حجة الله البالغة - شاہ ولی اللہ دہلویEnglishمآخذ ▸فہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ١١

اعمال کا نفس سے چمٹنا

باب لصوق الأعمال بالنفس وإحصائها عليها
چار حرکتیں - اِنبعاث، عود، تشبّث، اِحصاء

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغة - شاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ١١ - لصوق الأعمال بالنفس وإحصائها عليها
مقام
القسم الأول - المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پچھلے ابواب
باب ٨ ← باب ٩ ← باب ١٠
اگلا باب
باب ١٢ - ارتباط الأعمال بالهيئات النفسانية
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري - دار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

ربط: باب ٨ نے کہا تھا کہ تکلیف جزا کا تقاضا کرتی ہے، اور باب ١٠ نے بتایا تھا کہ عمل کی تحریک کہاں سے آتی ہے۔ یہ باب بیچ کی کڑی ڈالتا ہے: عمل ہو چکنے کے بعد جاتا کہاں ہے؟ اور جواب یہ ہے کہ وہ کہیں نہیں جاتا - وہ نفس ہی میں رہ جاتا ہے۔

خلاصۂ باب
  1. بنیاد نقل سے: ﴿وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ﴾؛ اور حدیثِ قدسی إنما هي أعمالُكم أُحصيها عليكم؛ اور النفسُ تتمنّى وتشتهي، والفرجُ يصدّقُ ذلك ويكذّبُه۔
  2. دعویٰ ایک جملے میں، اور چار فعلوں کے ساتھ: پختہ ارادے سے کیے گئے اعمال اور راسخ اخلاق تنبعثُ من أصلِ النفسِ الناطقةِ، ثم تعودُ إليها، ثم تتشبّثُ بذيلِها، وتُحصَى عليها۔ باقی پورا باب اِنہی چار کی تفصیل ہے، اِسی ترتیب سے۔
  3. اِنبعاث: باب ١٠ کے سارے اسباب لا تكونُ إلا حسبَ ما تعطيه الجِبِلّةُ - سو مرجع بہرحال نفس کی جڑ ہے، بوسطٍ أو بغيرِ وسطٍ۔ اور دلیل میں دو استدلالی مثالیں: عارف اور طبیب، دونوں مزاج سے مستقبل کا حکم لگاتے ہیں۔
  4. عود: عمل بار بار ہو تو اعتادتْه النفسُ، وسهُلَ صدورُه منها، اور نفس قبِلَت لونَه - رنگ قبول کر لیتا ہے۔ اور ہر ایک عمل کا اِس تاثر میں حصہ ہے، وإن دقَّ وخفيَ مكانُه۔ اِسی پر چٹائی والی حدیث ہے۔
  5. تشبّث: نفس ابتدا میں هيولانية ہے - بالکل خالی؛ پھر روز بروز قوّت سے فعل کی طرف نکلتا ہے۔ اور ہر بعد والی حالت کے لیے پہلے سے ایک مُعِدّ ہے، اور معدّات کا سلسلہ مرتب ہے - سو آج کی ہیئت میں ہر پچھلے معدّ کا حکم ساتھ چل رہا ہے۔
  6. اِحصاء - اور یہاں لہجہ بدل جاتا ہے: فسِرُّه على ما وجدتُه بالذوقِ۔ حیّزِ شاہق میں ہر انسان کی ایک صورت ہے؛ عمل سے وہ صورت کھلتی ہے، بلا اختيارٍ منه۔ اِسی لیے آخرت میں کبھی اعمال اوپر سے گنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں (صحیفوں کا پڑھنا)، اور کبھی اعضا ہی میں چمٹے ہوئے (ہاتھ پاؤں کا بولنا)۔

اصل نکتہ: «حساب» اِس باب میں کوئی بیرونی رجسٹر نہیں۔ عمل خود اپنا ریکارڈ ہے، اور وہ ریکارڈ نفس ہی میں رکھا جاتا ہے - مستصحِبٌ في هيئةِ النفسِ الموجودةِ اليومَ حكمُ كلِّ مُعِدٍّ قبلَها۔ م: طائرَه في عنقِه - گردن میں، نہ کہ ہاتھ میں؛ ساتھ لگا ہوا، نہ کہ تھمایا ہوا۔ پھر بھی دروازہ بند نہیں: متن خود دو استثنا رکھتا ہے - قوّت کا فنا ہو جانا، اور اوپر سے ایک ہیئت کا آ کر نظام بدل دینا۔


۱

بنیاد: ایک آیت اور دو حدیثیں

باب بغیر تمہید کے نقل سے شروع ہوتا ہے، اور آیت ہی میں پورا مضمون موجود ہے:

قرآن - الإسراء: ١٣-١٤

﴿وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا ۝ اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا﴾

دو لفظ باب کا عنوان بن گئے ہیں: ألزمناهُ … في عنقِه سے لصوق (چمٹنا)، اور كتاباً … حسيباً سے إحصاء (گنتی)۔ اور آخری جملہ سب سے زیادہ وزن رکھتا ہے: كفى بنفسِكَ اليومَ عليكَ حسيباً - حساب لینے والا کوئی اور نہیں، خود تمہارا نفس کافی ہے۔

حدیث قدسی

إنما هي أعمالُكم أُحصيها عليكم، ثم أُوفّيكم إياها، فمن وجدَ خيراً فليحمدِ اللهَ، ومن وجدَ غيرَ ذلك فلا يلومنَّ إلا نفسَه.

حاشیہ

رواه مسلمٌ (مشكاة حديث ٢٣٢٧، بابُ الاستغفارِ، كتابُ الدعواتِ).

لفظ وجدَ غور طلب ہے: «پائے گا»، نہ کہ «دیا جائے گا»۔ اور أوفّيكم إياها - وہی اعمال پورے کر کے دیے جائیں گے، اُن کے بدلے کوئی اور چیز نہیں۔

حدیث

النفسُ تتمنّى وتشتهي، والفرجُ يصدّقُ ذلك ويكذّبُه.

تیسری حدیث پہلی نظر میں یہاں کی نہیں لگتی۔ مگر وہ ٹھیک اُس جگہ ہاتھ رکھتی ہے جہاں یہ باب کھڑا ہے: نفس میں تمنا اور شہوت ہے، اور عضو اُس کی تصدیق بھی کرتا ہے اور تکذیب بھی۔ یعنی باطن اور عمل کے درمیان ایک رشتہ ہے، اور وہ رشتہ دو طرفہ ہے۔ م - انبعاث (نفس سے عمل کی طرف) اور عود (عمل سے نفس کی طرف) - اور حدیث دونوں کو ایک جملے میں رکھ دیتی ہے۔ متن اِسی حدیث کو باب ١٢ میں دوبارہ لاتا ہے۔

۲

دعویٰ: ایک جملہ، چار فعل

اور اب باب کا مرکزی جملہ، جو اپنی پوری ترتیب خود بتا دیتا ہے:

اعلمْ أن الأعمالَ التي يقصدُها الإنسانُ قصداً مؤكداً، والأخلاقَ التي هي راسخةٌ فيه - تنبعثُ من أصلِ النفسِ الناطقةِ، ثم تعودُ إليها، ثم تتشبّثُ بذيلِها، وتُحصَى عليها.

پہلے موضوع کی قید دیکھیے، جو جملے کے شروع ہی میں ہے: يقصدُها الإنسانُ قصداً مؤكداً اور راسخةٌ فيه۔ یعنی بات ہر اُس حرکت کی نہیں جو آدمی سے سرزد ہو جائے، بلکہ پختہ ارادے کے عمل اور جمے ہوئے اخلاق کی ہے۔

پھر چار فعل، اور یہی باب کے چار حصے ہیں: تنبعثُ ← تعودُ ← تتشبّثُ ← تُحصَى۔ متن آگے اِن چاروں کو أما … وأما … وأما … وأما سے ایک ایک کر کے کھولتا ہے، بالکل اِسی ترتیب سے۔

لوحِ اوّل

عمل کا سفر: جڑ سے نکل کر جڑ تک

﴿وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ﴾ - گردن میں بندھا ہوا، ہاتھ میں تھمایا ہوا نہیں۔ اور حساب لینے والا بھی باہر سے نہیں آتا: كفى بنفسِكَ اليومَ عليكَ حسيباً۔

چاروں مرحلے اور اُن کی ترتیب متن کے اپنے جملے سے ہے؛ نیچے کی اردو سطریں میری ہیں۔ غور کیجیے کہ سلسلہ آگے نہیں جاتا - وہ وہیں لوٹتا ہے جہاں سے چلا تھا۔


۳

پہلی حرکت: اِنبعاث - عمل جڑ ہی سے اُٹھتا ہے

پہلی حرکت کی دلیل پورے پچھلے باب کو سمیٹ کر ایک نتیجے پر لے آتی ہے:

فلمّا عرفتَ أن للملكيةِ والبهيميةِ واجتماعِهما أقساماً، ولكلِّ قسمٍ حكماً، وغلبةَ المزاجِ الطبيعيِّ، والانصباغَ من الملائكةِ والشياطينِ، ونحوَ ذلك من الأسبابِ - لا تكونُ إلا حسبَ ما تعطيه الجِبِلّةُ، وتحصلُ فيه المناسبةُ، فلذلك كان المرجعُ إلى أصلِ النفسِ، بوسطٍ أو بغيرِ وسطٍ.

فہرست پہچانی ہوئی ہے: باب ٩ کی آٹھ اقسام، اور باب ١٠ کے مزاج اور انصباغ۔ پالن پوری صاحب حاشیے میں یہ ربط صاف لکھ دیتے ہیں - من الأسبابِ: أي أسبابِ الخواطرِ كما تقدَّم في البابِ العاشرِ۔ اور دلیل کی شکل یہ ہے: وہ سارے اسباب بھی اُتنا ہی کام کرتے ہیں جتنا جبلّت اجازت دے، اور جہاں المناسبة پائی جائے۔ سو مرجع بہرحال وہی رہا۔

اور آخری دو لفظ پورے مسئلے کو کھول دیتے ہیں۔ حاشیہ اُن کی تشریح یوں کرتا ہے:

حاشیہ

بوسَطٍ: أي إن نُظِرَ إلى الأسبابِ، وبغيرِ وسَطٍ: أي إن نُظِرَ إلى الجِبِلّةِ فحسبُ. (سندي)

یہ قید باب کو جبر سے بچا لیتی ہے، اور اُسی طرح جیسے باب ٩ میں «کسب» نے بچایا تھا۔ متن یہ نہیں کہہ رہا کہ اسباب بے اثر ہیں؛ وہ کہہ رہا ہے کہ اسباب کا سلسلہ جہاں بھی ختم ہو، وہ جڑ ہی پر ختم ہوتا ہے۔ م: درمیانی کڑیوں کو دیکھیے تو «بواسطہ»، اور سلسلہ چھوڑ کر صرف جڑ دیکھیے تو «بلا واسطہ»۔ دونوں بیان ایک ہی حقیقت کے ہیں۔

اور اب دو مثالیں، اور دونوں ایک ہی قسم کی ہیں - دونوں میں کوئی مزاج دیکھ کر مستقبل کا حکم لگا رہا ہے:

ألستَ ترى المخنَّثَ يُخلَقُ في أولِ عمرِه على مزاجٍ ركيكٍ، فيستدلُّ به العارفُ على أنه إن شبَّ على مزاجِه وجبَ أن يعتادَ بعاداتِ النساءِ، ويتزيّا بزيِّهنَّ، وينتحلَ رسومَهنَّ.

وكذلك يُدرِكُ الطبيبُ أن الطفلَ إن شبَّ على مزاجِه، ولم يفجأْه عارضٌ، كان قويّاً فارهاً، أو ضعيفاً ضارعاً.

دونوں مثالوں میں اصل بات «استدلال» ہے، نہ کہ کوئی حکم۔ پہلی میں فاعل العارف ہے اور فعل يستدلُّ؛ دوسری میں فاعل الطبيب ہے اور فعل يُدرِكُ۔ دونوں ایک ابتدائی مزاج سے آگے کا اندازہ لگاتے ہیں، اور دونوں میں وہی شرط بھی ہے - إن شبَّ على مزاجِه، اور دوسری میں تو کھل کر ولم يفجأْه عارضٌ۔ م، اور دلیل طبیب والی مثال سے بھی اُتنی ہی مکمل ہو جاتی ہے۔ یہ فقہی یا اخلاقی فیصلہ نہیں، اور نہ باب کا دعویٰ اِس پر کھڑا ہے۔

۴

دوسری حرکت: عود - عمل لوٹ کر رنگ چڑھا دیتا ہے

وأما العودُ إليه: فلأن الإنسانَ إذا عملَ عملاً فأكثرَ منه، اعتادتْه النفسُ، وسهُلَ صدورُه منها، ولم يحتجْ إلى رَويّةٍ وتجشُّمِ داعيةٍ، فلا جرمَ أن النفسَ تأثّرت منه، وقبِلَت لونَه.

علامت یہ نہیں کہ عمل ہو رہا ہے؛ علامت یہ ہے کہ عمل آسان ہو گیا۔ رَويّة (سوچ بچار) اور تجشُّمِ داعيةٍ (داعیہ پیدا کرنے کی مشقت) - جب یہ دونوں ساقط ہو جائیں تو سمجھ لیجیے کہ نفس رنگ لے چکا۔ حاشیہ رَويّة کی تعریف بھی دے دیتا ہے: النظرُ والتفكيرُ في الأمورِ، وهي خلافُ البديهةِ۔

اور پھر وہ جملہ جو اِس باب کو اخلاقی طور پر سنجیدہ بنا دیتا ہے:

ولا جرمَ أن لكلِّ عملٍ من تلك الأعمالِ المتجانسةِ مدخلاً في ذلك التأثُّرِ، وإن دقَّ وخفيَ مكانُه.

«ہر ایک» - یہی لفظ وزن اُٹھا رہا ہے۔ رنگ ایک ہی بار میں نہیں چڑھتا؛ ہم جنس اعمال میں سے ہر ایک کا اُس میں حصہ ہے، وإن دقَّ وخفيَ مكانُه - خواہ وہ حصہ کتنا ہی باریک ہو اور اُس کی جگہ کتنی ہی پوشیدہ۔ م جہاں سندی صاحب نے خیال کو بارش کے قطروں سے تشبیہ دی تھی: قطرے جمع ہو کر ارادہ بنتے ہیں، اور ارادے جمع ہو کر رنگ۔

اور اِسی پر متن ایک حدیث لاتا ہے جو اِس تدریج کو تصویر بنا دیتی ہے:

حدیث

تُعرَضُ الفتنُ على القلوبِ كالحصيرِ عوداً عوداً، فأيُّ قلبٍ أُشرِبَها نُكِتَت فيه نكتةٌ سوداءُ، وأيُّ قلبٍ أنكرَها نُكِتَت فيه نكتةٌ بيضاءُ، حتى تصيرَ على قلبينِ: أبيضَ مثلِ الصَّفا، فلا تضرُّه فتنةٌ ما دامتِ السمواتُ والأرضُ؛ والآخَرُ أسودُ مُربادّاً كالكوزِ مُجَخِّياً، لا يعرفُ معروفاً ولا يُنكِرُ منكراً إلا ما أُشرِبَ من هواهُ.

تشبیہ کی باریکی حاشیے سے کھلتی ہے۔ عوداً عوداً کی دو قراءتیں ہیں: چٹائی کی تیلیاں ایک ایک کر کے، یا «بار بار»۔ اور مُجَخِّياً پر حاشیہ وہ بات کہہ دیتا ہے جو پوری حدیث کو کھول دیتی ہے:

حاشیہ

مُجَخِّياً: اسمُ مفعولٍ، أي معكوساً … كما لا يستقرُّ الماءُ في الكوزِ المائلِ، كذلك القلبُ لا يَعي خيراً.

دونوں تشبیہیں ایک ہی بات کہہ رہی ہیں، مگر الٹی سمتوں سے۔ چٹائی بُنی جاتی ہے - ایک ایک تیلی، اور آخر میں ایک پورا کپڑا۔ اور اُلٹا کوزہ نہیں بھرتا - پانی آتا رہے، ٹھہرتا کچھ نہیں۔ م: عود (ہر تیلی کا جُڑنا) اور تشبّث (جمی ہوئی ہیئت کا باقی رہنا، یہاں تک کہ وہ نئی چیز کو قبول ہی نہ کرے)۔

۵

تیسری حرکت: تشبّث - معدّات کا سلسلہ، اور دو استثنا

تیسری حرکت پچھلی سے باریک تر ہے۔ عود میں عمل نفس پر رنگ چڑھاتا ہے؛ تشبّث میں وہ رنگ آگے چلتا ہے۔ اور دلیل خالی نفس سے شروع ہوتی ہے:

وأما التشبُّثُ بذيلِها: فلأن النفسَ في أولِ أمرِها تُخلَقُ هيولانيةً فارغةً عن جميعِ ما تنصبغُ به، ثم لا تزالُ تخرجُ من القوّةِ إلى الفعلِ يوماً فيوماً.

حاشیہ

الهيولانيُّ: ما كان في بدايةِ أمرِه … والنفسُ الهيولانيةُ: ما كانت فارغةً عن جميعِ ما تنصبغُ به.

اور اب وہ جملہ جس پر یہ پورا حصہ کھڑا ہے:

وكلُّ حالةٍ متأخّرةٍ لها مُعِدٌّ من قبلِها، والمُعِدّاتُ كلُّها سلسلةٌ مترتّبةٌ، لا يتقدّمُ متأخّرُها على متقدّمٍ، مستصحِبٌ في هيئةِ النفسِ الموجودةِ اليومَ حكمُ كلِّ مُعِدٍّ قبلَها، وإن خفيَ عليها بسببِ اشتغالِها بما هو خارجٌ منها.

لفظ مُعِدّ اصطلاحی ہے، اور حاشیہ اُس کی دو مثالیں دے کر بات صاف کر دیتا ہے:

حاشیہ

المُعِدُّ … هو من أقسامِ العلّةِ الناقصةِ، وهو ما كان عدمُه بعد وجودِه موقوفاً عليه للشيءِ، كسلسلةِ الأعدادِ والأقدامِ: فإن وجودَ الخمسةِ - مثلاً - موقوفٌ على عدمِ الأربعةِ بعدَ وجودِها، وكذا القدمُ الثاني يتوقّفُ على عدمِ القدمِ الأولِ.

قدموں کی مثال ہی سب سے زیادہ کھولتی ہے۔ دوسرا قدم اُٹھ ہی نہیں سکتا جب تک پہلا رکھا نہ جا چکا ہو - اور پہلا قدم اب موجود بھی نہیں۔ پھر بھی آپ جہاں کھڑے ہیں، وہ جگہ اُسی پہلے قدم کی دی ہوئی ہے۔ م: پچھلا معدّ گزر چکا، مگر اُس کا حکم آج کی ہیئت میں ساتھ چل رہا ہے۔ اور متن یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ آدمی کو اُس کی خبر عموماً نہیں ہوتی - وإن خفيَ عليها بسببِ اشتغالِها بما هو خارجٌ منها۔

اور اب وہ جملہ جس کے بغیر یہ باب مایوسی بن جاتا:

اللهمَّ إلا أن يفنى حاملُ القوّةِ المنبعثةِ تلك الأعمالُ منها، كما ذكرنا في الشيخِ والمريضِ، أو تهجمَ عليها هيئةٌ من فوقِها نظامَها كالتغيُّرِ المذكورِ.

دو استثنا: ایک نیچے سے - وہ قوّت ہی ختم ہو جائے جس سے وہ اعمال اُٹھتے تھے (اور حوالہ پھر باب ١٠ کے بوڑھے اور بیمار کا ہے)؛ اور ایک اوپر سے - کوئی ہیئت آ کر نظام ہی بدل دے۔ اور اِسی پر دو آیتیں، ایک ہر سمت کی:

قرآن - هود: ١١٤

﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾

قرآن - الزمر: ٦٥

﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ﴾

اور پالن پوری صاحب اپنے حاصل میں اِن دونوں استثناؤں کو بالکل ٹھوس مثالوں میں ڈھال دیتے ہیں:

حاشیہ

اللهمَّ إلا في صورتينِ: الأولى: أن تفنى القوّةُ الباعثةُ على المعاصي، كما في الشيخِ والمريضِ؛ والثانيةُ: عرضت هيئةٌ غيّرت نظامَها، كمن حجَّ وزارَ البيتَ فهدمَ ما كان قبلَه، أو أشركَ - والعياذُ بالله - فحبِطَ عملُه.

سلسلہ مسلسل ہے، مگر مقفل نہیں۔

۶

چوتھی حرکت: اِحصاء - اور یہاں مصنف اپنا «ذوق» کہتے ہیں

چوتھے حصے کے شروع ہی میں لہجہ بدل جاتا ہے، اور یہ تبدیلی نظرانداز کرنے کی چیز نہیں:

وأما الإحصاءُ عليها: فسِرُّه على ما وجدتُه بالذوقِ أن في الحيّزِ الشاهقِ تظهرُ صورةٌ لكلِّ إنسانٍ بما يعطيه النظامُ الفوقانيُّ، والتي ظهرت في قصةِ الميثاقِ شعبةٌ منها.

پہلی تین حرکتیں نظر اور تجربے سے بیان ہوئی تھیں؛ یہ چوتھی بالذوق سے۔ اور حاشیہ «ذوق» کی تعریف مصنف ہی کی ایک دوسری کتاب سے لے آتا ہے:

حاشیہ

قال الإمامُ في التفهيماتِ: الذوقُ … هو العلمُ الذي ينزلُ عليه من حيثُ ينزلُ عليه سِرُّ وجودِه. وقال العلامةُ السنديُّ: اصطلاحُ المصنِّفِ: أن رؤيةَ الشيءِ بالنورِ الحاصلِ من حظيرةِ القدسِ، ومعرفتَه به، يقالُ له: الذوقُ.

اور الحيّز الشاهق کی شناخت بھی حاشیہ ہی کرتا ہے، اور وہ شناخت اِس باب کو باب ٢ سے جوڑ دیتی ہے:

حاشیہ

الحَيِّزُ: المكانُ … والشاهقُ: العالي … والحيّزُ الشاهقُ: عالَمُ المثالِ.

اِس ایک سطر سے پورا منظر بدل جاتا ہے۔ «بلند حیّز» کوئی نیا جہان نہیں؛ وہ باب ٢ کا عالمِ مثال ہے - وہی جہاں معانی صورت پکڑتے ہیں۔ م کہ ہر انسان کی ایک صورت وہاں ہے، اور اعمال اُسی صورت میں درج ہوتے ہیں۔ «کتاب» کوئی استعارہ بھی نہیں رہتی اور کاغذ بھی نہیں - وہ عالمِ مثال کی صورت ہے۔ اور حاشیہ یاد دلاتا ہے کہ میثاق کا ذکر آل عمران ٨١ اور الأعراف ١٧٢ میں ہے۔

اور اب وہ جملہ جو «حساب» کے تصور کو سب سے زیادہ بدلتا ہے:

فإذا وُجِدَ هذا الشخصُ انطبقتِ الصورةُ عليه، واتّحدت معه، فإذا عملَ عملاً انشرحت هذه الصورةُ بذلك العملِ انشراحاً طبيعياً بلا اختيارٍ منه.

انشراحاً طبيعياً بلا اختيارٍ منه - یعنی یہ اندراج کوئی فیصلہ نہیں، ایک طبعی عمل ہے۔ جیسے مہر لگنے سے نقش بنتا ہے، نہ کہ کسی کے چاہنے سے۔

فربما تظهرُ في المعادِ أن أعمالَها مُحصاةٌ عليها من فوقِها، ومنه: قراءةُ الصُّحُفِ؛ وربما تظهرُ أن أعمالَها فيها متشبّثةٌ بأعضائِها، ومنه: نُطقُ الأيدي والأرجلِ.

یہ ایک تطبیق ہے، اور خوبصورت ہے۔ قرآن میں دونوں تصویریں ہیں: کہیں صحیفے کھولے جاتے ہیں (باہر سے)، اور کہیں ہاتھ پاؤں خود بولتے ہیں (اندر سے)۔ متن اُنہیں متضاد نہیں مانتا، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو ظہور - کیونکہ صورت ایک ہی ہے، اور وہ بیک وقت اوپر بھی ہے اور شخص سے متحد بھی۔ م؛ درست سوال یہ ہے کہ وہ کس رُخ سے ظاہر ہو رہا ہے۔

۷

«عمل کو جیسا ہے ویسا لکھو» - اور غزالی کی لوح

ثم كلُّ صورةِ عملٍ مُفصِحةٌ عن ثمرتِه في الدنيا والآخرةِ، وربما تتوقّفُ الملائكةُ في تصويرِه، فيقولُ اللهُ تعالى: اكتبوا العملَ كما هو.

«فرشتوں کا ٹھہر جانا» پہلی نظر میں عجیب لگتا ہے۔ حاشیہ وجہ بتاتا ہے، اور وجہ اُس زمانے کی کتابت کے طریقے میں ہے:

حاشیہ

كانت قاعدةُ الكتابةِ في الزمانِ الماضي بالتصويرِ، فربما لا يمكنُ التصويرُ؛ مثلاً قال رجلٌ: اللهمَّ لك الحمدُ عددَ أقطارِ الأمطارِ، فيقالُ لهم: اكتبوا العملَ كما هو. (سندي)

یعنی لکھنا تصویر بنانا تھا - اور «بارش کے قطروں کے برابر حمد» کی تصویر نہیں بنتی۔ حاشیہ اصل حدیث بھی دے دیتا ہے، جس میں دس فرشتے اُس کلمے پر جھپٹے اور نہ جانا کہ کیسے لکھیں، یہاں تک کہ معاملہ اوپر لے گئے۔

ایک لفظی فرق یہاں درج رہنا چاہیے۔ متن اللہ تعالیٰ کا قول اكتبوا العملَ كما هو نقل کرتا ہے؛ حاشیے میں جو حدیث لائی گئی ہے اُس کے الفاظ اكتبوها كما قال عبدي ہیں۔ مضمون ایک ہے، الفاظ ایک نہیں - اور متن یہاں حدیث کے الفاظ نقل کرنے کے بجائے مضمون بیان کر رہا ہے۔

اور باب کے آخر میں مصنف غزالی کو لمبا نقل کرتے ہیں - لوحِ محفوظ کے بارے میں:

كلُّ ما قدّرَه اللهُ تعالى من ابتداءِ خلقِ العالمِ إلى آخرِه مسطورٌ مُثبَتٌ في خلقٍ خلقَه اللهُ تعالى، يُعبَّرُ عنه تارةً باللوحِ، وتارةً بالكتابِ المبينِ، وتارةً بإمامٍ مبينٍ، كما وردَ في القرآنِ.

ولا تظننَّ أن ذلك اللوحَ من خشبٍ أو حديدٍ أو عظمٍ، وأن الكتابَ من كاغدٍ أو ورقٍ، بل ينبغي أن تفهمَ قطعاً أن لوحَ اللهِ لا يشبهُ لوحَ الخلقِ، وكتابَ اللهِ لا يشبهُ كتابَ الخلقِ، كما أن ذاتَه وصفاتِه لا تُشبهُ ذاتَ الخلقِ وصفاتِهم.

فاعلمْ أن ثبوتَ المقاديرِ في اللوحِ المحفوظِ يُضاهي ثبوتَ كلماتِ القرآنِ وحروفِه في دماغِ حافظِ القرآنِ وقلبِه، فإنه مسطورٌ فيه حتى كأنه حين يقرؤهُ ينظرُ إليه، ولو فتّشتَ دماغَه جزءاً جزءاً لم تُشاهدْ من ذلك الخطِّ حرفاً.

حاشیہ

إحياءُ علومِ الدينِ، كتابُ ذكرِ الموتِ وما بعدَه، البابُ الثامنُ: فيما عُرِفَ من أحوالِ الموتى بالمكاشفةِ.

حافظِ قرآن کی مثال اِسی باب کے لیے بنی ہوئی لگتی ہے۔ پورا قرآن اُس کے دماغ میں «لکھا» ہوا ہے - اِس حد تک کہ پڑھتے ہوئے گویا وہ دیکھ کر پڑھ رہا ہے؛ اور پھر بھی دماغ کا ذرّہ ذرّہ چھان لیجیے، ایک حرف نہ ملے گا۔ م: ریکارڈ حقیقی ہے، مکمل ہے، قابلِ رجوع ہے - اور کسی مادی جگہ پر پڑا ہوا نہیں۔ غزالی لوحِ محفوظ کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں، اور شاہ ولی اللہ اِسے نفس کے «صحیفے» پر لاگو کر رہے ہیں۔

اور آخری جملہ باب کو زمین پر اُتار لاتا ہے:

ثم كثيراً ما تتذكّرُ النفسُ ما عملتْه من خيرٍ أو شرٍّ، وتتوقّعُ جزاءَه، فيكونُ ذلك وجهاً آخرَ من وجوهِ استقرارِ عملِه، واللهُ أعلمُ.

یہ سب سے سادہ دلیل ہے، اور آخر میں رکھی گئی ہے۔ حیّزِ شاہق، میثاق کی صورت، معدّات کا سلسلہ - اور پھر یہ: آدمی کو اپنا کیا ہوا یاد آتا رہتا ہے، اور وہ اُس کے بدلے کا انتظار کرتا ہے۔ م - عمل کے ٹھہر جانے کی ایک صورت، جس کا تجربہ ہر شخص کو ہے اور جس کے لیے کسی ذوق کی ضرورت نہیں۔

۸

کہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«نفس کی جڑ سے اُٹھتے ہیں، تو عمل بندے کا نہیں رہا۔» - متن کا دعویٰ اسباب کے مرجع کے بارے میں ہے، نہ کہ اختیار کے بارے میں۔ اور وہ خود کہتا ہے بوسطٍ أو بغيرِ وسطٍ، یعنی درمیانی کڑیاں موجود ہیں؛ حاشیے کے مطابق فرق صرف نگاہ کا ہے۔ اور دوسری حرکت تو بالکل کسب ہی کی ہے: إذا عملَ عملاً فأكثرَ منه۔

عام غلط فہمی

«معدّات کا سلسلہ مرتب ہے، تو توبہ بے فائدہ ہے۔» - متن نے سلسلہ بیان کرنے کے فوراً بعد اللهمَّ إلا کہہ کر دو استثنا رکھے ہیں، اور دونوں پر آیت لگائی ہے: ﴿إن الحسناتِ يُذهبنَ السيئاتِ﴾ اور ﴿لئن أشركتَ ليحبطنَّ عملُك﴾۔ حاشیہ اِنہیں حج اور شرک کی مثالوں میں کھول بھی دیتا ہے۔ سلسلہ مسلسل ہے، مقفل نہیں۔

باریک نکتہ

موضوع ہر عمل نہیں۔ دعوے کی پہلی قید ہی یہ ہے: الأعمالَ التي يقصدُها الإنسانُ قصداً مؤكداً اور الأخلاقَ التي هي راسخةٌ فيه۔ اِس قید کو گرا دینے سے باب ہر بے دھیان حرکت کو نفس کا رنگ بنا دیتا ہے، جو اُس نے نہیں کہا۔

باریک نکتہ

چوتھی حرکت کا درجہ پہلی تین جیسا نہیں۔ پہلی تین نظر و تجربے کی زبان میں ہیں؛ چوتھی کے شروع میں مصنف خود کہتے ہیں على ما وجدتُه بالذوقِ۔ اور حاشیہ «ذوق» کی تعریف بھی دے دیتا ہے - حظیرۂ قدس سے حاصل نور کے ذریعے دیکھنا۔ اِسے باقی باب کے برابر درجے پر رکھنا خود مصنف کے بیان سے آگے بڑھنا ہے۔

باریک نکتہ

«لوح» اور «کتاب» میں مادّہ تلاش نہ کیجیے۔ غزالی کی عبارت کا نصف حصہ اِسی نفی میں ہے - نہ لکڑی، نہ لوہا، نہ ہڈی، نہ کاغذ۔ اور متبادل تشبیہ بھی مادی نہیں: حافظ کے دماغ میں لکھا ہوا قرآن۔

سیاق

مخنّث اور بچے کی مثالیں استدلال کی مثالیں ہیں۔ دونوں میں کسی کا مزاج دیکھ کر آگے کا اندازہ لگانا دکھایا گیا ہے - ایک میں عارف، دوسری میں طبیب - اور دونوں ایک ہی شرط کے ساتھ ہیں: إن شبَّ على مزاجِه۔ باب کا دعویٰ اِن مثالوں پر کھڑا نہیں، اور نہ یہاں کوئی شرعی حکم بیان ہو رہا ہے۔


۹

مزید غور کے لیے

یہ سوالات کھلے ہیں

  • قصداً مؤكداً کی حد کہاں ہے؟ پختہ ارادہ اور معمولی غفلت کے درمیان کوئی معیار متن نے نہیں دیا - اور اِسی پر یہ طے ہوتا ہے کہ کون سا عمل «رنگ» چھوڑتا ہے اور کون سا نہیں۔
  • دوسری اور تیسری حرکت میں اصل فرق کیا ہے؟ دونوں میں عمل نفس پر اثر چھوڑتا ہے؛ کیا فرق صرف وقت کا ہے (ایک حال کا رنگ، دوسرا سلسلے کا تسلسل)، یا کوئی اور چیز بھی؟
  • اگر الحيّز الشاهق عالمِ مثال ہے، تو باب ٢ کی وہ بحث - کہ مثالی صورتیں کس درجے میں «موجود» ہیں - یہاں کہاں لگتی ہے؟ کیا اعمال کی صورتیں بھی اُسی درجے کی ہیں؟
  • میثاق کی صورت کو شعبةٌ منها کہا گیا ہے - اُسی بڑی صورت کی ایک شاخ۔ تو میثاق کوئی واقعہ تھا جو گزر گیا، یا ایک مستقل حقیقت کا ایک ظہور؟ متن اِس کی وضاحت نہیں کرتا۔
  • انشراحاً طبيعياً بلا اختيارٍ منه - اندراج اگر طبعی ہے اور اختیار سے باہر، تو فرشتوں کے «لکھنے» کی کیا نوعیت رہ جاتی ہے؟ کیا وہ اِسی طبعی اندراج کا دوسرا نام ہے، یا ایک الگ کام؟
  • غزالی کی عبارت لوحِ محفوظ کے بارے میں ہے - یعنی تقدیر کے۔ اور یہ باب اعمال کے اندراج کا ہے۔ کیا مصنف دونوں کو ایک ہی چیز مان رہے ہیں، یا محض تشبیہ کے لیے لائے ہیں؟
عبارت کہاں سے لی گئی: اِس باب کی عربی پالن پوری صاحب کے اسکین سے پڑھی گئی ہے، اور حواشی بھی وہیں سے۔ اُن کا نسخہ پانچ جگہ شاملہ سے بہتر نکلا: في أولِ عمرِه (شاملہ: في أول مرّة)، وأما العودُ إليه (شاملہ: إليها، جبکہ حاشیہ صاف کہتا ہے کہ مرجع «اعمال اور اخلاق» ہیں)، ومنه: نُطقُ الأيدي (شاملہ: ومنها)، مسطورٌ مُثبَتٌ (شاملہ: مسطور ومثبت)، اور حين يقرؤهُ (شاملہ: حيث يقرأ)۔ ایک جگہ اسکین پڑھا نہیں گیا - دوسرے استثنا کا جملہ، أو تهجمَ عليها هيئةٌ من فوقِها نظامَها - اور وہاں الفاظ شاملہ کے ہیں؛ پالن پوری صاحب کا اپنا حاصل اُسی جگہ عرضت هيئةٌ غيّرت نظامَها کہتا ہے، جو ایک صاف تر تعبیر ہے۔ چھپے ہوئے صفحے سے ملا لیجیے۔

اِس باب کی فہرست ▲

مآخذ

اِس باب کی عربی عبارتیں پالن پوری صاحب کی تحقیق کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔

نسخہ، شرح اور تلاش کے نسخے - پورے مآخذ ▸

کی بورڈ: → پچھلا باب  · ← اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن