القسم الأول · المبحث الأول · باب ٦
باب سرّ التكليف
«ظلوماً جہولاً» طعنہ نہیں — اہلیت ہے
sirr al-taklīf
ربط: باب ٤ نے تکلیف کی بیرونی شرط دی — قاعدے کا نہ بدلنا۔ باب ٥ نے اندرونی ساخت دی — نَسَمہ ایک برزخ، اور اُس کے دو رُخ۔ یہ باب اُن دو رُخوں کو قوّتین بنا کر مبحث کا اصل سوال حل کرتا ہے: انسان مکلَّف کیوں ہے؟ — اور جواب اُس رخ سے آتا ہے جس کی توقع نہیں ہوتی۔
اصل نکتہ — اور یہ سوال ہی پلٹ دیتا ہے: باب کا اختتام یہ ہے کہ التكليفُ من مقتضياتِ النوعِ، اور الإنسانُ يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه — انسان اپنی استعداد کی زبان سے خود درخواست کرتا ہے کہ اُس پر وہ فرض کیا جائے جو قوتِ ملکیہ کے مناسب ہے۔ یعنی تکلیف باہر سے لادی ہوئی چیز نہیں؛ وہ اُس ساخت کا تقاضا ہے جو انسان ہے۔ «سرِّ تکلیف» یہی ہے۔
باب کا آغاز قرآن کی اُس آیت سے ہے جو انسان کی حیثیت پر سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنی:
﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا﴾
پہلا قدم ایک تفسیری فیصلہ ہے، اور متن اُسے اپنے سے پہلے والوں کے حوالے سے پیش کرتا ہے:
نبَّه الغزاليُّ والبيضاويُّ وغيرُهما على أن المرادَ بالأمانةِ تقلُّدُ عُهدةِ التكليفِ بأن تتعرَّضَ لخطرِ الثوابِ والعقابِ بالطاعةِ والمعصيةِ، وبعرضِها عليهنَّ اعتبارُها بالإضافةِ إلى استعدادِهنَّ، وبإبائهنَّ الإباءُ الطبيعيُّ الذي هو عدمُ اللياقةِ والاستعدادِ، وبحملِ الإنسانِ قابليتُه واستعدادُه لها.
چار لفظوں کی چار تعبیریں ہوئیں، اور چاروں ایک ہی رُخ پر ہیں:
أي السماواتُ والأرضُ وغيرُها.
اب أقول آتا ہے — وہ لفظ جس کے بعد شاہ ولی اللہ اپنی بات کہتے ہیں۔ اور یہ باب کا سب سے اہم قدم ہے:
أقولُ: وعلى هذا فقولُه تعالى ﴿إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا﴾ خرجَ مخرجَ التعليلِ؛ فإن الظَلومَ من لا يكونُ عادلاً ومن شأنِه أن يعدِلَ، والجَهولَ من لا يكونُ عالماً ومن شأنِه أن يعلمَ، وغيرُ الآدميِّ إما عالمٌ عادلٌ لا يتطرَّقُ إليه الظلمُ والجهلُ كالملائكةِ، وإما ليس بعادلٍ ولا عالمٍ ولا من شأنِه أن يكسِبَها كالبهائمِ.
پڑھنے میں یہ فقرہ ہمیشہ ملامت لگتا ہے: «اُس نے اٹھا لی، بےشک وہ بڑا ظالم اور بڑا جاہل تھا» — گویا انسان نے حد سے بڑھ کر ایک بوجھ لے لیا۔ متن کہتا ہے: خرجَ مخرجَ التعليلِ — یہ فقرہ وجہ بتانے کے لیے آیا ہے۔ اور پھر دونوں لفظوں کی وہ تعریف دیتا ہے جس پر سب کچھ ٹکا ہے:
دوسری قید (ومن شأنِه أن يعدِلَ) ہی سارا کام کرتی ہے۔ خالی نفی سے صرف خامی نکلتی ہے؛ نفی کے ساتھ «شان» جوڑ دینے سے امکان نکلتا ہے۔ اور اب تین طرح کی ہستیاں سامنے آتی ہیں:
al-malāʾika · already just, already knowing
عالمٌ عادلٌ لا يتطرَّقُ إليه الظلمُ والجهلُ — کمال بالفعل حاصل ہے۔ اِس لیے ظلم و جہل کا راستہ ہی نہیں، اور اِسی لیے تکلیف کا موقع بھی نہیں۔
al-insān · perfection in potency
كمالٌ بالقوةِ لا بالفعلِ — نہ عادل ہے، مگر ہو سکتا ہے؛ نہ عالم ہے، مگر جان سکتا ہے۔ یہی «ظلوم جہول» ہونا ہے، اور یہی اہلیت۔
al-bahāʾim · no capacity to acquire
ليس بعادلٍ ولا عالمٍ ولا من شأنِه أن يكسِبَها — نہ کمال حاصل ہے، نہ کمانے کی شان۔ اِس لیے کمی ہونے کے باوجود مکلَّف نہیں۔
اور حاشیہ اُن دو اصطلاحوں کی تعریف دے دیتا ہے جن پر یہ سب کھڑا ہے:
القوةُ: إمكانُ حصولِ الشيءِ … والفعلُ: التحقُّقُ في أحدِ الأزمنةِ.
آیت کا دوسرا حصہ ایک الگ مشکل پیدا کرتا ہے۔ اگر پڑھیں «تاکہ اللہ منافقوں کو عذاب دے» — تو گویا امانت اٹھوانے کا مقصد عذاب تھا۔ متن ایک لفظ سے یہ گرہ کھول دیتا ہے:
واللامُ في قولِه تعالى ﴿لِيُعَذِّبَ﴾ لامُ العاقبةِ، كأنه قال: عاقبةُ حملِ الأمانةِ التعذيبُ والتنعيمُ.
یعنی وہ لام غرض کا نہیں، انجام کا ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ «اِس لیے اٹھوائی گئی کہ عذاب دیا جائے»، بلکہ «امانت اٹھانے کا انجام عذاب اور انعام ہے»۔ اور یہیں پالن پوری صاحب کا حاشیہ اِس دعوے کو محض اصطلاح سے نکال کر ایک باقاعدہ دلیل بنا دیتا ہے:
لامُ العاقبةِ، وتُسمَّى لامَ الصيرورةِ ولامَ المآلِ، نحو ﴿فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا﴾ … وإنما حُمِلَ اللامُ على العاقبةِ؛ لأنه إن تعلَّقَ بقولِه ﴿عَرَضْنَا﴾ فأفعالُ اللهِ تعالى غيرُ مُعلَّلةٍ بالأغراضِ، وإن تعلَّقَ بقولِه ﴿فحملَها الإنسانُ﴾ فلا يصحُّ كونُ تعذيبِ اللهِ وتنعيمِه غرضاً للإنسانِ في حملِ الأمانةِ؛ لأن الغرضَ ما يكونُ باعثاً للفاعلِ على الفعلِ الاختياريِّ، والحملُ ههنا المرادُ منه القابليةُ والاستعدادُ، وهو ليس باختياريٍّ، فتعيَّنَ جعلُ اللامِ للعاقبةِ.
میری لام کسی نہ کسی فعل سے متعلق ہو گا — دو ہی امکان ہیں، اور دونوں بند ہیں:
اب متن دلیل چھوڑ کر تصور کی طرف بلاتا ہے — وإن شئتَ أن تستجليَ حقيقةَ الحالِ فعليك…۔ دو منظر پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ انسان کی جگہ اُن کے بیچ سمجھ آئے۔ پہلا:
أن تتصوَّرَ حالَ الملائكةِ في تجرُّدِها، لا يُزعِجُها حالةٌ ناشئةٌ من تفريطِ القوةِ البهيميةِ كالجوعِ والعطشِ والخوفِ والحزنِ، أو إفراطِها كالشَبَقِ والغضبِ والتِّيهِ … وإنما تبقى فارغةً لانتظارِ ما يرِدُ عليها من فوقِها.
فإذا تَرَشَّحَ عليها أمرٌ من فوقِها من إجماعٍ على إقامةِ نظامٍ مطلوبٍ أو رضاً من شيءٍ أو بُغضِ شيءٍ امتلأت به وانقادت له وانبعثت إلى مقتضاه، وهي في ذلك فانيةٌ عن مرادِ نفسِها باقيةٌ بمرادِ ما فوقَها.
دو چیزیں یہاں قابلِ توجہ ہیں۔ پہلی: فرشتوں کی بےفکری کو بہیمی قوت کی کمی یا زیادتی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے — بھوک، پیاس، خوف، غم (تفریط)؛ شہوت، غصہ، تکبر (افراط)۔ یعنی جو انسان کو ہلاتا ہے وہ ایک ہی قوت کے دو کنارے ہیں۔ دوسری: تبقى فارغةً — وہ خالی رہتے ہیں، اور یہ خلا نقص نہیں، اُن کا کمال ہے، کیونکہ اُوپر سے آنے والے کے لیے جگہ چاہیے۔
دوسرا منظر مختصر ہے، اور جان بوجھ کر مختصر ہے:
ثم تتصوَّرَ حالَ البهائمِ في تلطُّخِها بالهيئاتِ الخسيسةِ، لا تزالُ مشغوفةً بمقتضياتِ الطبيعةِ فانيةً فيها، لا تنبعثُ إلى شيءٍ إلا انبعاثاً بهيميّاً يرجِعُ إلى نفعٍ جسديٍّ واندفاعٍ إلى ما تعطيه الطبيعةُ فقط.
لفظ فانيةً فيها دوبارہ آیا — مگر اب طبیعت کے تقاضوں میں فنا۔ دونوں فنا ہیں، رُخ مختلف ہے: ایک اوپر کی طرف، دوسری نیچے کی طرف۔ اور حاشیہ اِس فقط کی وضاحت کرتا ہے:
قولُه: فقط — أي ليست فيها قوةٌ ملكيةٌ حتى تنبعثَ إلى مقتضياتِها.
الشَبَقُ: شدةُ الشهوةِ … والتِّيهُ: العُجبُ والكِبرُ … إجماعٌ: عزمٌ.
آخری گلوس پہچانی ہوئی ہے: إجماعٌ: عزمٌ — بالکل وہی حاشیہ جو باب ٣ میں ملأِ اعلیٰ کے إجماع پر آیا تھا۔ یعنی یہاں «اجماع» فقہی اجماع نہیں، پکا ارادہ ہے۔
دونوں منظر دیکھ لینے کے بعد متن انسان کی طرف آتا ہے، اور اُس کی ساخت بتاتا ہے:
ثم تعلمُ أن اللهَ تعالى قد أودعَ الإنسانَ بحكمتِه الباهرةِ قوتين: قوةٌ ملكيةٌ تنشعِبُ من فيضِ الروحِ المخصوصةِ بالإنسانِ على الروحِ الطبيعيةِ الساريةِ في البدنِ، وقبولِها ذلك الفيضَ، وانقهارِها له.
وقوةٌ بهيميةٌ تنشعِبُ من النفسِ الحيوانيةِ المشتركِ فيها كلُّ حيوانٍ، المتشبِّحةِ بالقوى القائمةِ بالروحِ الطبيعيةِ، واستقلالِها بنفسِها، وإذعانِ الروحِ الإنسانيةِ لها، وقبولِها الحكمَ منها.
دونوں تعریفیں ساتھ رکھ کر پڑھیے، اور ایک چیز فوراً کھل جاتی ہے: فریق وہی دو ہیں۔ ایک طرف انسان کی مخصوص روح، دوسری طرف بدن میں سرایت کرتی طبعی روح۔ فرق صرف غلبے کے رُخ کا ہے:
اور یہ صرف میرا اخذ نہیں — پالن پوری صاحب کا حاشیہ اِن اصطلاحوں کو صاف باب ٥ کی زبان میں ترجمہ کر دیتا ہے:
الروحُ المخصوصةُ بالإنسانِ: هي الروحُ الربانيةُ، والروحُ الطبيعيةُ: هي النَّسَمةُ. وقبولُها: أي قبولُ النَّسَمةِ.
یہ حاشیہ سونے کے مول ہے۔ الروح المخصوصة بالإنسان = باب ٥ کی الروح الربانية؛ الروح الطبيعية = باب ٥ کا النَّسَمة۔ یعنی باب ٦ کی دو قوتیں لفظاً باب ٥ کے دو طبقوں سے بنی ہیں، اور باب ٥ کی آخری سطر (نَسَمہ کے دو رُخ) یہاں ایک مکمل نظریے میں کھل گئی۔
پھر اِن دونوں کا باہمی تعلق:
ثم تعلمُ أن بين القوتين تزاحماً وتجاذباً، فهذه تجذِبُ إلى العلوِّ وتلك إلى السفلِ، وإذا برزتِ البهيميةُ وغلبت آثارُها كمَنتِ الملكيةُ، وكذلك العكسُ.
لوحِ اوّل · Plate I
دو قوتیں — وہی دو فریق، مخالف رُخ
دونوں شاخیں غور سے پڑھیے: اجزاء ایک ہی ہیں — الروحُ المخصوصةُ بالإنسانِ اور الروحُ الطبيعيةُ (النَّسَمة)۔ فرق صرف یہ ہے کہ غلبہ کس کا ہے۔ اِسی لیے ایک اُبھرے تو دوسری كمَنت — مٹتی نہیں، چھپ جاتی ہے۔
اب ایک سوال بنتا ہے: اگر انسان بہیمی رُخ اختیار کر لے تو کیا اُسے چھوڑ دیا جاتا ہے؟ متن کا جواب حیران کن حد تک متوازن ہے:
وأن للباري جلَّ شأنُه عنايةً بكلِّ نظامٍ، وجوداً بكلِّ ما يسألُه الاستعدادُ الأصليُّ والكسبيُّ؛ فإن كسبَ هيئاتٍ بهيميةً أمدَّ فيها ويسَّرَ له ما يناسبُها، وإن كسبَ هيئاتٍ ملكيةً أمدَّ فيها ويسَّرَ له ما يناسبُها.
یعنی دونوں صورتوں میں أمدَّ فيها — مدد دی جاتی ہے، اور يسَّرَ له ما يناسبُها — جو اُس کے مناسب ہے آسان کر دیا جاتا ہے۔ اور اِس پر دو آیتیں لائی جاتی ہیں:
﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى﴾
﴿كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا﴾
میری الاستعدادُ الأصليُّ والكسبيُّ۔ استعداد صرف پیدائشی نہیں، کمائی ہوئی بھی ہوتی ہے۔ اور یہی اِس باب کو جبر سے بچاتا ہے: ہیئتیں «کمائی» جاتی ہیں (كسب)، اور پھر اُنہی کے مطابق مدد آتی ہے۔ پس نظام میں انسان کا داخل ہونا اُس کے اپنے کسب سے ہے۔
ہر قوت کے ساتھ ایک لذت اور ایک تکلیف لگی ہوئی ہے، اور تعریف نہایت سادہ ہے:
وأن لكلِّ قوةٍ لذةً وألماً، فاللذةُ إدراكُ ما يلائمُها، والألمُ إدراكُ ما يخالفُها.
اب اِس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے: اگر قوتِ ملکیہ کی محرومی بھی درد ہے، تو بہیمی زندگی گزارنے والے کو وہ درد محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ جواب ایک طبی تمثیل سے:
وما أشبهَ حالَ الإنسانِ بحالِ من استعملَ مخدِّراً في بدنِه فلم يجِدْ ألمَ لفحِ النارِ، حتى إذا ضعُفَ أثرُه ورجعَ إلى ما تعطيه الطبيعةُ وجدَ الألمَ أشدَّ ما يكونُ.
بےہوشی کی دوا لینے والا آگ کی لپٹ کا درد نہیں پاتا — درد موجود ہے، اِدراک معطل ہے۔ پھر جب دوا کا اثر کمزور ہوتا ہے اور وہ طبیعت کے حال پر لوٹتا ہے، تو درد أشدَّ ما يكونُ پاتا ہے۔ میری: بہیمی مشغولیت خود ایک مخدِّر ہے، اور موت اُس کا اثر ختم کر دیتی ہے۔
ما أشبهَ: فعلُ التعجُّبِ.
المخدِّرُ: مادةٌ تسبِّبُ في الإنسانِ والحيوانِ فِقدانَ الوعيِ.
اور اِس کے ساتھ ایک دوسری تمثیل، جو زیادہ نازک ہے:
أو بحالِ الوردِ على ما ذكرَه الأطباءُ أن فيه ثلاثَ قوًى: قوةٌ أرضيةٌ تظهرُ عند السحقِ والطِّلاءِ، وقوةٌ مائيةٌ تظهرُ عند العصرِ والشربِ، وقوةٌ هوائيةٌ تظهرُ عند الشمِّ.
ایک ہی پھول میں تین قوتیں ہیں، اور ہر ایک ایک مخصوص عمل سے ظاہر ہوتی ہے: پیسنے اور لیپ کرنے سے خاکی، نچوڑنے اور پینے سے آبی، سونگھنے سے ہوائی۔ کوئی قوت غائب نہیں تھی — مگر جو عمل نہ کیا جائے، اُس کی قوت پوشیدہ رہتی ہے۔
اب باب کا خاتمہ، اور یہ پورے مبحث کا مرکزی جملہ ہے:
فتبيَّنَ أن التكليفَ من مقتضياتِ النوعِ، وأن الإنسانَ يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه أن يوجِبَ عليه ما يناسبُ القوةَ الملكيةَ ثم يُثيبَ على ذلك، وأن يُحرِّمَ عليه الانهماكَ في البهيميةِ ويُعاقِبَ على ذلك.
دو فقرے، اور دونوں سوال کا رُخ بدل دیتے ہیں۔
ایک — التكليفُ من مقتضياتِ النوعِ: تکلیف نوعِ انسانی کے تقاضوں میں سے ہے۔ یعنی وہ باہر سے آنے والا اضافہ نہیں، اُس ساخت کا لازمہ ہے جو انسان ہے۔ دو — اور یہ اور بھی آگے جاتا ہے: الإنسانُ يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه — انسان اپنے رب سے اپنی استعداد کی زبان سے مانگتا ہے کہ اُس پر وہ فرض کیا جائے جو قوتِ ملکیہ کے مناسب ہے، اور اُس پر ثواب دیا جائے؛ اور بہیمیت میں ڈوبنا حرام کیا جائے، اور اُس پر سزا ہو۔
اور یہاں تین باب ایک نقطے پر مل جاتے ہیں:
لوحِ دوم · Plate II
دلیل کا سفر — ساخت سے تکلیف تک
فتبيَّنَ أن التكليفَ من مقتضياتِ النوعِ — اور اِس سے آگے: الإنسانُ يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه۔ تکلیف لادی نہیں گئی؛ مانگی گئی ہے۔
یہ باب ٤، ٥ اور ٦ کا مجموعی راستہ ہے: قاعدہ (بیرونی شرط) ← نَسَمہ کے دو رُخ ← دو قوتیں ← کسب و استعداد ← اور نتیجہ، جو خود متن کے الفاظ میں ہے۔
«ظلوماً جهولاً انسان کی مذمت ہے۔» — متن کا صریح دعویٰ اِس کے برعکس ہے: خرجَ مخرجَ التعليلِ۔ اور تعریفیں دیکھیے: ظلوم وہ جو عادل نہ ہو مگر عادل ہونا اُس کی شان ہو۔ دوسری قید ہٹا دیجیے تو فقرہ طعنہ بن جاتا ہے؛ رکھیے تو شرطِ اہلیت بن جاتا ہے۔ فرشتہ اِس لیے مکلَّف نہیں کہ وہ «ظلوم جہول» نہیں۔
«امانت کی پیشکش ایک مکالمہ تھا۔» — غزالی و بیضاوی کی وہ قراءت جو متن اختیار کرتا ہے، اِسے ساختی بیان بناتی ہے: عرضُها = اعتبارُها بالإضافةِ إلى استعدادِهنَّ، اور إباؤهنَّ = الإباءُ الطبيعيُّ … عدمُ اللياقةِ۔ آسمانوں نے نافرمانی نہیں کی — وہ اہل نہ تھے۔
ما أشبهَ میں ما نفی نہیں۔ حاشیہ صاف کہتا ہے: فعلُ التعجُّبِ۔ جملہ «کس قدر مشابہ ہے!» ہے، «مشابہ نہیں» نہیں۔ اردو یا عربی پڑھنے والا یہاں آسانی سے پھسل سکتا ہے، اور پھر بےہوشی کی پوری دلیل اُلٹ جاتی ہے۔
﴿ليعذب﴾ کا لام غرض کا نہیں — اور وجہ بھی یاد رکھیے۔ حاشیے کی دلیل دو شاخوں کو بند کرتی ہے: اللہ کے فعل کی طرف لوٹائیں تو أفعالُ اللهِ غيرُ مُعلَّلةٍ بالأغراضِ؛ انسان کے فعل کی طرف لوٹائیں تو «حمل» اختیاری فعل ہی نہیں، وہ القابليةُ والاستعدادُ ہے۔ دوسری شاخ صرف اُس تفسیر کی بنا پر بند ہوتی ہے جو حصہ ۱ میں گزری — یعنی دونوں حصے ایک دوسرے پر ٹکے ہیں۔
دو قوتیں دو ہستیاں نہیں۔ دونوں تعریفوں میں فریق وہی دو ہیں — روحِ ربانیہ اور نَسَمہ — اور فرق غلبے کے رُخ کا ہے۔ اِسی لیے متن كمَنت کہتا ہے (چھپ گئی)، «معدوم ہو گئی» نہیں۔ اِنہیں دو جوہر سمجھ لینے سے باب ایک ثنویت (dualism) بن جاتا ہے، جو اُس کا مؤقف نہیں۔
یہ باب باب ٥ کے بغیر ادھورا ہے — اور یہ بات حاشیہ خود کہتا ہے۔ الروحُ المخصوصةُ بالإنسانِ: هي الروحُ الربانيةُ، والروحُ الطبيعيةُ: هي النَّسَمةُ۔ یعنی یہاں کی «قوتیں» وہیں کے «طبقے» ہیں۔ اور باب ٥ کی آخری سطر (نَسَمہ کے دو رُخ: ملکیہ و بہیمیہ) اِس باب کا پہلا مقدمہ ہے۔
حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري — باب ٦ — سرّ التكليف۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔
اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔
لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔
کی بورڈ: → پچھلا باب · ← اگلا باب · Esc فہرست · متن کے لیے نیچے کا بٹن