فہرستِ ابواب
- ۱ابداع، خلق، تدبیر مصدقہibdāʿ · khalq · tadbīr · باب ١ — الإبداع والخلق والتدبيرکتاب کا پہلا ہی باب: عالَم کے ایجاد کے اعتبار سے تین صفاتِ مترتبہ۔ تدبیر کی تعریف میں «حکمت» اور «مصلحت» خود موجود ہیں۔ آخر میں شر کے دو معنی کی تفریق، اور تدبیر کے چار طریقے — قبض، بسط، إحالة، إلهام — جن میں سے آخری کی مثال انبیاء پر کتابوں کا نازل ہونا ہے۔
- ۲عالمِ مثال مصدقہʿālam al-mithāl · باب ٢ — ذكر عالم المثالایک عالَم جو «غير عنصري» ہے، جہاں معنی اپنی صفت سے مناسب جسم پہن لیتے ہیں۔ دلیل فلسفے سے نہیں، احادیث کے انبار سے — اور فیصلہ یہ کہ محض تمثیل پر اکتفا کرنے والا اہلِ حق میں نہیں۔
- ۳ملأِ اعلیٰ مصدقہal-malaʾ al-aʿlā · باب ٣ — ذكر الملأ الأعلىنام ہی «جماعت» سے ہے۔ وہ سُفَراء ہیں، اور «هنالك تتقرر الشرائع» — شریعتیں وہیں قرار پاتی ہیں۔ حظیرۃ القدس میں ہونے والا «عزم» نبوت کی توضیح بن جاتا ہے؛ اور نیچے کے درجے میں جال سے بچنے والی مچھلی بھی ملہَم ہے۔
- ۴سنتِ الٰہی مصدقہsunnat Allāh · باب ٤ — ذكر سنة اللهاللہ کے بعض افعال عالَم میں ودیعت کی گئی قوتوں پر «مترتب» ہوتے ہیں — اور یہی استطاعت تکلیف کی بنیاد ہے۔ یہاں شاہ ولی اللہ اُن قوتوں کی چھ قسمیں گناتے ہیں، اور اُن میں پچھلے تینوں باب سمٹ آتے ہیں۔ پھر: جب اسباب باہم ٹکرا جائیں تو کیا ہوتا ہے، اور ستاروں کے بارے میں کیا ثابت ہے اور کیا نہیں۔
- ۵حقیقتِ روح مصدقہḥaqīqat al-rūḥ · باب ٥ — حقيقة الروح«روح کے بارے میں پوچھتے ہیں — کہہ دو وہ میرے رب کے امر سے ہے۔» عام طور پر یہ آیت سوال بند کرنے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ شاہ ولی اللہ ایک شاذ قراءت کے سہارے کہتے ہیں کہ خطاب پوچھنے والے یہود سے تھا، اور پھر روح کو تین متعاقب نظروں میں کھولتے ہیں: مبدأِ حیات، بخارِ لطیف (نَسَمہ)، اور نقطۂ نورانیہ۔ اِسی سے موت، برزخ اور «مَلَکیّہ و بہیمیّہ» کا دروازہ کھلتا ہے۔
- ۶سرِّ تکلیف مصدقہsirr al-taklīf · باب ٦ — سرّ التكليفامانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش ہوئی، اُنہوں نے انکار کیا، انسان نے اٹھا لی — «إنه كان ظلوماً جهولاً»۔ یہ باب دکھاتا ہے کہ یہ آخری فقرہ مذمت نہیں، تعلیل ہے: جو نہ عادل ہو مگر عادل ہونا اُس کی شان ہو، وہی مکلَّف بننے کے لائق ہے۔ پھر دو قوتیں، اُن کی کشمکش، اور وہ نتیجہ جو سوال ہی پلٹ دیتا ہے: انسان خود اپنی استعداد کی زبان سے تکلیف مانگتا ہے۔
- ۷تکلیف کا تقدیر سے پھوٹنا مصدقہinshiqāq al-taklīf min al-taqdīr · باب ٧ — انشقاق التكليف من التقديریہ باب پوری کتاب کا نام کھولتا ہے: لله الحجة البالغة في تكليفه لعباده بالشرائع۔ دلیل درختوں سے شروع ہوتی ہے — پتے، پھول، پھلوں کے ذائقے، سب «صورتِ نوعیہ» کے ساتھ گُتھے ہوئے۔ پھر حیوانوں کے الہام، پھر انسان۔ اور نتیجہ: شریعت انسانی عقل کی چراگاہ ہے، ویسے ہی جیسے گھاس اُس جانور کی جو گھاس ہی پر جیتا ہے۔ آخر میں وہ سوال: «نماز کیوں فرض ہوئی؟»
- ۸تکلیف کا جزا کا تقاضا مصدقہiqtiḍāʾ al-taklīf al-mujāzāt · باب ٨ — اقتضاء التكليف المجازاةجزا باہر سے لگایا ہوا انعام یا سزا نہیں — وہ چار مختلف راستوں سے آتی ہے: نوعی ساخت کا تقاضا، ملأِ اعلیٰ کی جہت، مکتوب شریعت، اور نبی کا بھیجا جانا۔ اور پھر باب اِن چاروں کی درجہ بندی کرتا ہے: پہلی دو فطرة ہیں اور اُن پر مؤاخذہ انبیاء کی بعثت سے پہلے بھی ہے؛ تیسری زمانوں کے ساتھ بدلتی ہے اور وہی انبیاء کے بھیجے جانے کا سبب ہے؛ چوتھی بعثت کے بعد ہی ممکن ہے۔
تصدیق کے درجات
- مصدقہ — باب پالن پوری صاحب کے نسخے میں پڑھا جا چکا ہے، اور صفحے پر عربی عبارت براہِ راست نقل کی گئی ہے۔
- جزوی تصدیق — باب کا عنوان اور مقام تصدیق شدہ، مگر پوری عبارت نہیں دیکھی گئی۔
- غیر مصدقہ — ابھی متن سے نہیں ملایا گیا۔
«مصدقہ» کا مطلب یہ نہیں کہ باب کی تشریح بھی متن سے ہے۔ ہر صفحے پر عربی عبارت سنہری کنارے والے خانوں میں الگ دکھائی جاتی ہے؛ باقی اردو تشریح، مثالیں اور تنبیہات اِس بیاض کی ہیں۔ صفحہ نمبر جان بوجھ کر درج نہیں کیے جاتے — مقصد تصور کی درستی ہے، حوالہ بازی نہیں۔