القسم الأول · المبحث الأول · باب ٢
باب ذكر عالم المثال
وہ عالَم جہاں معنی جسم پہن لیتے ہیں
ʿālam al-mithāl
ربط: پچھلا باب اِس جملے پر ختم ہوتا ہے کہ والقرآن العظيم بيّن أنواع التدبير بما لا مزيد عليه — قرآن نے تدبیر کی قسمیں پوری طرح بیان کر دیں۔ اب فوراً یہ باب آتا ہے۔ یعنی سوال بدل گیا: تدبیر کیا ہے، یہ طے ہو گیا؛ اب کہاں اور کس واسطے سے کام کرتی ہے — یہ باب اور اگلا باب اُسی کا جواب ہیں۔
اصل نکتہ: یہ باب مابعدالطبیعات کی نمائش نہیں — یہ اہلِ حدیث کے اصول کا نتیجہ ہے۔ اُن کی دلیل کا رخ یہ ہے: اگر آپ نصوص کو بلا ضرورت تاویل نہیں کرتے، تو اِن سیکڑوں احادیث کو ماننے کے لیے آپ مجبور ہیں کہ ایسا عالَم مانیں۔ عالمِ مثال کوئی فلسفیانہ اضافہ نہیں، بلکہ ظاہر پر قائم رہنے کی قیمت ہے۔
باب کا آغاز ہی دعوے سے ہوتا ہے، اور دلیل کا انداز پہلے لفظ میں کھل جاتا ہے: دلّت أحاديثُ كثيرة — «بہت سی احادیث نے دلالت کی»۔
اعلمْ أنه دلَّتْ أحاديثُ كثيرةٌ على أنَّ في الوجودِ عالماً غيرَ عُنصُرِيٍّ، تَتَمَثَّلُ فيه المعانيْ بأجسامٍ مُناسِبَةٍ لها في الصفةِ، وتَتَحَقَّقُ هنالك الأشياءُ قبلَ وجودِها في الأرضِ نَحواً مِن التحقُّقِ، فإذا وُجِدَتْ كانت هي هي، بمعنًى مِن معانيْ الهُوهُوَ، وأنَّ كثيراً مِن الأشياءِ — مما لا جِسْمَ لها عند العامّةِ — تَنْتَقِلُ وتَنْزِلُ، ولا يَراها جميعُ الناسِ.
اِس ایک جملے میں پانچ الگ الگ دعوے ہیں۔ اِنہیں الگ کر لینا ضروری ہے، ورنہ پوری بحث گڈمڈ ہو جاتی ہے:
حاشیے میں مولانا بنوریؒ کے معارف السنن سے نقل ہے کہ عالمِ شہادت کے پیچھے عالمِ مثال ہے اور اُس کے پیچھے عالمِ ارواح؛ اور یہ کہ عالم المثال ألطف وأقوى من عالم الشهادة — عالمِ مثال عالمِ شہادت سے زیادہ لطیف اور زیادہ قوی ہے۔ لفظ أقوى پر رُکیے: یہ کمتر سایہ نہیں، زیادہ ٹھوس حقیقت ہے۔
اِس کے بعد باب کا سب سے بڑا حصہ آتا ہے: [الأحاديث الدالّة على عالم المثال] — تقریباً بیس نمبروں میں احادیث، اور کچھ مستفاض روایات۔ شاہ ولی اللہ اِنہیں فہرست کی طرح رکھ دیتے ہیں۔ ترتیب اُن کی ہے؛ ذیل کی درجہ بندی میری ہے میری — اِس لیے کہ انبار میں ایک منطق ہے جو الگ کرنے سے کھلتی ہے:
abstractions that stand up and speak
رحم: «جب اللہ نے رحم کو پیدا کیا تو وہ کھڑا ہوا اور بولا: یہ مقام ہے اُس کا جو تیری پناہ چاہتا ہے قطع رحمی سے۔»
اعمال: «قیامت کے دن اعمال آئیں گے — نماز آئے گی، پھر صدقہ، پھر روزہ۔» ایام: «اللہ ایام کو قیامت کے دن اُن کی ہیئت پر اٹھائے گا، اور جمعہ کو زهراء (چمکتا ہوا) اٹھائے گا۔»
معروف اور منکر: «معروف اور منکر دو مخلوق ہیں جو قیامت کے دن لوگوں کے لیے کھڑی کی جائیں گی؛ معروف اپنے والوں کو خوشخبری دے گا، اور منکر کہے گا: إليكم إليكم (دور رہو، دور رہو) — مگر وہ اُس سے چمٹے رہنے کے سوا کچھ نہ کر سکیں گے۔»
دنیا: «قیامت کے دن دنیا ایک عجوز شمطاء — کھچڑی بالوں والی بڑھیا — کی صورت میں لائی جائے گی۔» عقل: «اللہ نے عقل کو پیدا کیا، پھر کہا: آ، تو وہ آئی؛ کہا: جا، تو وہ گئی۔» موت: «موت کو مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا، پھر جنت و دوزخ کے درمیان ذبح کیا جائے گا۔»
bodies that will not fit the space they appear in
سورۂ بقرہ اور آلِ عمران: «قیامت کے دن آئیں گی، گویا دو بادل ہیں، یا دو سائبان، یا صف باندھے پرندوں کے دو جھنڈ — اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑتی ہوئی۔»
اسراء: چار نہریں — دو باطنی، دو ظاہری؛ باطنی جنت میں، ظاہری نیل اور فرات۔
نمازِ کسوف: «جنت اور دوزخ میرے لیے مصوّر کر دی گئیں» — اور ایک روایت میں: بيني وبين جدار القبلة، میرے اور قبلہ کی دیوار کے درمیان۔ آپؐ نے ہاتھ بڑھایا کہ جنت سے انگور کا گچھا لیں؛ آگ سے پیچھے ہٹے؛ اُس کی گرمی سے پھونکا؛ اور اُس میں حاجیوں کا سامان چرانے والا دیکھا، اور وہ عورت جس نے بلی کو باندھ کر مار دیا؛ اور جنت میں وہ بدکار عورت دیکھی جس نے کتے کو پانی پلایا تھا۔
bodiless things that descend and move
بلا اور دعا: «بلا اترتی ہے، تو دعا اُس کا علاج کرتی ہے» — اور لفظ يعالجه کے حاشیے میں ہے: صارعه وغالبه، یعنی اُس سے کُشتی لڑی اور اُس پر غالب آئی۔ دو بےجسم چیزیں، ایک دنگل میں۔
فتنے: «کیا تم دیکھتے ہو جو میں دیکھتا ہوں؟ میں تمہارے گھروں کے درمیان فتنوں کے مواقع دیکھ رہا ہوں جیسے بارش کے قطروں کے مواقع۔»
جنت و دوزخ کے گرد: «جنت مکروہات سے ڈھانپ دی گئی، اور دوزخ خواہشات سے۔»
قبر اور موت کے وقت: قبر ستّر ہاتھ کشادہ ہونا، یا اِس قدر تنگ کہ پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جائیں؛ ملائکہ کا اترنا اور سوال کرنا؛ وأن عمله يتمثّل له — اُس کا عمل اُس کے سامنے صورت اختیار کر لیتا ہے؛ ملائکہ کا مرنے والے کے پاس ریشم یا ٹاٹ لے کر اترنا۔
اور اِس سب کے اوپر ایک قرآنی لنگر ہے، جس میں باب کا کلیدی فعل ہی موجود ہے — تَمَثَّلَ:
فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا.
روح ایک بشرِ سوی کی صورت میں «متمثل» ہوئی۔ نہ روح بشر بن گئی، نہ محض خیال تھا۔ تمثّل — اور اِسی لفظ سے عالمِ مثال کا نام ہے۔
پوری فہرست میں شاہ ولی اللہ زیادہ تر نقل ہی کرتے جاتے ہیں۔ مگر نمازِ کسوف کی حدیث پر رُک کر ایک جملہ اپنی طرف سے کہتے ہیں — اور وہ جملہ پورے باب کی عقلی ریڑھ ہے:
ومعلومٌ أنَّ تلك المسافةَ لا تَتَّسِعُ للجنةِ والنارِ، بأجسادِهما المعلومةِ عند العامّةِ.
یعنی: «اور یہ معلوم ہے کہ وہ فاصلہ جنت اور دوزخ کے لیے کافی نہیں — اُن اجسام کے ساتھ جو عام لوگوں کے ہاں معروف ہیں۔»
دلیل کی ساخت دیکھیے، یہ بہت صاف ہے:
لوحِ اوّل · Plate I
تین ہی راستے — والناظر في هذه الأحاديث بين إحدى ثلاث
تیسری شاخ کے کنارے ٹوٹے ہوئے ہیں اور آخری خانہ سرخ ہے — کیونکہ شاہ ولی اللہ اُسی پر اکتفا کرنے کو رد کرتے ہیں۔ باقی دو کے درمیان وہ فیصلہ نہیں سناتے، مگر پہلی کو قاعدة أهل الحديث کا تقاضا بتاتے ہیں۔
تینوں راستے گنوانے کے بعد وہ صرف ایک جملہ کہتے ہیں، اور بحث ختم:
[٣] أو يجعلَها تمثيلاً لتَفْهِيمِ معانٍ أُخرى. ولستُ أرى المُقتَصِرَ على الثالثةِ مِن أهلِ الحقِّ.
«یا وہ اِنہیں دوسرے معانی سمجھانے کے لیے تمثیل قرار دے۔ اور میں تیسری پر اکتفا کرنے والے کو اہلِ حق میں نہیں سمجھتا۔»
لفظ المُقتَصِر پر رُکیے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ تمثیل باطل ہے۔ وہ کہتے ہیں: تمثیل پر اکتفا کرنے والا — یعنی جو صرف اُسی کو مانے اور کسی خارجی حقیقت کا انکار کر دے۔ فرق باریک مگر فیصلہ کن ہے: حدیث میں تمثیلی پہلو ہونا ایک بات ہے، اور حدیث کو صرف تمثیل کہہ کر حقیقت سے خالی کر دینا دوسری بات۔ پہلی جائز، دوسری اُن کے نزدیک اہلِ حق سے خروج۔
اور پہلی شاخ کے بارے میں وہ کہتے ہیں: وهذه هي التي تقتضيها قاعدة أهل الحديث۔ حاشیے میں اِس قاعدے کی تشریح ہے، اور یہ جاننا ضروری ہے کہ «اہلِ حدیث» سے مراد کون ہیں:
أهل الحديث: كعبد الرحمن بن مهدي، ويحيى بن سعيد القطان … وأحمد بن حنبل، وإسحاق بن راهويه … الذين هم الطرازُ الأولُ من طبقات المحدثين: يَحْمِلون النصوصَ على الظاهر، ولا يُؤوّلونها مِن غير حاجةٍ ماسّة.
یعنی اصول یہ ہے: نصوص کو ظاہر پر رکھنا، اور بلا شدید ضرورت تاویل نہ کرنا۔ عالمِ مثال کا اثبات اِسی اصول کا نتیجہ ہے — کوئی الگ فلسفیانہ دعویٰ نہیں۔
لوحِ دوم · Plate II
غزالیؒ کے تین مقامات — ثلاث مقامات في التصديق
غزالیؒ کے یہ تین مقامات تین متبادل عقیدے نہیں — تصدیق کی تین سیڑھیاں ہیں، ہر ایک پہلے سے زیادہ لطیف۔ وہ پہلی کو الأظهر والأصح والأسلم کہتے ہیں: سب سے ظاہر، سب سے صحیح، سب سے محفوظ۔
شاہ ولی اللہ یہ پوری عبارت احیاء العلوم (عذابِ قبر) سے نقل کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ غزالیؒ نے تلك المقامات الثلاث کو مصوّر کر دیا ہے۔
باب کے آخر میں شاہ ولی اللہ امام غزالیؒ کی عبارت لمبی نقل کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے جو ہر ذہن میں آتا ہے: ہم کافر کو قبر میں دیکھتے رہتے ہیں، کچھ نظر نہیں آتا — تو مشاہدے کے خلاف تصدیق کیسے؟ اور جواب کا دوسرا مقام وہ ہے جس سے ساری گرہ کھلتی ہے:
المقامُ الثاني: أن تَتَذَكَّرَ أمرَ النائمِ، وأنه قد يرى في نومِه حيّةً تَلْدَغُه، وهو يتألّمُ بذلك، حتى تراه ربما يَصيحُ ويَرْشَحُ جبينُه، وقد يَنْزَعِجُ مِن مكانِه — كلُّ ذلك يُدْرِكُه مِن نفسِه، ويتأذّى به كما يتأذّى اليقظانُ، وهو يُشاهِدُه. وأنك ترى ظاهرَه ساكناً، ولا ترى حَوالَيْه حيّةً ولا عقرباً؛ والحيّةُ موجودةٌ في حقِّه، والعذابُ حاصلٌ، ولكنه في حقِّك غيرُ مُشاهَدٍ. وإذا كان العذابُ في ألمِ اللدغِ، فلا فرقَ بين حيّةٍ تُتَخَيَّلُ أو تُشاهَدُ.
یہ مثال اِس لیے کامل ہے کہ ہر شخص کا تجربہ ہے۔ سویا ہوا آدمی چیختا ہے، ماتھے پر پسینہ آتا ہے، تڑپ کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ آپ اُس کے پاس بیٹھے ہیں — کوئی سانپ نہیں۔ مگر ڈسنا واقع ہوا، اور تکلیف واقع ہوئی۔ «سانپ اُس کے حق میں موجود ہے» — اور آپ کے حق میں غیر مشاہد۔ نہ آپ جھوٹے، نہ وہ۔
اور تیسرا مقام اِس سے بھی آگے جاتا ہے: سانپ بذاتِ خود درد نہیں دیتا۔ درد زہر سے ہے؛ اور زہر بھی خود درد نہیں، بلکہ عذاب اُس أثر میں ہے جو زہر آپ کے اندر پیدا کرتا ہے۔ پس اگر وہی اثر بغیر سانپ پیدا ہو جائے، عذاب پورا ہے۔ اور غزالیؒ اِسے موت پر منطبق کرتے ہیں: وهذه الصفاتُ المهلكاتُ تنقلبُ مؤذياتٍ ومؤلماتٍ في النفسِ عند الموتِ، فيكونُ آلامُها كآلامِ لدغِ الحيّاتِ مِن غير وجودِها — یہ ہلاک کرنے والی صفات موت کے وقت نفس میں ایذا اور درد بن جاتی ہیں، تو اُن کے درد سانپوں کے ڈسنے کے دردوں جیسے ہوتے ہیں، بغیر اُن کے وجود کے۔
| اصطلاح | متن کے الفاظ | بحث میں کردار |
|---|---|---|
| عالم المثال | عالمٌ غيرُ عُنصُريّ | وہ ظرف جس میں معنی جسم پہنتے ہیں — اور جس کے بغیر ظاہر پر قائم رہنا ناممکن |
| تَمَثُّل | تتمثّل فيه المعاني بأجسام مناسبة لها في الصفة | عمل خود — معنی کا جسم اختیار کرنا، بامناسبت نہ کہ بےجوڑ |
| الهُوهُو | كانت هي هي — الاتحاد في الذات | وہاں کی چیز اور یہاں کی چیز ایک ہیں، نقل نہیں |
| قاعدة أهل الحديث | يحملون النصوص على الظاهر، ولا يؤوّلونها من غير حاجة ماسّة | وہ اصول جس سے عالمِ مثال کا اثبات لازم آتا ہے |
| المَلَكوت | عالمِ ارواح، عالمِ غیب، عالمِ معنی (حاشیہ) | غزالیؒ کے پہلے مقام کی بنیاد: یہ آنکھ اُس کے لیے نہیں بنی |
| الأثر | عذابك في الأثر الذي يحصل فيك من السم | تیسرا مقام: عذاب سبب میں نہیں، اثر میں ہے |
«عالمِ مثال کا مطلب ہے یہ سب استعارہ ہے۔» — یہ بالکل وہی تیسرا راستہ ہے جسے شاہ ولی اللہ صراحت سے رد کرتے ہیں: ولستُ أرى المقتصرَ على الثالثة من أهل الحق۔ عالمِ مثال حقیقت کو کم نہیں کرتا، اُس کے لیے ایک ظرف مہیا کرتا ہے۔
«یہ فلسفہ ہے جو حدیث پر چڑھا دیا گیا۔» — دلیل کا رخ اُلٹا ہے۔ باب کا پہلا لفظ ہی دلّت أحاديثُ كثيرة ہے، اور فیصلہ قاعدة أهل الحديث پر ہوتا ہے۔ عالمِ مثال یہاں نتیجہ ہے، مقدمہ نہیں۔
المُقتَصِر کا لفظ نظر انداز نہ کیجیے۔ تمثیل کا انکار نہیں کیا گیا — اُس پر اکتفا کا انکار کیا گیا ہے۔ یہ فرق مٹا دینے سے شاہ ولی اللہ کا مؤقف بہت زیادہ سخت دکھائی دینے لگتا ہے۔
دوسرا راستہ (تراءی) بھی رد نہیں کیا گیا۔ وہ تین گنواتے ہیں اور صرف تیسرے پر فیصلہ سناتے ہیں۔ پہلی کو اہلِ حدیث کے قاعدے کا تقاضا کہتے ہیں — مگر دوسری کو اہلِ حق سے خارج نہیں کرتے، اور اُس کے لیے ابن مسعودؓ اور ابن الماجشون کی نظیریں لاتے ہیں۔ اُن کے مؤقف کو «صرف پہلی درست ہے» کہہ دینا متن سے آگے بڑھنا ہے۔
ألطف کا مطلب «کمزور» نہیں۔ حاشیے کی عبارت ہے: ألطف وأقوى من عالم الشهادة — لطیف اور قوی تر۔ اردو میں «لطیف» سُن کر ذہن «ہلکا، غیر حقیقی» کی طرف جاتا ہے؛ یہاں مراد اُس کے برعکس ہے۔
یہ باب اکیلا نہیں پڑھا جاتا۔ باب ١ میں تدبیر کی تعریف تھی؛ یہ باب بتاتا ہے کہ تدبیر کس عالَم میں صورت پکڑتی ہے؛ اور اگلا باب (ذكر الملأ الأعلى) بتائے گا کہ کون اُسے چلاتا ہے۔ تینوں مل کر ایک ہی عمارت کی بنیاد ہیں۔
حجة الله البالغة — تحقیق: سعيد أحمد البالنبوري۔ اوپر کی تمام عربی عبارتیں اِسی طبع کے اسکین سے ہیں — باب ٢، مبحثِ اوّل۔
رحمۃ اللہ الواسعہ — اِس باب پر خاص طور پر دیکھیے، کیونکہ اوپر کے کھلے سوالات (خصوصاً پہلی و دوسری شاخ میں ترجیح، اور الهوهو کی تعیین) شرح کا موضوع ہیں۔
غزالیؒ کی عبارت إحياء علوم الدين کے بابِ عذابِ قبر سے ہے۔ حاشیے میں مولانا بنوریؒ کی معارف السنن اور كشاف اصطلاحات الفنون کے حوالے بھی ہیں — الهوهو کی تفصیل کے لیے آخری خاص طور پر مفید ہے۔
کی بورڈ: → پچھلا باب · ← اگلا باب · Esc فہرست · متن کے لیے نیچے کا بٹن