حجة الله البالغة — شاہ ولی اللہ دہلویفہرست ▸

القسم الأول · المبحث الأول · باب ٦

سرِّ تکلیف

باب سرّ التكليف
«ظلوماً جہولاً» طعنہ نہیں — اہلیت ہے

sirr al-taklīf

حوالہ
کتاب
حجة الله البالغةشاه ولي الله الدهلوي (م ١١٧٦ هـ)
باب
باب ٦ — سرّ التكليف
مقام
القسم الأول — المبحث الأول: في أسباب التكليف والمجازاة
پچھلے ابواب
باب ٣باب ٤باب ٥
اگلا باب
باب ٧ — انشقاق التكليف من التقدير
نسخہ
تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريدار ابن كثير، بيروت؛ الطبعة الثالثة، ١٤٣٨هـ/٢٠١٧م

ربط: باب ٤ نے تکلیف کی بیرونی شرط دی — قاعدے کا نہ بدلنا۔ باب ٥ نے اندرونی ساخت دی — نَسَمہ ایک برزخ، اور اُس کے دو رُخ۔ یہ باب اُن دو رُخوں کو قوّتین بنا کر مبحث کا اصل سوال حل کرتا ہے: انسان مکلَّف کیوں ہے؟ — اور جواب اُس رخ سے آتا ہے جس کی توقع نہیں ہوتی۔

خلاصۂ باب
  1. آیت، اور اُس کی غیر لفظی قراءت: امانت کا پیش ہونا، آسمانوں کا انکار، انسان کا اٹھانا — غزالی اور بیضاوی کے مطابق یہ کوئی مکالمہ نہیں۔ عرضها عليهنَّ کا مطلب ہے اعتبارُها بالإضافة إلى استعدادِهنَّ (اُن کی استعداد کے لحاظ سے دیکھنا)، اور إبائهنَّ کا مطلب الإباءُ الطبيعيُّ — یعنی نااہلیت، نہ کہ نافرمانی۔
  2. اور یہیں شاہ ولی اللہ اپنی بات کہتے ہیں (أقول): ﴿إنه كان ظلوماً جهولاً﴾ خرجَ مخرجَ التعليلِ — یہ فقرہ وجہ بتانے کے لیے آیا ہے۔ ظلوم وہ جو عادل نہ ہو مگر عادل ہونا اُس کی شان ہو؛ جهول وہ جو عالم نہ ہو مگر عالم ہونا اُس کی شان ہو۔
  3. تین طرح کی ہستیاں: فرشتے — پہلے سے عالم و عادل، اُن میں ظلم و جہل کا راستہ ہی نہیں۔ چوپائے — نہ عادل نہ عالم، اور کمانے کی شان بھی نہیں۔ انسان — دونوں کے بیچ۔ وإنما يليقُ بالتكليفِ ويستعدُّ له من كان له كمالٌ بالقوةِ لا بالفعلِ
  4. ﴿ليعذب﴾ کا لام غرض کا نہیں، لام العاقبة ہے — انجام کا لام۔ حاشیہ اِس پر ایک مکمل دلیل دیتا ہے جو دونوں ممکنہ تعلقات کو رد کرتی ہے۔
  5. دو قوتیں — اور ایک آئینہ: قوّة ملكية اور قوّة بهيمية۔ غور کیجیے تو دونوں تعریفوں میں فریق وہی دو ہیں؛ فرق صرف یہ ہے کہ کون غالب ہے اور کون تابع۔ اور اُن میں تزاحمٌ وتجاذبٌ ہے: ایک اُبھرے تو دوسری كمَنت — چھپ جاتی ہے۔
  6. فیض دونوں کو ملتا ہے: جو بہیمی ہیئتیں کمائے اُس میں مدد دی جاتی ہے، جو مَلَکی کمائے اُس میں بھی — ﴿كلا نُمِدُّ هؤلاءِ وهؤلاءِ من عطاءِ ربِّك﴾۔ یہ باب ٥ کے «کوّہ» کا عین تسلسل ہے: نازل ہونے والا ایک، فرق استعداد کا۔

اصل نکتہ — اور یہ سوال ہی پلٹ دیتا ہے: باب کا اختتام یہ ہے کہ التكليفُ من مقتضياتِ النوعِ، اور الإنسانُ يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه — انسان اپنی استعداد کی زبان سے خود درخواست کرتا ہے کہ اُس پر وہ فرض کیا جائے جو قوتِ ملکیہ کے مناسب ہے۔ یعنی تکلیف باہر سے لادی ہوئی چیز نہیں؛ وہ اُس ساخت کا تقاضا ہے جو انسان ہے۔ «سرِّ تکلیف» یہی ہے۔


۱

آیتِ امانت — اور وہ قراءت جو مکالمہ نہیں مانتی

باب کا آغاز قرآن کی اُس آیت سے ہے جو انسان کی حیثیت پر سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنی:

قرآن — الأحزاب: ٧٢–٧٣

﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا﴾

پہلا قدم ایک تفسیری فیصلہ ہے، اور متن اُسے اپنے سے پہلے والوں کے حوالے سے پیش کرتا ہے:

نبَّه الغزاليُّ والبيضاويُّ وغيرُهما على أن المرادَ بالأمانةِ تقلُّدُ عُهدةِ التكليفِ بأن تتعرَّضَ لخطرِ الثوابِ والعقابِ بالطاعةِ والمعصيةِ، وبعرضِها عليهنَّ اعتبارُها بالإضافةِ إلى استعدادِهنَّ، وبإبائهنَّ الإباءُ الطبيعيُّ الذي هو عدمُ اللياقةِ والاستعدادِ، وبحملِ الإنسانِ قابليتُه واستعدادُه لها.

چار لفظوں کی چار تعبیریں ہوئیں، اور چاروں ایک ہی رُخ پر ہیں:

حاشیہ

أي السماواتُ والأرضُ وغيرُها.

پوری آیت ایک ساختی بیان بن گئی۔ نہ کوئی مجلس ہوئی، نہ پیشکش، نہ انکار۔ آیت کہہ رہی ہے: امانتِ تکلیف اٹھانے کی اہلیت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں میں نہیں تھی، انسان میں تھی۔ میری — کیونکہ اگر «حمل» کوئی اختیاری فعل نہیں بلکہ قابلیت ہے، تو اُس پر عذاب کو غرض ماننا ممکن نہیں رہتا؛ اور یہی حاشیے کی دلیل کا مرکز ہے (حصہ ۳)۔

۲

«ظلوماً جہولاً» — مذمت نہیں، تعلیل

اب أقول آتا ہے — وہ لفظ جس کے بعد شاہ ولی اللہ اپنی بات کہتے ہیں۔ اور یہ باب کا سب سے اہم قدم ہے:

أقولُ: وعلى هذا فقولُه تعالى ﴿إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا﴾ خرجَ مخرجَ التعليلِ؛ فإن الظَلومَ من لا يكونُ عادلاً ومن شأنِه أن يعدِلَ، والجَهولَ من لا يكونُ عالماً ومن شأنِه أن يعلمَ، وغيرُ الآدميِّ إما عالمٌ عادلٌ لا يتطرَّقُ إليه الظلمُ والجهلُ كالملائكةِ، وإما ليس بعادلٍ ولا عالمٍ ولا من شأنِه أن يكسِبَها كالبهائمِ.

پڑھنے میں یہ فقرہ ہمیشہ ملامت لگتا ہے: «اُس نے اٹھا لی، بےشک وہ بڑا ظالم اور بڑا جاہل تھا» — گویا انسان نے حد سے بڑھ کر ایک بوجھ لے لیا۔ متن کہتا ہے: خرجَ مخرجَ التعليلِ — یہ فقرہ وجہ بتانے کے لیے آیا ہے۔ اور پھر دونوں لفظوں کی وہ تعریف دیتا ہے جس پر سب کچھ ٹکا ہے:

دوسری قید (ومن شأنِه أن يعدِلَ) ہی سارا کام کرتی ہے۔ خالی نفی سے صرف خامی نکلتی ہے؛ نفی کے ساتھ «شان» جوڑ دینے سے امکان نکلتا ہے۔ اور اب تین طرح کی ہستیاں سامنے آتی ہیں:

الملائكة

al-malāʾika · already just, already knowing

عالمٌ عادلٌ لا يتطرَّقُ إليه الظلمُ والجهلُ — کمال بالفعل حاصل ہے۔ اِس لیے ظلم و جہل کا راستہ ہی نہیں، اور اِسی لیے تکلیف کا موقع بھی نہیں۔

جو پہلے ہی عادل ہے، اُس سے «عادل بن جا» کہنا بےمعنی ہے۔

الإنسان

al-insān · perfection in potency

كمالٌ بالقوةِ لا بالفعلِ — نہ عادل ہے، مگر ہو سکتا ہے؛ نہ عالم ہے، مگر جان سکتا ہے۔ یہی «ظلوم جہول» ہونا ہے، اور یہی اہلیت۔

خالی برتن ہی بھرا جا سکتا ہے — نہ بھرا ہوا، نہ ٹوٹا ہوا۔

البهائم

al-bahāʾim · no capacity to acquire

ليس بعادلٍ ولا عالمٍ ولا من شأنِه أن يكسِبَها — نہ کمال حاصل ہے، نہ کمانے کی شان۔ اِس لیے کمی ہونے کے باوجود مکلَّف نہیں۔

جو برتن ہی نہیں، اُسے بھرنے کی بات نہیں ہوتی۔
یہاں باب کا پہلا بڑا پلٹا ہے۔ جو الفاظ سب سے زیادہ ملامت کے لگتے ہیں، وہی شرطِ اہلیت نکلے۔ فرشتہ مکلَّف نہیں کیونکہ وہ بہت کامل ہے؛ چوپایہ مکلَّف نہیں کیونکہ اُس میں کمانے کی صلاحیت نہیں؛ انسان مکلَّف ہے کیونکہ وہ ادھورا ہے اور پورا ہو سکتا ہے۔ اِسی لیے متن صاف کہتا ہے: وإنما يليقُ بالتكليفِ ويستعدُّ له من كان له كمالٌ بالقوةِ لا بالفعلِ۔

اور حاشیہ اُن دو اصطلاحوں کی تعریف دے دیتا ہے جن پر یہ سب کھڑا ہے:

حاشیہ

القوةُ: إمكانُ حصولِ الشيءِ … والفعلُ: التحقُّقُ في أحدِ الأزمنةِ.


۳

﴿ليعذب﴾ کا لام — اور ایک مکمل دلیل

آیت کا دوسرا حصہ ایک الگ مشکل پیدا کرتا ہے۔ اگر پڑھیں «تاکہ اللہ منافقوں کو عذاب دے» — تو گویا امانت اٹھوانے کا مقصد عذاب تھا۔ متن ایک لفظ سے یہ گرہ کھول دیتا ہے:

واللامُ في قولِه تعالى ﴿لِيُعَذِّبَ﴾ لامُ العاقبةِ، كأنه قال: عاقبةُ حملِ الأمانةِ التعذيبُ والتنعيمُ.

یعنی وہ لام غرض کا نہیں، انجام کا ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ «اِس لیے اٹھوائی گئی کہ عذاب دیا جائے»، بلکہ «امانت اٹھانے کا انجام عذاب اور انعام ہے»۔ اور یہیں پالن پوری صاحب کا حاشیہ اِس دعوے کو محض اصطلاح سے نکال کر ایک باقاعدہ دلیل بنا دیتا ہے:

حاشیہ

لامُ العاقبةِ، وتُسمَّى لامَ الصيرورةِ ولامَ المآلِ، نحو ﴿فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا﴾ … وإنما حُمِلَ اللامُ على العاقبةِ؛ لأنه إن تعلَّقَ بقولِه ﴿عَرَضْنَا﴾ فأفعالُ اللهِ تعالى غيرُ مُعلَّلةٍ بالأغراضِ، وإن تعلَّقَ بقولِه ﴿فحملَها الإنسانُ﴾ فلا يصحُّ كونُ تعذيبِ اللهِ وتنعيمِه غرضاً للإنسانِ في حملِ الأمانةِ؛ لأن الغرضَ ما يكونُ باعثاً للفاعلِ على الفعلِ الاختياريِّ، والحملُ ههنا المرادُ منه القابليةُ والاستعدادُ، وهو ليس باختياريٍّ، فتعيَّنَ جعلُ اللامِ للعاقبةِ.

میری لام کسی نہ کسی فعل سے متعلق ہو گا — دو ہی امکان ہیں، اور دونوں بند ہیں:

  1. اگر ﴿عَرَضْنَا﴾ سے متعلق ہو — یعنی «ہم نے اِس لیے پیش کی کہ عذاب دیں» — تو یہ اللہ کے فعل کو غرض سے معلَّل کرنا ہے، اور أفعالُ اللهِ غيرُ مُعلَّلةٍ بالأغراضِ۔
  2. اگر ﴿فحملَها الإنسانُ﴾ سے متعلق ہو — یعنی «انسان نے اِس غرض سے اٹھائی کہ عذاب پائے» — تو یہ بھی محال ہے۔ کیونکہ غرض وہ ہوتی ہے جو فاعل کو اختیاری فعل پر اُبھارے، اور یہاں «اٹھانا» اختیاری فعل ہی نہیں — وہ القابليةُ والاستعدادُ ہے۔
فتعيَّنَ جعلُ اللامِ للعاقبةِ.
غور کیجیے کہ دوسرا شاخ کیوں بند ہوا۔ اُس کا سارا زور اُس تفسیر پر ہے جو حصہ ۱ میں گزری: «حمل» کا مطلب قابلیت ہے، فعل نہیں۔ یعنی غزالی و بیضاوی کی وہ غیر لفظی قراءت محض تاویل نہیں تھی — وہ اِس دلیل کا مقدمہ ہے۔ اگر «اٹھانا» ایک اختیاری فعل مانا جائے تو یہ دلیل ٹوٹ جاتی ہے۔ باب کے دونوں حصے ایک دوسرے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

۴

دو تصویریں: فرشتہ اور چوپایہ

اب متن دلیل چھوڑ کر تصور کی طرف بلاتا ہے — وإن شئتَ أن تستجليَ حقيقةَ الحالِ فعليك…۔ دو منظر پیش کیے جاتے ہیں، تاکہ انسان کی جگہ اُن کے بیچ سمجھ آئے۔ پہلا:

أن تتصوَّرَ حالَ الملائكةِ في تجرُّدِها، لا يُزعِجُها حالةٌ ناشئةٌ من تفريطِ القوةِ البهيميةِ كالجوعِ والعطشِ والخوفِ والحزنِ، أو إفراطِها كالشَبَقِ والغضبِ والتِّيهِ … وإنما تبقى فارغةً لانتظارِ ما يرِدُ عليها من فوقِها.

فإذا تَرَشَّحَ عليها أمرٌ من فوقِها من إجماعٍ على إقامةِ نظامٍ مطلوبٍ أو رضاً من شيءٍ أو بُغضِ شيءٍ امتلأت به وانقادت له وانبعثت إلى مقتضاه، وهي في ذلك فانيةٌ عن مرادِ نفسِها باقيةٌ بمرادِ ما فوقَها.

دو چیزیں یہاں قابلِ توجہ ہیں۔ پہلی: فرشتوں کی بےفکری کو بہیمی قوت کی کمی یا زیادتی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے — بھوک، پیاس، خوف، غم (تفریط)؛ شہوت، غصہ، تکبر (افراط)۔ یعنی جو انسان کو ہلاتا ہے وہ ایک ہی قوت کے دو کنارے ہیں۔ دوسری: تبقى فارغةً — وہ خالی رہتے ہیں، اور یہ خلا نقص نہیں، اُن کا کمال ہے، کیونکہ اُوپر سے آنے والے کے لیے جگہ چاہیے۔

یہ زبان تصوف کی ہے، اور فرشتوں پر بولی گئی ہے۔ فانيةٌ عن مرادِ نفسِها باقيةٌ بمرادِ ما فوقَها — «اپنی مراد سے فانی، اُوپر والے کی مراد سے باقی»۔ فنا و بقا کی اصطلاح عموماً سالک کے مقامات میں آتی ہے؛ یہاں وہ فرشتوں کی طبعی حالت بتائی گئی ہے۔ میری — اور انسان کا شرف اِسی میں ہے کہ وہ اُسے کما کر پاتا ہے۔ اِسی نکتے پر باب ٣ کا وہ جملہ یاد کیجیے: ملأِ اعلیٰ کا کمال یہ ہے أن تكونَ فارغةً لانتظارِ الأمرِ۔

دوسرا منظر مختصر ہے، اور جان بوجھ کر مختصر ہے:

ثم تتصوَّرَ حالَ البهائمِ في تلطُّخِها بالهيئاتِ الخسيسةِ، لا تزالُ مشغوفةً بمقتضياتِ الطبيعةِ فانيةً فيها، لا تنبعثُ إلى شيءٍ إلا انبعاثاً بهيميّاً يرجِعُ إلى نفعٍ جسديٍّ واندفاعٍ إلى ما تعطيه الطبيعةُ فقط.

لفظ فانيةً فيها دوبارہ آیا — مگر اب طبیعت کے تقاضوں میں فنا۔ دونوں فنا ہیں، رُخ مختلف ہے: ایک اوپر کی طرف، دوسری نیچے کی طرف۔ اور حاشیہ اِس فقط کی وضاحت کرتا ہے:

حاشیہ

قولُه: فقط — أي ليست فيها قوةٌ ملكيةٌ حتى تنبعثَ إلى مقتضياتِها.

الشَبَقُ: شدةُ الشهوةِ … والتِّيهُ: العُجبُ والكِبرُ … إجماعٌ: عزمٌ.

آخری گلوس پہچانی ہوئی ہے: إجماعٌ: عزمٌ — بالکل وہی حاشیہ جو باب ٣ میں ملأِ اعلیٰ کے إجماع پر آیا تھا۔ یعنی یہاں «اجماع» فقہی اجماع نہیں، پکا ارادہ ہے۔


۵

دو قوتیں — اور ایک آئینہ

دونوں منظر دیکھ لینے کے بعد متن انسان کی طرف آتا ہے، اور اُس کی ساخت بتاتا ہے:

ثم تعلمُ أن اللهَ تعالى قد أودعَ الإنسانَ بحكمتِه الباهرةِ قوتين: قوةٌ ملكيةٌ تنشعِبُ من فيضِ الروحِ المخصوصةِ بالإنسانِ على الروحِ الطبيعيةِ الساريةِ في البدنِ، وقبولِها ذلك الفيضَ، وانقهارِها له.

وقوةٌ بهيميةٌ تنشعِبُ من النفسِ الحيوانيةِ المشتركِ فيها كلُّ حيوانٍ، المتشبِّحةِ بالقوى القائمةِ بالروحِ الطبيعيةِ، واستقلالِها بنفسِها، وإذعانِ الروحِ الإنسانيةِ لها، وقبولِها الحكمَ منها.

دونوں تعریفیں ساتھ رکھ کر پڑھیے، اور ایک چیز فوراً کھل جاتی ہے: فریق وہی دو ہیں۔ ایک طرف انسان کی مخصوص روح، دوسری طرف بدن میں سرایت کرتی طبعی روح۔ فرق صرف غلبے کے رُخ کا ہے:

یعنی یہ دو چیزیں نہیں، ایک رشتے کی دو حالتیں ہیں۔ کوئی نئی ہستی انسان میں شامل نہیں کی گئی؛ وہی دو اجزاء ہیں جو باب ٥ میں گنے گئے تھے، اور «قوت» کا نام اُس بات کو دیا گیا ہے کہ کون کس پر حکم چلا رہا ہے۔ اِسی لیے آگے كمَنت (چھپ گئی) کا لفظ آتا ہے، «فنا ہو گئی» نہیں — کیونکہ فریق تو موجود ہی رہتے ہیں۔

اور یہ صرف میرا اخذ نہیں — پالن پوری صاحب کا حاشیہ اِن اصطلاحوں کو صاف باب ٥ کی زبان میں ترجمہ کر دیتا ہے:

حاشیہ

الروحُ المخصوصةُ بالإنسانِ: هي الروحُ الربانيةُ، والروحُ الطبيعيةُ: هي النَّسَمةُ. وقبولُها: أي قبولُ النَّسَمةِ.

یہ حاشیہ سونے کے مول ہے۔ الروح المخصوصة بالإنسان = باب ٥ کی الروح الربانية؛ الروح الطبيعية = باب ٥ کا النَّسَمة۔ یعنی باب ٦ کی دو قوتیں لفظاً باب ٥ کے دو طبقوں سے بنی ہیں، اور باب ٥ کی آخری سطر (نَسَمہ کے دو رُخ) یہاں ایک مکمل نظریے میں کھل گئی۔

پھر اِن دونوں کا باہمی تعلق:

ثم تعلمُ أن بين القوتين تزاحماً وتجاذباً، فهذه تجذِبُ إلى العلوِّ وتلك إلى السفلِ، وإذا برزتِ البهيميةُ وغلبت آثارُها كمَنتِ الملكيةُ، وكذلك العكسُ.

لوحِ اوّل · Plate I

دو قوتیں — وہی دو فریق، مخالف رُخ

أودعَ اللهُ الإنسانَ قوتينوبينهما تزاحمٌ وتجاذبٌthe two deposited powersقوةٌ مَلَكيةٌتجذِبُ إلى العلوِّتنشعِبُ من فيضِ الروحِ المخصوصةِ بالإنسانِعلى الروحِ الطبيعيةِ الساريةِ في البدنِوقبولِها ذلك الفيضَ وانقهارِها لهیعنی روح غالب، نَسَمہ تابعقوةٌ بهيميةٌتجذِبُ إلى السفلِتنشعِبُ من النفسِ الحيوانيةِ المشتركِ فيها كلُّ حيوانٍالمتشبِّحةِ بالقوى القائمةِ بالروحِ الطبيعيةِواستقلالِها بنفسِها وإذعانِ الروحِ الإنسانيةِ لهایعنی نَسَمہ خودمختار، روح تابع

دونوں شاخیں غور سے پڑھیے: اجزاء ایک ہی ہیں — الروحُ المخصوصةُ بالإنسانِ اور الروحُ الطبيعيةُ (النَّسَمة)۔ فرق صرف یہ ہے کہ غلبہ کس کا ہے۔ اِسی لیے ایک اُبھرے تو دوسری كمَنت — مٹتی نہیں، چھپ جاتی ہے۔


۶

فیض دونوں کو ملتا ہے — باب ٥ کا قاعدہ پھر

اب ایک سوال بنتا ہے: اگر انسان بہیمی رُخ اختیار کر لے تو کیا اُسے چھوڑ دیا جاتا ہے؟ متن کا جواب حیران کن حد تک متوازن ہے:

وأن للباري جلَّ شأنُه عنايةً بكلِّ نظامٍ، وجوداً بكلِّ ما يسألُه الاستعدادُ الأصليُّ والكسبيُّ؛ فإن كسبَ هيئاتٍ بهيميةً أمدَّ فيها ويسَّرَ له ما يناسبُها، وإن كسبَ هيئاتٍ ملكيةً أمدَّ فيها ويسَّرَ له ما يناسبُها.

یعنی دونوں صورتوں میں أمدَّ فيها — مدد دی جاتی ہے، اور يسَّرَ له ما يناسبُها — جو اُس کے مناسب ہے آسان کر دیا جاتا ہے۔ اور اِس پر دو آیتیں لائی جاتی ہیں:

قرآن — الليل: ٥–١٠

﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى﴾

قرآن — الإسراء: ٢٠

﴿كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا﴾

یہ باب ٥ کے «کوّہ» کا عین وہی قاعدہ ہے۔ وہاں کہا گیا تھا: نازل ہونے والا ایک ہے، فرق استعداد کا ہے — سورج کی گرمی کپڑا سفید کرتی ہے اور دھوبی کو کالا۔ یہاں وہی بات عمل کے میدان میں ہے: ﴿كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ﴾ — عطا دونوں کو، اور وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا، عطا روکی نہیں جاتی۔ فرق یہ ہے کہ بندہ کیا مانگ رہا ہے۔

میری الاستعدادُ الأصليُّ والكسبيُّ۔ استعداد صرف پیدائشی نہیں، کمائی ہوئی بھی ہوتی ہے۔ اور یہی اِس باب کو جبر سے بچاتا ہے: ہیئتیں «کمائی» جاتی ہیں (كسب)، اور پھر اُنہی کے مطابق مدد آتی ہے۔ پس نظام میں انسان کا داخل ہونا اُس کے اپنے کسب سے ہے۔


۷

لذت، درد — اور بےہوشی کی مثال

ہر قوت کے ساتھ ایک لذت اور ایک تکلیف لگی ہوئی ہے، اور تعریف نہایت سادہ ہے:

وأن لكلِّ قوةٍ لذةً وألماً، فاللذةُ إدراكُ ما يلائمُها، والألمُ إدراكُ ما يخالفُها.

اب اِس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے: اگر قوتِ ملکیہ کی محرومی بھی درد ہے، تو بہیمی زندگی گزارنے والے کو وہ درد محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ جواب ایک طبی تمثیل سے:

وما أشبهَ حالَ الإنسانِ بحالِ من استعملَ مخدِّراً في بدنِه فلم يجِدْ ألمَ لفحِ النارِ، حتى إذا ضعُفَ أثرُه ورجعَ إلى ما تعطيه الطبيعةُ وجدَ الألمَ أشدَّ ما يكونُ.

بےہوشی کی دوا لینے والا آگ کی لپٹ کا درد نہیں پاتا — درد موجود ہے، اِدراک معطل ہے۔ پھر جب دوا کا اثر کمزور ہوتا ہے اور وہ طبیعت کے حال پر لوٹتا ہے، تو درد أشدَّ ما يكونُ پاتا ہے۔ میری: بہیمی مشغولیت خود ایک مخدِّر ہے، اور موت اُس کا اثر ختم کر دیتی ہے۔

حاشیہ

ما أشبهَ: فعلُ التعجُّبِ.

المخدِّرُ: مادةٌ تسبِّبُ في الإنسانِ والحيوانِ فِقدانَ الوعيِ.

یہ حاشیہ ایک پڑھنے کی غلطی روکتا ہے۔ ما أشبهَ میں ما نفی کا نہیں — یہ فعلِ تعجب ہے۔ یعنی جملہ «انسان کا حال اُس جیسا نہیں» نہیں کہہ رہا، بلکہ «انسان کا حال کس قدر اُس جیسا ہے!» کہہ رہا ہے۔ نفی سمجھ لینے سے پوری دلیل اُلٹ جاتی ہے۔

اور اِس کے ساتھ ایک دوسری تمثیل، جو زیادہ نازک ہے:

أو بحالِ الوردِ على ما ذكرَه الأطباءُ أن فيه ثلاثَ قوًى: قوةٌ أرضيةٌ تظهرُ عند السحقِ والطِّلاءِ، وقوةٌ مائيةٌ تظهرُ عند العصرِ والشربِ، وقوةٌ هوائيةٌ تظهرُ عند الشمِّ.

ایک ہی پھول میں تین قوتیں ہیں، اور ہر ایک ایک مخصوص عمل سے ظاہر ہوتی ہے: پیسنے اور لیپ کرنے سے خاکی، نچوڑنے اور پینے سے آبی، سونگھنے سے ہوائی۔ کوئی قوت غائب نہیں تھی — مگر جو عمل نہ کیا جائے، اُس کی قوت پوشیدہ رہتی ہے۔

گلاب کی مثال باب ٥ سے آ رہی ہے۔ وہاں بھی گلاب تھا — كمثلِ ماءِ الوردِ في الوردِ، پھول میں عرق کی طرح۔ وہاں سوال تھا: چیز موجود مگر ظاہر نہیں، یہ کیسے؟ یہاں جواب اُس کا تسلسل ہے: ظاہر ہونے کے لیے مناسب عمل درکار ہے۔ اور یہی تکلیف کی حاجت کی دلیل بنتی ہے — قوتِ ملکیہ موجود ہے، مگر اُس کے ظاہر ہونے کا عمل شریعت بتاتی ہے۔

۸

نتیجہ: انسان خود تکلیف مانگتا ہے

اب باب کا خاتمہ، اور یہ پورے مبحث کا مرکزی جملہ ہے:

فتبيَّنَ أن التكليفَ من مقتضياتِ النوعِ، وأن الإنسانَ يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه أن يوجِبَ عليه ما يناسبُ القوةَ الملكيةَ ثم يُثيبَ على ذلك، وأن يُحرِّمَ عليه الانهماكَ في البهيميةِ ويُعاقِبَ على ذلك.

دو فقرے، اور دونوں سوال کا رُخ بدل دیتے ہیں۔

ایکالتكليفُ من مقتضياتِ النوعِ: تکلیف نوعِ انسانی کے تقاضوں میں سے ہے۔ یعنی وہ باہر سے آنے والا اضافہ نہیں، اُس ساخت کا لازمہ ہے جو انسان ہے۔ دو — اور یہ اور بھی آگے جاتا ہے: الإنسانُ يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه — انسان اپنے رب سے اپنی استعداد کی زبان سے مانگتا ہے کہ اُس پر وہ فرض کیا جائے جو قوتِ ملکیہ کے مناسب ہے، اور اُس پر ثواب دیا جائے؛ اور بہیمیت میں ڈوبنا حرام کیا جائے، اور اُس پر سزا ہو۔

یہی «سرِّ تکلیف» ہے۔ سوال یوں شروع ہوا تھا: انسان پر احکام کیوں عائد کیے گئے؟ — گویا تکلیف ایک بوجھ ہے جس کا جواز درکار ہے۔ باب اِس سوال کا جواب نہیں دیتا؛ وہ سوال کو پلٹ دیتا ہے۔ ایسی ہستی جس کا کمال بالقوہ ہو، جس میں دو متزاحم قوتیں ہوں، جس کی ہر قوت اپنے مناسب عمل سے ظاہر ہوتی ہو، اور جسے اُس کے کسب کے مطابق مدد ملتی ہو — وہ خود ایک درخواست ہے۔ تکلیف اُس درخواست کا جواب ہے۔ میری: اللہ کی حجت انسان پر پوری ہے، کیونکہ حکم اُس کی اپنی ساخت کے تقاضے سے آیا۔

اور یہاں تین باب ایک نقطے پر مل جاتے ہیں:

لوحِ دوم · Plate II

دلیل کا سفر — ساخت سے تکلیف تک

فتبيَّنَ أن التكليفَ من مقتضياتِ النوعِ — اور اِس سے آگے: الإنسانُ يسألُ ربَّه بلسانِ استعدادِه۔ تکلیف لادی نہیں گئی؛ مانگی گئی ہے۔

یہ باب ٤، ٥ اور ٦ کا مجموعی راستہ ہے: قاعدہ (بیرونی شرط) ← نَسَمہ کے دو رُخ ← دو قوتیں ← کسب و استعداد ← اور نتیجہ، جو خود متن کے الفاظ میں ہے۔


۹

یہاں لوگ پھسلتے ہیں

عام غلط فہمی

«ظلوماً جهولاً انسان کی مذمت ہے۔» — متن کا صریح دعویٰ اِس کے برعکس ہے: خرجَ مخرجَ التعليلِ۔ اور تعریفیں دیکھیے: ظلوم وہ جو عادل نہ ہو مگر عادل ہونا اُس کی شان ہو۔ دوسری قید ہٹا دیجیے تو فقرہ طعنہ بن جاتا ہے؛ رکھیے تو شرطِ اہلیت بن جاتا ہے۔ فرشتہ اِس لیے مکلَّف نہیں کہ وہ «ظلوم جہول» نہیں۔

عام غلط فہمی

«امانت کی پیشکش ایک مکالمہ تھا۔» — غزالی و بیضاوی کی وہ قراءت جو متن اختیار کرتا ہے، اِسے ساختی بیان بناتی ہے: عرضُها = اعتبارُها بالإضافةِ إلى استعدادِهنَّ، اور إباؤهنَّ = الإباءُ الطبيعيُّ … عدمُ اللياقةِ۔ آسمانوں نے نافرمانی نہیں کی — وہ اہل نہ تھے۔

باریک نکتہ

ما أشبهَ میں ما نفی نہیں۔ حاشیہ صاف کہتا ہے: فعلُ التعجُّبِ۔ جملہ «کس قدر مشابہ ہے!» ہے، «مشابہ نہیں» نہیں۔ اردو یا عربی پڑھنے والا یہاں آسانی سے پھسل سکتا ہے، اور پھر بےہوشی کی پوری دلیل اُلٹ جاتی ہے۔

باریک نکتہ

﴿ليعذب﴾ کا لام غرض کا نہیں — اور وجہ بھی یاد رکھیے۔ حاشیے کی دلیل دو شاخوں کو بند کرتی ہے: اللہ کے فعل کی طرف لوٹائیں تو أفعالُ اللهِ غيرُ مُعلَّلةٍ بالأغراضِ؛ انسان کے فعل کی طرف لوٹائیں تو «حمل» اختیاری فعل ہی نہیں، وہ القابليةُ والاستعدادُ ہے۔ دوسری شاخ صرف اُس تفسیر کی بنا پر بند ہوتی ہے جو حصہ ۱ میں گزری — یعنی دونوں حصے ایک دوسرے پر ٹکے ہیں۔

باریک نکتہ

دو قوتیں دو ہستیاں نہیں۔ دونوں تعریفوں میں فریق وہی دو ہیں — روحِ ربانیہ اور نَسَمہ — اور فرق غلبے کے رُخ کا ہے۔ اِسی لیے متن كمَنت کہتا ہے (چھپ گئی)، «معدوم ہو گئی» نہیں۔ اِنہیں دو جوہر سمجھ لینے سے باب ایک ثنویت (dualism) بن جاتا ہے، جو اُس کا مؤقف نہیں۔

سیاق

یہ باب باب ٥ کے بغیر ادھورا ہے — اور یہ بات حاشیہ خود کہتا ہے۔ الروحُ المخصوصةُ بالإنسانِ: هي الروحُ الربانيةُ، والروحُ الطبيعيةُ: هي النَّسَمةُ۔ یعنی یہاں کی «قوتیں» وہیں کے «طبقے» ہیں۔ اور باب ٥ کی آخری سطر (نَسَمہ کے دو رُخ: ملکیہ و بہیمیہ) اِس باب کا پہلا مقدمہ ہے۔


۱۰

مزید گہرائی

یہ سوالات کھلے ہیں

  • أفعالُ اللهِ غيرُ مُعلَّلةٍ بالأغراضِ — یہ اشعری اصول ہے۔ مگر پوری کتاب مصالح اور حكمة پر بنی ہے (باب ١ کی تعریف دیکھیے)۔ دونوں میں تطبیق کیسے ہوتی ہے؟ کیا «غرض» اور «مصلحت» میں فرق کیا جا رہا ہے؟
  • اگر حملُ الأمانةِ اختیاری فعل نہیں بلکہ قابلیت ہے، تو انسان کی وہ ذمہ داری کہاں سے آتی ہے جس پر ثواب و عقاب ہے؟ کیا ذمہ داری قابلیت سے پیدا ہوتی ہے، یا اُس کے بعد کے اختیاری افعال سے؟
  • الاستعدادُ الكسبيُّ — کمائی ہوئی استعداد۔ یہ اصطلاح کلام کے مسئلۂ «کسب» (اشعری) سے کہاں تک ملتی ہے، اور شاہ ولی اللہ اُسے اپنے نظام میں کیا رُخ دیتے ہیں؟
  • فرشتوں کے بارے میں فانيةٌ عن مرادِ نفسِها کہنا — کیا اِس سے اُن کا اختیار نفی ہوتا ہے؟ اور اگر ہاں، تو باب ٣ میں اُن کے إجماع (عزم) کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟
  • گلاب کی تین قوتوں کی مثال على ما ذكره الأطباءُ کے حوالے سے ہے۔ یہ کن اطباء سے ہے، اور متن طبی مواد کو کہاں تک حجت بناتا ہے، کہاں تک محض تمثیل؟
  • باب ٧ کا عنوان انشقاق التكليف من التقدير ہے — تکلیف کا تقدیر سے «پھٹنا»۔ یہ باب کہتا ہے تکلیف نوع کے تقاضے سے ہے؛ اگلا کہے گا وہ تقدیر سے نکلتی ہے۔ دونوں کیسے ایک ہیں؟
الفاظ کہاں سے: اِس باب کی عبارتیں پالن پوری صاحب کے اسکین سے پڑھی گئی ہیں اور حواشی بھی وہیں سے۔ اُن کے نسخے نے دو جگہ شاملہ کی درستی کی: تنشعِبُ (شاملہ: تتشعب) اور وتلك إلى السفلِ (شاملہ: دون تلك إلى السفل)۔ مگر تین جگہ اسکین ناقابلِ قراءت تھانبَّه الغزاليُّ والبيضاويُّ والا ابتدائی فقرہ، فرشتوں کے منظر کا درمیانی حصہ (فإذا تَرَشَّحَ عليها أمرٌ من فوقِها)، اور بےہوشی کی تمثیل کا آغاز — اِن کے الفاظ شاملہ کے متن سے ہیں۔ فرشتوں کے منظر میں ایک فقرہ (ولو أحقهما) دونوں نسخوں میں مشتبہ رہا، اِس لیے اُسے سے چھوڑ دیا گیا ہے۔ مطبوعہ صفحے سے ملا لیجیے۔
بنیادی نسخہ

حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوريباب ٦ — سرّ التكليف۔اِس صفحے کی عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں، اور شاملہ کے ڈیجیٹل متن سے ملائی گئی ہیں۔

اردو شرح

اُنہی پالن پوری صاحب کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ — یعنی محقق اور شارح ایک ہی ہیں۔ اوپر کے کھلے سوالات کا جواب سب سے پہلے یہیں تلاش کیجیے۔

متن میں تلاش کے لیے

لفظی تلاش کے لیے یہ نسخے کارآمد ہیں۔ خیال رکھیے: یہ پالن پوری صاحب کی تحقیق نہیں، اس لیے صفحہ نمبر مختلف ہوں گے — عبارت تلاش کرنے کے لیے استعمال کریں، حوالہ دینے کے لیے نہیں۔

کی بورڈ: پچھلا باب  ·  اگلا باب  · Esc فہرست  ·  متن کے لیے نیچے کا بٹن