القسم الأول · المبحث الأول · باب ١
باب الإبداع والخلق والتدبير
کتاب کا پہلا ہی باب — اور اُس کی بنیاد
ibdāʿ · khalq · tadbīr
غور کیجیے: یہ کتاب کا پہلا ہی باب ہے — اور قسمِ اوّل کا عنوان خود بتا رہا ہے کہ ساری کتاب کس چیز کے پیچھے ہے: القواعد الكلية التي تُستنبط منها المصالح المرعية في الأحكام الشرعية۔ یعنی وہ کلّی قواعد جن سے احکامِ شرعیہ کی مصالح نکالی جاتی ہیں۔ اِس لفظ مصلحة کو یاد رکھیے — یہ تدبیر کی تعریف میں دوبارہ آئے گا۔
اصل نکتہ: آخری مثال ہی پوری کتاب کا دروازہ ہے۔ اگر نبی کا بھیجا جانا خود تدبیر کا ایک فعل ہے، اور تدبیر بہ تعریف حكمة اور مصلحة کی طرف جاتی ہے — تو شریعت کے احکام میں حکمت تلاش کرنا نہ تکلف ہے نہ جسارت، بلکہ عین اُس نظام کو پہچاننا ہے۔ اِسی لیے یہ باب پہلے آتا ہے۔
شاہ ولی اللہ کی پوری کتاب ایک دعوے پر کھڑی ہے: شریعت کے احکام بے دلیل نہیں — اُن میں حکمت ہے، اور وہ حکمت انسانی عقل کی پہنچ میں ہے۔
لیکن یہ دعویٰ صرف اُس کائنات میں معنی رکھتا ہے جو منظم ہو۔ اگر اللہ کا فعل بے قاعدہ ہوتا — آج ایک اصول، کل دوسرا — تو اسرارِ شریعت کی تلاش سراسر بے معنی ہوتی۔ کسی حکم کی حکمت پہچاننے کے لیے ضروری ہے کہ عالَم میں مستقل قاعدے ہوں۔
چنانچہ ترتیب اتفاقی نہیں۔ یہ باب ١ ہے، اور اِس کے فوراً بعد عالم المثال اور الملأ الأعلى کے ابواب آتے ہیں — یعنی پہلے یہ طے کرنا کہ اللہ کا عالَم سے تعلق کیا ہے اور وہ کن واسطوں سے کام کرتا ہے؛ اور اُس کے بعد أسباب التكليف والمجازاة، یعنی احکام و جزا کے اسباب۔ بنیاد پہلے، عمارت بعد میں۔
باب کا آغاز اِس جملے سے ہوتا ہے:
اعلمْ أنَّ للهِ تعالى بالنسبةِ إلى إيجادِ العالمِ ثلاثَ صفاتٍ مترتبةٍ.
غور کیجیے: صفات کی نسبت عالَم کے ایجاد سے ہے — یعنی یہ اللہ کی ذات کا تجزیہ نہیں، بلکہ اُس کے عالَم کے ساتھ تعلق کے تین پہلو ہیں۔ اور وہ مترتبة ہیں: ایک ترتیب میں۔ (کون سی ترتیب؟ اِس پر حصہ ۷ میں۔)
ibdāʿ · origination out of no prior thing
إحداها: الإبداعُ، وهو إيجادُ شيءٍ لا مِن شيءٍ، فيَخْرُجُ الشيءُ مِن كَتْمِ العَدَمِ بغيرِ مادةٍ.
وسُئل رسولُ اللهِ ﷺ عن أوَّلِ هذا الأمرِ، فقال: «كان اللهُ ولم يكن شيءٌ قبلَه».
كَتْمِ العَدَم — «عدم کی چھپن»۔ لفظ خود تصویر بنا دیتا ہے: چیز کسی موجود مادے سے تراشی نہیں گئی، وہ نہ ہونے کے پردے سے باہر آئی — بغير مادة، بغیر کسی مادے کے۔
اور دیکھیے کہ وہ اِسے فلسفے پر نہیں چھوڑتے: حدیث لاتے ہیں۔ «اللہ تھا اور اُس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔» یعنی «پہلے» کا سوال ہی گرا دیا جاتا ہے۔ (بخاری کی ایک روایت میں ولم يكن شيء غيره ہے — «اُس کے سوا کوئی چیز نہ تھی»؛ حاشیے میں حافظ ابن حجر کا قول ہے کہ اِس میں دلالت ہے کہ اُس کے سوا کچھ نہ تھا — نہ پانی، نہ عرش۔)
مثال میری — ناول نگار جب کوئی کردار سوچتا ہے تو کسی موجود مٹی کو تراش نہیں رہا۔ مگر تشبیہ ادھوری ہے: اُس کے پاس زبان، تصورات، اپنا ذہن — سب پہلے سے موجود ہے۔ ابداع میں «پہلے سے موجود» کچھ بھی نہیں۔
khalq · bringing forth out of something already there
والثانيةُ: الخَلْقُ، وهو إيجادُ الشيءِ مِن شيءٍ، كما خَلَقَ آدمَ مِن التُّرابِ، وخَلَقَ الجانَّ مِن مارِجٍ مِن نارٍ.
فرق کا مدار ایک ہی چیز پر ہے: لا من شيء بمقابلہ من شيء۔ اور شاہ ولی اللہ دو مثالیں دیتے ہیں، دونوں قرآنی: آدم ؑ من التراب، اور جِن من مارج من نار (الرحمن: ١٥ — بےدھوئیں کی آگ کا شعلہ)۔
یعنی خلق ابداع کا مقابل نہیں، اُس پر مبنی ہے — کیونکہ وہ «موجود چیز» بھی بالآخر مبدَع ہے۔ مٹی پہلے سے تھی؛ آدم اُس سے بنے۔
مثال میری — کمہار اور مٹی۔ مگر فرق یہ ہے: کمہار مٹی کا خالق نہیں — یہاں مٹی خود اُسی کی مبدَع ہے جو اُس سے بنا رہا ہے۔
tadbīr · governing the world of generated things
والثالثةُ: تدبيرُ عالمِ المَواليدِ؛ ومَرْجِعُه إلى تَصْيِيرِ حوادثِها موافقةً للنظامِ الذي تَرْتَضِيه حِكْمَتُه، مُفْضِيةً إلى المصلحةِ التي اقتضاها جُودُه.
یہ تعریف بہت اہم ہے، اور میں پہلے اِسے عام کر کے «کائنات کو چلانا» کہہ گیا تھا — متن اِس سے زیادہ باریک ہے۔ تین قیدیں دیکھیے:
ایک — موضوع عالم المواليد ہے: پیدا ہونے اور مٹنے والا عالَم۔ دو — کام تصيير حوادثها موافقة للنظام ہے: حوادث کو ایک نظام کے موافق کر دینا۔ تین — اور وہ نظام بےمقصد نہیں: جسے حكمته پسند کرتی ہے، اور جو المصلحة التي اقتضاها جوده تک پہنچاتا ہے۔
یہیں کتاب کی جان ہے: حكمة اور مصلحة — دونوں لفظ خود تدبیر کی تعریف میں موجود ہیں۔ اور قسمِ اوّل کا عنوان المصالح المرعية في الأحكام الشرعية ہے۔ یعنی کتاب کا مقصد اِس تعریف میں پہلے سے رکھا ہوا ہے۔
لوحِ اوّل · Plate I
ذہنی خاکہ — ثلاث صفات مترتبة
شاخ پر دبائیے یا اوپر کے بٹن سے ایک شاخ پر توجہ مرکوز کیجیے۔ ہر شاخ کے پہلو متن کے الفاظ سے لیے گئے ہیں۔
یہاں باب ایک ایسا موڑ لیتا ہے جو بظاہر ضمنی لگتا ہے، مگر دراصل پوری کتاب کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ خلق کی تعریف دینے کے بعد شاہ ولی اللہ آگے بڑھتے ہیں:
وقد دلَّ العقلُ والنقلُ على أنَّ اللهَ تعالى خَلَقَ العالمَ أنواعاً وأجناساً، وجَعَلَ لكلِّ نوعٍ وجنسٍ خواصَّ.
یعنی عالَم بےترتیب ذروں کا ڈھیر نہیں — انواع اور اجناس میں پیدا کیا گیا ہے، اور ہر نوع کو اپنے خواص دیے گئے ہیں۔ اور مثالیں وہ بالکل ٹھوس دیتے ہیں:
اور اِس کے بعد وہ فقرہ آتا ہے جو سب کچھ جوڑ دیتا ہے: اللہ کی عادة یہ جاری ہے کہ یہ خواص اپنی جگہ سے ٹلتے نہیں۔ آگ کی خاصیت جلانا ہے، اور وہ اُس سے جدا نہیں ہوتی — اللهم إلا بطريق خرق العادة، سوائے اُس صورت میں کہ عادت ہی توڑ دی جائے، جیسے ابراہیم ؑ پر اُسے برداً وسلاماً بنا دیا گیا (یہ تفصیل حاشیے میں ہے)۔
(اِسی سلسلے میں وہ اجناس و انواع کی درجہ بندی بھی بیان کرتے ہیں — جنس الأجناس سے نوع الأنواع تک: وجود، جوہر، جسم، جسمِ نامی، حیوان، انسان — اور نبوی طب کی چند احادیث بھی لاتے ہیں، جو خواص ہی کی عملی تصدیق ہیں۔)
لوحِ دوم · Plate II
تدبیر کی تعریف کا ڈھانچہ — متن کے الفاظ میں
تدبیر صرف «چلانا» نہیں — یہ حوادث کو نظام کے موافق کرنا ہے، اور وہ نظام حکمت کا پسندیدہ اور مصلحت کی طرف لے جانے والا ہے۔ اسی لیے احکامِ شریعت کی مصلحتیں دریافت کی جا سکتی ہیں: وہ اُسی نظام کا حصہ ہیں۔
یہ خاکہ تعریف کے اپنے اجزاء ہیں — تدبير عالم المواليد؛ ومرجعه إلى تصيير حوادثها موافقةً للنظام الذي ترتضيه حكمته، مفضيةً إلى المصلحة التي اقتضاها جوده۔
تعریف کے بعد شاہ ولی اللہ چار مثالیں دیتے ہیں، اور اُن کی ترتیب خود ایک دلیل ہے۔ وہ نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں:
مثالوں کے بعد شاہ ولی اللہ وتفصيلُ ذلك کہہ کر مشین کھول دیتے ہیں — اور یہ حصہ باب کا سب سے تکنیکی مگر سب سے کارآمد ہے۔ پہلے بنیاد:
أنَّ القوى المُودَعةَ في المَواليدِ التي لا تَنْفَكُّ عنها، لما تَزاحَمَتْ وتَصادَمَتْ، أوجبَتْ حِكْمةُ اللهِ حُدوثَ أطوارٍ مختلفةٍ: بعضُها جواهرُ وبعضُها أعراضٌ.
یعنی موالید میں جو قوى ودیعت کی گئی ہیں — اور جو اُن سے جدا نہیں ہوتیں — جب باہم مزاحمت اور تصادم کرتی ہیں، تو اللہ کی حکمت مختلف أطوار کے پیدا ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ بعض جوہر، بعض عرض؛ اور اعراض یا افعال ہیں یا ارادے۔ تدبیر اِن قوتوں کے ذریعے چلتی ہے، اُنہیں معطل کر کے نہیں — یہی بات باب ۳ میں جال اور مچھلی کی مثال میں دوبارہ ملے گی۔
اور اب وہ سوال جو ہر ذہن میں اٹھتا ہے: اگر نظام حکمت کا ہے، تو دنیا میں شر کیوں ہے؟ جواب ایک نپی تلی تفریق سے دیا جاتا ہے — شر کے دو معنی الگ کر لیجیے:
وتلك الأطوارُ لا شَرَّ فيها بمعنى عدمِ صُدورِ ما يَقْتَضيه سببُه، أو صُدورِ ضِدِّ ما يَقْتَضيه. والشيءُ الذي اعْتُبِرَ بسببِه المُقْتَضي لوجودِه كان حَسَناً لا مَحالةَ — كالقَطْعِ: حَسَنٌ مِن حيثُ أنه يَقْتَضيه جَوهرُ الحديدِ، وإنْ كان قبيحاً مِن حيثُ فَوْتُ بِنْيةِ إنسانٍ.
لكن فيها شَرٌّ بمعنى حُدوثِ شيءٍ غيرُه أوْفَقُ بالمصلحةِ منه باعتبارِ الآثارِ، أو عدمِ حُدوثِ شيءٍ آثارُه محمودةٌ.
پہلا معنی — یہ شر موجود نہیں۔ اگر «شر» سے مراد یہ ہو کہ سبب اپنا مقتضیٰ پیدا نہ کرے، یا اُس کے خلاف پیدا کرے — تو ایسا کچھ نہیں۔ نظام میں کوئی خرابی نہیں۔ اور جس چیز کو اُس کے سبب کے اعتبار سے دیکھا جائے، وہ لازماً حسن ہے۔
اور یہاں وہ مثال آتی ہے جو پوری بحث کو ہاتھ میں پکڑا دیتی ہے: القَطْع — کاٹنا۔ لوہے کے جوہر کے اعتبار سے کاٹنا حسن ہے، کیونکہ لوہا اپنی ذات سے یہی تقاضا کرتا ہے۔ اور وہی کاٹنا انسان کی بِنْیَت (ساخت) کے ضائع ہونے کے اعتبار سے قبیح ہے۔ ایک ہی فعل، دو اعتبار، دو حکم۔ چھری کا تیز ہونا خرابی نہیں — چھری کا غلط جگہ چلنا خرابی ہے۔
دوسرا معنی — یہ شر موجود ہے۔ ہاں، اِس معنی میں شر ہے کہ ایسی چیز پیش آ جائے جس سے کوئی دوسری چیز آثار کے اعتبار سے مصلحت کے زیادہ موافق ہوتی؛ یا ایسی چیز پیش نہ آئے جس کے آثار قابلِ تعریف ہوتے۔ یعنی شر نظام کی خرابی نہیں، ترجیح کا فوت ہونا ہے — بہتر ممکن کا نہ ہونا۔
اور جب اُس دوسرے معنی والے شر کے اسباب جمع ہو جائیں، تو کیا ہوتا ہے؟ یہاں متن چار افعال گنواتا ہے — اور یہ فہرست باب کا سب سے عملی حصہ ہے:
وإذا تَهَيَّأَتْ أسبابُ هذا الشرِّ، اقْتَضَتْ رحمةُ اللهِ بعبادِه ولُطْفُه بهم، وعمومُ قدرتِه على الكلِّ، وشُمولُ عِلْمِه بالكلِّ — أن يَتَصَرَّفَ في تلك القوى والأمورِ الحاملةِ لها بالقَبْضِ والبَسْطِ والإحالةِ والإلهامِ، حتى تُفْضِيَ تلك الجملةُ إلى الأمرِ المطلوبِ.
غور کیجیے کہ تصرف قوتوں میں ہے اور اُن چیزوں میں جو اُنہیں اٹھائے ہوئے ہیں — نہ کہ قوتوں کو منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ اور چار طریقے، ہر ایک کی مثال متن ہی سے:
| طریقہ | مفہوم | متن کی مثال |
|---|---|---|
| القَبْض | روک دینا — قوت موجود، مگر اثر نہ ہونے دیا جائے | دجال دوسری بار مؤمن بندے کو قتل کرنا چاہتا ہے، مگر اللہ اُسے قدرت نہیں دیتا — باوجود اِس کے کہ قتل کا داعیہ درست ہے اور آلات سلامت ہیں |
| البَسْط | پھیلا دینا — قوت کو معمول سے آگے بڑھا دینا | ایوب ؑ کے لیے زمین پر پاؤں مارنے سے چشمہ پھوٹ پڑا، حالانکہ عادۃً ایک ٹھوکر سے پانی نہیں نکلتا؛ اور جہاد میں بعض مخلص بندوں کو ایسی طاقت دی گئی جو ایسے بدنوں سے — یا اُن کے کئی گنا سے — عقل میں نہیں آتی |
| الإحالة | ماہیت بدل دینا — چیز کو دوسری چیز میں پلٹ دینا | ابراہیم ؑ کے لیے آگ کو خوشگوار ہوا بنا دینا |
| الإلهام | دل میں ڈال دینا — ارادے کے راستے سے کام لینا | کشتی میں سوراخ کرنا، دیوار سیدھی کرنا، لڑکے کو قتل کرنا (قصۂ موسیٰ و خضر ؑ) — اور انبیاء علیہم السلام پر کتابوں اور شریعتوں کا نازل کرنا |
چار میں سے پہلے تین اشیاء پر کام کرتے ہیں؛ چوتھا دلوں پر۔ اور متن ایک باریک اضافہ کرتا ہے: والإلهامُ تارةً يكون للمُبتلى، وتارةً يكون لغيرِه لأجلِه — الہام کبھی خود مبتلا شخص کو ہوتا ہے، اور کبھی کسی دوسرے کو اُس کی خاطر۔ یعنی آپ کے مسئلے کا حل کسی اور کے دل میں ڈالا جا سکتا ہے۔
شاہ ولی اللہ کا لفظ مترتبة ہے — یہ تینوں صفات ایک ترتیب میں ہیں۔ سوال یہ ہے: کون سی ترتیب؟
وقت کی نہیں۔ یہ تین الگ الگ واقعات نہیں جو باری باری پیش آئے۔ زمانہ خود مخلوق ہے؛ اور حدیث خود کہہ رہی ہے کہ «اُس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی» — تو «پہلے» کی پیمائش کیسے ہو؟ ترتیب رتبے اور منطق کی ہے: خلق کا تصور ابداع کو فرض کرتا ہے، کیونکہ من شيء تب ہی معنی رکھتا ہے جب کوئی چیز پہلے موجود کی گئی ہو۔ اور تدبیر خلق کو فرض کرتی ہے، کیونکہ عالم المواليد کے حوادث کا انتظام تب ہی ممکن ہے جب موالید موجود ہوں۔
ایک بات جو میں طے نہیں کر سکتا، اور آپ متن و شارحین سے دیکھیں: وہ اِنہیں صفات کہتے ہیں۔ اب کیا اُن کے ہاں یہ ذاتِ باری میں حقیقی تعدد ہے، یا ایک ہی فعل کے تین اعتبارات جنہیں ہماری نگاہ الگ کرتی ہے؟ یہ کلامی سوال ہے۔ متن میں ایک اشارہ ملتا ہے: حاشیے میں ترتّب پر کلام کرتے ہوئے آیا ہے کہ لا ندري كيف تترتب؟ ولكن نستيقن أنها مترتبة — «ہم نہیں جانتے کہ ترتیب کیسے ہے، مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ مترتب ہیں۔» یہ فیصلہ نہیں، مگر رخ دکھاتا ہے: ترتیب کا اثبات، اُس کی کیفیت میں توقف۔
| اصطلاح | متن کے الفاظ | کیوں ضروری ہے |
|---|---|---|
| الإبداع | إيجاد شيء لا من شيء — من كتم العدم بغير مادة | سلسلے کا نقطۂ آغاز۔ اِس کے بغیر «وہ پہلی چیز کہاں سے آئی؟» کا جواب نہیں |
| الخَلْق | إيجاد الشيء من شيء | کثرت و تنوع — انواع و اجناس اور اُن کے خواص کیسے بنے |
| التدبير | تصيير حوادث عالم المواليد موافقةً للنظام … مفضيةً إلى المصلحة | عالَم میں مقصد کا ہونا — اور یہی حکمتِ شریعت کا دروازہ |
| خواص | جعل لكل نوع وجنس خواصَّ | ہر نوع کی مستقل خاصیت — قاعدے کی اکائی |
| عادة الله | خواص کا نہ ٹلنا (سوائے خرق العادة) | یہی «قاعدہ» ہے جس کی بنیاد پر حکمت قابلِ دریافت ہوتی ہے |
| قوى مُودَعة | القوى المُودَعة في المواليد … تزاحمت وتصادمت | وہ آلات جن کے ذریعے تدبیر عمل میں آتی ہے |
«پہلے ابداع ہوا، پھر خلق، پھر تدبیر۔» — مترتبة کا مطلب زمانی ترتیب نہیں۔ زمانہ خود مخلوق ہے، اور خود متن کی حدیث «پہلے» کو ساقط کر دیتی ہے۔ ترتیب منطقی و رتبی ہے، تاریخی نہیں۔
«تدبیر کا مطلب ہے اللہ نے کائنات بنا کر چھوڑ دی۔» — تعریف اِس کے بالکل خلاف ہے: تدبیر تصيير حوادثها ہے، یعنی حوادث کو مسلسل نظام کے موافق کرنا۔ یہ فعلِ جاری ہے، ایک بار کا کام نہیں۔
ابداع اور خلق کا فرق «تقدیر و ناپ تول» کا نہیں۔ لوگ خلق کے لغوی مفہوم (اندازہ کرنا) کو یہاں لے آتے ہیں۔ وہ لغوی بات اپنی جگہ درست ہے، مگر اِس باب میں معیار صاف ہے: لا من شيء بمقابلہ من شيء۔ دونوں کو گڈمڈ کرنے سے فرق دھندلا جاتا ہے۔
تدبیر کا موضوع پوری کائنات نہیں، عالم المواليد ہے۔ متن نے قید لگائی ہے۔ اِسے عام کر کے «کائنات چلانا» کہہ دینا تعریف کو ڈھیلا کر دیتا ہے اور آگے کے ابواب (عالم المثال، ملأ اعلیٰ) سے ربط توڑ دیتا ہے۔
معجزہ قاعدے کی نفی نہیں۔ خرق العادة کا لفظ خود بتا رہا ہے کہ ایک عادت موجود ہے جسے توڑا گیا۔ استثنا قاعدے کو ثابت کرتا ہے، مٹاتا نہیں — اور اسی لیے آگ کا ابراہیم ؑ پر ٹھنڈی ہو جانا خواص کے نظام کے خلاف دلیل نہیں۔
یہ اصطلاحات شاہ ولی اللہ کی ایجاد نہیں — فلسفہ و کلام کی مشترک میراث ہیں۔ اُن کا کمال اِنہیں ایجاد کرنا نہیں، بلکہ اِنہیں حدیث، فقہ اور تصوف کے ساتھ جوڑ کر «حکمتِ شریعت» کا مربوط نظام بنانا ہے — اور کتاب کے پہلے ہی باب میں اُس کی بنیاد رکھ دینا۔
حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري (دار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م؛ مجلدان)۔ اوپر کی تمام عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں — باب ١، مبحثِ اوّل کے آغاز میں۔
اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔
پورے متن میں لفظ تلاش کرنا ہو تو یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں (شاملہ پر سیّد سابق کا نسخہ ہے)، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے۔
کی بورڈ: → پچھلا باب · ← اگلا باب · Esc فہرست · متن کے لیے نیچے کا بٹن