القسم الأول · المبحث الأول · باب ٨
باب اقتضاء التكليف المجازاة
چار وجوہ — اور اُن میں دو نبی کے آنے سے پہلے بھی چلتی ہیں
iqtiḍāʾ al-taklīf al-mujāzāt
ربط: مبحث کا عنوان ہی في أسبابِ التكليفِ والمجازاةِ ہے۔ باب ٦ اور ٧ نے پہلا حصہ مکمل کیا — تکلیف کہاں سے آئی۔ یہ باب دوسرا حصہ شروع کرتا ہے: جزا کہاں سے آتی ہے۔ اور پہلی ہی وجہ باب ٧ کی گھاس اور گوشت کی مثال اٹھا کر انسان پر لگا دیتی ہے۔
اصل نکتہ: باب ایک پرانے سوال کا منظم جواب ہے: جن تک نبی کی دعوت نہ پہنچی، اُن کا کیا حکم؟ جواب چار وجوہ کی تقسیم سے نکلتا ہے۔ جو وجوہ فطرة ہیں (نوعی ساخت اور ملأِ اعلیٰ) وہ ہر زمانے میں چلتی ہیں، مگر اُن کا دائرہ صرف اصول ہیں — فروع اور حدود نہیں۔ جو وجہ زمانے کے ساتھ بدلتی ہے (مکتوب شریعت) وہی بعثت کا سبب ہے۔ اور جو وجہ بعثت پر موقوف ہے وہ ﴿ليهلكَ من هلكَ عن بيّنةٍ﴾ کے بعد ہی چلتی ہے۔ یعنی جزا کے دائرے اور دلیل کے دائرے ساتھ ساتھ پھیلتے ہیں۔
مبحث کا عنوان دو چیزوں پر ہے: أسبابِ التكليفِ اور المجازاةِ۔ پچھلے دو باب پہلی چیز پر تھے۔ اب دوسری:
اعلمْ أن الناسَ مجزيّونَ بأعمالِهم، إن خيراً فخيرٌ، وإن شراً فشرٌّ، من أربعةِ وجوهٍ.
لفظ وجوه پر رُکیے۔ باب یہ نہیں کہتا کہ جزا کی چار قسمیں ہیں، بلکہ یہ کہ وہ چار راستوں سے آتی ہے — چار مختلف میکانیت، جو ایک ہی نتیجے پر پہنچتی ہیں۔ اور اِس تقسیم کا اصل فائدہ باب کے آخر میں کھلتا ہے، جب وہ بتاتے ہیں کہ اِن میں سے کون سی کب چلتی ہے۔
پہلی وجہ سیدھا باب ٧ کی مثال اٹھاتی ہے — وہی گھاس اور گوشت — اور اُسے انسان پر لگا دیتی ہے:
أحدُها مقتضى الصورةِ النوعيةِ: فكما أن البهيمةَ إذا عُلِفَتِ الحشيشَ، والسبعَ إذا عُلِفَ اللحمَ صحَّ مزاجُهما، وإذا عُلِفَتِ البهيمةُ اللحمَ، والسبعُ الحشيشَ فسدَ مزاجُهما — فكذلك الإنسانُ إذا باشرَ أعمالاً أرواحُها الخشوعُ بجانبِ الحقِّ، والطهارةُ والسماحةُ والعدالةُ صلحَ مزاجُه المَلَكيُّ، وإذا باشرَ أعمالاً أرواحُها أضدادُ هذه الخِصالِ فسدَ مزاجُه المَلَكيُّ.
یعنی جزا یہاں کسی عدالت کا فیصلہ نہیں — وہ غذا کا اثر ہے۔ چوپائے کو گوشت کھلا دیجیے تو کوئی اُسے سزا نہیں دیتا؛ اُس کا مزاج بگڑ جاتا ہے، اور یہی سزا ہے۔ اِسی طرح جن اعمال کی «روح» خشوع، طہارت، سماحت اور عدالت ہو، وہ مزاجِ ملکی کی غذا ہیں؛ اور اُن کے اضداد اُس کے لیے وہی ہیں جو چوپائے کے لیے گوشت۔
اور اِس کا محسوس ہونا کب ہوتا ہے؟
فإذا تخفَّفَ عن ثِقلِ البدنِ أحسَّ بالملاءمةِ والمنافرةِ، شِبهَ ما يُحِسُّ أحدُنا من ألمِ الاحتراقِ.
دوسری وجہ ایک نہایت جسور تشبیہ سے شروع ہوتی ہے:
وثانيها جهةُ الملأِ الأعلى: فكما أن الواحدَ منها له قوىً إدراكيةٌ مُودَعةٌ في الدماغِ يُحِسُّ بها ما وقعت عليه قدمُه من جَمرةٍ أو ثَلجةٍ، فكذلك بصورةِ الإنسانِ المتمثِّلةِ من الملكوتِ خُدّامٌ من الملائكةِ أوجدَها عنايةُ الحقِّ بنوعِ الإنسانِ، لأن نوعَ الإنسانِ لا يَصلُحُ إلا بهم، كما أن الواحدَ منا لا يَصلُحُ إلا بالقوةِ الإدراكيةِ.
نسبت یہ ہے: نوعِ انسان : فرشتے :: ایک فرد : اُس کی مدرکہ قوتیں۔ اور یہ محض تشبیہ نہیں رہتی — متن اُسے پلٹ کر صریح کر دیتا ہے: وأفرادُ الإنسانِ كلُّها بمنزلةِ القوى الطبيعيةِ لهذه الملائكةِ۔ یعنی پوری نوع ایک جسم کی طرح ہے، افراد اُس کی طبعی قوتیں، اور فرشتے اُس کی مدرکہ قوتیں۔ باب ٧ میں یہی نسبت ملأِ اعلیٰ کے وجود کی وجہ بتائی گئی تھی؛ یہاں وہی نسبت جزا کی میکانیت بن جاتی ہے۔
فكلَّما فعلَ فردٌ من أفرادِ الإنسانِ فعلاً مُنجياً خرجت من تلك الملائكةِ أشعةُ بهجةٍ وسرورٍ، وكلَّما فعلَ فعلاً مُهلِكاً خرجت منها أشعةُ نفرةٍ وبُغضٍ، فحلَّت تلك الأشعةُ في نفسِ هذا الفردِ فأورثت بهجةً أو وَحشةً، أو في نفوسِ بعضِ الملائكةِ أو بعضِ الناسِ، فانعقدَ الإلهامُ أن يُحبّوه ويُحسِنوا إليه، أو يُبغِضوه ويُسيئوا إليه.
غور کیجیے کہ شعاعیں تین جگہ گر سکتی ہیں: خود اُس فرد کے نفس میں (تو بہجت یا وحشت پیدا ہوتی ہے)، یا بعض فرشتوں کے نفوس میں، یا بعض لوگوں کے نفوس میں — اور تب فانعقدَ الإلهامُ کہ وہ اُس سے محبت کریں اور احسان کریں، یا نفرت کریں اور برائی کریں۔ یعنی «لوگوں کا رویہ» بھی اِسی نظام کا ایک راستہ ہے۔
اور اِس کے بعد متن ایک ایسی تفصیل دیتا ہے جو طبی ہے اور جان بوجھ کر بےپردہ:
فكما أن الواحدَ منا قد يتوقَّعُ ألماً أو ذُلاًّ فترتعدُ فرائصُه، ويَصفَرُّ لونُه، ويَضعُفُ جسدُه، وربما تسقُطُ شهوتُه، ويحمَرُّ بولُه … فهذا كلُّه تأثيرُ القوةِ الإدراكيةِ في الطبيعةِ ووحيُها إليها وقهرُها عليها.
خوف کی خبر ذہن میں ہوتی ہے، اور اثر بدن پر: کپکپی، رنگ کا زرد ہونا، کمزوری۔ اور متن اِس اثر کو تین لفظوں سے نامزد کرتا ہے: تأثير، وحي، قهر۔ میری — کیونکہ اگلی سطر میں وہی لفظ فرشتوں اور انسانوں کے تعلق پر لگے گا: يترشَّحُ منها عليهم … إلهاماتٌ جِبِلّيةٌ وحالاتٌ طبيعيةٌ۔ ادراک اپنی طبیعت پر جو کرتا ہے، فرشتے نوع پر وہی کرتے ہیں۔
اور اب چکر کا دوسرا نصف — جو اوپر جاتا ہے:
وكما تهبطُ تلك الأشعةُ إلى السُّفلِ فكذلك يصعَدُ إلى حظيرةِ القدسِ منها لونٌ يُعِدُّ لفيضانِ هيئةٍ تُسمّى بالرحمةِ والرضا، أو الغضبِ واللعنِ، مِثْلَ إعدادِ مجاورةِ النارِ الماءَ لتسخينِه، وإعدادِ المقدّماتِ للنتيجةِ، وإعدادِ الدعاءِ للإجابةِ.
﴿إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾
اور آخر میں نقل سے تائید: نبی ﷺ نے کئی احادیث میں خبر دی کہ فرشتے بنی آدم کے اعمال اللہ کی طرف اٹھاتے ہیں، اور اللہ اُن سے پوچھتا ہے كيف تركتم عبادي؟، اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اٹھایا جاتا ہے —
يُنبِّهُ ﷺ على ضربٍ من توسُّطِ الملائكةِ بين بني آدمَ وبين نورِ اللهِ القائمِ وسطَ حظيرةِ القدسِ.
لوحِ اوّل · Plate I
شعاعوں کا چکر — عمل سے «تجدد» تک
فيتحقَّقُ التجدُّدُ في الجبروتِ من هذا الوجهِ — «اِس وجہ سے»، یعنی تیاری کی طرف سے۔ جیسے آگ کے قریب ہونا پانی کو گرم ہونے کے لیے تیار کرتا ہے۔
یہ وجہِ دوم کی میکانیت ہے، متن کے الفاظ میں۔ نیچے اترنے والی أشعة اور اوپر چڑھنے والا لون — اور اوپر جو ہوتا ہے وہ إعداد ہے، تینوں تمثیلوں کے مطابق۔
تیسری وجہ ایک تشبیہ سے بیان ہوتی ہے جو محتاط پڑھنے کی طلب کرتی ہے:
وثالثها مقتضى الشريعةِ المكتوبةِ عليهم: فكما يعرفُ المُنجِّمُ أن الكواكبَ إذا كان لها نظرٌ من النظراتِ حصلت روحانيةٌ ممتزجةٌ من قواها متمثِّلةٌ في جزءٍ من الفلكِ … فكذلك يعرفُ العارفُ باللهِ أنه إذا جاء وقتٌ من الأوقاتِ تُسمّى في الشرعِ بالليلةِ المباركةِ التي فيها يُفرَقُ كلُّ أمرٍ حكيمٍ حصلت روحانيةٌ في الملكوتِ ممتزجةٌ من أحكامِ نوعِ الإنسانِ ومُقتضى هذا الوقتِ.
اور اُس کے بعد اُس روحانیت کا اثر: يترشَّحُ من هنالك إلهاماتٌ على أذكى خلقِ اللهِ يومئذٍ — اُس دن کی سب سے ذہین مخلوق پر الہامات؛ پھر اُس کے واسطے سے اُن نفوس پر جو ذہانت میں اُس کے بعد ہیں؛ پھر باقی لوگوں کو اُن الہامات کے قبول اور استحسان کا الہام ہوتا ہے۔
النظراتُ هي القِراناتُ، كما تقدَّمَ قريباً.
اور چوتھی وجہ سب سے مختصر ہے، مگر اُس کی ترکیب دلچسپ ہے:
ورابعها أن النبيَّ إذا بُعِثَ في الناسِ، وأرادَ اللهُ تعالى ببعثِه لُطفاً بهم وتقريباً لهم إلى الخيرِ، وأوجبَ طاعتَه عليهم — صار العلمُ الذي يُوحى إليه متشخِّصاً متمثِّلاً، وامتزجَ بهِمَّةِ هذا النبيِّ ودعائِه وقضاءِ اللهِ تعالى بالنصرِ له، فتأكَّدَ وتحقَّقَ.
تین چیزیں گھل کر ایک ہو جاتی ہیں: وحی کا علم (جو متشخص و متمثل ہو گیا)، نبی کی ہمت اور دعا، اور نصرت کا قضا۔ اور نتیجہ دو لفظوں میں: فتأكَّدَ وتحقَّقَ۔ یعنی اِس وجہ میں جزا کا زور نبی کی شخصی شرکت سے آتا ہے — اِسی لیے یہ وجہ بعثت کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہاں تک چار میکانیتیں بیان ہوئیں۔ اب باب وہ کام کرتا ہے جس کے لیے یہ تقسیم بنائی گئی تھی — وہ بتاتا ہے کہ کون سی وجہ کب چلتی ہے۔
أما المجازاةُ في الوجهينِ الأولينِ ففِطرةٌ فطرَ اللهُ الناسَ عليها، ولن تجدَ لفطرةِ اللهِ تبديلاً، وليس ذلك إلا في أصولِ البِرِّ والإثمِ وكلياتِها دون فروعِها وحدودِها. وهذه الفطرةُ هي الدينُ الذي لا يختلفُ باختلافِ الأعصارِ، والأنبياءُ كلُّهم مُجمِعونَ عليه.
دو قیدیں ایک ساتھ لگی ہیں، اور دونوں ضروری ہیں۔ ایک — یہ فطرت ہے، اور لن تجدَ لفطرةِ اللهِ تبديلاً؛ پس یہ ہر زمانے میں چلتی ہے۔ دو — مگر صرف أصولِ البِرِّ والإثمِ وكلياتِها میں، دون فروعِها وحدودِها: اصولوں اور کلیات میں، فروع اور حدود میں نہیں۔ اور اِسی پر دلیل قرآن و حدیث سے:
﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾
الأنبياءُ بنو عَلّاتٍ: أبوهم واحدٌ، وأمهاتُهم شتّى.
بنو عَلّات کے معنی: ایک باپ کی اولاد، مگر مائیں مختلف۔ یعنی انبیاء کا اصل ایک ہے اور شریعتیں مختلف — اور یہ بالکل وہی تقسیم ہے جو ابھی گزری: اصول ایک، فروع و حدود مختلف۔ میری
اور پھر وہ جملہ جو اِس باب کا سب سے بڑا فقہی و کلامی نتیجہ ہے:
والمؤاخذةُ على هذا القدرِ متحقِّقةٌ قبل بعثةِ الأنبياءِ وبعدها سواءٌ.یعنی اِس قدر پر — یعنی اصولِ برّ و اثم پر — مؤاخذہ انبیاء کی بعثت سے پہلے اور بعد میں برابر ہے۔ اور یہ وہ سوال ہے جس پر متکلمین کی طویل بحث ہے؛ باب اُس کا جواب اپنی چار وجوہ کی تقسیم سے نکالتا ہے، نہ کہ الگ سے کوئی اصول قائم کر کے۔
أصولُ البِرِّ أربعةٌ: التوحيدُ، والإيمانُ بصفاتِ اللهِ تعالى، والإيمانُ بالقدرِ، والإيمانُ بأن … انظر المبحثَ الخامسَ من القسمِ الأولِ.
حاشیہ اُس دائرے کو گِن کر متعین کر دیتا ہے، اور آگے کے مبحث کی طرف بھیج دیتا ہے۔ میری
باقی دو وجوہ کا حکم اِس سے مختلف ہے:
وأما المجازاةُ بالوجهِ الثالثِ فمختلفةٌ باختلافِ الأعصارِ، وهي الحاملةُ على بعثِ الأنبياءِ والرسلِ.
وأما المجازاةُ بالوجهِ الرابعِ فلا تكونُ إلا بعد بعثةِ الأنبياءِ، وكشفِ الشُبهةِ، وصحةِ التبليغِ.
تیسری وجہ زمانوں کے ساتھ بدلتی ہے — اور وہی انبیاء کے بھیجے جانے پر «حامل» ہے، یعنی سبب۔ اور چوتھی وجہ تین شرطوں کے بعد ہی چلتی ہے: بعثت، شبہ کا دور ہونا، اور تبلیغ کا صحیح ہونا۔ اِس پر آیت:
﴿لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ﴾
لوحِ دوم · Plate II
چار وجوہ — اور ہر ایک کا وقت
چاروں شاخوں کی آخری سطر (سرخی میں) درجہ بندی ہے: پہلی دو فطرة — بعثت سے پہلے بھی؛ تیسری زمانے کے ساتھ بدلتی اور سببِ بعثت؛ چوتھی بعثت کے بعد۔
«جزا ایک بیرونی انعام یا سزا ہے۔» — پہلی وجہ اِس کے برعکس ہے: مقتضى الصورةِ النوعيةِ۔ چوپائے کو گوشت کھلانے پر کوئی سزا نہیں دیتا؛ اُس کا مزاج بگڑ جاتا ہے، اور یہی نتیجہ ہے۔ اعمال کی «روحیں» مزاجِ ملکی کی غذا یا زہر ہیں۔ اور باب ٦ کی بےہوشی کی مثال یاد رکھیے: اثر ابھی ہے، اِدراک بعد میں۔
«بعثت سے پہلے کوئی مؤاخذہ نہیں۔» — متن صریح ہے: والمؤاخذةُ على هذا القدرِ متحقِّقةٌ قبل بعثةِ الأنبياءِ وبعدها سواءٌ۔ مگر «هذا القدر» کی قید نہ چھوڑیے: صرف أصولِ البِرِّ والإثمِ وكلياتِها، دون فروعِها وحدودِها۔ دونوں طرف غلو ممکن ہے — نہ سب کچھ فطرت سے ثابت ہے، نہ بعثت سے پہلے کوئی ذمہ داری نہیں۔
التجدُّد في الجبروت کو صفاتِ الٰہی میں تبدیلی نہ سمجھیے۔ متن اُسے إعداد کے مفہوم سے بیان کرتا ہے، اور تینوں تمثیلیں اِسی پر ہیں: آگ کے قریب ہونا پانی کو تیار کرتا ہے؛ مقدمات نتیجے کے لیے تیاری ہیں؛ دعا اجابت کے لیے۔ ہر مثال میں بدلنے والا وصول کرنے والا ہے۔ اور آیت بھی اُسی رخ پر ہے: حتى يُغيِّروا ما بأنفسِهم۔ لفظ من هذا الوجهِ (اِس وجہ سے) قید ہے، اُسے گرا دینا پورے جملے کا مطلب بدل دیتا ہے۔
منجم کی تشبیہ ستاروں کو فاعل نہیں بناتی۔ جملے کی ساخت فكما يعرفُ المُنجِّمُ … فكذلك يعرفُ العارفُ باللهِ ہے — مقابلہ جاننے کے طریقے کا ہے۔ اور وقت کا تعین شرع کے لفظ سے ہوتا ہے (الليلة المباركة)۔ باب ٤ کے ساتھ ملا کر پڑھیے، جہاں نجوم کی ممانعت اور خواص کی نفی سے انکار، دونوں موجود ہیں۔
«فرشتے ہماری مدرکہ قوتوں کی طرح ہیں» — تشبیہ کا رخ دیکھیے۔ نسبت نوع کے ساتھ ہے، فرد کے ساتھ نہیں: وأفرادُ الإنسانِ كلُّها بمنزلةِ القوى الطبيعيةِ۔ یعنی پوری نوع ایک جسم، افراد اُس کی طبعی قوتیں، فرشتے اُس کی مدرکہ قوتیں۔ اِسے فرد کی سطح پر لے جانے سے تشبیہ ٹوٹ جاتی ہے۔
یہ باب مبحث کا دوسرا نصف کھولتا ہے۔ عنوان في أسبابِ التكليفِ والمجازاةِ ہے؛ ابواب ٦ اور ٧ نے تکلیف مکمل کی، یہ باب مجازاة شروع کرتا ہے۔ آگے کے ابواب (جبلت کا اختلاف، خواطر کے اسباب، اعمال کا نفس سے چمٹنا) اِسی چوکھٹے میں آئیں گے۔
حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري — باب ٨ — اقتضاء التكليف المجازاة۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔
اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔
لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔
کی بورڈ: → پچھلا باب · ← اگلا باب · Esc فہرست · متن کے لیے نیچے کا بٹن