِ القدسِ إجماعٌ على إقامةِ حِيلةٍ لنجاةِ بني آدمَ من الدواهي المَعاشيةِ والمَعاديةِ، بتكميلِ أزكى خَلْقِ اللهِ يومَئذٍ … فيُوجِبُ ذلك إلهاماتٍ في قلوبِ المُستعِدِّينَ من الناسِ أن يَتَّبِعُوه، ويكونوا خيرَ أُمَّةٍ أُخرِجَتْ للناسِ، ويُوجِبُ تَمَثُّلَ علومٍ — فيها صلاحُ القومِ وهُداهم — في قلبِه.

ترجمہ کے قابلِ توجہ الفاظ:

پس نبوت یہاں ملأِ اعلیٰ کی تدبیر کا ایک فعل بن کر سامنے آتی ہے — اور یاد کیجیے کہ باب ١ میں تدبیر کی چوتھی مثال بھی نبی کا بھیجا جانا ہی تھی۔ دو مختلف بابوں میں، دو مختلف رخوں سے، ایک ہی بات۔ اور اُس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اِن کا مسلسل اجماع بتأييدِ روحِ القُدُس ہوتا ہے، اور یہ أصلٌ من أصولِ نبوت ہے۔

اور معجزہ بھی اِسی درجے پر رکھا جاتا ہے: وتَتَجَدَّدُ هنالك بركاتٌ لم تُعْهَدْ في العادةِ، فتُسمَّى بالمعجزاتِ — «وہاں ایسی برکتیں نئی پیدا ہوتی ہیں جو عادت میں معہود نہیں، اور اُنہیں معجزات کہا جاتا ہے۔» باب ٢ کا خرق العادة یہاں اپنا مقام پا لیتا ہے: معجزہ بےقاعدہ واقعہ نہیں، ایک اونچے قاعدے کا اثر ہے۔

لوحِ دوم · Plate II

ایک محبت زمین تک کیسے پہنچتی ہے

آخری کڑی پر رُکیے: زمین پر «قبول» رکھ دیا جاتا ہے۔ یعنی جو ملأِ اعلیٰ میں طے ہوا، وہ ہمارے ہاں ایک قابلِ مشاہدہ حقیقت بن کر ظاہر ہوتا ہے — لوگوں کے دلوں کا کسی کی طرف مائل ہو جانا۔ اور متن کہتا ہے کہ بغض کا معاملہ بھی بعینہٖ اِسی طرح ہے۔

یہی ڈھانچہ تسبیح و خبر کی حدیث میں بھی ہے (حصہ ۳) — فرق یہ کہ وہاں ایک سوال اوپر بھی جاتا ہے۔

۷

نیچے کا درجہ — مچھلی، جال اور دو لشکر

باب کا آخری حصہ ملأِ اعلیٰ سے نیچے کے درجے کا ہے — حاشیہ اُنہیں الملأ السافل کہتا ہے۔ اُن کی سعادت پہلوں کے درجے تک نہیں پہنچی؛ چنانچہ اُن کا کمال یہ قرار پایا کہ تكونَ فارغةً لانتظارِ الأمرِ — خالی رہیں، امر کے انتظار میں۔ اور جب کچھ ترشح ہو، وہ اُس کی طرف لپکتے ہیں جیسے پرندے اور جانور طبعی داعیوں سے۔

اور یہاں شاہ ولی اللہ ایک باریک قید لگاتے ہیں جو حاشیے میں کھلتی ہے: وہ طبعی اشیاء میں في تضاعيفِ حركاتِها اثر ڈالتے ہیں — یعنی چیزوں کی ذات میں نہیں، اُن کی حرکتوں کے شکنوں میں۔ پھر تین مثالیں آتی ہیں، اور یہ تینوں بہت ٹھوس ہیں:

ورُبَّما ألقى الصيَّادُ شَبَكةً في النهرِ، فجاءت أفواجٌ من الملائكةِ، تُلْهِمُ في قلبِ هذه السمكةِ أن … وهذه أن تَهْرُبَ، وتَقْبِضَ حَبْلاً، وتَبْسُطَ أخرى — وهي لا تَعْلَمُ لِمَ تَفْعَلُ ذلك؟ ولكن تَتْبَعُ ما أُلْهِمَتْ.

ایک ماہی گیر دریا میں جال ڈالتا ہے۔ فرشتوں کے فوج در فوج آتے ہیں: ایک مچھلی کے دل میں یہ، دوسری کے دل میں بھاگنا؛ ایک رسّی سمٹتی ہے، دوسری پھیلتی ہے۔ اور وہ نہیں جانتیں کہ ایسا کیوں کر رہی ہیں — بس اُس کی پیروی کرتی ہیں جو اُن کے دل میں ڈالا گیا۔

دوسری مثال: دو لشکر لڑتے ہیں۔ فرشتے ایک طرف کے دلوں میں شجاعت اور ثبات سجاتے ہیں — بأحاديثَ وخيالاتٍ يقتضيها المقامُ، یعنی موقع کے مناسب باتوں اور خیالوں کے ذریعے — اور غلبے کی تدبیریں الہام کرتے ہیں، اور تیر اندازی وغیرہ میں مدد دیتے ہیں؛ اور دوسری طرف کے دلوں میں اِن کے برعکس اوصاف — ليَقْضِيَ اللهُ أمراً كان مفعولاً۔

اور اِن سب کے بالمقابل: وبإزاءِ أولئك آخرون … نفوسٌ ظُلمانيةٌ، هم الشياطينُ، لا يزالون يَسْعَون في الأضدادِ — اُن کے مقابل دوسرے ہیں، تاریک نفوس، وہی شیاطین، جو ہمیشہ اُلٹی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

مچھلی کی مثال پر ایک لمحہ رُکیے، کیونکہ اِس میں پورا نظام سمٹا ہوا ہے۔ ہم جو دیکھتے ہیں وہ محض «مچھلی جال سے بچ گئی» ہے — ایک طبعی واقعہ، جس کی طبعی وضاحت موجود ہے۔ متن اُس وضاحت کو باطل نہیں کرتا؛ وہ اُس کے اندر ایک اور سطح دکھاتا ہے۔ اور فاعل کو اپنے فاعل ہونے کا علم بھی نہیں: لا تعلم لِمَ تفعل ذلك۔ یہی باب ١ کا مضمون ہے — تدبیر اسباب کے ذریعے، اسباب کو معطل کر کے نہیں۔
۸

اجزاء اور اُن کا کام

اصطلاح — متن کے الفاظ — کردار
اصطلاحمتن کے الفاظنظام میں کردار
الملأ الأعلى لهم اجتماعات … الرفيق الأعلى، النديّ الأعلى، الملأ الأعلى تدبیر کا اعلیٰ واسطہ — نام ہی «جماعت» سے ہے
سُفَراء سفراء بين الله وبين عباده اوپر اور نیچے کے درمیان پیغام رسانی
الإلهام أسباباً لحدوث خواطر الخير … بوجهٍ من وجوه السببية خیرِ خیال کا سبب — مگر بطورِ سبب، نہ کہ فاعلِ مستقل
حظيرة القدس تجتمع أنوارهم فتصير كشيءٍ واحد افاضل کے انوار کی وحدت — نبوت اور معجزے کا مقام
الإجماع (= عزم) إجماعٌ على إقامة حيلةٍ لنجاة بني آدم نبوت کی توضیح — «اُس وقت کی پاکیزہ ترین مخلوق کو کامل کرنا»
المعجزات بركاتٌ لم تُعهد في العادة باب ٢ کے خرق العادة کا مقام
الملأ السافل كمالهم أن تكون فارغةً لانتظار الأمر عالمِ شہادت میں عمل درآمد — حرکتوں کے شکنوں میں
الشياطين وبإزاء أولئك … نفوسٌ ظلمانية متوازی، مخالف کوشش — سلسلے کی کڑی نہیں

۹

یہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«ملأِ اعلیٰ کوئی جگہ یا آسمانی منزل ہے۔» — لفظ کا معنی حاشیے میں صاف ہے: المَلأ: الجماعة، النَّدِيّ: المجلس۔ یہ جمع ہونے والوں کا نام ہے، مقام کا نہیں — اور تینوں نام اِسی «اجتماعات» کے اعتبار سے ہیں۔

عام غلط فہمی

«واسطوں کا ماننا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔» — متن نے خود احتیاط کر دی: فرشتے أسباباً … بوجهٍ من وجوه السببية ہیں۔ یعنی وہ سبب ہیں، ایک خاص وجہِ سببیت سے — خود مختار فاعل نہیں۔ اور اُن کی دعا بھی «سبب» ہی بنتی ہے، ذاتی اثر نہیں رکھتی۔

باریک نکتہ

إجماع کو فقہی اجماع نہ سمجھیے۔ حاشیہ اِس کا معنی عزم دیتا ہے — پکا ارادہ۔ اِسی طرح حيلة کو اردو کے «حیلہ بہانہ» پر نہ رکھیے؛ یہاں مراد تدبیر و انتظام ہے۔ دونوں لفظوں کا اردو مفہوم متن کے مفہوم سے مختلف ہے۔

باریک نکتہ

شیاطین سلسلے کی کڑی نہیں۔ متن کا لفظ بإزاء أولئك ہے — «اُن کے بالمقابل»۔ یعنی وہ نیچے کا درجہ نہیں، ایک متوازی کوشش ہیں۔ اِنہیں تنزلی سلسلے کا آخری قدم بنا دینا متن کے خلاف ہے۔

باریک نکتہ

طبعی اسباب باطل نہیں ہوتے۔ فرشتوں کا اثر في تضاعيفِ حركاتِها ہے — حرکتوں کے شکنوں میں، اشیاء کی ذات میں نہیں (حاشیہ اِسی کی صراحت کرتا ہے)۔ مچھلی طبعی طور پر بھاگتی ہے اور ملہَم ہے؛ دو وضاحتیں ایک دوسرے کی جگہ نہیں لیتیں۔

سیاق — سند کی بات

ہر روایت برابر نہیں۔ الروح کے ستّر ہزار چہروں والی روایت پر خود حاشیے میں نقد ہے: حضرت علیؓ سے صحیح ثابت نہیں، اور امام رازیؒ نے اِس پر کلام کیا ہے۔ باب میں اِس کا ذکر ہے، مگر اُسے بنیاد نہ بنائیے — یہ فرق محقق نے خود واضح کیا ہے۔


۱۰

مزید گہرائی

یہ سوالات کھلے ہیں

  • سب سے پہلے: الملأ الأعلى ثلاثة أقسام کا پہلا قسم — اسکین میں پڑھا نہیں جا سکا۔ مطبوعہ نسخے سے دیکھیے، کیونکہ تین قسموں کی تقسیم اِسی پر مکمل ہوتی ہے۔
  • تتقرر الشرائع بوجهٍ من الوجوه — «ایک نہ ایک طرح سے» کی قید کیا معنی رکھتی ہے؟ شریعت کا وہاں قرار پانا کس درجے کا ہے؟ یہ عبارت مختصر ہے مگر کتاب کے پورے دعوے کی جڑ ہے۔
  • حظیرۃ القدس اور ملأِ اعلیٰ میں فرق کیا ہے — درجہ، یا وہی جماعت اپنی وحدت کے اعتبار سے؟ متن أفاضلهم کہتا ہے، جو دوسری بات کی طرف اشارہ ہے، مگر صراحت نہیں۔
  • ملأِ اعلیٰ اور عالمِ مثال (باب ٢) کا باہمی تعلق کیا ہے؟ کیا ملأِ اعلیٰ اُسی عالَم میں ہے، یا اُس سے اوپر؟ (بنوریؒ کا حاشیہ باب ٢ میں عالمِ ارواح کو الگ درجہ بتاتا ہے۔)
  • بوجهٍ من وجوه السببية — سببیت کی کون سی وجہ؟ متن «علم المعاني کی کتابوں» کی طرف اشارہ کرتا ہے (حاشیہ)، مگر تعین نہیں کرتا۔
بنیادی نسخہ

حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري۔ اوپر کی تمام عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں — باب ٣، مبحثِ اوّل۔

اردو شرح

رحمۃ اللہ الواسعہ — اِس باب پر بطورِ خاص، کیونکہ ملأِ اعلیٰ شاہ ولی اللہ کا سب سے مخصوص تصور ہے اور شرح میں اِس پر تفصیل متوقع ہے۔ ناقابلِ قراءت پہلا قسم بھی وہیں سے مل جائے گا۔

متن میں تلاش

الملأ الأعلى اور حظيرة القدس پوری کتاب میں بار بار آتے ہیں — یہ باب صرف تعارف ہے۔ لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں (صفحہ نمبر مختلف ہوں گے)۔

کی بورڈ: پچھلا باب  ·  اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن