حجة الله البالغة — شاہ ولی اللہ دہلویفہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ٨

تکلیف کا جزا کا تقاضا

باب اقتضاء التكليف المجازاة
چار وجوہ — اور اُن میں دو نبی کے آنے سے پہلے بھی چلتی ہیں

iqtiḍāʾ al-taklīf al-mujāzāt

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغةشاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ٨ — اقتضاء التكليف المجازاة
مقام
القسم الأول — المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پچھلے ابواب
باب ٥باب ٦باب ٧
اگلا باب
باب ٩ — اختلاف الناس في جبلتهم
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريدار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

ربط: مبحث کا عنوان ہی في أسبابِ التكليفِ والمجازاةِ ہے۔ باب ٦ اور ٧ نے پہلا حصہ مکمل کیا — تکلیف کہاں سے آئی۔ یہ باب دوسرا حصہ شروع کرتا ہے: جزا کہاں سے آتی ہے۔ اور پہلی ہی وجہ باب ٧ کی گھاس اور گوشت کی مثال اٹھا کر انسان پر لگا دیتی ہے۔

خلاصۂ باب
  1. دعویٰ: الناسُ مجزيّونَ بأعمالِهم، إن خيراً فخيرٌ، وإن شراً فشرٌّ — من أربعةِ وجوهٍ۔ چار الگ الگ راستے، اور ہر ایک کا طریقہ مختلف۔
  2. وجہ ١ — نوعی ساخت کا تقاضا: جیسے چوپائے کو گھاس اور درندے کو گوشت ملے تو مزاج درست رہے، اور اُلٹ دیں تو بگڑ جائے — ویسے ہی انسان: جن اعمال کی روح الخشوعُ … والطهارةُ والسماحةُ والعدالةُ ہو، اُن سے مزاجِ ملکی درست ہوتا ہے۔ اور جب بدن کا بوجھ ہلکا ہو، تو وہ خود الملاءمة والمنافرة محسوس کرتا ہے۔
  3. وجہ ٢ — ملأِ اعلیٰ کی جہت: جیسے ہمارے دماغ میں مدرکہ قوتیں ہیں جو انگارے اور برف کو محسوس کرتی ہیں، ویسے ہی نوعِ انسان کے لیے فرشتے ہیں۔ ہر نجات دینے والے عمل سے اُن سے أشعةُ بهجةٍ وسرورٍ نکلتی ہیں، ہر ہلاک کرنے والے سے أشعةُ نفرةٍ وبغضٍ۔
  4. اور اُوپر بھی کچھ جاتا ہے: جیسے شعاعیں نیچے اترتی ہیں، ویسے ہی حظیرۃ القدس کی طرف ایک لون چڑھتا ہے جو رحمت یا غضب کے فیضان کے لیے تیاری کرتا ہے — مِثْلَ إعدادِ مجاورةِ النارِ الماءَ لتسخينِه۔
  5. وجہ ٣ — مکتوب شریعت کا تقاضا: زمانوں کے ساتھ بدلتی ہے، اور یہی انبیاء کے بھیجے جانے کا سبب ہے۔ وجہ ٤ — نبی کی بعثت: وحی کا علم متشخصاً متمثلاً ہو جاتا ہے اور نبی کی ہمت، دعا اور نصرت کے قضا سے مل جاتا ہے۔
  6. اور یہی باب کا اصل کام — درجہ بندی: پہلی دو وجوہ فطرةٌ فطرَ اللهُ الناسَ عليها ہیں، مگر صرف أصولِ البرِّ والإثمِ وكلياتِها دون فروعِها وحدودِها میں۔ اور اِسی قدر پر مؤاخذہ قبل بعثةِ الأنبياءِ وبعدها سواء — بعثت سے پہلے اور بعد، برابر۔

اصل نکتہ: باب ایک پرانے سوال کا منظم جواب ہے: جن تک نبی کی دعوت نہ پہنچی، اُن کا کیا حکم؟ جواب چار وجوہ کی تقسیم سے نکلتا ہے۔ جو وجوہ فطرة ہیں (نوعی ساخت اور ملأِ اعلیٰ) وہ ہر زمانے میں چلتی ہیں، مگر اُن کا دائرہ صرف اصول ہیں — فروع اور حدود نہیں۔ جو وجہ زمانے کے ساتھ بدلتی ہے (مکتوب شریعت) وہی بعثت کا سبب ہے۔ اور جو وجہ بعثت پر موقوف ہے وہ ﴿ليهلكَ من هلكَ عن بيّنةٍ﴾ کے بعد ہی چلتی ہے۔ یعنی جزا کے دائرے اور دلیل کے دائرے ساتھ ساتھ پھیلتے ہیں۔


۱

چار وجوہ — اور یہ باب کیوں ضروری تھا

مبحث کا عنوان دو چیزوں پر ہے: أسبابِ التكليفِ اور المجازاةِ۔ پچھلے دو باب پہلی چیز پر تھے۔ اب دوسری:

اعلمْ أن الناسَ مجزيّونَ بأعمالِهم، إن خيراً فخيرٌ، وإن شراً فشرٌّ، من أربعةِ وجوهٍ.

لفظ وجوه پر رُکیے۔ باب یہ نہیں کہتا کہ جزا کی چار قسمیں ہیں، بلکہ یہ کہ وہ چار راستوں سے آتی ہے — چار مختلف میکانیت، جو ایک ہی نتیجے پر پہنچتی ہیں۔ اور اِس تقسیم کا اصل فائدہ باب کے آخر میں کھلتا ہے، جب وہ بتاتے ہیں کہ اِن میں سے کون سی کب چلتی ہے۔

سوال جو پیچھے سے چلا آ رہا ہے۔ باب ٦ نے کہا تھا کہ انسان اپنی استعداد کی زبان سے تکلیف مانگتا ہے، اور باب ٧ نے کہا کہ احکام نوع کے لوازم ہیں۔ اِس سے فوراً ایک اعتراض بنتا ہے: میری کیا وہ باہر سے لگائی گئی ایک اور چیز ہے؟ باب کا جواب یہ ہے کہ نہیں — پہلی ہی وجہ جزا کو بھی اُسی ساخت سے نکالتی ہے۔

۲

وجہ ١: نوعی ساخت کا تقاضا

پہلی وجہ سیدھا باب ٧ کی مثال اٹھاتی ہے — وہی گھاس اور گوشت — اور اُسے انسان پر لگا دیتی ہے:

أحدُها مقتضى الصورةِ النوعيةِ: فكما أن البهيمةَ إذا عُلِفَتِ الحشيشَ، والسبعَ إذا عُلِفَ اللحمَ صحَّ مزاجُهما، وإذا عُلِفَتِ البهيمةُ اللحمَ، والسبعُ الحشيشَ فسدَ مزاجُهما — فكذلك الإنسانُ إذا باشرَ أعمالاً أرواحُها الخشوعُ بجانبِ الحقِّ، والطهارةُ والسماحةُ والعدالةُ صلحَ مزاجُه المَلَكيُّ، وإذا باشرَ أعمالاً أرواحُها أضدادُ هذه الخِصالِ فسدَ مزاجُه المَلَكيُّ.

یعنی جزا یہاں کسی عدالت کا فیصلہ نہیں — وہ غذا کا اثر ہے۔ چوپائے کو گوشت کھلا دیجیے تو کوئی اُسے سزا نہیں دیتا؛ اُس کا مزاج بگڑ جاتا ہے، اور یہی سزا ہے۔ اِسی طرح جن اعمال کی «روح» خشوع، طہارت، سماحت اور عدالت ہو، وہ مزاجِ ملکی کی غذا ہیں؛ اور اُن کے اضداد اُس کے لیے وہی ہیں جو چوپائے کے لیے گوشت۔

اور اِس کا محسوس ہونا کب ہوتا ہے؟

فإذا تخفَّفَ عن ثِقلِ البدنِ أحسَّ بالملاءمةِ والمنافرةِ، شِبهَ ما يُحِسُّ أحدُنا من ألمِ الاحتراقِ.

یہ باب ٦ کی بےہوشی کی دلیل کا دوسرا سِرا ہے۔ وہاں کہا گیا تھا: انسان اُس شخص جیسا ہے جس نے مخدِّر لے لیا ہو — آگ کی لپٹ کا درد نہیں پاتا، اور جب اثر ٹوٹے تو وجدَ الألمَ أشدَّ ما يكونُ۔ یہاں وہی بات مثبت رخ سے: فإذا تخفَّفَ عن ثِقلِ البدنِ — جب بدن کا بوجھ ہلکا ہو۔ میری: اثر ابھی پڑ رہا ہے، اِدراک بعد میں کھلے گا۔ جزا مؤخر نہیں، اُس کا محسوس ہونا مؤخر ہے۔

۳

وجہ ٢: ملأِ اعلیٰ کی جہت — اور شعاعوں کا چکر

دوسری وجہ ایک نہایت جسور تشبیہ سے شروع ہوتی ہے:

وثانيها جهةُ الملأِ الأعلى: فكما أن الواحدَ منها له قوىً إدراكيةٌ مُودَعةٌ في الدماغِ يُحِسُّ بها ما وقعت عليه قدمُه من جَمرةٍ أو ثَلجةٍ، فكذلك بصورةِ الإنسانِ المتمثِّلةِ من الملكوتِ خُدّامٌ من الملائكةِ أوجدَها عنايةُ الحقِّ بنوعِ الإنسانِ، لأن نوعَ الإنسانِ لا يَصلُحُ إلا بهم، كما أن الواحدَ منا لا يَصلُحُ إلا بالقوةِ الإدراكيةِ.

نسبت یہ ہے: نوعِ انسان : فرشتے :: ایک فرد : اُس کی مدرکہ قوتیں۔ اور یہ محض تشبیہ نہیں رہتی — متن اُسے پلٹ کر صریح کر دیتا ہے: وأفرادُ الإنسانِ كلُّها بمنزلةِ القوى الطبيعيةِ لهذه الملائكةِ۔ یعنی پوری نوع ایک جسم کی طرح ہے، افراد اُس کی طبعی قوتیں، اور فرشتے اُس کی مدرکہ قوتیں۔ باب ٧ میں یہی نسبت ملأِ اعلیٰ کے وجود کی وجہ بتائی گئی تھی؛ یہاں وہی نسبت جزا کی میکانیت بن جاتی ہے۔

فكلَّما فعلَ فردٌ من أفرادِ الإنسانِ فعلاً مُنجياً خرجت من تلك الملائكةِ أشعةُ بهجةٍ وسرورٍ، وكلَّما فعلَ فعلاً مُهلِكاً خرجت منها أشعةُ نفرةٍ وبُغضٍ، فحلَّت تلك الأشعةُ في نفسِ هذا الفردِ فأورثت بهجةً أو وَحشةً، أو في نفوسِ بعضِ الملائكةِ أو بعضِ الناسِ، فانعقدَ الإلهامُ أن يُحبّوه ويُحسِنوا إليه، أو يُبغِضوه ويُسيئوا إليه.

غور کیجیے کہ شعاعیں تین جگہ گر سکتی ہیں: خود اُس فرد کے نفس میں (تو بہجت یا وحشت پیدا ہوتی ہے)، یا بعض فرشتوں کے نفوس میں، یا بعض لوگوں کے نفوس میں — اور تب فانعقدَ الإلهامُ کہ وہ اُس سے محبت کریں اور احسان کریں، یا نفرت کریں اور برائی کریں۔ یعنی «لوگوں کا رویہ» بھی اِسی نظام کا ایک راستہ ہے۔

اور اِس کے بعد متن ایک ایسی تفصیل دیتا ہے جو طبی ہے اور جان بوجھ کر بےپردہ:

فكما أن الواحدَ منا قد يتوقَّعُ ألماً أو ذُلاًّ فترتعدُ فرائصُه، ويَصفَرُّ لونُه، ويَضعُفُ جسدُه، وربما تسقُطُ شهوتُه، ويحمَرُّ بولُه … فهذا كلُّه تأثيرُ القوةِ الإدراكيةِ في الطبيعةِ ووحيُها إليها وقهرُها عليها.

خوف کی خبر ذہن میں ہوتی ہے، اور اثر بدن پر: کپکپی، رنگ کا زرد ہونا، کمزوری۔ اور متن اِس اثر کو تین لفظوں سے نامزد کرتا ہے: تأثير، وحي، قهر۔ میری — کیونکہ اگلی سطر میں وہی لفظ فرشتوں اور انسانوں کے تعلق پر لگے گا: يترشَّحُ منها عليهم … إلهاماتٌ جِبِلّيةٌ وحالاتٌ طبيعيةٌ۔ ادراک اپنی طبیعت پر جو کرتا ہے، فرشتے نوع پر وہی کرتے ہیں۔

اور اب چکر کا دوسرا نصف — جو اوپر جاتا ہے:

وكما تهبطُ تلك الأشعةُ إلى السُّفلِ فكذلك يصعَدُ إلى حظيرةِ القدسِ منها لونٌ يُعِدُّ لفيضانِ هيئةٍ تُسمّى بالرحمةِ والرضا، أو الغضبِ واللعنِ، مِثْلَ إعدادِ مجاورةِ النارِ الماءَ لتسخينِه، وإعدادِ المقدّماتِ للنتيجةِ، وإعدادِ الدعاءِ للإجابةِ.

فيتحقَّقُ التجدُّدُ في الجبروتِ من هذا الوجهِ، فيكونُ غضبٌ ثم توبةٌ، ويكونُ رحمةٌ ثم نقمةٌ.
یہ باب کا سب سے نازک مقام ہے، اور تین تمثیلیں اُسے سنبھالتی ہیں۔ سوال یہ ہے: اگر اللہ کی صفات میں تبدیلی نہیں، تو «غضب پھر توبہ» اور «رحمت پھر نقمت» کیسے؟ متن جواب إعداد (تیاری) کے مفہوم سے دیتا ہے، اور تینوں مثالیں اِسی پر ہیں: آگ کے قریب ہونا پانی کو گرم ہونے کے لیے تیار کرتا ہے — آگ بدلی نہیں، پانی کی حالت بدلی۔ مقدمات نتیجے کے لیے تیاری ہیں — منطق بدلی نہیں۔ دعا اجابت کے لیے تیاری ہے — دینے والا بدلا نہیں۔ پس التجدُّد «اِس وجہ سے» ہے، یعنی وصول کرنے والے کی طرف سے۔ اور اِس پر آیت لائی جاتی ہے جو بالکل اِسی رخ کی ہے۔
قرآن — الرعد: ١١

﴿إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾

اور آخر میں نقل سے تائید: نبی ﷺ نے کئی احادیث میں خبر دی کہ فرشتے بنی آدم کے اعمال اللہ کی طرف اٹھاتے ہیں، اور اللہ اُن سے پوچھتا ہے كيف تركتم عبادي؟، اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اٹھایا جاتا ہے —

يُنبِّهُ ﷺ على ضربٍ من توسُّطِ الملائكةِ بين بني آدمَ وبين نورِ اللهِ القائمِ وسطَ حظيرةِ القدسِ.

لوحِ اوّل · Plate I

شعاعوں کا چکر — عمل سے «تجدد» تک

فيتحقَّقُ التجدُّدُ في الجبروتِ من هذا الوجهِ — «اِس وجہ سے»، یعنی تیاری کی طرف سے۔ جیسے آگ کے قریب ہونا پانی کو گرم ہونے کے لیے تیار کرتا ہے۔

یہ وجہِ دوم کی میکانیت ہے، متن کے الفاظ میں۔ نیچے اترنے والی أشعة اور اوپر چڑھنے والا لون — اور اوپر جو ہوتا ہے وہ إعداد ہے، تینوں تمثیلوں کے مطابق۔


۴

وجہ ٣ اور ٤: مکتوب شریعت، اور نبی کی بعثت

تیسری وجہ ایک تشبیہ سے بیان ہوتی ہے جو محتاط پڑھنے کی طلب کرتی ہے:

وثالثها مقتضى الشريعةِ المكتوبةِ عليهم: فكما يعرفُ المُنجِّمُ أن الكواكبَ إذا كان لها نظرٌ من النظراتِ حصلت روحانيةٌ ممتزجةٌ من قواها متمثِّلةٌ في جزءٍ من الفلكِ … فكذلك يعرفُ العارفُ باللهِ أنه إذا جاء وقتٌ من الأوقاتِ تُسمّى في الشرعِ بالليلةِ المباركةِ التي فيها يُفرَقُ كلُّ أمرٍ حكيمٍ حصلت روحانيةٌ في الملكوتِ ممتزجةٌ من أحكامِ نوعِ الإنسانِ ومُقتضى هذا الوقتِ.

اور اُس کے بعد اُس روحانیت کا اثر: يترشَّحُ من هنالك إلهاماتٌ على أذكى خلقِ اللهِ يومئذٍ — اُس دن کی سب سے ذہین مخلوق پر الہامات؛ پھر اُس کے واسطے سے اُن نفوس پر جو ذہانت میں اُس کے بعد ہیں؛ پھر باقی لوگوں کو اُن الہامات کے قبول اور استحسان کا الہام ہوتا ہے۔

حاشیہ

النظراتُ هي القِراناتُ، كما تقدَّمَ قريباً.

یہاں احتیاط ضروری ہے، اور حاشیہ خود اشارہ دے دیتا ہے۔ النظرات وہی القِرانات ہیں جو باب ٧ میں گزرے۔ مگر باب ٤ صاف کہہ چکا ہے کہ انسانی حوادث کو ستاروں کی حرکات سے جوڑنا شرعاً ثابت نہیں، اور نجوم میں پڑنے کی ممانعت ہے۔ میری دیکھیے کہ جملہ کیسے بنا ہے: فكما يعرفُ المُنجِّمُ … فكذلك يعرفُ العارفُ باللهِ — یعنی مقابلہ جاننے کے طریقے کا ہے، نہ کہ ستاروں کو فاعل ماننے کا۔ اور «وقت» کا تعین شرع کے لفظ سے ہوتا ہے (الليلة المباركة)، منجم کے حساب سے نہیں۔ اِس فرق کو نہ رکھا جائے تو باب ٤ اور یہ باب آپس میں ٹکراتے نظر آئیں گے۔

اور چوتھی وجہ سب سے مختصر ہے، مگر اُس کی ترکیب دلچسپ ہے:

ورابعها أن النبيَّ إذا بُعِثَ في الناسِ، وأرادَ اللهُ تعالى ببعثِه لُطفاً بهم وتقريباً لهم إلى الخيرِ، وأوجبَ طاعتَه عليهم — صار العلمُ الذي يُوحى إليه متشخِّصاً متمثِّلاً، وامتزجَ بهِمَّةِ هذا النبيِّ ودعائِه وقضاءِ اللهِ تعالى بالنصرِ له، فتأكَّدَ وتحقَّقَ.

تین چیزیں گھل کر ایک ہو جاتی ہیں: وحی کا علم (جو متشخص و متمثل ہو گیا)، نبی کی ہمت اور دعا، اور نصرت کا قضا۔ اور نتیجہ دو لفظوں میں: فتأكَّدَ وتحقَّقَ۔ یعنی اِس وجہ میں جزا کا زور نبی کی شخصی شرکت سے آتا ہے — اِسی لیے یہ وجہ بعثت کے بعد ہی ممکن ہے۔


۵

اور اب اصل کام: چاروں کی درجہ بندی

یہاں تک چار میکانیتیں بیان ہوئیں۔ اب باب وہ کام کرتا ہے جس کے لیے یہ تقسیم بنائی گئی تھی — وہ بتاتا ہے کہ کون سی وجہ کب چلتی ہے۔

أما المجازاةُ في الوجهينِ الأولينِ ففِطرةٌ فطرَ اللهُ الناسَ عليها، ولن تجدَ لفطرةِ اللهِ تبديلاً، وليس ذلك إلا في أصولِ البِرِّ والإثمِ وكلياتِها دون فروعِها وحدودِها. وهذه الفطرةُ هي الدينُ الذي لا يختلفُ باختلافِ الأعصارِ، والأنبياءُ كلُّهم مُجمِعونَ عليه.

دو قیدیں ایک ساتھ لگی ہیں، اور دونوں ضروری ہیں۔ ایک — یہ فطرت ہے، اور لن تجدَ لفطرةِ اللهِ تبديلاً؛ پس یہ ہر زمانے میں چلتی ہے۔ دو — مگر صرف أصولِ البِرِّ والإثمِ وكلياتِها میں، دون فروعِها وحدودِها: اصولوں اور کلیات میں، فروع اور حدود میں نہیں۔ اور اِسی پر دلیل قرآن و حدیث سے:

قرآن — الأنبياء: ٩٢

﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾

حدیث

الأنبياءُ بنو عَلّاتٍ: أبوهم واحدٌ، وأمهاتُهم شتّى.

بنو عَلّات کے معنی: ایک باپ کی اولاد، مگر مائیں مختلف۔ یعنی انبیاء کا اصل ایک ہے اور شریعتیں مختلف — اور یہ بالکل وہی تقسیم ہے جو ابھی گزری: اصول ایک، فروع و حدود مختلف۔ میری

اور پھر وہ جملہ جو اِس باب کا سب سے بڑا فقہی و کلامی نتیجہ ہے:

والمؤاخذةُ على هذا القدرِ متحقِّقةٌ قبل بعثةِ الأنبياءِ وبعدها سواءٌ.

یعنی اِس قدر پر — یعنی اصولِ برّ و اثم پر — مؤاخذہ انبیاء کی بعثت سے پہلے اور بعد میں برابر ہے۔ اور یہ وہ سوال ہے جس پر متکلمین کی طویل بحث ہے؛ باب اُس کا جواب اپنی چار وجوہ کی تقسیم سے نکالتا ہے، نہ کہ الگ سے کوئی اصول قائم کر کے۔

حاشیہ

أصولُ البِرِّ أربعةٌ: التوحيدُ، والإيمانُ بصفاتِ اللهِ تعالى، والإيمانُ بالقدرِ، والإيمانُ بأن … انظر المبحثَ الخامسَ من القسمِ الأولِ.

حاشیہ اُس دائرے کو گِن کر متعین کر دیتا ہے، اور آگے کے مبحث کی طرف بھیج دیتا ہے۔ میری

باقی دو وجوہ کا حکم اِس سے مختلف ہے:

وأما المجازاةُ بالوجهِ الثالثِ فمختلفةٌ باختلافِ الأعصارِ، وهي الحاملةُ على بعثِ الأنبياءِ والرسلِ.

وأما المجازاةُ بالوجهِ الرابعِ فلا تكونُ إلا بعد بعثةِ الأنبياءِ، وكشفِ الشُبهةِ، وصحةِ التبليغِ.

تیسری وجہ زمانوں کے ساتھ بدلتی ہے — اور وہی انبیاء کے بھیجے جانے پر «حامل» ہے، یعنی سبب۔ اور چوتھی وجہ تین شرطوں کے بعد ہی چلتی ہے: بعثت، شبہ کا دور ہونا، اور تبلیغ کا صحیح ہونا۔ اِس پر آیت:

قرآن — الأنفال: ٤٢

﴿لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ﴾

یہاں پورا باب ایک نقشے میں بیٹھ جاتا ہے۔ جزا کے چار راستے ہیں، اور وہ ایک ساتھ نہیں کھلتے۔ دو ہمیشہ کھلے ہیں مگر اُن کا دائرہ تنگ ہے (صرف اصول)۔ تیسرا زمانے کے ساتھ بدلتا ہے، اور اُسی کی ضرورت نبی کو بھیجواتی ہے۔ چوتھا تب کھلتا ہے جب بیّنہ قائم ہو جائے۔ میری — اور یہی الحجة البالغة کا تقاضا ہے، جو پچھلے باب کا عنوان تھا۔ جتنی حجت پہنچی، اُتنا مؤاخذہ۔

لوحِ دوم · Plate II

چار وجوہ — اور ہر ایک کا وقت

مجزيّونَ بأعمالِهممن أربعةِ وجوهٍfour aspects of recompenseمقتضى الصورةِ النوعيةِكالبهيمةِ تُعلَفُ اللحمَ فيفسُدُ مزاجُهاصلحَ مزاجُه المَلَكيُّ أو فسدَفطرةٌ — قبل البعثةِ وبعدها سواءٌجهةُ الملأِ الأعلىأشعةُ بهجةٍ أو نفرةٍولونٌ يصعَدُ — إعدادٌ لا تغيُّرٌفطرةٌ — في الأصولِ لا الفروعِمقتضى الشريعةِ المكتوبةِالليلةُ المباركةُ — على أذكى خلقِ اللهِمختلفةٌ باختلافِ الأعصارِوهي الحاملةُ على بعثِ الأنبياءِبعثةُ النبيِّامتزجَ بهِمَّتِه ودعائِه وقضاءِ النصرِفتأكَّدَ وتحقَّقَلا تكونُ إلا بعد البعثةِ والبيِّنةِ

چاروں شاخوں کی آخری سطر (سرخی میں) درجہ بندی ہے: پہلی دو فطرة — بعثت سے پہلے بھی؛ تیسری زمانے کے ساتھ بدلتی اور سببِ بعثت؛ چوتھی بعثت کے بعد۔


۶

یہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«جزا ایک بیرونی انعام یا سزا ہے۔» — پہلی وجہ اِس کے برعکس ہے: مقتضى الصورةِ النوعيةِ۔ چوپائے کو گوشت کھلانے پر کوئی سزا نہیں دیتا؛ اُس کا مزاج بگڑ جاتا ہے، اور یہی نتیجہ ہے۔ اعمال کی «روحیں» مزاجِ ملکی کی غذا یا زہر ہیں۔ اور باب ٦ کی بےہوشی کی مثال یاد رکھیے: اثر ابھی ہے، اِدراک بعد میں۔

عام غلط فہمی

«بعثت سے پہلے کوئی مؤاخذہ نہیں۔» — متن صریح ہے: والمؤاخذةُ على هذا القدرِ متحقِّقةٌ قبل بعثةِ الأنبياءِ وبعدها سواءٌ۔ مگر «هذا القدر» کی قید نہ چھوڑیے: صرف أصولِ البِرِّ والإثمِ وكلياتِها، دون فروعِها وحدودِها۔ دونوں طرف غلو ممکن ہے — نہ سب کچھ فطرت سے ثابت ہے، نہ بعثت سے پہلے کوئی ذمہ داری نہیں۔

باریک نکتہ

التجدُّد في الجبروت کو صفاتِ الٰہی میں تبدیلی نہ سمجھیے۔ متن اُسے إعداد کے مفہوم سے بیان کرتا ہے، اور تینوں تمثیلیں اِسی پر ہیں: آگ کے قریب ہونا پانی کو تیار کرتا ہے؛ مقدمات نتیجے کے لیے تیاری ہیں؛ دعا اجابت کے لیے۔ ہر مثال میں بدلنے والا وصول کرنے والا ہے۔ اور آیت بھی اُسی رخ پر ہے: حتى يُغيِّروا ما بأنفسِهم۔ لفظ من هذا الوجهِ (اِس وجہ سے) قید ہے، اُسے گرا دینا پورے جملے کا مطلب بدل دیتا ہے۔

باریک نکتہ

منجم کی تشبیہ ستاروں کو فاعل نہیں بناتی۔ جملے کی ساخت فكما يعرفُ المُنجِّمُ … فكذلك يعرفُ العارفُ باللهِ ہے — مقابلہ جاننے کے طریقے کا ہے۔ اور وقت کا تعین شرع کے لفظ سے ہوتا ہے (الليلة المباركةباب ٤ کے ساتھ ملا کر پڑھیے، جہاں نجوم کی ممانعت اور خواص کی نفی سے انکار، دونوں موجود ہیں۔

باریک نکتہ

«فرشتے ہماری مدرکہ قوتوں کی طرح ہیں» — تشبیہ کا رخ دیکھیے۔ نسبت نوع کے ساتھ ہے، فرد کے ساتھ نہیں: وأفرادُ الإنسانِ كلُّها بمنزلةِ القوى الطبيعيةِ۔ یعنی پوری نوع ایک جسم، افراد اُس کی طبعی قوتیں، فرشتے اُس کی مدرکہ قوتیں۔ اِسے فرد کی سطح پر لے جانے سے تشبیہ ٹوٹ جاتی ہے۔

سیاق

یہ باب مبحث کا دوسرا نصف کھولتا ہے۔ عنوان في أسبابِ التكليفِ والمجازاةِ ہے؛ ابواب ٦ اور ٧ نے تکلیف مکمل کی، یہ باب مجازاة شروع کرتا ہے۔ آگے کے ابواب (جبلت کا اختلاف، خواطر کے اسباب، اعمال کا نفس سے چمٹنا) اِسی چوکھٹے میں آئیں گے۔


۷

مزید گہرائی

یہ سوالات کھلے ہیں

  • التجدُّد في الجبروت — یہ تعبیر متکلمین کے ہاں «حدوث در ذات» کے مسئلے سے کہاں تک ملتی ہے؟ إعداد کی تینوں تمثیلیں کیا اُس اعتراض کو مکمل طور پر دور کر دیتی ہیں؟
  • حاشیہ أصول البر کو چار گِنتا ہے اور المبحث الخامس کی طرف بھیجتا ہے۔ کیا وہاں یہی چار ہیں، اور کیا اُن کا انتخاب کسی اصول پر ہے یا استقراء پر؟
  • اگر وجہِ سوم «انبیاء کے بھیجے جانے پر حامل» ہے، تو کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ بعثت کا وقت فلکی احوال سے متعین ہوتا ہے؟ باب ٤ کی روشنی میں یہ سوال کھلا رہتا ہے۔
  • فانعقدَ الإلهامُ أن يُحبّوه — لوگوں کے رویّے کو جزا کا ایک راستہ بنانا۔ یہ «دنیوی جزا» کے مسئلے سے کس طرح جڑتا ہے، اور کیا اِس سے ظلم کے مسئلے پر کوئی اثر پڑتا ہے (کہ نیک کو کبھی لوگوں سے تکلیف پہنچتی ہے)؟
  • ﴿إن هذه أمتكم أمة واحدة﴾ — الفاظ الأنبياء ٩٢ کے ہیں، مگر پالن پوری صاحب کا حاشیہ المؤمنون ٥٢ کا حوالہ دیتا ہے، جہاں آیت واؤ کے ساتھ ہے۔ کون سا حوالہ مصنف کا مقصود ہے؟
  • وجہِ اوّل اور وجہِ دوم دونوں کو فطرة کہا گیا۔ مگر پہلی ساخت کا اثر ہے اور دوسری فرشتوں کی جہت سے۔ کیا دونوں کا «فطری» ہونا ایک ہی معنی میں ہے؟
الفاظ کہاں سے: اِس باب کی عبارتیں پالن پوری صاحب کے اسکین سے پڑھی گئی ہیں اور حواشی بھی وہیں سے۔ اُن کا نسخہ ایک جگہ شاملہ کی درستی کرتا ہے: تُسمّى بالرحمةِ والرضا، أو الغضبِ واللعنِ — شاملہ چاروں کو واؤ سے ایک فہرست بنا دیتا ہے، جبکہ «أو» سے مراد دو متبادل حالتیں ہیں۔ مگر تین مقامات پر اسکین ناقابلِ قراءت تھا — باب کا افتتاحی جملہ، وجہِ دوم کا آغاز، اور فيتحقَّقُ التجدُّدُ في الجبروتِ والا فقرہ — اِن کے الفاظ شاملہ کے متن سے ہیں۔ اور ایک حوالہ مشتبہ ہے: ﴿إن هذه أمتكم أمة واحدة﴾ کے الفاظ الأنبياء ٩٢ کے مطابق ہیں (واؤ کے بغیر)، مگر حاشیہ المؤمنون ٥٢ کہتا ہے؛ یہاں الفاظ کے مطابق حوالہ دیا گیا ہے۔ مطبوعہ صفحے سے ملا لیجیے۔
بنیادی نسخہ

حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريباب ٨ — اقتضاء التكليف المجازاة۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔

اردو شرح

اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔

متن میں تلاش کے لیے

لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔

کی بورڈ: پچھلا باب  ·  اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن