القسم الأول · المبحث الأول · باب ١١
باب لصوق الأعمال بالنفس وإحصائها عليها
چار حرکتیں - اِنبعاث، عود، تشبّث، اِحصاء
ربط: باب ٨ نے کہا تھا کہ تکلیف جزا کا تقاضا کرتی ہے، اور باب ١٠ نے بتایا تھا کہ عمل کی تحریک کہاں سے آتی ہے۔ یہ باب بیچ کی کڑی ڈالتا ہے: عمل ہو چکنے کے بعد جاتا کہاں ہے؟ اور جواب یہ ہے کہ وہ کہیں نہیں جاتا - وہ نفس ہی میں رہ جاتا ہے۔
اصل نکتہ: «حساب» اِس باب میں کوئی بیرونی رجسٹر نہیں۔ عمل خود اپنا ریکارڈ ہے، اور وہ ریکارڈ نفس ہی میں رکھا جاتا ہے - مستصحِبٌ في هيئةِ النفسِ الموجودةِ اليومَ حكمُ كلِّ مُعِدٍّ قبلَها۔ م: طائرَه في عنقِه - گردن میں، نہ کہ ہاتھ میں؛ ساتھ لگا ہوا، نہ کہ تھمایا ہوا۔ پھر بھی دروازہ بند نہیں: متن خود دو استثنا رکھتا ہے - قوّت کا فنا ہو جانا، اور اوپر سے ایک ہیئت کا آ کر نظام بدل دینا۔
باب بغیر تمہید کے نقل سے شروع ہوتا ہے، اور آیت ہی میں پورا مضمون موجود ہے:
﴿وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا﴾
دو لفظ باب کا عنوان بن گئے ہیں: ألزمناهُ … في عنقِه سے لصوق (چمٹنا)، اور كتاباً … حسيباً سے إحصاء (گنتی)۔ اور آخری جملہ سب سے زیادہ وزن رکھتا ہے: كفى بنفسِكَ اليومَ عليكَ حسيباً - حساب لینے والا کوئی اور نہیں، خود تمہارا نفس کافی ہے۔
إنما هي أعمالُكم أُحصيها عليكم، ثم أُوفّيكم إياها، فمن وجدَ خيراً فليحمدِ اللهَ، ومن وجدَ غيرَ ذلك فلا يلومنَّ إلا نفسَه.
رواه مسلمٌ (مشكاة حديث ٢٣٢٧، بابُ الاستغفارِ، كتابُ الدعواتِ).
لفظ وجدَ غور طلب ہے: «پائے گا»، نہ کہ «دیا جائے گا»۔ اور أوفّيكم إياها - وہی اعمال پورے کر کے دیے جائیں گے، اُن کے بدلے کوئی اور چیز نہیں۔
النفسُ تتمنّى وتشتهي، والفرجُ يصدّقُ ذلك ويكذّبُه.
اور اب باب کا مرکزی جملہ، جو اپنی پوری ترتیب خود بتا دیتا ہے:
اعلمْ أن الأعمالَ التي يقصدُها الإنسانُ قصداً مؤكداً، والأخلاقَ التي هي راسخةٌ فيه - تنبعثُ من أصلِ النفسِ الناطقةِ، ثم تعودُ إليها، ثم تتشبّثُ بذيلِها، وتُحصَى عليها.
پہلے موضوع کی قید دیکھیے، جو جملے کے شروع ہی میں ہے: يقصدُها الإنسانُ قصداً مؤكداً اور راسخةٌ فيه۔ یعنی بات ہر اُس حرکت کی نہیں جو آدمی سے سرزد ہو جائے، بلکہ پختہ ارادے کے عمل اور جمے ہوئے اخلاق کی ہے۔
پھر چار فعل، اور یہی باب کے چار حصے ہیں: تنبعثُ ← تعودُ ← تتشبّثُ ← تُحصَى۔ متن آگے اِن چاروں کو أما … وأما … وأما … وأما سے ایک ایک کر کے کھولتا ہے، بالکل اِسی ترتیب سے۔
لوحِ اوّل
عمل کا سفر: جڑ سے نکل کر جڑ تک
﴿وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ﴾ - گردن میں بندھا ہوا، ہاتھ میں تھمایا ہوا نہیں۔ اور حساب لینے والا بھی باہر سے نہیں آتا: كفى بنفسِكَ اليومَ عليكَ حسيباً۔
چاروں مرحلے اور اُن کی ترتیب متن کے اپنے جملے سے ہے؛ نیچے کی اردو سطریں میری ہیں۔ غور کیجیے کہ سلسلہ آگے نہیں جاتا - وہ وہیں لوٹتا ہے جہاں سے چلا تھا۔
پہلی حرکت کی دلیل پورے پچھلے باب کو سمیٹ کر ایک نتیجے پر لے آتی ہے:
فلمّا عرفتَ أن للملكيةِ والبهيميةِ واجتماعِهما أقساماً، ولكلِّ قسمٍ حكماً، وغلبةَ المزاجِ الطبيعيِّ، والانصباغَ من الملائكةِ والشياطينِ، ونحوَ ذلك من الأسبابِ - لا تكونُ إلا حسبَ ما تعطيه الجِبِلّةُ، وتحصلُ فيه المناسبةُ، فلذلك كان المرجعُ إلى أصلِ النفسِ، بوسطٍ أو بغيرِ وسطٍ.
فہرست پہچانی ہوئی ہے: باب ٩ کی آٹھ اقسام، اور باب ١٠ کے مزاج اور انصباغ۔ پالن پوری صاحب حاشیے میں یہ ربط صاف لکھ دیتے ہیں - من الأسبابِ: أي أسبابِ الخواطرِ كما تقدَّم في البابِ العاشرِ۔ اور دلیل کی شکل یہ ہے: وہ سارے اسباب بھی اُتنا ہی کام کرتے ہیں جتنا جبلّت اجازت دے، اور جہاں المناسبة پائی جائے۔ سو مرجع بہرحال وہی رہا۔
اور آخری دو لفظ پورے مسئلے کو کھول دیتے ہیں۔ حاشیہ اُن کی تشریح یوں کرتا ہے:
بوسَطٍ: أي إن نُظِرَ إلى الأسبابِ، وبغيرِ وسَطٍ: أي إن نُظِرَ إلى الجِبِلّةِ فحسبُ. (سندي)
اور اب دو مثالیں، اور دونوں ایک ہی قسم کی ہیں - دونوں میں کوئی مزاج دیکھ کر مستقبل کا حکم لگا رہا ہے:
ألستَ ترى المخنَّثَ يُخلَقُ في أولِ عمرِه على مزاجٍ ركيكٍ، فيستدلُّ به العارفُ على أنه إن شبَّ على مزاجِه وجبَ أن يعتادَ بعاداتِ النساءِ، ويتزيّا بزيِّهنَّ، وينتحلَ رسومَهنَّ.
وكذلك يُدرِكُ الطبيبُ أن الطفلَ إن شبَّ على مزاجِه، ولم يفجأْه عارضٌ، كان قويّاً فارهاً، أو ضعيفاً ضارعاً.
وأما العودُ إليه: فلأن الإنسانَ إذا عملَ عملاً فأكثرَ منه، اعتادتْه النفسُ، وسهُلَ صدورُه منها، ولم يحتجْ إلى رَويّةٍ وتجشُّمِ داعيةٍ، فلا جرمَ أن النفسَ تأثّرت منه، وقبِلَت لونَه.
علامت یہ نہیں کہ عمل ہو رہا ہے؛ علامت یہ ہے کہ عمل آسان ہو گیا۔ رَويّة (سوچ بچار) اور تجشُّمِ داعيةٍ (داعیہ پیدا کرنے کی مشقت) - جب یہ دونوں ساقط ہو جائیں تو سمجھ لیجیے کہ نفس رنگ لے چکا۔ حاشیہ رَويّة کی تعریف بھی دے دیتا ہے: النظرُ والتفكيرُ في الأمورِ، وهي خلافُ البديهةِ۔
اور پھر وہ جملہ جو اِس باب کو اخلاقی طور پر سنجیدہ بنا دیتا ہے:
ولا جرمَ أن لكلِّ عملٍ من تلك الأعمالِ المتجانسةِ مدخلاً في ذلك التأثُّرِ، وإن دقَّ وخفيَ مكانُه.
اور اِسی پر متن ایک حدیث لاتا ہے جو اِس تدریج کو تصویر بنا دیتی ہے:
تُعرَضُ الفتنُ على القلوبِ كالحصيرِ عوداً عوداً، فأيُّ قلبٍ أُشرِبَها نُكِتَت فيه نكتةٌ سوداءُ، وأيُّ قلبٍ أنكرَها نُكِتَت فيه نكتةٌ بيضاءُ، حتى تصيرَ على قلبينِ: أبيضَ مثلِ الصَّفا، فلا تضرُّه فتنةٌ ما دامتِ السمواتُ والأرضُ؛ والآخَرُ أسودُ مُربادّاً كالكوزِ مُجَخِّياً، لا يعرفُ معروفاً ولا يُنكِرُ منكراً إلا ما أُشرِبَ من هواهُ.
تشبیہ کی باریکی حاشیے سے کھلتی ہے۔ عوداً عوداً کی دو قراءتیں ہیں: چٹائی کی تیلیاں ایک ایک کر کے، یا «بار بار»۔ اور مُجَخِّياً پر حاشیہ وہ بات کہہ دیتا ہے جو پوری حدیث کو کھول دیتی ہے:
مُجَخِّياً: اسمُ مفعولٍ، أي معكوساً … كما لا يستقرُّ الماءُ في الكوزِ المائلِ، كذلك القلبُ لا يَعي خيراً.
تیسری حرکت پچھلی سے باریک تر ہے۔ عود میں عمل نفس پر رنگ چڑھاتا ہے؛ تشبّث میں وہ رنگ آگے چلتا ہے۔ اور دلیل خالی نفس سے شروع ہوتی ہے:
وأما التشبُّثُ بذيلِها: فلأن النفسَ في أولِ أمرِها تُخلَقُ هيولانيةً فارغةً عن جميعِ ما تنصبغُ به، ثم لا تزالُ تخرجُ من القوّةِ إلى الفعلِ يوماً فيوماً.
الهيولانيُّ: ما كان في بدايةِ أمرِه … والنفسُ الهيولانيةُ: ما كانت فارغةً عن جميعِ ما تنصبغُ به.
اور اب وہ جملہ جس پر یہ پورا حصہ کھڑا ہے:
وكلُّ حالةٍ متأخّرةٍ لها مُعِدٌّ من قبلِها، والمُعِدّاتُ كلُّها سلسلةٌ مترتّبةٌ، لا يتقدّمُ متأخّرُها على متقدّمٍ، مستصحِبٌ في هيئةِ النفسِ الموجودةِ اليومَ حكمُ كلِّ مُعِدٍّ قبلَها، وإن خفيَ عليها بسببِ اشتغالِها بما هو خارجٌ منها.
لفظ مُعِدّ اصطلاحی ہے، اور حاشیہ اُس کی دو مثالیں دے کر بات صاف کر دیتا ہے:
المُعِدُّ … هو من أقسامِ العلّةِ الناقصةِ، وهو ما كان عدمُه بعد وجودِه موقوفاً عليه للشيءِ، كسلسلةِ الأعدادِ والأقدامِ: فإن وجودَ الخمسةِ - مثلاً - موقوفٌ على عدمِ الأربعةِ بعدَ وجودِها، وكذا القدمُ الثاني يتوقّفُ على عدمِ القدمِ الأولِ.
اور اب وہ جملہ جس کے بغیر یہ باب مایوسی بن جاتا:
اللهمَّ إلا أن يفنى حاملُ القوّةِ المنبعثةِ تلك الأعمالُ منها، كما ذكرنا في الشيخِ والمريضِ، أو تهجمَ عليها هيئةٌ من فوقِها نظامَها كالتغيُّرِ المذكورِ.
دو استثنا: ایک نیچے سے - وہ قوّت ہی ختم ہو جائے جس سے وہ اعمال اُٹھتے تھے (اور حوالہ پھر باب ١٠ کے بوڑھے اور بیمار کا ہے)؛ اور ایک اوپر سے - کوئی ہیئت آ کر نظام ہی بدل دے۔ اور اِسی پر دو آیتیں، ایک ہر سمت کی:
﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾
﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ﴾
اور پالن پوری صاحب اپنے حاصل میں اِن دونوں استثناؤں کو بالکل ٹھوس مثالوں میں ڈھال دیتے ہیں:
اللهمَّ إلا في صورتينِ: الأولى: أن تفنى القوّةُ الباعثةُ على المعاصي، كما في الشيخِ والمريضِ؛ والثانيةُ: عرضت هيئةٌ غيّرت نظامَها، كمن حجَّ وزارَ البيتَ فهدمَ ما كان قبلَه، أو أشركَ - والعياذُ بالله - فحبِطَ عملُه.
چوتھے حصے کے شروع ہی میں لہجہ بدل جاتا ہے، اور یہ تبدیلی نظرانداز کرنے کی چیز نہیں:
وأما الإحصاءُ عليها: فسِرُّه على ما وجدتُه بالذوقِ أن في الحيّزِ الشاهقِ تظهرُ صورةٌ لكلِّ إنسانٍ بما يعطيه النظامُ الفوقانيُّ، والتي ظهرت في قصةِ الميثاقِ شعبةٌ منها.
پہلی تین حرکتیں نظر اور تجربے سے بیان ہوئی تھیں؛ یہ چوتھی بالذوق سے۔ اور حاشیہ «ذوق» کی تعریف مصنف ہی کی ایک دوسری کتاب سے لے آتا ہے:
قال الإمامُ في التفهيماتِ: الذوقُ … هو العلمُ الذي ينزلُ عليه من حيثُ ينزلُ عليه سِرُّ وجودِه. وقال العلامةُ السنديُّ: اصطلاحُ المصنِّفِ: أن رؤيةَ الشيءِ بالنورِ الحاصلِ من حظيرةِ القدسِ، ومعرفتَه به، يقالُ له: الذوقُ.
اور الحيّز الشاهق کی شناخت بھی حاشیہ ہی کرتا ہے، اور وہ شناخت اِس باب کو باب ٢ سے جوڑ دیتی ہے:
الحَيِّزُ: المكانُ … والشاهقُ: العالي … والحيّزُ الشاهقُ: عالَمُ المثالِ.
اور اب وہ جملہ جو «حساب» کے تصور کو سب سے زیادہ بدلتا ہے:
فإذا وُجِدَ هذا الشخصُ انطبقتِ الصورةُ عليه، واتّحدت معه، فإذا عملَ عملاً انشرحت هذه الصورةُ بذلك العملِ انشراحاً طبيعياً بلا اختيارٍ منه.
انشراحاً طبيعياً بلا اختيارٍ منه - یعنی یہ اندراج کوئی فیصلہ نہیں، ایک طبعی عمل ہے۔ جیسے مہر لگنے سے نقش بنتا ہے، نہ کہ کسی کے چاہنے سے۔
فربما تظهرُ في المعادِ أن أعمالَها مُحصاةٌ عليها من فوقِها، ومنه: قراءةُ الصُّحُفِ؛ وربما تظهرُ أن أعمالَها فيها متشبّثةٌ بأعضائِها، ومنه: نُطقُ الأيدي والأرجلِ.
ثم كلُّ صورةِ عملٍ مُفصِحةٌ عن ثمرتِه في الدنيا والآخرةِ، وربما تتوقّفُ الملائكةُ في تصويرِه، فيقولُ اللهُ تعالى: اكتبوا العملَ كما هو.
«فرشتوں کا ٹھہر جانا» پہلی نظر میں عجیب لگتا ہے۔ حاشیہ وجہ بتاتا ہے، اور وجہ اُس زمانے کی کتابت کے طریقے میں ہے:
كانت قاعدةُ الكتابةِ في الزمانِ الماضي بالتصويرِ، فربما لا يمكنُ التصويرُ؛ مثلاً قال رجلٌ: اللهمَّ لك الحمدُ عددَ أقطارِ الأمطارِ، فيقالُ لهم: اكتبوا العملَ كما هو. (سندي)
یعنی لکھنا تصویر بنانا تھا - اور «بارش کے قطروں کے برابر حمد» کی تصویر نہیں بنتی۔ حاشیہ اصل حدیث بھی دے دیتا ہے، جس میں دس فرشتے اُس کلمے پر جھپٹے اور نہ جانا کہ کیسے لکھیں، یہاں تک کہ معاملہ اوپر لے گئے۔
اور باب کے آخر میں مصنف غزالی کو لمبا نقل کرتے ہیں - لوحِ محفوظ کے بارے میں:
كلُّ ما قدّرَه اللهُ تعالى من ابتداءِ خلقِ العالمِ إلى آخرِه مسطورٌ مُثبَتٌ في خلقٍ خلقَه اللهُ تعالى، يُعبَّرُ عنه تارةً باللوحِ، وتارةً بالكتابِ المبينِ، وتارةً بإمامٍ مبينٍ، كما وردَ في القرآنِ.
ولا تظننَّ أن ذلك اللوحَ من خشبٍ أو حديدٍ أو عظمٍ، وأن الكتابَ من كاغدٍ أو ورقٍ، بل ينبغي أن تفهمَ قطعاً أن لوحَ اللهِ لا يشبهُ لوحَ الخلقِ، وكتابَ اللهِ لا يشبهُ كتابَ الخلقِ، كما أن ذاتَه وصفاتِه لا تُشبهُ ذاتَ الخلقِ وصفاتِهم.
فاعلمْ أن ثبوتَ المقاديرِ في اللوحِ المحفوظِ يُضاهي ثبوتَ كلماتِ القرآنِ وحروفِه في دماغِ حافظِ القرآنِ وقلبِه، فإنه مسطورٌ فيه حتى كأنه حين يقرؤهُ ينظرُ إليه، ولو فتّشتَ دماغَه جزءاً جزءاً لم تُشاهدْ من ذلك الخطِّ حرفاً.
إحياءُ علومِ الدينِ، كتابُ ذكرِ الموتِ وما بعدَه، البابُ الثامنُ: فيما عُرِفَ من أحوالِ الموتى بالمكاشفةِ.
اور آخری جملہ باب کو زمین پر اُتار لاتا ہے:
ثم كثيراً ما تتذكّرُ النفسُ ما عملتْه من خيرٍ أو شرٍّ، وتتوقّعُ جزاءَه، فيكونُ ذلك وجهاً آخرَ من وجوهِ استقرارِ عملِه، واللهُ أعلمُ.
«نفس کی جڑ سے اُٹھتے ہیں، تو عمل بندے کا نہیں رہا۔» - متن کا دعویٰ اسباب کے مرجع کے بارے میں ہے، نہ کہ اختیار کے بارے میں۔ اور وہ خود کہتا ہے بوسطٍ أو بغيرِ وسطٍ، یعنی درمیانی کڑیاں موجود ہیں؛ حاشیے کے مطابق فرق صرف نگاہ کا ہے۔ اور دوسری حرکت تو بالکل کسب ہی کی ہے: إذا عملَ عملاً فأكثرَ منه۔
«معدّات کا سلسلہ مرتب ہے، تو توبہ بے فائدہ ہے۔» - متن نے سلسلہ بیان کرنے کے فوراً بعد اللهمَّ إلا کہہ کر دو استثنا رکھے ہیں، اور دونوں پر آیت لگائی ہے: ﴿إن الحسناتِ يُذهبنَ السيئاتِ﴾ اور ﴿لئن أشركتَ ليحبطنَّ عملُك﴾۔ حاشیہ اِنہیں حج اور شرک کی مثالوں میں کھول بھی دیتا ہے۔ سلسلہ مسلسل ہے، مقفل نہیں۔
موضوع ہر عمل نہیں۔ دعوے کی پہلی قید ہی یہ ہے: الأعمالَ التي يقصدُها الإنسانُ قصداً مؤكداً اور الأخلاقَ التي هي راسخةٌ فيه۔ اِس قید کو گرا دینے سے باب ہر بے دھیان حرکت کو نفس کا رنگ بنا دیتا ہے، جو اُس نے نہیں کہا۔
چوتھی حرکت کا درجہ پہلی تین جیسا نہیں۔ پہلی تین نظر و تجربے کی زبان میں ہیں؛ چوتھی کے شروع میں مصنف خود کہتے ہیں على ما وجدتُه بالذوقِ۔ اور حاشیہ «ذوق» کی تعریف بھی دے دیتا ہے - حظیرۂ قدس سے حاصل نور کے ذریعے دیکھنا۔ اِسے باقی باب کے برابر درجے پر رکھنا خود مصنف کے بیان سے آگے بڑھنا ہے۔
«لوح» اور «کتاب» میں مادّہ تلاش نہ کیجیے۔ غزالی کی عبارت کا نصف حصہ اِسی نفی میں ہے - نہ لکڑی، نہ لوہا، نہ ہڈی، نہ کاغذ۔ اور متبادل تشبیہ بھی مادی نہیں: حافظ کے دماغ میں لکھا ہوا قرآن۔
مخنّث اور بچے کی مثالیں استدلال کی مثالیں ہیں۔ دونوں میں کسی کا مزاج دیکھ کر آگے کا اندازہ لگانا دکھایا گیا ہے - ایک میں عارف، دوسری میں طبیب - اور دونوں ایک ہی شرط کے ساتھ ہیں: إن شبَّ على مزاجِه۔ باب کا دعویٰ اِن مثالوں پر کھڑا نہیں، اور نہ یہاں کوئی شرعی حکم بیان ہو رہا ہے۔
اِس باب کی عربی عبارتیں پالن پوری صاحب کی تحقیق کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔
نسخہ، شرح اور تلاش کے نسخے - پورے مآخذ ▸کی بورڈ: → پچھلا باب · ← اگلا باب · Esc فہرست · متن کے لیے نیچے کا بٹن