حجة الله البالغة — شاہ ولی اللہ دہلویفہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ٥

حقیقتِ روح

باب حقيقة الروح
تین نظریں، تین طبقے — اور موت کی نئی تعریف

ḥaqīqat al-rūḥ

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغةشاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ٥ — حقيقة الروح
مقام
القسم الأول — المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پچھلے ابواب
باب ٢باب ٣باب ٤
اگلا باب
باب ٦ — سرّ التكليف
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريدار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

ربط: باب ٤ نے کہا تھا کہ تکلیف کی بنیاد استطاعت ہے۔ مگر مکلَّف کون ہے؟ یہ باب اُس «کون» کی ساخت کھولتا ہے — اور آخری سطر میں اگلے باب کا دروازہ رکھ دیتا ہے: نَسَمہ کے دو رُخ، المَلَكيّة اور البهيميّة، جن کی کشمکش سے سرّ التكليف شروع ہوتا ہے۔

خلاصۂ باب
  1. آیت کا دائرہ: ﴿قل الروح من أمر ربي﴾ کو عموماً «یہ سوال ممنوع ہے» کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ متن ابنِ مسعودؓ کی روایت سے اعمش کی قراءت ﴿وما أوتوا من العلم إلا قليلاً﴾ پیش کرتا ہے — یعنی خطاب پوچھنے والے یہود سے تھا، اور آیت اِس پر نصّ نہیں کہ اِس اُمت میں کوئی حقیقتِ روح نہیں جان سکتا۔
  2. اور ایک عام اصول: جس پر شریعت خاموش ہے وہ ہر بار ناقابلِ معرفت نہیں — اکثر خاموشی اِس لیے ہوتی ہے کہ وہ معرفة دقيقة ہے جو جمہورِ اُمت کے برتنے کی چیز نہیں، اگرچہ بعض کے لیے ممکن ہو۔
  3. تین متعاقب نظریں — اور یہی باب کی ریڑھ ہے۔ (۱) پہلی نظر: روح مبدأ الحياة ہے۔ (۲) غور کیجیے تو بدن میں ایک بخار لطيف ہے، دل میں خلاصة الأخلاط سے پیدا ہوتا ہے، حساس و محرک قوتیں اٹھاتا ہے — يجري فيه حكمُ الطبِّ۔ (۳) مزید غور کیجیے تو یہی بخار اصل روح کی مطيّة (سواری) نکلتا ہے۔
  4. دلیل — «شخص ہو ہو رہتا ہے»: بچہ جوان اور بوڑھا ہوتا ہے، بدن کے اخلاط اور اُن سے پیدا ہونے والی روح ہزار بار سے زیادہ بدلتی ہے، رنگ، جسامت، علم — سب بدلتے ہیں، والشخصُ هو هو۔ پس جس چیز سے وہ «وہ» ہے، وہ نہ یہ روح ہے، نہ یہ بدن، نہ یہ مشخصات۔
  5. تو روح کیا ہے: حقيقةٌ فردانيةٌ ونقطةٌ نورانيةٌ — جس کا طَور اِن بدلتے متضاد اطوار سے بلند ہے۔ اور وہ كوّةٌ من عالَمِ القُدسِ ہے، ایک روشندان، جس سے نَسَمہ پر وہ سب اترتا ہے جس کی اُس نے استعداد پیدا کی ہو۔
  6. موت کی نئی تعریف: موت نَسَمہ کا بدن سے جدا ہونا ہے — لا انفكاكُ الروحِ القُدسيِّ عن النَّسَمةِ۔ روح نَسَمہ سے جدا نہیں ہوتی؛ اِسی لیے برزخ ممکن ہے۔

اصل نکتہ: باب کی سب سے بڑی تعمیر یہ ہے کہ اُس نے دو کے درمیان تیسری چیز رکھ دی۔ روح اور بدن — اِن دو کے بیچ النَّسَمة ہے، ایک برزخ متوسط۔ اور جہاں برزخ ہو وہاں دو رُخ لازم ہیں: ایک قدس کی طرف، ایک زمین کی طرف۔ اِسی سے المَلَكيّة اور البهيميّة نکلتے ہیں — اور اگلا پورا باب اُنہی دو کی کشمکش پر ہے۔ یعنی «روح کیا ہے» کا جواب براہِ راست «تکلیف کیوں ہے» کا جواب بن جاتا ہے۔


۱

آیت کیا کہتی ہے — اور کیا نہیں کہتی

باب کا آغاز اُسی آیت سے ہے جو اِس موضوع پر سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے:

قرآن — الإسراء: ٨٥

﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾

اب اصل قدم دیکھیے۔ متن ایک قراءت پیش کرتا ہے، اور اُس سے ایک نتیجہ نکالتا ہے:

وقرأ الأعمشُ من روايةِ ابنِ مسعودٍ ﴿وَمَا أُوتُوا مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾، ويُعلَمُ من هنالك أن الخطابَ لليهودِ السائلين عن الروحِ، وليست الآيةُ نصّاً في أنه لا يعلمُ أحدٌ من الأمةِ المرحومةِ حقيقةَ الروحِ كما يُظَنُّ.

فرق باریک ہے مگر پورا وزن اُسی پر ہے۔ مشہور قراءت میں أُوتِيتُم ہے — «تمہیں علم نہیں دیا گیا»، اور مخاطب کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ اعمش کی قراءت میں أُوتُوا ہے — «اُنہیں علم نہیں دیا گیا»، غائب کا صیغہ، یعنی وہی لوگ جو سوال کر رہے تھے۔ ضمیر بدلنے سے آیت کا دائرہ بدل جاتا ہے: جملہ ایک عمومی پابندی سے ایک مخصوص گروہ پر تبصرہ بن جاتا ہے۔

اور پھر اِس سے ایک عام اصول برآمد ہوتا ہے، جو پوری کتاب کے منہج کا اعلان ہے:

وليس كلُّ ما سكتَ عنه الشرعُ لا يُمكِنُ معرفتُه البتّةَ، بل كثيراً ما يُسكَتُ عنه لأجلِ أنه معرفةٌ دقيقةٌ لا يصلُحُ لتعاطيها جمهورُ الأمةِ، وإن أمكنَ لبعضِهم.

یہ سطر پوری کتاب کا جواز ہے۔ شریعت کی خاموشی دو طرح کی ہو سکتی ہے: «یہ جاننا ناممکن ہے»، یا «یہ سب کے سنبھالنے کی چیز نہیں»۔ شاہ ولی اللہ دوسری صورت اختیار کرتے ہیں — اور اِسی بنیاد پر پوری حجة الله البالغة لکھی جا سکتی ہے، جو اسرارِ شریعت کھولنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اگر پہلی صورت مانی جائے تو کتاب کا موضوع ہی ساقط ہو جاتا ہے۔

پالن پوری صاحب کا حاشیہ اِسی مقام پر آیت کو ایک وسیع تر جوڑے میں رکھتا ہے:

حاشیہ

واعلم أن النبيَّ ﷺ لما سُئِلَ عن حقيقةِ الروحِ أنزلَ اللهُ تعالى ﴿قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي﴾ فأشارَ إلى أنها من عالَمِ الأمرِ دونَ عالَمِ الخلقِ، وقال تعالى ﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ﴾ — فالبدنُ من عالَمِ الخلقِ المشهودِ، والروحُ من عالَمِ الأمرِ غيرِ المشهودِ، وليس في مقدرتِنا أن نفهمَ من حقيقتِها أكثرَ من هذا.

میری متن کہتا ہے: آیت دروازہ بند نہیں کرتی۔ حاشیہ کہتا ہے: اور پھر بھی ليس في مقدرتنا أن نفهم أكثر من هذا۔ دونوں مل کر باب کی آخری سطر کا مزاج بناتے ہیں — تحقیق جائز ہے، مگر ایک حد کے اندر۔


۲

تین نظریں — ایک ہی سوال پر

یہاں سے باب کا اصل طریقۂ کار شروع ہوتا ہے، اور وہ نہایت منظم ہے۔ ایک ہی سوال پر تین متعاقب نظریں ڈالی جاتی ہیں، اور ہر نظر پچھلی کو غلط نہیں کہتی — اُس کے نیچے ایک اور طبقہ کھول دیتی ہے۔

پہلی نظر — سب سے پہلے جو بات سمجھ میں آتی ہے:

واعلمْ أن الروحَ أوّلُ ما يُدرَكُ من حقيقتها أنها مبدأُ الحياةِ في الحيوانِ، وأنه يكون حيّاً بنفخِ الروحِ فيه، ويكون ميْتاً بمفارقتِها منه.

یہ تعریف اپنے کام کے لیے کافی ہے مگر ہے وہ عملی — یعنی روح کو اُس کے اثر سے پہچانا گیا ہے، نہ کہ اُس کی ذات سے۔

دوسری نظرإذا أُمعِنَ في التأمُّل، جب غور بڑھایا جائے:

ثم إذا أُمعِنَ في التأمُّلِ يَنجلي أن في البدنِ بخاراً لطيفاً، متولداً في القلبِ من خلاصةِ الأخلاطِ، يحملُ القوى الحسّاسةَ والمحرِّكةَ والمدبِّرةَ للغذاءِ، يجري فيه حكمُ الطبِّ.

پانچ لفظ الگ سے دیکھنے کے قابل ہیں۔ بخار لطيف — ایک لطیف بخار، یعنی مادی مگر انتہائی باریک۔ متولد في القلب — دل میں پیدا ہونے والا۔ من خلاصة الأخلاط — اخلاط کے «خلاصے» سے، یعنی بدن کے مادّوں کی سب سے صاف تہہ سے۔ يحمل القوى — یہ خود قوت نہیں، قوتوں کا حامل ہے۔ اور سب سے اہم: يجري فيه حكمُ الطبِّاِس پر طب کا حکم چلتا ہے۔

آخری قید کو ہلکا نہ سمجھیے۔ «اِس پر طب کا حکم چلتا ہے» کہہ کر متن نے اِس طبقے کو صریحاً طبی دائرے میں رکھ دیا ہے — یعنی یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں طبیب بات کر سکتا ہے، اور جس کے احوال (رقّت، غلظت، صفا، کدورت) کے اثرات تجربے سے معلوم ہوتے ہیں۔ متن اِسے مقدس نہیں بناتا۔ اِسی لیے آگے وہ اِسے الطبقة السُّفلى من الروح کہتا ہے۔

اور اِس طبقے کے لیے دو تمثیلیں دی جاتی ہیں:

فهو الروحُ في أولِ النظرِ، والطبقةُ السُّفلى من الروحِ في النظرِ المُمعِنِ، مثلُه في البدنِ كمثلِ ماءِ الوردِ في الوردِ، وكمثلِ النارِ في الفحمِ.

دونوں تمثیلیں ایک ہی بات کے دو پہلو ہیں۔ گلاب میں عرقِ گلاب — موجود ہے، اُسی کا ہے، مگر گلاب کی پتی نہیں؛ نکالا جا سکتا ہے۔ کوئلے میں آگ — کوئلہ آگ نہیں، مگر آگ کوئلے کے بغیر یہاں ظاہر نہیں ہوتی۔ یعنی: بدن میں ہے، بدن نہیں ہے، اور بدن کے بغیر اِس مقام پر کام نہیں کرتی۔

تیسری نظرثم إذا أُمعِنَ في النظرِ أيضاً، اور یہیں اصل موڑ ہے:

ثم إذا أُمعِنَ في النظرِ أيضاً انجلى أن هذا الروحَ مطيّةٌ للروحِ الحقيقيةِ، ومادةٌ لتعلُّقِها.

مطيّة کا لفظ فیصلہ کن ہے: سواری۔ سوار سواری نہیں ہوتا۔ اور مادة لتعلُّقها — وہ «مادہ» جس کے ذریعے اصل روح کا تعلق قائم ہوتا ہے۔ پس دوسری نظر میں جو «روح» تھی، تیسری نظر میں وہ روح کا مرکب نکلی۔

لوحِ اوّل · Plate I

ایک سوال، تین نظریں — ہر نظر ایک طبقہ نیچے

پس «روح» کا لفظ متن میں ایک نہیں، دو چیزوں کے لیے آیا ہے — اور یہی ابہام باب حل کرتا ہے: الطبقةُ السُّفلى اور الروحُ الحقيقيةُ۔

یہ سلسلہ متن کے اپنے الفاظ سے ہے: أوّل ما يُدرَكإذا أُمعِنَ في التأمُّلثم إذا أُمعِنَ في النظر أيضاً۔ ہر مرحلہ پچھلے کو باطل نہیں کرتا، اُس کے نیچے ایک اور تہہ کھولتا ہے۔


۳

دلیل: «شخص ہو ہو رہتا ہے»

تیسری نظر محض دعویٰ نہیں — اُس کے لیے ایک باقاعدہ عقلی دلیل دی جاتی ہے، اور یہ باب کا سب سے مضبوط حصہ ہے:

وذلك أنّا نرى الطفلَ يشِبُّ ويَشيبُ، وتتبدَّلُ أخلاطُ بدنِه والروحُ المتولدةُ من تلك الأخلاطِ أكثرَ من ألفِ مرّةٍ، ويصغُرُ تارةً ويكبُرُ أخرى، ويسوَدُّ تارةً ويبيَضُّ أخرى، ويكون جاهلاً مرةً وعالماً أخرى، إلى غيرِ ذلك من الأوصافِ المتبدِّلةِ — والشخصُ هو هو.

وإن نُوقِشَ في بعضِ ذلك فلنا أن نفرضَ تلك التغيُّراتِ والطفلُ هو هو.

دلیل کی ساخت صاف ہے، اور یہ فلسفے کی مشہور «شخصی تشخص» (personal identity) کی بحث ہے:

  1. بدن کے تمام اوصاف بدلتے ہیں — جسامت، رنگ، علم، حتیٰ کہ وہ بخار بھی جسے ہم روح کہہ رہے تھے، ہزار بار سے زیادہ۔
  2. اِس سب کے باوجود ہم بلا تکلف کہتے ہیں کہ یہ وہی شخص ہے: والشخصُ هو هو۔
  3. جو چیز بدل جائے وہ اُس چیز کی بنیاد نہیں ہو سکتی جو نہ بدلی۔
  4. پس جس چیز سے وہ «وہ» ہے، وہ اِن میں سے کوئی نہیں۔

اور متن ایک ممکنہ اعتراض کا جواب پہلے ہی رکھ دیتا ہے۔ اگر کوئی کہے «مگر بعض اوصاف تو باقی رہتے ہیں» — تو دو راستے ہیں: یا ہم فرضاً وہ تمام تبدیلیاں مان لیں اور پھر بھی الطفلُ هو هو کہیں؛ یا کہیں کہ ہم اوصاف کے باقی رہنے کا جزم نہیں کرتے، مگر اُس کے باقی رہنے کا جزم کرتے ہیں — فهو غيرُها، پس وہ اُن سے الگ ہے۔

یہ لفظ پہچانا ہوا ہے۔ هو هو — باب ٢ میں عالمِ مثال کی تعریف اِسی لفظ سے ہوئی تھی: بمعنًى من معاني الهوهو، «ہو ہو» کے معانی میں سے ایک معنی میں۔ وہاں سوال یہ تھا کہ خواب کا سانپ اور جاگتے کا سانپ کس معنی میں «وہی» ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ بچہ اور بوڑھا کس معنی میں «وہی» ہے۔ ایک ہی اوزار، دو جگہ۔ شاہ ولی اللہ کی اصطلاحیں ابواب کے آر پار کام کرتی ہیں، اور اِسی لیے کتاب کو سلسلے سے پڑھنا پڑتا ہے۔
فالشيءُ الذي هو به هو ليس هذا الروحَ، ولا هذا البدنَ، ولا هذه المشخِّصاتِ التي تُعرَفُ وتُرى ببادئِ الرأيِ.

۴

تو روح کیا ہے: حقیقتِ فردانیہ، نقطۂ نورانیہ

نفی کے بعد اثبات۔ اور یہاں متن کی زبان اچانک بدل جاتی ہے — طبی سے مابعدالطبیعی:

بل الروحُ في الحقيقةِ حقيقةٌ فردانيةٌ ونقطةٌ نورانيةٌ، يَجِلُّ طَوْرُها عن طَوْرِ هذه الأطوارِ المتغيرةِ المتغايرةِ التي بعضُها جواهرُ وبعضُها أعراضٌ.

وهي مع الصغيرِ كما هي مع الكبيرِ، ومع الأسودِ كما هي مع الأبيضِ، إلى غيرِ ذلك من المتقابلاتِ.

دو حاشیے اِس عبارت کو کھولتے ہیں، اور دونوں مختصر مگر فیصلہ کن ہیں:

حاشیہ

فردانيةٌ: أي بسيطةٌ.

يعني أطوارَ النَّسَمةِ.

پہلا حاشیہ فردانية کو بسيطة سے بدل دیتا ہے — یعنی غیر مرکب، جس میں اجزاء نہ ہوں۔ اور یہی پچھلی دلیل کا منطقی تقاضا ہے: جو مرکب ہو وہ اجزاء کے بدلنے سے بدل جائے گا، پس جو نہ بدلے وہ بسیط ہونا چاہیے۔ دوسرا حاشیہ بتاتا ہے کہ هذه الأطوار سے مراد نَسَمہ کے اطوار ہیں — یعنی جو بدلتا ہے وہ نَسَمہ ہے، روح نہیں۔

اور يَجِلُّ طَوْرُها عن طَوْرِ… کا مضمون یہ ہے کہ فرق درجے کا نہیں، طَور کا ہے — روح اُن چیزوں کی صف میں شامل ہی نہیں جن میں سے کچھ جوہر ہیں اور کچھ عرض۔ اِسی لیے وہ چھوٹے کے ساتھ ویسی ہی ہے جیسی بڑے کے ساتھ: متضادات اُس پر اثر نہیں کرتے، کیونکہ وہ اُن کی جنس سے نہیں۔


۵

روشندان — اور آفتاب کی مثال

اب متن روح کے دو تعلق بتاتا ہے، اور پھر وہ تصویر دیتا ہے جو اِس باب کی سب سے یادگار چیز ہے:

ولها تعلُّقٌ خاصٌّ بالروحِ الهوائيِّ أولاً، وبالبدنِ ثانياً، من حيثُ إن البدنَ مطيّةُ النَّسَمةِ، وهي كوّةٌ من عالَمِ القُدسِ ينزلُ منها على النَّسَمةِ كلُّ ما استعدَّت له.

فالأمورُ المتغيرةُ إنما جاء تغيُّرُها من قِبَلِ الاستعداداتِ الأرضيةِ، بمنزلةِ حَرِّ الشمسِ: يُبيِّضُ الثوبَ، ويُسوِّدُ القصّارَ.

كوّة کے معنی روشندان، جھروکا۔ روح ایک سوراخ ہے عالمِ قدس کی طرف — اور اُس سے نَسَمہ پر «وہ سب اترتا ہے جس کی اُس نے استعداد پیدا کی ہو»۔ پھر تمثیل: سورج کی گرمی کپڑا سفید کرتی ہے، اور دھوبی کو کالا۔

یہاں باب کا اصل نکتہ ہے۔ ایک ہی سورج، ایک ہی گرمی، ایک ہی وقت — دو متضاد نتیجے۔ فرق آنے والی چیز میں نہیں، وصول کرنے والے میں ہے۔ اِس ایک تمثیل سے متن وہ کام کر لیتا ہے جو کلام کے لمبے مباحث کرتے ہیں: فیض عام ہے، تفاوت استعداد کا ہے۔ اور میری — قاعدہ ایک ہے، نتائج مختلف، کیونکہ قابلیتیں مختلف ہیں۔

پالن پوری صاحب کا حاشیہ اِسی تمثیل کو کھول کر اُس میں ایک دوسری قرآنی تصویر جوڑ دیتا ہے:

حاشیہ

أي الروحُ القُدسيُّ بمنزلةِ الكوّةِ، ينزلُ منها على النَّسَمةِ كلُّ ما استعدَّت له النفسُ من الكمالاتِ وأضدادِها. وليس الخلافُ في النازلِ، إنما الخلافُ في استعدادِ النَّسَمةِ … والغيثُ يسقي الأرضَ سواءً، ولكن البلدَ الطيبَ يُخرِجُ نباتَه بإذنِ ربِّه، والذي خَبُثَ لا يُخرِجُ إلا نَكِداً.

وليس الخلافُ في النازلِ، إنما الخلافُ في استعدادِ النَّسَمةِ — یہ جملہ متن کے مضمون کا بہترین خلاصہ ہے، اور خود متن میں اِن الفاظ سے موجود نہیں۔ حاشیے نے سورج کے ساتھ بارش بھی ملا دی: مینہ زمین کو یکساں سیراب کرتا ہے، مگر پاک زمین اپنا سبزہ نکالتی ہے اور خراب زمین صرف نکمّا۔


۶

موت کی نئی تعریف

اب اِس پورے ڈھانچے کا پہلا بڑا نتیجہ۔ اور یہ باب کا سب سے جرأت مندانہ دعویٰ ہے:

وقد تحقَّقَ عندنا بالوجدانِ الصحيحِ أن الموتَ انفكاكُ النَّسَمةِ عن البدنِ لفَقْدِ استعدادِ البدنِ لتوليدِها، لا انفكاكُ الروحِ القُدسيِّ عن النَّسَمةِ.

عام تصور یہ ہے کہ موت میں روح بدن سے نکل جاتی ہے۔ متن اِسے درست نہیں کہتا۔ موت میں جو ٹوٹتا ہے وہ نچلا جوڑ ہے — نَسَمہ اور بدن کا — اور وجہ بھی بتائی گئی ہے: لفَقْدِ استعدادِ البدنِ لتوليدِها، بدن اُس بخار کو پیدا کرنے کی استعداد کھو بیٹھا۔ اوپر والا جوڑ، روح اور نَسَمہ کا، قائم رہتا ہے۔

پھر ایک اور سوال اٹھتا ہے: لمبی بیماری میں تو نَسَمہ گھلتا چلا جاتا ہے؛ اگر وہ بالکل ختم ہو جائے تو روح کا تعلق کس سے رہے گا؟ جواب ایک تجرباتی تمثیل سے:

وإذا تحلَّلَتِ النَّسَمةُ في الأمراضِ المُدْنِفةِ وجبَ في حكمةِ اللهِ أن يبقى الشيءُ من النَّسَمةِ بقدرِ ما يصحُّ ارتباطُ الروحِ الإلهيِّ بها، كما أنك إذا مصَصْتَ الهواءَ من القارورةِ تخلخلَ الهواءُ حتى تبلُغَ إلى حدٍّ لا تخلخلَ بعده، فلا تستطيعُ المَصَّ، أو تنفقئُ القارورةُ، وما ذلك إلا لسرٍّ ناشئٍ من طبيعةِ الهواءِ، فكذلك سِرٌّ في النَّسَمةِ وحدٌّ لها لا يُجاوِزُهما الأمرُ.

تمثیل غور کے قابل ہے کیونکہ یہ مشاہدے سے لی گئی ہے۔ شیشی سے ہوا کھینچتے جائیے: ہوا پھیلتی، ہلکی ہوتی جاتی ہے، مگر ایک حد آتی ہے جس کے بعد مزید تخلخل ممکن نہیں — تب دو ہی صورتیں ہیں: یا آپ مزید کھینچ نہیں سکتے، یا شیشی پھٹ جاتی ہے۔ یہ حد ہوا کی «طبیعت سے پیدا ہونے والا ایک سِرّ» ہے۔ ویسا ہی ایک سِرّ اور ایک حد نَسَمہ میں ہے: وہ ایک مقدار سے نیچے نہیں جا سکتا۔

اِس تمثیل کا زور اُس کے مقام میں ہے۔ متن ایک مابعدالطبیعی دعویٰ (روح کا تعلق منقطع نہیں ہوتا) ایک طبعی مشاہدے سے سمجھا رہا ہے، اور دعوے کی بنیاد بھی الوجدان الصحيح بتائی گئی ہے، نہ کہ نص۔ میری: جہاں نص نہ ہو، وہاں وہ عقل اور مشاہدے سے بات کرتے ہیں، اور دعوے کا درجہ بھی صاف بتا دیتے ہیں۔

لوحِ دوم · Plate II

تین طبقے — اور موت کہاں سے گزرتی ہے

الرُّوحُ الإلهيُّ / القُدسيُّحقيقةٌ فردانيةٌ ونقطةٌ نورانيةٌكوّةٌ من عالَمِ القُدسِحاشیہ: فردانية أي بسيطة — غیر مرکب، اِسی لیے غیر متغیريَجِلُّ طَوْرُها عن طَوْرِ الأطوارِمع الصغيرِ كما مع الكبيرِالنَّسَمةُالبخارُ اللطيفُ المتولِّدُ في القلبِيحملُ القوى الحسّاسةَ والمحرِّكةَبرزخٌ متوسطٌ — ولها وجهانِوجهٌ إلى القُدسِ = المَلَكيّةُوجهٌ إلى الأرضِ = البهيميّةُيجري فيه حكمُ الطبِّكماءِ الوردِ في الوردِوكالنارِ في الفحمِمطيّةٌ للروحِ الحقيقيةِالموتُانفكاكُ النَّسَمةِ عن البدنِلا انفكاكُ الروحِ عن النَّسَمةِایک حد باقی رہتی ہےالبدنُ الأرضيُّمطيّةُ النَّسَمةِفَقَدَ استعدادَه لتوليدِهاموت اوپر کا جوڑ نہیں توڑتی — اِسی ایک بات سے برزخ کا پورا باب ممکن ہوتا ہے

متن کی ترتیب: الروحُ الإلهيُّالنَّسَمةُالبدنُ الأرضيُّ۔ درمیانی درجہ برزخٌ متوسطٌ ہے، اور اِسی لیے اُس کے دو رُخ ہیں۔ موت صرف نچلا جوڑ توڑتی ہے۔


۷

موت کے بعد: برزخ، اور نفخِ صور

جب اوپر کا جوڑ سلامت ہے تو موت کے بعد بھی کچھ باقی ہے — اور متن بتاتا ہے کہ وہ کیسے کام کرتا ہے:

وإذا ماتَ الإنسانُ كان للنَّسَمةِ نشأةٌ أخرى، فيُنشِئُ فيضُ الروحِ الإلهيِّ فيها قوةً فيما بقيَ من الحسِّ المشتركِ تكفي كفايةَ السمعِ والبصرِ والكلامِ، بمددٍ من عالَمِ المثالِ — أعني القوةَ المتوسطةَ بين المجرَّدِ والمحسوسِ، المنبثّةَ في الأفلاكِ كشيءٍ واحدٍ.

وربما تستعدُّ النَّسَمةُ حينئذٍ لِلباسٍ نورانيٍّ أو ظُلمانيٍّ بمددٍ من عالَمِ المثالِ، ومن هنالك تتولَّدُ عجائبُ عالَمِ البرزخِ.

یہاں تین باتیں ایک ساتھ ہو رہی ہیں۔ ایکنشأة أخرى، نَسَمہ کی ایک نئی نشأت؛ وہ بدن کے بغیر ایک اور طرح وجود پاتا ہے۔ دو — سننے، دیکھنے، بولنے کی قوت الحسّ المشترك کے بچے ہوئے حصے میں پیدا کی جاتی ہے، یعنی الگ الگ اعضاء کے بغیر۔ تین — اور یہ سب بمددٍ من عالَمِ المثالِ ہوتا ہے، باب ٢ کے اُسی عالَم سے۔

باب ٢ کی تعریف یہاں مکمل ہوتی ہے۔ وہاں عالمِ مثال عالماً غير عنصري تھا۔ یہاں وہ ایک قوت ہے: القوة المتوسطة بين المجرَّد والمحسوس — مجرد اور محسوس کے درمیان، اور المنبثّة في الأفلاك كشيءٍ واحدٍ، افلاک میں ایک ہی چیز کی طرح پھیلی ہوئی۔ یہ باب ٢ سے زیادہ متعین بیان ہے، اور اِسی لیے دونوں باب ایک ساتھ پڑھنے چاہیے۔

پالن پوری صاحب دونوں نکتوں پر حاشیہ لگاتے ہیں:

حاشیہ

الحسُّ المشتركُ الذي هو منبعُ الحواسِّ … وعالَمُ المثالِ: عبارةٌ عن قوةٍ ليست مجرَّداً بَحْتاً ولا ماديّاً صِرفاً … وذلك القوةُ منتشرةٌ في الأفلاكِ كشيءٍ واحدٍ، كضوءِ الشمسِ والهواءِ منتشرانِ في الفضاءِ كشيءٍ واحدٍ.

كما في الحديثِ: «إن أرواحَ الشهداءِ في أجوافِ طيرٍ خُضْرٍ» — فالطيورُ الخُضْرُ: لباسٌ نورانيٌّ مثاليٌّ.

دوسرا حاشیہ خاص طور پر مفید ہے: شہداء کی روحوں کا «سبز پرندوں کے پیٹوں میں» ہونا اُس لباس نوراني کی ایک مثال ہے۔ یعنی حدیث کی تصویر کو نہ ظاہری جسم مانا گیا، نہ محض تشبیہ — بلکہ عالمِ مثال کا لباس۔

اور آخر میں نفخِ صور، جسے متن ایک فیض کے طور پر بیان کرتا ہے:

ثم إذا نُفِخَ في الصورِ أي جاء فيضٌ عامٌّ من بارئِ الصورِ بمنزلةِ الفيضِ الذي كان منه في بدءِ الخلقِ حين نُفِخَتِ الأرواحُ في الأجسادِ، وأُسِّسَ عالَمُ المواليدِ.

یعنی قیامت کا نفخ ایک نئی تخلیق نہیں، پہلی تخلیق کی تکرار ہے — وہی فیض، اُسی طرح۔ اور اِس سے روح کو ایک جسمانی لباس، یا مثال اور جسم کے درمیان کا لباس پہننا لازم آتا ہے، تاکہ وہ سب متحقق ہو جو الصادق المصدوق نے خبر دی ہے۔


۸

دو رُخ — اور اگلے باب کا دروازہ

باب کا اختتام ایک ایسے جملے پر ہوتا ہے جو دیکھنے میں نتیجہ ہے، اور کام میں دروازہ:

ولما كانتِ النَّسَمةُ برزخاً متوسطاً بين الروحِ الإلهيِّ والبدنِ الأرضيِّ وجبَ أن يكونَ لها وجهٌ إلى هذا ووجهٌ إلى ذلك، والوجهُ المائلُ إلى القُدسِ هو المَلَكيّةُ، والوجهُ المائلُ إلى الأرضِ هو البهيميّةُ.

دلیل کی صورت دیکھیے: ولما كانت … وجب — «چونکہ وہ برزخ ہے، لہٰذا لازم ہے»۔ یہ محض مشاہدہ نہیں، ساخت سے نکالا ہوا نتیجہ ہے۔ جو چیز دو کے درمیان ہو، اُس کے دونوں طرف رُخ ہونا ضروری ہے۔ اور اُن دو رُخوں کے نام رکھ دیے گئے: المَلَكيّة اور البهيميّة۔

یہ سطر باب ٦ کا پہلا جملہ ہے۔ اگلا باب — باب سرّ التكليف — یہی دو لفظ لے کر شروع ہوتا ہے: اللہ نے انسان میں قوّة ملكية اور قوّة بهيمية ودیعت کیں، وبين القوتين تزاحمٌ وتجاذبٌ — اور اِن دونوں کی کشمکش ہی تکلیف کا راز ہے۔ یعنی «روح کیا ہے» کا جواب دیتے دیتے متن «انسان مکلَّف کیوں ہے» کے جواب پر پہنچ گیا۔ باب ٤ نے تکلیف کی بیرونی شرط بتائی تھی (قاعدے کا نہ بدلنا)؛ یہ باب اُس کی اندرونی شرط بتاتا ہے۔

اور بالکل آخر میں وہ اپنے دعوے کی حد خود متعین کر دیتے ہیں:

على هذه المقدِّماتِ لتُسَلَّمَ في هذا العلمِ، وتُفرَّعَ عليها التفاريعُ، قبل أن ينكشفَ الحجابُ في علمٍ أعلى من هذا العلمِ.

میری شروع میں اُنہوں نے آیت کا دروازہ کھولا تھا؛ آخر میں وہ خود ایک حد لگا دیتے ہیں۔ جو کہا گیا وہ مقدّمات ہیں — «اِس علم میں مان لینے کے لیے، اور اِن پر شاخیں نکالنے کے لیے»، اُس سے اوپر کے کسی علم میں پردہ اٹھنے سے پہلے۔ یعنی: یہ آخری بات نہیں، اِس سطح کی کافی بات ہے۔


۹

یہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«قل الروح من أمر ربي نے سوال بند کر دیا۔» — متن کا پہلا کام یہی مفروضہ توڑنا ہے۔ اعمش کی قراءت سے وہ دکھاتے ہیں کہ خطاب پوچھنے والے یہود سے تھا، اور آیت اِس پر نصّ نہیں کہ اِس اُمت میں کوئی نہیں جان سکتا۔ مگر یہ رائے اقلیت کی ہے — اور یہ بات صاف رہنی چاہیے (نیچے دیکھیے)۔

باریک نکتہ

«نَسَمہ»، «بخارِ لطیف» اور «روحِ ہوائی» تین چیزیں نہیں — ایک ہی چیز کے تین نام ہیں۔ متن اِنہیں مختلف مقامات پر مختلف ناموں سے پکارتا ہے، اور پالن پوری صاحب کی اپنی فہرست اِسے صریح کر دیتی ہے: هي بخارٌ لطيفٌ، وهو النَّسَمة۔ اِسی طرح الروح الحقيقية، الروح الرباني اور الروح القدسي بھی ایک ہی کے نام ہیں۔ ناموں کو الگ ہستیاں سمجھ لینے سے تین طبقے پانچ چھ ہو جاتے ہیں اور نقشہ بگڑ جاتا ہے۔

باریک نکتہ

موت میں روح بدن سے نہیں نکلتی۔ متن کی تعریف یہ ہے: انفكاكُ النَّسَمةِ عن البدنِ … لا انفكاكُ الروحِ القُدسيِّ عن النَّسَمةِ۔ عام تعبیر («روح پرواز کر گئی») اِس باب کے نظام میں ایک درجہ نیچے کی بات ہے۔ اور یہی فرق برزخ کو ممکن بناتا ہے — اگر اوپر کا جوڑ بھی ٹوٹ جائے تو موت کے بعد باقی کیا رہے گا؟

باریک نکتہ

«بخارِ لطیف» کو جدید حیاتیات میں نہ ڈھونڈیے۔ یہ اُس زمانے کی طبی زبان (اخلاط، ارواح) میں کہی گئی بات ہے، اور متن خود اُسے طب کے حوالے کرتا ہے: يجري فيه حكمُ الطبِّ۔ باب کا دعویٰ اِس طبعی تفصیل پر نہیں، بلکہ اُس ساخت پر ہے جو تین طبقوں سے بنتی ہے۔ طبی تفصیل بدل جائے تو دلیل («شخص ہو ہو رہتا ہے») پھر بھی قائم رہتی ہے۔

سیاق

یہ باب اکیلا نہیں پڑھا جا سکتا۔ هو هو باب ٢ سے آیا ہے، عالم المثال کی تعریف باب ٢ کو مکمل کرتی ہے، «فیض ایک، استعداد مختلف» باب ٤ کی سنتِ الٰہی کا تسلسل ہے، اور آخری سطر باب ٦ کا آغاز ہے۔ چاروں طرف جڑا ہوا باب ہے۔

ایمانداری کا تقاضا — یہ رائے جمہور کی نہیں۔ پالن پوری صاحب کا حاشیہ اِس مقام پر تین باتیں صاف کہتا ہے، اور تینوں متن کے حق میں نہیں: (۱) وليست هذه القراءةُ في السبعةِ، بل ولا في المشهورِ من غيرها — یہ قراءت سبعہ میں نہیں، بلکہ اُن کے علاوہ مشہور قراءتوں میں بھی نہیں۔ (۲) ابنِ مسعودؓ کی طرف یہ رائے منسوب ہے کہ خطاب یہود کے ساتھ خاص ہے، واختاره الإمامُ المصنِّفُ — اور مصنف نے اِسی کو اختیار کیا۔ (۳) مگر والجمهورُ ذهبوا إلى أن الخطابَ عامٌّ — جمہور کے نزدیک خطاب عام ہے، پس حقیقتِ روح کوئی نہیں جانتا۔ یعنی شاہ ولی اللہ یہاں ایک شاذ قراءت کے سہارے جمہور سے الگ راستہ لیتے ہیں۔ باب پڑھتے ہوئے یہ معلوم ہونا چاہیے، ورنہ اُن کا نکتہ اُس سے زیادہ مسلَّم لگتا ہے جتنا وہ ہے۔

۱۰

مزید گہرائی

یہ سوالات کھلے ہیں

  • اگر النَّسَمة ہی وہ بخار ہے جو اخلاط سے پیدا ہوتا ہے، تو موت کے بعد «جو باقی رہتا ہے» وہ کس معنی میں مادی ہے؟ شیشی کی تمثیل حد بتاتی ہے، ماہیت نہیں۔
  • عالم الأمر اور عالم الخلق کی تقسیم — جو حاشیے میں آئی — کیا خود متن کے تین طبقوں پر منطبق ہوتی ہے؟ روح عالمِ امر سے، بدن عالمِ خلق سے؛ تو نَسَمہ کہاں؟
  • باب ٢ نے عالمِ مثال کو ایک عالَم کہا، یہاں اُسے ایک قوت کہا گیا ہے۔ یہ دو تعبیریں ہیں یا دو مختلف چیزیں؟
  • الحسّ المشترك کا تصور یہاں فلسفۂ نفس سے لیا گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ اِس اصطلاح کو کہاں تک اُس کے اصل نظام کے ساتھ لیتے ہیں، اور کہاں توڑتے ہیں؟
  • «شخص ہو ہو رہتا ہے» کی دلیل مابعد کے مباحث (تناسخ، جسمانی حشر، شخصی تشخص) سے کہاں ملتی ہے؟ متن اِسے حشر کے لیے استعمال کرتا ہے — کیا وہی دلیل اُس کے خلاف بھی چلائی جا سکتی ہے؟
  • حاشیے میں ایک قول «(سندي)» کے حوالے سے آیا ہے — یعنی حواشی میں ایک سے زیادہ شارح کی آوازیں ہیں۔ کن مقامات پر پالن پوری صاحب خود بول رہے ہیں اور کہاں نقل کر رہے ہیں؟
الفاظ کہاں سے: اِس باب کی عبارتیں پالن پوری صاحب کے اسکین سے پڑھی گئی ہیں اور حواشی بھی وہیں سے۔ اسکین کے OCR نے کئی مقامات پر مدد کی — مثلاً يجري فيه حكمُ الطبِّ اور كمثلِ ماءِ الوردِ في الوردِ، جہاں شاملہ کا متن مختصر یا مختلف ہے۔ مگر چار جگہ اسکین ناقابلِ قراءت تھاوليس كلُّ ما سكتَ عنه الشرعُ، دلیل کا درمیانی حصہ (ويصغُرُ تارةً ويكبُرُ أخرىومادةٌ لتعلُّقِها، اور وهي كوّةٌ من عالَمِ القُدسِ — اِن کے الفاظ شاملہ کے متن سے ہیں۔ («کوّہ» کا لفظ خود اُن کے حاشیے سے تصدیق شدہ ہے۔) مطبوعہ صفحے سے ملا لیجیے۔
بنیادی نسخہ

حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريباب ٥ — حقيقة الروح۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔

اردو شرح

اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔

متن میں تلاش کے لیے

لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔

کی بورڈ: پچھلا باب  ·  اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن