حجة الله البالغة - شاہ ولی اللہ دہلویEnglishمآخذ ▸فہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ١٠

خواطر کے اسباب

باب في أسباب الخواطر الباعثة على الأعمال
پانچ اسباب - اور خواب، جو اُنہی کا آئینہ ہے

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغة - شاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ١٠ - في أسباب الخواطر الباعثة على الأعمال
مقام
القسم الأول - المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پچھلے ابواب
باب ٧ ← باب ٨ ← باب ٩
اگلا باب
باب ١٢ - ارتباط الأعمال بالهيئات النفسانية
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري - دار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

ربط: باب ٩ نے مزاجوں کی فہرست دی تھی - آدمی کیسا ہے۔ یہ باب ایک قدم آگے کا سوال اُٹھاتا ہے: وہ جو کچھ کرتا ہے، اُس کی تحریک کہاں سے آتی ہے؟ اور جواب میں جبلّت کو سب سے بڑا سبب مان کر بھی اُسے اکیلا سبب نہیں رہنے دیتا۔

خلاصۂ باب
  1. اصول پہلے: خاطر کوئی بے سبب چیز نہیں۔ لا جرمَ أن لها أسباباً، كسنّةِ اللهِ تعالى في سائرِ الحوادثِ - باقی حوادث کی طرح اِس کے بھی اسباب ہیں۔ یعنی باب ٤ کی سنّتِ الٰہی باطن پر بھی اُسی طرح جاری ہے جیسے بارش اور بیماری پر۔
  2. اور ذریعۂ علم بھی بتا دیا: والنظرُ والتجربةُ يُظهِرانِ - نظر اور تجربہ۔ آگے کی پوری فہرست نقل سے نہیں، دیکھنے اور آزمانے سے نکالی گئی ہے۔
  3. پہلا اور سب سے بڑا: جبلّت۔ وهو أعظمُها - اور اِس پر حدیث کا حوالہ باب ٩ سے لیا گیا ہے، دوبارہ نقل نہیں کی گئی۔
  4. دوسرا: مزاجِ طبیعی - اور یہ بدلتا ہے۔ المتغيّرُ بسببِ التدبيرِ المحيطِ به من الأكلِ والشربِ۔ غذا سخت ہو تو دل سخت؛ ریاضت، بڑھاپا یا مُدنِف بیماری آئے تو رقّت قلوبُهما، وعفّت نفوسُهما۔
  5. تیسرا: عادت اور مانوسات۔ جو چیز بار بار برتی جائے، اُس کی ہیئتیں لوحِ نفس پر جم جاتی ہیں - مالَ إليه كثيرٌ من خواطرِه۔
  6. چوتھا اور پانچواں باہر سے: نفسِ ناطقہ کبھی أسرِ البهيميةِ سے چھوٹ کر ملأِ اعلیٰ کے حیّز سے ایک هيئةٍ نورانيةٍ اُچک لاتی ہے؛ اور کچھ خسیس نفوس شیاطین سے متاثر ہو کر تنصبغُ ببعضِ صِبغِهم۔

اصل نکتہ: پانچ اسباب گنوا کر باب ایک جملے میں خواب کو اِسی فہرست سے جوڑ دیتا ہے - المناماتُ أمرُها كأمرِ الخواطرِ، غيرَ أنها تتجرّدُ لها النفسُ۔ فرق سبب کا نہیں، یکسوئی کا ہے: بیداری میں وہی اسباب خیال بن کر آتے ہیں، نیند میں نفس اُن کے لیے فارغ ہو جاتا ہے تو وہ صورت پکڑ لیتے ہیں۔ م - حدیثِ نفس، تخویفِ شیطان، بشریٰ من اللہ۔


۱

پہلے اصول: خاطر بھی ایک حادثہ ہے، اور حادثے کے اسباب ہوتے ہیں

باب کا پہلا جملہ ہی اُس کا پورا دعویٰ ہے:

اعلمْ أن الخواطرَ التي يجدُها الإنسانُ في نفسِه، وتبعثُه على العملِ بموجَبِها - لا جرمَ أن لها أسباباً، كسنّةِ اللهِ تعالى في سائرِ الحوادثِ.

دو لفظ یہاں وزن اُٹھا رہے ہیں۔ ایک خواطر: وہ بات جو دل پر گزرتی ہے۔ پالن پوری صاحب اپنے حاشیے میں اِس کی لغت بھی کھولتے ہیں اور اِس باب کی ایک تاریخی بات بھی بتا دیتے ہیں:

حاشیہ

هذا البابُ: فصلٌ في مخطوطةِ كراتشي … والخواطرُ: جمعُ الخاطرِ: ما يخطرُ بالقلبِ … تترشَّحُ على دماغِ الإنسانِ خيالاتٌ كأقطارِ الأمطارِ، فإذا كثُرَت بَدَت منها الإرادةُ (سندي).

سندی صاحب کی یہ تشبیہ پورے باب کا نقشہ کھینچ دیتی ہے: خیال بارش کے قطروں کی طرح ٹپکتے ہیں، اور جب جمع ہو جائیں تو اُن سے ارادہ نمودار ہوتا ہے۔ یعنی عمل یکایک پیدا نہیں ہوتا؛ وہ قطروں کے جمع ہونے سے بنتا ہے۔

دوسرا لفظ كسنّةِ اللهِ تعالى في سائرِ الحوادثِ ہے، اور یہی اِس باب کو باب ٤ سے باندھ دیتا ہے۔

یہ جملہ ایک پورا موقف ہے۔ باطن کو عام طور پر قاعدے سے باہر سمجھا جاتا ہے - کہ دل میں جو آئے سو آئے۔ متن اِسے صاف رد کرتا ہے: خاطر بھی ایک حادثہ ہے، اور حادثوں پر سنّتِ الٰہی جاری ہے۔ م کہ خیالات کا علاج بھی اسباب ہی سے ہو گا - غذا، صحبت، عادت - نہ کہ محض خیالات سے لڑ کر۔ آگے کے پانچ اسباب اِسی لیے ایک فہرست ہیں، موعظت نہیں۔

۲

سبب ۱: جبلّت - اور یہی سب سے بڑا

اور اب ذریعۂ علم کا اعلان، جو اِس باب میں آسانی سے نظرانداز ہو جاتا ہے:

والنظرُ والتجربةُ يُظهِرانِ أن منها - وهو أعظمُها - جِبِلّةَ الإنسانِ التي خُلِقَ عليها، كما نبّهَ النبيُّ ﷺ في الحديثِ الذي رويناهُ من قبلُ.

النظرُ والتجربةُ - نظر اور تجربہ۔ متن یہ نہیں کہتا کہ پانچ اسباب منقول ہیں؛ وہ کہتا ہے کہ یہ دیکھنے اور آزمانے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور پھر پہلے ہی سبب پر حدیث کا سہارا لیتا ہے - مگر اُسے دوبارہ نقل نہیں کرتا: الحديثِ الذي رويناهُ من قبلُ، یعنی باب ٩ والی حدیث، «آدمی اپنی خُو بدل لے تو نہ مانو»۔

ترتیب خود ایک دعویٰ ہے۔ جبلّت پہلے ہے اور أعظمُها ہے۔ مگر یہ باب اُسی کتاب کا باب ہے جس نے پچھلے باب میں کہا تھا کہ ہر قوت میں جِبِلّةٌ کے ساتھ كسبٌ يؤيِّدُه ويُقوِّيه بھی ہے۔ م: اگر جبلّت اکیلی ہوتی تو باقی چار گنوانے کی ضرورت نہ تھی، اور نہ غذا اور عادت کی بات کرنے کی۔

۳

سبب ۲: مزاجِ طبیعی - اور یہ بدلتا ہے

دوسرا سبب جبلّت سے ملتا جلتا لگتا ہے، مگر متن پہلے ہی لفظ میں فرق کھول دیتا ہے: یہ المتغيّرُ ہے - بدلنے والا۔

ومنها: مزاجُه الطبيعيُّ، المتغيّرُ بسببِ التدبيرِ المحيطِ به من الأكلِ والشربِ ونحوِ ذلك، كالجائعِ يطلبُ الطعامَ، والظمآنِ يطلبُ الماءَ.

بھوکا کھانا مانگتا ہے، پیاسا پانی - یہاں تک بات سیدھی ہے۔ مگر متن اِسے دو مفصل مثالوں تک لے جاتا ہے، اور دونوں غذا سے شروع ہوتی ہیں:

ورُبَّ إنسانٍ يأكلُ غذاءً يُقوّي الباءةَ، فيميلُ إلى النساءِ، ويحدّثُ نفسَه بأحاديثَ تتعلّقُ بهنَّ، وتصيرُ هذه مُهيّجةً له على كثيرٍ من الأفعالِ؛ ورُبَّ إنسانٍ يتغذّى غذاءً شديداً، فيقسو قلبُه، ويجترئُ على القتلِ، ويغضبُ في كثيرٍ مما لا يغضبُ فيه غيرُه.

سلسلہ دیکھیے: غذا ← مزاج ← خیال ← عمل۔ درمیان کی کڑی - ويحدّثُ نفسَه بأحاديثَ تتعلّقُ بهنَّ - وہی «خاطر» ہے جس کا یہ باب ہے۔ اور دوسری مثال میں تو غذا سے سنگ دلی اور غصہ تک پہنچا دیا گیا ہے۔

اور پھر وہ جملہ جو اِس سبب کو امید میں بدل دیتا ہے:

ثم إذا ارتاضَ هذانِ أنفسَهما بالصيامِ والقيامِ، أو شابّا وكَبِرا، أو مَرِضا مرضاً مُدنِفاً - تغيَّرَ أكثرُ ما كانا عليه، ورقّت قلوبُهما، وعفّت نفوسُهما.

تین راستے، اور تینوں مختلف قسم کے ہیں: ایک اختیاری (روزہ اور قیام)، ایک طبعی (جوان تھے، بوڑھے ہو گئے)، اور ایک اضطراری (گھلا دینے والی بیماری)۔ پالن پوری صاحب مُدنِف کی لغت کھول دیتے ہیں:

حاشیہ

دَنِفَ المريضُ: ثَقُلَ، وأدنفَه المرضُ: أثقلَه.

اور نتیجہ ایک روزمرہ مشاہدے پر لایا جاتا ہے، جس کے ساتھ ایک فقہی رخصت بھی:

ولذلك ترى الاختلافَ بين الشيوخِ والشبّانِ، ورخّصَ النبيُّ ﷺ للشيخِ في القُبلةِ وهو صائمٌ، ولم يُرخِّصْ للشابِّ.

یہ باب کی سب سے خوبصورت گرہ ہے۔ ایک ہی فعل - روزے میں بوسہ - ایک کے لیے رخصت ہے اور دوسرے کے لیے نہیں، اور فرق فعل میں نہیں، مزاج میں ہے۔ یعنی شریعت خود اِس باب کے اصول پر چل رہی ہے: حکم خاطر کے سبب کا لحاظ کرتا ہے۔ م - اگر خیال کا سبب بدن میں ہے تو تدبیر بھی بدن میں ہو گی، اور اگر احتمالِ ہیجان مختلف ہے تو حکم بھی مختلف ہو سکتا ہے۔

مگر اِس رخصت کی تخریج میں پالن پوری صاحب ایک باریک فرق بتاتے ہیں، جسے یہاں نظرانداز کرنا آسان ہے:

حاشیہ

رَوى مالكٌ أن عبدَ اللهِ بنَ عباسٍ سُئِلَ عن القُبلةِ للصائمِ؟ فأرخصَ فيها للشيخِ، وكَرِهَها للشابِّ … وأما الحديثُ المرفوعُ ففي المباشرةِ: رُوِيَ عن أبي هريرةَ أن رجلاً سألَ النبيَّ ﷺ عن المباشرةِ للصائمِ؟ فرخّصَ له، وأتاهُ آخَرُ فسألَه فنهاهُ، فإذا الذي رخّصَ له شيخٌ، وإذا الذي نهاهُ شابٌّ. رواه أبو داود.

یعنی جو روایت مرفوع ہے وہ مباشرت کے بارے میں ہے؛ بوسے والی تفریق ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ متن نے دونوں کو ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے، اور حاشیہ اُنہیں الگ کر دیتا ہے۔


۴

سبب ۳: عادت اور مانوسات - لوحِ نفس پر جمی ہوئی شکلیں

ومنها: العاداتُ والمألوفاتُ، فإن مَن أكثرَ مُلابسةَ شيءٍ، وتمكّنَ من لوحِ نفسِه ما يناسبُه من الهيئاتِ والأشكالِ - مالَ إليه كثيرٌ من خواطرِه.

لفظ مُلابسة غور طلب ہے: محض کرنا نہیں، لپٹے رہنا - جیسے لباس بدن سے۔ اور اثر کہاں پڑتا ہے؟ لوحِ نفسِه پر۔ وہاں الهيئاتِ والأشكالِ جم جاتی ہیں، اور پھر خاطر خود بخود اُسی طرف جھکنے لگتی ہے۔

یہ سبب پہلے دو سے مختلف نوعیت کا ہے۔ جبلّت دی ہوئی ہے، مزاج زیادہ تر اُس تدبیر کا نتیجہ ہے جو آدمی کے گرد ہے؛ مگر مُلابسة وہ چیز ہے جو آدمی خود کرتا ہے۔ م - اور باب ١١ اِسی کڑی کو پکڑ کر پورا ایک باب بناتا ہے: عمل نفس پر لوٹتا ہے، اور نفس اُس کا رنگ قبول کر لیتا ہے۔

۵

سبب ۴ اور ۵: جو باہر سے آتے ہیں - اوپر سے، اور نیچے سے

آخری دو اسباب آدمی کے اندر سے نہیں اُٹھتے؛ وہ اُس پر وارد ہوتے ہیں۔ اور دونوں باب ٣ کا سامان استعمال کرتے ہیں۔

ومنها: أن النفسَ الناطقةَ في بعضِ الأوقاتِ تنفلتُ من أسرِ البهيميةِ، فتختطفُ من حيّزِ الملأِ الأعلى ما يُيَسَّرُ لها من هيئةٍ نورانيةٍ، فتكونُ تارةً من بابِ الأُنسِ والطمأنينةِ، وتارةً من بابِ العزمِ على الفعلِ.

تین لفظ یہاں بہت کام کر رہے ہیں۔ تنفلتُ - چھوٹ نکلنا، جیسے کوئی قید سے؛ اور قید کا نام بھی لے دیا: أسرِ البهيميةِ۔ تختطفُ - اُچک لینا، یعنی یہ ملاقات مستقل نہیں، جھپٹ ہے۔ اور ما يُيَسَّرُ لها - جتنا میسر ہو جائے، نہ کہ جتنا وہ چاہے۔

اور نتیجہ دو رُخ رکھتا ہے: کبھی الأُنسِ والطمأنينةِ کے باب سے - یعنی ایک حالت؛ اور کبھی العزمِ على الفعلِ کے باب سے - یعنی ایک ارادہ۔

ومنها: أن بعضَ النفوسِ الخسيسةِ تتأثّرُ بالشياطينِ، وتنصبغُ ببعضِ صِبغِهم، وربما اقتضت تلك الهيئةُ خواطرَ وأفعالاً.

دونوں جملوں کی ساخت ایک ہے، اور یہی اصل بات ہے۔ دونوں میں ایک ہیئت آتی ہے، اور ہیئت سے خاطر پیدا ہوتی ہے: اوپر سے هيئةٍ نورانيةٍ، نیچے سے صِبغِهم۔ شیطان یہاں کوئی الگ قسم کی مخلوق کے طور پر نہیں آتا جو کان میں بولتی ہو - وہ اُسی نظام میں نیچے کا سرا ہے، اور انصباغ (رنگ چڑھ جانا) وہی لفظ ہے جو باب ٩ میں اونچی ملکیہ کے لیے استعمال ہوا تھا۔ م، اور فرق اِس میں ہے کہ نفس کس طرف کھلا ہوا ہے۔

اور ایک قید جو آسانی سے پھسل جاتی ہے: متن بعضَ النفوسِ الخسيسةِ کہتا ہے، سب نفوس نہیں۔

لوحِ اوّل

پانچ اسباب - اور وہ کہاں سے آتے ہیں

أسبابُ الخواطرِوالنظرُ والتجربةُ يُظهِرانِپانچ اسباب - اور خواب اُن کا آئینہما في الإنسانِ نفسِهسببانِ١ - الجِبِلّةُ التي خُلِقَ عليهاوهو أعظمُها٢ - المزاجُ الطبيعيُّ المتغيّرُالأكلُ والشربُ · السِّنُّ · المرضُ المُدنِفُما يكتسبُه بنفسِهسببٌ واحدٌ٣ - العاداتُ والمألوفاتُمَن أكثرَ مُلابسةَ شيءٍ مالَ إليهوتمكّنَ من لوحِ نفسِه ما يناسبُهما يَرِدُ عليه من غيرِهسببانِ٤ - من حيّزِ الملأِ الأعلى - هيئةٌ نورانيةٌالأُنسُ والطمأنينةُ · العزمُ على الفعلِ٥ - من الشياطينِ - وتنصبغُ ببعضِ صِبغِهموالمناماتُ أمرُها كأمرِ الخواطرِ

متن کی اپنی فہرست پانچ کی ہے، گنتی کے ساتھ؛ تین حصوں میں تقسیم میری ہے - اندر سے، کمائی سے، باہر سے۔ آخری پتّی متن کا اپنا جملہ ہے، جو خواب کو اِسی فہرست سے جوڑ دیتا ہے۔


۶

خواب: وہی اسباب، مگر نفس کے فارغ ہونے میں

باب کا اختتام ایک جملے سے ہوتا ہے جو پوری فہرست کو ایک اور میدان پر لاگو کر دیتا ہے:

واعلمْ أن المناماتِ أمرُها كأمرِ الخواطرِ، غيرَ أنها تتجرّدُ لها النفسُ، فتتشبّحُ لها صوَرُها وهيئاتُها.

فرق صرف ایک ہے، اور وہ غيرَ أنها کے بعد آتا ہے: تتجرّدُ لها النفسُ - نفس اُن کے لیے فارغ ہو جاتا ہے۔ بیداری میں وہ حواس اور بدن میں مشغول ہے، سو وہی اسباب محض ایک خیال کی صورت میں گزرتے ہیں؛ نیند میں مشغولیت ہٹ جاتی ہے تو وہی اسباب تتشبّحُ - صورت پکڑ لیتے ہیں۔ پالن پوری صاحب اِس لفظ کی وضاحت ایک لفظ میں کر دیتے ہیں:

حاشیہ

فتتشبّحُ: أي تتمثّلُ.

اور پھر ابن سیرین کا مشہور قول:

وقال محمدُ بنُ سيرينَ: الرؤيا ثلاثٌ: حديثُ النفسِ، وتخويفُ الشيطانِ، وبُشرى من اللهِ.

حاشیہ

رُوِيَ قولُ محمدِ بنِ سيرينَ في حديثٍ متفقٍ عليه، وكذا رُوِيَ مرفوعاً عن أبي هريرةَ رضي الله عنه، رواه الدارميُّ والترمذيُّ في أبوابِ الرؤيا.

متن یہ قول نقل کر کے کوئی تطبیق نہیں دیتا - وہ اُسے جوں کا توں چھوڑ دیتا ہے۔ مگر اوپر کی فہرست سامنے ہو تو تینوں قسمیں اپنی جگہ آپ ڈھونڈ لیتی ہیں:

حديثُ النفسِ

جبلّت، مزاج اور عادت کا عکس

پہلے تین اسباب اندر کے ہیں، اور نیند میں وہی اپنی صورت دکھاتے ہیں۔ متن کی اپنی مثال اِسی پر بالکل بیٹھتی ہے: جو شخص ایسی غذا کھاتا ہے، وہ يحدّثُ نفسَه بأحاديثَ تتعلّقُ بهنَّ - اور یہ «حدیثِ نفس» جاگتے میں بھی وہی ہے جو سوتے میں۔

جو دن بھر ایک ہی کام میں لپٹا رہے، رات اُسی کام کا خواب دیکھتا ہے۔

تخويفُ الشيطانِ

پانچواں سبب، خواب کی زبان میں

متن کا پانچواں سبب - تتأثّرُ بالشياطينِ، وتنصبغُ ببعضِ صِبغِهم - اور وہیں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ربما اقتضت تلك الهيئةُ خواطرَ وأفعالاً۔ خواب میں وہی ہیئت ڈرانے کی صورت لے لیتی ہے۔

بُشرى من اللهِ

ملأِ اعلیٰ سے اُچکی ہوئی ہیئت

چوتھا سبب - فتختطفُ من حيّزِ الملأِ الأعلى ما يُيَسَّرُ لها من هيئةٍ نورانيةٍ۔ اور وہاں بھی دو رُخ بتائے گئے تھے: الأُنسِ والطمأنينةِ اور العزمِ على الفعلِ - بشارت اور تحریک، دونوں۔

یہ تطبیق متن کی نہیں ہے۔ م، اور متن اِس پر خاموش ہے - وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ أمرُها كأمرِ الخواطرِ اور پھر ابن سیرین کا قول لے آتا ہے۔ اتنا جوڑ خود متن کا ہے؛ آگے کا نقشہ قاری کا۔ اور ایک جگہ یہ نقشہ تنگ بھی پڑتا ہے: ابن سیرین کی تقسیم تین کی ہے، اور متن کے اسباب پانچ - پہلی قسم میں تین سبب سمٹ گئے ہیں۔

۷

کہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«جبلّت سب سے بڑا سبب ہے، تو باقی بے کار ہیں۔» - متن نے پانچ گنوائے ہیں، ایک نہیں؛ اور دوسرے ہی سبب میں تین راستے بتائے ہیں جن سے مزاج بدلتا ہے - ریاضت، عمر، بیماری - اور نتیجہ رقّت قلوبُهما، وعفّت نفوسُهما رکھا ہے۔ أعظمُها کا مطلب وزن میں سب سے بڑا ہے، نہ کہ تنہا۔

عام غلط فہمی

«مزاج اور جبلّت ایک ہی چیز ہیں۔» - متن نے دوسرے سبب کو پہلے ہی لفظ سے جدا کر دیا: المزاجُ الطبيعيُّ المتغيّرُ۔ جبلّت وہ ہے جس پر پیدا کیا گیا؛ مزاج وہ ہے جو التدبيرِ المحيطِ به سے بدلتا رہتا ہے۔ دونوں کو ایک کر دینے سے باب کا پورا عملی پہلو ختم ہو جاتا ہے۔

باریک نکتہ

روزے میں بوسے کی رخصت: مرفوع کیا ہے اور موقوف کیا۔ حاشیے کے مطابق بوسے میں شیخ و شاب کی تفریق ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور مرفوع روایت مباشرت کے بارے میں ہے۔ متن نے دونوں کو ایک جملے میں جوڑ دیا ہے، اور اِسے بعینہٖ ایک مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرنا تخریج سے آگے بڑھ جانا ہے۔

باریک نکتہ

چوتھا سبب «کشف» نہیں ہے۔ متن کے الفاظ ناپ تول کر رکھے گئے ہیں: تختطفُ (اُچک لینا) اور ما يُيَسَّرُ لها (جتنا میسر ہو)۔ یہ ایک جھپٹ ہے، کوئی مستقل مقام نہیں؛ اور باب ٩ کے پیمانے پر یہ اُس آدمی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے جس کی ملکیہ سافلہ ہے۔

باریک نکتہ

«خسیس نفوس» سب نفوس نہیں۔ پانچواں سبب بعضَ النفوسِ الخسيسةِ کے ساتھ مقید ہے۔ اِس قید کو گرا دینے سے باب شیطان کو ہر خیال کا سبب بنا دیتا ہے - جو ٹھیک وہ بات ہے جسے یہ فہرست توڑنے کے لیے بنی ہے۔

سیاق

یہ باب پالن پوری صاحب کے نسخے میں «باب» ہے، کراچی کے مخطوطے میں «فصل»۔ حاشیہ یہ بات صاف لکھتا ہے۔ اِس سے مضمون نہیں بدلتا، مگر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مختصر باب اپنی جگہ ایک مستقل عنوان ہے یا پچھلے باب کا ضمیمہ - اور نسخے اِس پر ایک رائے نہیں رکھتے۔


۸

مزید غور کے لیے

یہ سوالات کھلے ہیں

  • النظرُ والتجربةُ - اِس باب میں ذریعۂ علم تجربہ ہے۔ تو کیا پانچ کی یہ گنتی حاصر ہے، یا جتنا تجربے سے ظاہر ہوا اُتنا؟ متن اِس پر کچھ نہیں کہتا۔
  • چوتھا اور پانچواں سبب ایک ہی ساخت میں بیان ہوئے ہیں۔ تو کیا وسوسے اور الہام کو موضوعی طور پر الگ پہچانا جا سکتا ہے، یا پہچان صرف اُن کے اقتضا سے ہو گی - یعنی وہ کس عمل پر اُبھارتے ہیں؟
  • غذا سے سنگ دلی اور قتل پر جرأت تک کا سلسلہ - کیا یہ محض ایک مثال ہے، یا متن واقعی غذا کو اخلاق کا سبب مان رہا ہے؟ اور اگر مان رہا ہے تو باب ٩ کی «قوّتِ بہیمیہ شدیدہ» سے اِس کا کیا تعلق ہے، جہاں بھی غذا ہی سے مثال دی گئی تھی؟
  • تتجرّدُ لها النفسُ - نیند میں نفس کس چیز سے فارغ ہوتا ہے؟ باب ٥ کے نسمہ اور بدن کے ڈھانچے میں اِس «تجرد» کی جگہ کہاں بنتی ہے؟
  • ابن سیرین کی تین قسمیں اور یہ پانچ اسباب - کیا یہ واقعی ایک ہی نقشے کے دو بیان ہیں، یا دو الگ تقسیمیں ہیں جنہیں جوڑنا قاری کی زیادتی ہے؟
  • اگر خاطر کے اسباب ہیں تو خاطر پر مؤاخذہ کس درجے میں ہے؟ یہ باب خود جواب نہیں دیتا؛ باب ١١ اُسی سوال کو عمل کے پہلو سے اُٹھاتا ہے - الأعمالَ التي يقصدُها الإنسانُ قصداً مؤكداً۔
عبارت کہاں سے لی گئی: اِس باب کی عربی پالن پوری صاحب کے اسکین سے پڑھی گئی ہے، اور حواشی بھی وہیں سے ہیں۔ اُن کا نسخہ پانچ جگہ شاملہ سے بہتر نکلا: والشبّانِ (شاملہ: والشباب)، تغيَّرَ أكثرُ ما كانا عليه (شاملہ: كان، حالانکہ بات دو آدمیوں کی ہے)، العزمِ على الفعلِ، تتأثّرُ بالشياطينِ (شاملہ: من الشياطين)، اور محمدُ بنُ سيرينَ (شاملہ میں سِرين چھپا ہے)۔ صرف ایک جگہ اسکین پڑھا نہیں گیا - والنظرُ والتجربةُ يُظهِرانِ والی سطر - اور وہاں الفاظ شاملہ کے ہیں۔ چھپے ہوئے صفحے سے ملا لیجیے۔

اِس باب کی فہرست ▲

مآخذ

اِس باب کی عربی عبارتیں پالن پوری صاحب کی تحقیق کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔

نسخہ، شرح اور تلاش کے نسخے - پورے مآخذ ▸

کی بورڈ: → پچھلا باب  · ← اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن