حجة الله البالغة — شاہ ولی اللہ دہلویفہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ١

ابداع خلق تدبیر

باب الإبداع والخلق والتدبير
کتاب کا پہلا ہی باب — اور اُس کی بنیاد

ibdāʿ  ·  khalq  ·  tadbīr

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغةشاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ١ — الإبداع والخلق والتدبير
مقام
القسم الأول: في القواعد الكلية التي تُستنبط منها المصالح المرعية في الأحكام الشرعية
— المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
بعد کے ابواب
باب ذكر عالم المثال ← باب ذكر الملأ الأعلى
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريدار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

غور کیجیے: یہ کتاب کا پہلا ہی باب ہے — اور قسمِ اوّل کا عنوان خود بتا رہا ہے کہ ساری کتاب کس چیز کے پیچھے ہے: القواعد الكلية التي تُستنبط منها المصالح المرعية في الأحكام الشرعية۔ یعنی وہ کلّی قواعد جن سے احکامِ شرعیہ کی مصالح نکالی جاتی ہیں۔ اِس لفظ مصلحة کو یاد رکھیے — یہ تدبیر کی تعریف میں دوبارہ آئے گا۔

خلاصۂ باب
  1. اللہ تعالیٰ کی، عالَم کے ایجاد کے اعتبار سے، تین صفات ہیں اور وہ مترتبة ہیں — یعنی ایک ترتیب و درجہ بندی میں۔
  2. ابداع: کسی چیز کو وجود دینا مگر کسی (موجود) چیز سے نہیں — چیز كتم العدم سے بغیر مادہ باہر آتی ہے۔ شاہ ولی اللہ اِسے حدیث سے جوڑتے ہیں۔
  3. خلق: کسی موجود چیز سے وجود دینا — آدم ؑ مٹی سے، جِن مارج من نار سے۔ پھر وہ آگے بڑھ کر بتاتے ہیں کہ عالَم انواع و اجناس میں پیدا کیا گیا اور ہر نوع کو خواص دیے گئے، اور اللہ کی عادة یہ ہے کہ یہ خواص ٹلتے نہیں۔
  4. تدبیر: عالم المواليد کا انتظام — یعنی اُس کے حوادث کو اُس نظام کے موافق کر دینا جسے اُس کی حكمة پسند کرتی ہے، اور جو اُس مصلحة تک پہنچاتا ہے جس کا تقاضا اُس کا جود کرتا ہے۔
  5. تدبیر کی مثالیں تین سطحوں پر چڑھتی ہیں: طبعی (بارش سے نبات، نبات سے رزق) → خارقِ عادت (ابراہیم ؑ کے لیے آگ ٹھنڈی، ایوب ؑ کے لیے چشمہ) → وحی و نبوت (اہلِ زمین کی حالت دیکھ کر نبی ﷺ کو بھیجنا)۔
  6. شر کے دو معنی۔ نظام میں یہ شر نہیں کہ سبب اپنا مقتضیٰ نہ دے — اِس اعتبار سے ہر چیز حسن ہے (لوہے کے جوہر سے کاٹنا حسن، انسان کی ساخت کے فوت ہونے سے قبیح)۔ ہاں یہ شر ہے کہ کوئی بہتر ممکن فوت ہو جائے۔
  7. اور تدبیر کے چار طریقے: القَبْض (روک دینا) · البَسْط (بڑھا دینا) · الإحالة (ماہیت بدلنا) · الإلهام (دل میں ڈالنا) — اور انبیاء پر کتابوں کا نازل ہونا اِسی چوتھے کی مثال ہے۔

اصل نکتہ: آخری مثال ہی پوری کتاب کا دروازہ ہے۔ اگر نبی کا بھیجا جانا خود تدبیر کا ایک فعل ہے، اور تدبیر بہ تعریف حكمة اور مصلحة کی طرف جاتی ہے — تو شریعت کے احکام میں حکمت تلاش کرنا نہ تکلف ہے نہ جسارت، بلکہ عین اُس نظام کو پہچاننا ہے۔ اِسی لیے یہ باب پہلے آتا ہے۔

۱

یہ باب پہلے کیوں ہے؟

شاہ ولی اللہ کی پوری کتاب ایک دعوے پر کھڑی ہے: شریعت کے احکام بے دلیل نہیں — اُن میں حکمت ہے، اور وہ حکمت انسانی عقل کی پہنچ میں ہے۔

لیکن یہ دعویٰ صرف اُس کائنات میں معنی رکھتا ہے جو منظم ہو۔ اگر اللہ کا فعل بے قاعدہ ہوتا — آج ایک اصول، کل دوسرا — تو اسرارِ شریعت کی تلاش سراسر بے معنی ہوتی۔ کسی حکم کی حکمت پہچاننے کے لیے ضروری ہے کہ عالَم میں مستقل قاعدے ہوں۔

چنانچہ ترتیب اتفاقی نہیں۔ یہ باب ١ ہے، اور اِس کے فوراً بعد عالم المثال اور الملأ الأعلى کے ابواب آتے ہیں — یعنی پہلے یہ طے کرنا کہ اللہ کا عالَم سے تعلق کیا ہے اور وہ کن واسطوں سے کام کرتا ہے؛ اور اُس کے بعد أسباب التكليف والمجازاة، یعنی احکام و جزا کے اسباب۔ بنیاد پہلے، عمارت بعد میں۔


۲

تین صفات، ایک ترتیب

باب کا آغاز اِس جملے سے ہوتا ہے:

اعلمْ أنَّ للهِ تعالى بالنسبةِ إلى إيجادِ العالمِ ثلاثَ صفاتٍ مترتبةٍ.

غور کیجیے: صفات کی نسبت عالَم کے ایجاد سے ہے — یعنی یہ اللہ کی ذات کا تجزیہ نہیں، بلکہ اُس کے عالَم کے ساتھ تعلق کے تین پہلو ہیں۔ اور وہ مترتبة ہیں: ایک ترتیب میں۔ (کون سی ترتیب؟ اِس پر حصہ ۷ میں۔)

ابداع — نہ کسی چیز سے

ibdāʿ · origination out of no prior thing

إحداها: الإبداعُ، وهو إيجادُ شيءٍ لا مِن شيءٍ، فيَخْرُجُ الشيءُ مِن كَتْمِ العَدَمِ بغيرِ مادةٍ.

وسُئل رسولُ اللهِ ﷺ عن أوَّلِ هذا الأمرِ، فقال: «كان اللهُ ولم يكن شيءٌ قبلَه».

كَتْمِ العَدَم — «عدم کی چھپن»۔ لفظ خود تصویر بنا دیتا ہے: چیز کسی موجود مادے سے تراشی نہیں گئی، وہ نہ ہونے کے پردے سے باہر آئی — بغير مادة، بغیر کسی مادے کے۔

اور دیکھیے کہ وہ اِسے فلسفے پر نہیں چھوڑتے: حدیث لاتے ہیں۔ «اللہ تھا اور اُس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔» یعنی «پہلے» کا سوال ہی گرا دیا جاتا ہے۔ (بخاری کی ایک روایت میں ولم يكن شيء غيره ہے — «اُس کے سوا کوئی چیز نہ تھی»؛ حاشیے میں حافظ ابن حجر کا قول ہے کہ اِس میں دلالت ہے کہ اُس کے سوا کچھ نہ تھا — نہ پانی، نہ عرش۔)

مثال میری — ناول نگار جب کوئی کردار سوچتا ہے تو کسی موجود مٹی کو تراش نہیں رہا۔ مگر تشبیہ ادھوری ہے: اُس کے پاس زبان، تصورات، اپنا ذہن — سب پہلے سے موجود ہے۔ ابداع میں «پہلے سے موجود» کچھ بھی نہیں۔

خلق — کسی موجود چیز سے

khalq · bringing forth out of something already there

والثانيةُ: الخَلْقُ، وهو إيجادُ الشيءِ مِن شيءٍ، كما خَلَقَ آدمَ مِن التُّرابِ، وخَلَقَ الجانَّ مِن مارِجٍ مِن نارٍ.

فرق کا مدار ایک ہی چیز پر ہے: لا من شيء بمقابلہ من شيء۔ اور شاہ ولی اللہ دو مثالیں دیتے ہیں، دونوں قرآنی: آدم ؑ من التراب، اور جِن من مارج من نار (الرحمن: ١٥ — بےدھوئیں کی آگ کا شعلہ)۔

یعنی خلق ابداع کا مقابل نہیں، اُس پر مبنی ہے — کیونکہ وہ «موجود چیز» بھی بالآخر مبدَع ہے۔ مٹی پہلے سے تھی؛ آدم اُس سے بنے۔

مثال میری — کمہار اور مٹی۔ مگر فرق یہ ہے: کمہار مٹی کا خالق نہیں — یہاں مٹی خود اُسی کی مبدَع ہے جو اُس سے بنا رہا ہے۔

تدبیر — عالمِ موالید کا انتظام

tadbīr · governing the world of generated things

والثالثةُ: تدبيرُ عالمِ المَواليدِ؛ ومَرْجِعُه إلى تَصْيِيرِ حوادثِها موافقةً للنظامِ الذي تَرْتَضِيه حِكْمَتُه، مُفْضِيةً إلى المصلحةِ التي اقتضاها جُودُه.

یہ تعریف بہت اہم ہے، اور میں پہلے اِسے عام کر کے «کائنات کو چلانا» کہہ گیا تھا — متن اِس سے زیادہ باریک ہے۔ تین قیدیں دیکھیے:

ایک — موضوع عالم المواليد ہے: پیدا ہونے اور مٹنے والا عالَم۔ دو — کام تصيير حوادثها موافقة للنظام ہے: حوادث کو ایک نظام کے موافق کر دینا۔ تین — اور وہ نظام بےمقصد نہیں: جسے حكمته پسند کرتی ہے، اور جو المصلحة التي اقتضاها جوده تک پہنچاتا ہے۔

یہیں کتاب کی جان ہے: حكمة اور مصلحة — دونوں لفظ خود تدبیر کی تعریف میں موجود ہیں۔ اور قسمِ اوّل کا عنوان المصالح المرعية في الأحكام الشرعية ہے۔ یعنی کتاب کا مقصد اِس تعریف میں پہلے سے رکھا ہوا ہے۔

لوحِ اوّل · Plate I

ذہنی خاکہ — ثلاث صفات مترتبة

ثلاث صفات مترتبةبالنسبة إلى إيجاد العالمthree ordered attributesالإبداعibdāʿإيجاد شيء لا من شيءمن كَتْم العدم — بغير مادةحدیث: كان الله ولم يكن شيء قبله«پہلے» کا سوال ہی ساقطالخَلْقkhalqإيجاد الشيء من شيءآدم من التراب · الجان من مارج من نارأنواعاً وأجناساً — ولكلٍّ خواصُّعادة الله: خواص ٹلتے نہیںالتدبيرtadbīrموضوع: عالم المَواليدتصيير حوادثها موافقةً للنظامالنظام الذي ترتضيه حِكْمَتُهمُفْضِية إلى المصلحة — اقتضاها جُودُه

شاخ پر دبائیے یا اوپر کے بٹن سے ایک شاخ پر توجہ مرکوز کیجیے۔ ہر شاخ کے پہلو متن کے الفاظ سے لیے گئے ہیں۔

۳

خلق کی تفصیل: خواص اور عادتِ الٰہی

یہاں باب ایک ایسا موڑ لیتا ہے جو بظاہر ضمنی لگتا ہے، مگر دراصل پوری کتاب کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ خلق کی تعریف دینے کے بعد شاہ ولی اللہ آگے بڑھتے ہیں:

وقد دلَّ العقلُ والنقلُ على أنَّ اللهَ تعالى خَلَقَ العالمَ أنواعاً وأجناساً، وجَعَلَ لكلِّ نوعٍ وجنسٍ خواصَّ.

یعنی عالَم بےترتیب ذروں کا ڈھیر نہیں — انواع اور اجناس میں پیدا کیا گیا ہے، اور ہر نوع کو اپنے خواص دیے گئے ہیں۔ اور مثالیں وہ بالکل ٹھوس دیتے ہیں:

اور اِس کے بعد وہ فقرہ آتا ہے جو سب کچھ جوڑ دیتا ہے: اللہ کی عادة یہ جاری ہے کہ یہ خواص اپنی جگہ سے ٹلتے نہیں۔ آگ کی خاصیت جلانا ہے، اور وہ اُس سے جدا نہیں ہوتی — اللهم إلا بطريق خرق العادة، سوائے اُس صورت میں کہ عادت ہی توڑ دی جائے، جیسے ابراہیم ؑ پر اُسے برداً وسلاماً بنا دیا گیا (یہ تفصیل حاشیے میں ہے)۔

دیکھیے یہ کتنی بڑی بات ہے۔ حکمت اِسی لیے قابلِ دریافت ہے کہ خواص باقاعدہ ہیں۔ اگر زہر کبھی مارتا اور کبھی نہ مارتا، اگر آگ کا جلانا اتفاقی ہوتا — تو نہ طب ممکن تھی، نہ تدبیر کی پہچان، اور نہ ہی یہ کہنا ممکن تھا کہ «شریعت نے یہ حکم اِس مصلحت کے لیے دیا»۔ اور معجزہ اِس قاعدے کی نفی نہیں — وہ خرقِ عادت ہے، یعنی قاعدے کا استثنا، جو خود قاعدے کے وجود کو مانتا ہے۔

(اِسی سلسلے میں وہ اجناس و انواع کی درجہ بندی بھی بیان کرتے ہیں — جنس الأجناس سے نوع الأنواع تک: وجود، جوہر، جسم، جسمِ نامی، حیوان، انسان — اور نبوی طب کی چند احادیث بھی لاتے ہیں، جو خواص ہی کی عملی تصدیق ہیں۔)

لوحِ دوم · Plate II

تدبیر کی تعریف کا ڈھانچہ — متن کے الفاظ میں

تدبیر صرف «چلانا» نہیں — یہ حوادث کو نظام کے موافق کرنا ہے، اور وہ نظام حکمت کا پسندیدہ اور مصلحت کی طرف لے جانے والا ہے۔ اسی لیے احکامِ شریعت کی مصلحتیں دریافت کی جا سکتی ہیں: وہ اُسی نظام کا حصہ ہیں۔

یہ خاکہ تعریف کے اپنے اجزاء ہیں — تدبير عالم المواليد؛ ومرجعه إلى تصيير حوادثها موافقةً للنظام الذي ترتضيه حكمته، مفضيةً إلى المصلحة التي اقتضاها جوده۔

۴

تدبیر کی مثالیں — اور اُن کی چڑھائی

تعریف کے بعد شاہ ولی اللہ چار مثالیں دیتے ہیں، اور اُن کی ترتیب خود ایک دلیل ہے۔ وہ نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں:

  1. طبعی تدبیر — بادل سے بارش اتاری، اُس سے زمین کا نبات نکالا، تاکہ لوگ اور مویشی کھائیں؛ پس یہ اُن کی حیات کا سبب بنا إلى أجل معلوم۔
  2. خرقِ عادت — ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے، تو اللہ نے آگ کو برداً وسلاماً بنا دیا تاکہ وہ زندہ رہیں۔
  3. شفا کی تدبیر — ایوب ؑ کے بدن میں مرض کا مادہ جمع ہو گیا، تو اللہ نے ایک چشمہ پیدا کر دیا جس میں اُن کے مرض کی شفا تھی۔
  4. وحی و نبوت کی تدبیر — اللہ نے اہلِ زمین کی طرف دیکھا، اور اُن کے عرب و عجم پر ناراض ہوا (فمقتهم)، تو اپنے نبی ﷺ کی طرف وحی کی کہ اُنہیں ڈرائیں اور جہاد کریں، تاکہ جسے چاہے من الظلمات إلى النور نکال لائے۔
چوتھی مثال پر رُکیے۔ نبی کا بھیجا جانا خود تدبیر کا ایک فعل ہے — اُسی صف میں جس میں بارش اور شفا ہیں۔ یعنی وحی عالَم کے نظام سے باہر کوئی اجنبی چیز نہیں؛ وہ اُسی تدبیر کا تسلسل ہے جو بارش برساتی ہے۔ اور چونکہ تدبیر بہ تعریف مصلحة کی طرف جاتی ہے، تو شریعت کے احکام میں مصلحت تلاش کرنا لازمی طور پر جائز ہے۔ پوری کتاب کا دعویٰ اِس ایک مثال میں تہ ہے۔

۵

تفصیل: شر کے دو معنی

مثالوں کے بعد شاہ ولی اللہ وتفصيلُ ذلك کہہ کر مشین کھول دیتے ہیں — اور یہ حصہ باب کا سب سے تکنیکی مگر سب سے کارآمد ہے۔ پہلے بنیاد:

أنَّ القوى المُودَعةَ في المَواليدِ التي لا تَنْفَكُّ عنها، لما تَزاحَمَتْ وتَصادَمَتْ، أوجبَتْ حِكْمةُ اللهِ حُدوثَ أطوارٍ مختلفةٍ: بعضُها جواهرُ وبعضُها أعراضٌ.

یعنی موالید میں جو قوى ودیعت کی گئی ہیں — اور جو اُن سے جدا نہیں ہوتیں — جب باہم مزاحمت اور تصادم کرتی ہیں، تو اللہ کی حکمت مختلف أطوار کے پیدا ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ بعض جوہر، بعض عرض؛ اور اعراض یا افعال ہیں یا ارادے۔ تدبیر اِن قوتوں کے ذریعے چلتی ہے، اُنہیں معطل کر کے نہیں — یہی بات باب ۳ میں جال اور مچھلی کی مثال میں دوبارہ ملے گی۔

اور اب وہ سوال جو ہر ذہن میں اٹھتا ہے: اگر نظام حکمت کا ہے، تو دنیا میں شر کیوں ہے؟ جواب ایک نپی تلی تفریق سے دیا جاتا ہے — شر کے دو معنی الگ کر لیجیے:

وتلك الأطوارُ لا شَرَّ فيها بمعنى عدمِ صُدورِ ما يَقْتَضيه سببُه، أو صُدورِ ضِدِّ ما يَقْتَضيه. والشيءُ الذي اعْتُبِرَ بسببِه المُقْتَضي لوجودِه كان حَسَناً لا مَحالةَ — كالقَطْعِ: حَسَنٌ مِن حيثُ أنه يَقْتَضيه جَوهرُ الحديدِ، وإنْ كان قبيحاً مِن حيثُ فَوْتُ بِنْيةِ إنسانٍ.

لكن فيها شَرٌّ بمعنى حُدوثِ شيءٍ غيرُه أوْفَقُ بالمصلحةِ منه باعتبارِ الآثارِ، أو عدمِ حُدوثِ شيءٍ آثارُه محمودةٌ.

پہلا معنی — یہ شر موجود نہیں۔ اگر «شر» سے مراد یہ ہو کہ سبب اپنا مقتضیٰ پیدا نہ کرے، یا اُس کے خلاف پیدا کرے — تو ایسا کچھ نہیں۔ نظام میں کوئی خرابی نہیں۔ اور جس چیز کو اُس کے سبب کے اعتبار سے دیکھا جائے، وہ لازماً حسن ہے۔

اور یہاں وہ مثال آتی ہے جو پوری بحث کو ہاتھ میں پکڑا دیتی ہے: القَطْع — کاٹنا۔ لوہے کے جوہر کے اعتبار سے کاٹنا حسن ہے، کیونکہ لوہا اپنی ذات سے یہی تقاضا کرتا ہے۔ اور وہی کاٹنا انسان کی بِنْیَت (ساخت) کے ضائع ہونے کے اعتبار سے قبیح ہے۔ ایک ہی فعل، دو اعتبار، دو حکم۔ چھری کا تیز ہونا خرابی نہیں — چھری کا غلط جگہ چلنا خرابی ہے۔

دوسرا معنی — یہ شر موجود ہے۔ ہاں، اِس معنی میں شر ہے کہ ایسی چیز پیش آ جائے جس سے کوئی دوسری چیز آثار کے اعتبار سے مصلحت کے زیادہ موافق ہوتی؛ یا ایسی چیز پیش نہ آئے جس کے آثار قابلِ تعریف ہوتے۔ یعنی شر نظام کی خرابی نہیں، ترجیح کا فوت ہونا ہے — بہتر ممکن کا نہ ہونا۔

دیکھیے یہ تفریق کتنی کام کی ہے۔ اگر شر کا مطلب «قاعدہ ٹوٹ گیا» ہوتا، تو حکمت کی تلاش بےمعنی ہو جاتی۔ مگر شر کو ترجیح کے فوت پر رکھ دینے سے قاعدہ سلامت رہتا ہے — اور اِسی لیے آگے تدبیر کا کام یہ بنتا ہے کہ اُس فوت شدہ ترجیح کو بحال کرے۔ یہی پُل ہے جو اگلے حصے تک جاتا ہے۔
۶

تدبیر کے چار طریقے

اور جب اُس دوسرے معنی والے شر کے اسباب جمع ہو جائیں، تو کیا ہوتا ہے؟ یہاں متن چار افعال گنواتا ہے — اور یہ فہرست باب کا سب سے عملی حصہ ہے:

وإذا تَهَيَّأَتْ أسبابُ هذا الشرِّ، اقْتَضَتْ رحمةُ اللهِ بعبادِه ولُطْفُه بهم، وعمومُ قدرتِه على الكلِّ، وشُمولُ عِلْمِه بالكلِّ — أن يَتَصَرَّفَ في تلك القوى والأمورِ الحاملةِ لها بالقَبْضِ والبَسْطِ والإحالةِ والإلهامِ، حتى تُفْضِيَ تلك الجملةُ إلى الأمرِ المطلوبِ.

غور کیجیے کہ تصرف قوتوں میں ہے اور اُن چیزوں میں جو اُنہیں اٹھائے ہوئے ہیں — نہ کہ قوتوں کو منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ اور چار طریقے، ہر ایک کی مثال متن ہی سے:

چار طریقے — متن کی مثالوں کے ساتھ
طریقہمفہوممتن کی مثال
القَبْضروک دینا — قوت موجود، مگر اثر نہ ہونے دیا جائےدجال دوسری بار مؤمن بندے کو قتل کرنا چاہتا ہے، مگر اللہ اُسے قدرت نہیں دیتا — باوجود اِس کے کہ قتل کا داعیہ درست ہے اور آلات سلامت ہیں
البَسْطپھیلا دینا — قوت کو معمول سے آگے بڑھا دیناایوب ؑ کے لیے زمین پر پاؤں مارنے سے چشمہ پھوٹ پڑا، حالانکہ عادۃً ایک ٹھوکر سے پانی نہیں نکلتا؛ اور جہاد میں بعض مخلص بندوں کو ایسی طاقت دی گئی جو ایسے بدنوں سے — یا اُن کے کئی گنا سے — عقل میں نہیں آتی
الإحالةماہیت بدل دینا — چیز کو دوسری چیز میں پلٹ دیناابراہیم ؑ کے لیے آگ کو خوشگوار ہوا بنا دینا
الإلهامدل میں ڈال دینا — ارادے کے راستے سے کام لیناکشتی میں سوراخ کرنا، دیوار سیدھی کرنا، لڑکے کو قتل کرنا (قصۂ موسیٰ و خضر ؑ) — اور انبیاء علیہم السلام پر کتابوں اور شریعتوں کا نازل کرنا

چار میں سے پہلے تین اشیاء پر کام کرتے ہیں؛ چوتھا دلوں پر۔ اور متن ایک باریک اضافہ کرتا ہے: والإلهامُ تارةً يكون للمُبتلى، وتارةً يكون لغيرِه لأجلِه — الہام کبھی خود مبتلا شخص کو ہوتا ہے، اور کبھی کسی دوسرے کو اُس کی خاطر۔ یعنی آپ کے مسئلے کا حل کسی اور کے دل میں ڈالا جا سکتا ہے۔

مگر سب سے اہم بات فہرست کے آخری خانے میں ہے۔ «انبیاء پر کتابوں اور شریعتوں کا نازل ہونا» الہام کی مثال کے طور پر گنوایا گیا ہے — یعنی وحی تدبیر کے چار طریقوں میں سے ایک کا فرد ہے، اُسی صف میں جہاں ابراہیم ؑ کی آگ اور ایوب ؑ کا چشمہ ہے۔ اور باب کا اختتام اِسی پر ہوتا ہے: والقرآنُ العظيمُ بيَّنَ أنواعَ التدبيرِ بما لا مَزيدَ عليه — «قرآنِ عظیم نے تدبیر کی قسمیں اِس طرح بیان کر دیں کہ اُس پر اضافے کی گنجائش نہیں۔» پس شریعت تدبیر کے باہر کوئی چیز نہیں؛ وہ اُس کا ایک باب ہے۔ اِسی جملے کے بعد اگلا باب (عالمِ مثال) شروع ہوتا ہے۔

۷

«مترتبة» کا مطلب کیا ہے؟

شاہ ولی اللہ کا لفظ مترتبة ہے — یہ تینوں صفات ایک ترتیب میں ہیں۔ سوال یہ ہے: کون سی ترتیب؟

وقت کی نہیں۔ یہ تین الگ الگ واقعات نہیں جو باری باری پیش آئے۔ زمانہ خود مخلوق ہے؛ اور حدیث خود کہہ رہی ہے کہ «اُس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی» — تو «پہلے» کی پیمائش کیسے ہو؟ ترتیب رتبے اور منطق کی ہے: خلق کا تصور ابداع کو فرض کرتا ہے، کیونکہ من شيء تب ہی معنی رکھتا ہے جب کوئی چیز پہلے موجود کی گئی ہو۔ اور تدبیر خلق کو فرض کرتی ہے، کیونکہ عالم المواليد کے حوادث کا انتظام تب ہی ممکن ہے جب موالید موجود ہوں۔

ایک بات جو میں طے نہیں کر سکتا، اور آپ متن و شارحین سے دیکھیں: وہ اِنہیں صفات کہتے ہیں۔ اب کیا اُن کے ہاں یہ ذاتِ باری میں حقیقی تعدد ہے، یا ایک ہی فعل کے تین اعتبارات جنہیں ہماری نگاہ الگ کرتی ہے؟ یہ کلامی سوال ہے۔ متن میں ایک اشارہ ملتا ہے: حاشیے میں ترتّب پر کلام کرتے ہوئے آیا ہے کہ لا ندري كيف تترتب؟ ولكن نستيقن أنها مترتبة — «ہم نہیں جانتے کہ ترتیب کیسے ہے، مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ مترتب ہیں۔» یہ فیصلہ نہیں، مگر رخ دکھاتا ہے: ترتیب کا اثبات، اُس کی کیفیت میں توقف۔

۸

اجزاء اور اُن کا کام

اصطلاح — متن کی تعریف — نظام میں کردار
اصطلاحمتن کے الفاظکیوں ضروری ہے
الإبداعإيجاد شيء لا من شيء — من كتم العدم بغير مادةسلسلے کا نقطۂ آغاز۔ اِس کے بغیر «وہ پہلی چیز کہاں سے آئی؟» کا جواب نہیں
الخَلْقإيجاد الشيء من شيءکثرت و تنوع — انواع و اجناس اور اُن کے خواص کیسے بنے
التدبيرتصيير حوادث عالم المواليد موافقةً للنظام … مفضيةً إلى المصلحةعالَم میں مقصد کا ہونا — اور یہی حکمتِ شریعت کا دروازہ
خواصجعل لكل نوع وجنس خواصَّہر نوع کی مستقل خاصیت — قاعدے کی اکائی
عادة اللهخواص کا نہ ٹلنا (سوائے خرق العادة)یہی «قاعدہ» ہے جس کی بنیاد پر حکمت قابلِ دریافت ہوتی ہے
قوى مُودَعةالقوى المُودَعة في المواليد … تزاحمت وتصادمتوہ آلات جن کے ذریعے تدبیر عمل میں آتی ہے

۹

یہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«پہلے ابداع ہوا، پھر خلق، پھر تدبیر۔»مترتبة کا مطلب زمانی ترتیب نہیں۔ زمانہ خود مخلوق ہے، اور خود متن کی حدیث «پہلے» کو ساقط کر دیتی ہے۔ ترتیب منطقی و رتبی ہے، تاریخی نہیں۔

عام غلط فہمی

«تدبیر کا مطلب ہے اللہ نے کائنات بنا کر چھوڑ دی۔» — تعریف اِس کے بالکل خلاف ہے: تدبیر تصيير حوادثها ہے، یعنی حوادث کو مسلسل نظام کے موافق کرنا۔ یہ فعلِ جاری ہے، ایک بار کا کام نہیں۔

باریک نکتہ

ابداع اور خلق کا فرق «تقدیر و ناپ تول» کا نہیں۔ لوگ خلق کے لغوی مفہوم (اندازہ کرنا) کو یہاں لے آتے ہیں۔ وہ لغوی بات اپنی جگہ درست ہے، مگر اِس باب میں معیار صاف ہے: لا من شيء بمقابلہ من شيء۔ دونوں کو گڈمڈ کرنے سے فرق دھندلا جاتا ہے۔

باریک نکتہ

تدبیر کا موضوع پوری کائنات نہیں، عالم المواليد ہے۔ متن نے قید لگائی ہے۔ اِسے عام کر کے «کائنات چلانا» کہہ دینا تعریف کو ڈھیلا کر دیتا ہے اور آگے کے ابواب (عالم المثال، ملأ اعلیٰ) سے ربط توڑ دیتا ہے۔

باریک نکتہ

معجزہ قاعدے کی نفی نہیں۔ خرق العادة کا لفظ خود بتا رہا ہے کہ ایک عادت موجود ہے جسے توڑا گیا۔ استثنا قاعدے کو ثابت کرتا ہے، مٹاتا نہیں — اور اسی لیے آگ کا ابراہیم ؑ پر ٹھنڈی ہو جانا خواص کے نظام کے خلاف دلیل نہیں۔

سیاق

یہ اصطلاحات شاہ ولی اللہ کی ایجاد نہیں — فلسفہ و کلام کی مشترک میراث ہیں۔ اُن کا کمال اِنہیں ایجاد کرنا نہیں، بلکہ اِنہیں حدیث، فقہ اور تصوف کے ساتھ جوڑ کر «حکمتِ شریعت» کا مربوط نظام بنانا ہے — اور کتاب کے پہلے ہی باب میں اُس کی بنیاد رکھ دینا۔


۱۰

مزید گہرائی

یہ سوالات اب بھی کھلے ہیں

  • صفات مترتبة — ذاتِ باری میں حقیقی تعدد یا اعتبارات؟ حاشیے کا لا ندري كيف تترتب رخ دکھاتا ہے، فیصلہ نہیں کرتا۔ پالن پوری صاحب کی شرح میں اِس پر تفصیل ہونی چاہیے۔
  • کیا ابداع صرف مجرَدات کے لیے ہے، یا مادۂ اوّل بھی اُس میں شامل ہے؟ متن یہاں صراحت نہیں کرتا۔
  • عالم المواليد کی حد کہاں ہے — کیا افلاک اِس میں شامل ہیں یا نہیں؟ اور اگر نہیں، تو اُن کی تدبیر کس درجے میں آتی ہے؟
  • تدبیر اور قضا و قدر ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں یا الگ سطحیں؟
  • خواص اور عادة الله کی یہ بحث اشعری «عادت» کے تصور سے کہاں ملتی اور کہاں جدا ہوتی ہے؟
بنیادی نسخہ

حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري (دار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م؛ مجلدان)۔ اوپر کی تمام عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں — باب ١، مبحثِ اوّل کے آغاز میں۔

اردو شرح — پہلا سہارا

اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔

متن میں تلاش کے لیے

پورے متن میں لفظ تلاش کرنا ہو تو یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں (شاملہ پر سیّد سابق کا نسخہ ہے)، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے۔

کی بورڈ: پچھلا باب  ·  اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن